Eonscroll
← Volver a la ficha del texto

Sirr ul Asrar

Writer: Ghaus ul Azam Shaikh Abdul Qadir Jilani, Translator: Ahsan Ali Sarwari Qadri

37 ۱ گزالاص/ رموریسص 2ه خوت اض حر برتا رجا +2 801 مسلط ن رانک نیس درک قادرگ تی ساط نم نب ال متریم :سلطان شا ات نی سردری قادریق طا 7۵٥۵٥۷۵۵‏ خاجاونڈ ام٥۵‏ ال۸ (ەوہ8) ۳۷۵۱۱۲۸۲۱۵۸۸ 30۸۸-۱۰۴۸۵۳ ٥۳6 ۱۲۵۳۵۱۵۸۴‏ 239 [ما۰ة۳۵۱-٠۲۰‏ ہما اتاپ سالاسار (أررتعثعلش) ملیف ساوت ال منرت عحبدالقادرجیلا ا زم سلطان ھا نی در قادری نار مایا مللإردحدالجد پایاؤل ڈروری 2014ء پاردم وم 2016ء پا رم 2023ء تفراد 500 ۱5611: 978-969-2220-21-7 4۸۔ایسٹینش ا ینیشن اون وحرت روڈ ڈ اکنا سور ولا ہور۔ بین کو 54790 6 042-45436600 :۶ 1-2551166101.:0نا-۰۵3۲٤۷۱‏ ۱۷۷۷۷۰ ۱۷۷۷۸۷۰.۱۴۳۲۰٥۸۰ 1۷۷۵۱٥۴۹۹۳۲. "۳‏ ۱۷۷۸۷۱۰58۷۱۲۵۵ -ا۱۰؟3١۹۲-5۳ن111٥3٥1۱٥۶۔ہ‎ ٤-ہ31ا؛ 136اند‎ 1130۴۵1٤3٥٥٥٥ 9٥601+66413۷۷۸۱۵۲3۹۲۰۰۰۲۱ ا ساب ہصىسےگ۔ مر کال ال جا فورالہدکی سلطازن العاضّن حضرت تی سلطا نشج جیب الکن من الاک کلام نکی مر بای اورشخقت اورعبت کے اغیر یس ہیں -- شی لفط کی ابیطداکے بیان ٹل انان کے اپے اسلی وش نکی طرف لو کے بیان ش انان کے ال سافلی نکی طرف لوٹائۓ جانے کے بیان ٹل ارواں کے مو بی تصرف کے بیان شل علوکی تعداد کے بیان ٹل الین کے مان من ابی توف کے بیان ٹل اذکار کے میان ٹش ری شرائلاکے بیان ش دبدایا لی کے مان ٹش تا با تماما ودرا ےکے جیان ئل سعادت اورشقاوت کے بیان ٹل نت را کے بیان مس 06 16 26 32 34 40 45 55 60 63 7 73 75 02 2 یمورخل چوھوییاصل دی مل سوا رفحل وع ینضل ارول ال انیسورفحل یسوبیحل اکیسو یل ائیسو پیل 3 نز چضریغل ہمازش ریجت اور رایقت کے بیان من عا یی طہارتیمحرفت کے بیان ٹل زوش بعت اور یقت کے بیان شل روز وش وت اورطر ایشت کے میان ٹل پش رایت اور بیقت کے مان شل وجداورصفا کے بیان ڈل خلوزنخ اورک ڈنینی کے بیان ٹس خکوت کے اوراد کے پارے مل ینداوراونگ کے دا قعات کے بیان ٹل ائ لوف کےییانش ام بالا مان کے بیان ٹل سزالاسرار (مرن) 100 16 111 117 41 11 135 18 اشن بج و؟ وکا کات اور نا کات میں ۔ لاکھوں سلام ائل: ن ومابتاب دو چہاں تضورعل الو والسلا مکی ذات اف گا بی خوابصورت اور روش نگرخیں ہیں جن سے رکا نات منور ہے۔ لاکھوں سلام اول ارام کے ادا تو ضصعدائی قطبِ زمای جو سعالی جن خی لین سینا عبدالقاد جیا لی شی ال نہ رج نکا قۂم مارک تا مرو وقط بکی گردن پہ ہے اوج ناپ رسول الڈصلی ال علی الہ نلم اورسلطان لق ہیں _ سن خوٹ ااکشم شی اونرحن ہکا ورس علیم نک وبویٹس اس وقت مواجب رارف فرق بہت شکار ہو کا تھا۔ ال فرقوں نے مسلمانو ںکوچنی اح سے ائے بی ناوافف تھے جتتے یمر اورگمراہی عام ہو یھی اورد بین اسلام انتا انار بیس مت اکر رکھا تھا اورمسلمان و مسلم ین خوٹ ااکشمم حضرت تن عبراقاور ج موا ناو رکنب سے تصرف ملمانو ںکی رجنمائ فرمائی پگ آپ زی الل عنکی تصائیف شی الد عنۂ نے اپنے خطباتء الہائ 8:7 جج 2 سے مرد و قلو بکوحیات تی سے یقرت اورا ظا سے ان نلیا کو پڑ ھن اوران کمرنے والوں پرمع رہ یقت کےا ورد ا ےککھان جات نہیں او سک الفیبءالرسالۃ الفوشی مال بای این اورد وا فو المضش عام دتیاب ہیں نز یزاون ےا ات اب وی اسرارال یکا وع سے اورسرفت ہی تھی کےاسرار سےلب ریز ےجس می فی یی تما تک یا نکیا اہے سینا وٹ ام حر ت پچ بدا لقادر جیا لی شی الیل حنۂ نے اپنی ا ستصفیف میرک ہم کل چوٹیں ,2 )فسلی تر مرف مائی ین جن یش 140 ے زائ دم وضوعا کو ہرد دنا ہیی و پان پہلرکں سے بیالنافرمایاے۔ رر جا ہے۔ ایک طالب مو یکوراوھ ر(راومعرفت د یلال )یش ٹین آنے وانے ہرمقاماوریکرا کر نے والی ہھشکل اوراس کے لکو جیا فر مایا ال میں آپ رشی انٹرعند نے ال تقسوف ہونے کاو کرنے وا لےگراہ فقو ںکی اقمام:نظریات: علامات اوداشگا لکو مان فرمایا ہے یسے عالات اس وقت تے ہلک بی صورتقا لآ دن کی امک الل علیہ لہ ول مکی دریشی ہے ۔ ایک طرف ود ین اسلام کے ما ہی پپہاوکعاا ۓ مو کے اخطافات اورنظ رات نے اور پالنی پاور رٹ سجادہ شیٹوں بی گمدیینتینوں اویچی یروں نے ہنلاۓ انکر رکھا سے اوردوس بی رف گوام الناس میں لب دتیا خطراک عد بھی تھا زکرچگی ہے ید یاغوت ام ححضرت پچ عبدالقادر جیلا شعن نے اییے اب تو فکی یرد کی ہجاۓے اس و واص لکی اطاعت وچ دئی اعم ف مایا جے ال توالی ےم او رتضورعلیاصلو ‏ والسلا مکی دساطت سے نافصو ںکوکائل بنانے کے لی گیا ہواود جو تضورعلی اصلاۃ والسلام کےطر و جیٹس وتصف یق بک راہ جات ہو۔ ایی ےنق رکال لکو آپ بی ایشرعنۂ نے مضورعلیہ اصلؤق والسلا مک واررٹ کال اودم شی کا لکی تی ولا دقراردیا ے۔ سار ج0ا 08 )95 می و میرے مرش کر سلطان ال شقن جحفر کی سلطا نشم نجیب الین مرنکلہ الا قد نے طالبالن' مولیکی انی ضردرت کے پش اور دورحاض کے تقاضوں کےئین مطا ق ا تعیف لیف میس جیا نکردوتحلیما تکی رو ںکو برق اررکھنے ہون ےآ سان ُردوتر ج کا خر با ینہ مارکیٹ میس دتتیاب تر ات مآسما نج یں اور نہ ہی و وت نا وٹ الاشضمم زشی الع دک یتما تککامف ہوم ادا گول خر پاتے ہیں۔ اس سلملہمی مرش دکرمم ساطان امدشین ححضر کی ری منلراا قل نے اپتی ماج رہوگ سے رالاس ار کے دو شنے ری“ تریح تج خنای تفر ما اور بش اح چیا صاددفرایا۔ پچ پہلاسف خی کنب خانہ ہی رن شا:عال مگیٹ لا ہو رکا شا ئکردہ ایدوم ہ ےج سک مار اشاعت مرم الام 1401ھ (1980ء) سے اور اس کے مت جم حافظ ہت لی تماد کاب کے یش لفط مس یہ بات وا مکی ہک لاسرا رکا یرلیہ داد ینوٹ اعم زیشی اٹرعن دی ادلاد پا کک یتو بل مس چلاآ تھا اور ردوتر جمہ کےس ات اشاعت سے حرد تھا جوعافط برک تی تقاد رکوس نا وٹ الاٹشعم شی للع کی ادا دسے اوج حقیرت دبحبت تن ریش ملا کہا کا اشاع تک جاۓ ۔اا سکاب میں ایکی ئل لین اور دوسرے صفہ برا س کات جم شا کاگاہے ۔کتا بکات جدددمرےراجم سے در ےبچرہے۔ پچ دوس اف زع بینم أردور جمہکتہ العا رشن لا ہورکا شا کرد ہے جس کے مم سیر امیراں نیزگ مرجم ہیں ال لکناب می بھی ایک مفہ پر رپ یفن اودددسرےعفے پت جھکیا گماہے۔سیدامیرخان نیازاصاحب ن ےکتاب کے پیٹ فا میس بی بات الخ بھی انی کی کاب کت کے یےاہوں نےم پت کہاں سے حا کیا ۔ جب ا لکتاب کےگ ری شیرکتب نخان کے شال جکرد وہ سے تھای جا لی تہ حرف بترف ون ہے۔میرےمرشدسلطان ا۳ا ضشقین محر تکی ساط نپ نے الا قش سےا با تک تھب بھی ہوگئ کہم نس انہوں نے سیدامی رخان نیا یی م جو کود اتا جس سکی ۶ر یکو اد ناکرانہوں نے مر الاسرار“ کا رجمکیادا کااازل سلطان الئئن ححفر کی سلطان مم جیب الین ودنہ الا ق کا زمنگراٹی اور سلطان سلطان مم اصفریی رم تہ او دحل ہکی حیات مہا رک یس ہ یککتتہالعا ٹن ۱4/۸ ان وعحدت روڈ لا ہور ےت 2003ء می شال ہوا اراس میں آپ من لہالاققریی نے یل ؛ بھی یف ایاج بعد کے ای میشنوں ‏ کسی او کے نام سے شال ہوتار با پل عربی من نکی اش کے دوران جامح الا ز ہرمع رکا مطبو ای الثای 1374 جن ری میس شائ ہوااورا سکوسٹرحبدالرک یئم زم نے مر بکیا۔ جب انس مرک ضکابفداد ینز ےتا ہی موازہ؟ 1 معریض م سکمی ںی ختلف اولاکرام کے فا اشتارکااضافدکیاماہے۔ اس کے علاد نیک ون فاطلیوں کے عا وا تی من ال بخداد جیما ے۔ کچل مارکیٹ یں تاب أردو تراہم میس ایک تج زاویپیش در با مارکیٹ لاہورکاخالَّ روہ ہے جس کے مت مغ راقبا لکلیار ہیں ےکنا بکا ای سے اور ہے۔اس تر ج کے مطالعہ سےمعلوم ہواک یت جم بہت بی مکل انداز ی۲ کیا گیا اور بہ تک ہو پیم بی ن کات جم کیا یی سکیا کل دوسرا ردوتر جہرقاددٹی رضو کنب خانہ لا ہورکا شال کر دہ ہے جس کے مم شا تائٹ ہیں۔غخخاصاحب ن ےکتاب کےت جم کے دوران اپئی طرف ےمحخلف متقامات پر اطور شا مراپے اشعارکااستما لکیاے۔ میس نے تج کرنے کے لیے بقدادگ ینس کو بفیاد بنا یاہے.تز جم کے دوران بی رے مرش دک رگ ساطائع الواشقن ضر کی سلطان عم جیب اشن لہ الا کی اہر و باطٹی عددمھرے شا لی حال ری اور تر جمہ کے دوران جس جس مقام پ مج ششک ٹین کی میس ن ےآپ در الاقرل سے راب کیا آپ مرن لہ الافرس نے خہایت شخقت سے اس مضو ںعکو عرف اب اج مادگی رن اشاعت2012ء ٹر الاسرار بہ سپ نا وت اائشعم شی الل عن کی در تفیغات کے حوالہ جات کے ذر بی ےبھی انف مایا اک ا ماب ہکوتقلیما وٹ اائضم زشی اول عدہ کےتخیقی مطیو موچ ےک رت ج ککرنے میں مدول کے۔ میں اپ مرش دک مم ساطان اشن ححضرتبٹی سلطان' مل الا قر کا خہای تشگ رگزارہو ںکہج نکیا مب ربالی سے می اس لی ہواکتز جآ سال نم اور عمر بی نکی رو کو برقرار رک ہہوےکرسکوں مکل اورش رح طلب الفاظ اور اصطلا حا تک جضات جوی نے اپن مرش دکرمم لف اوقات م لااو رگی موا خی بمں در کر د یگ ے۔ دنیایں تام کے ےت نع ز یق کا راخختیارسییے جات ہیں ؛ ال یک اص ل مشن کے بت کردیا جا تاہے۔ا مل ایک فاحددی یہ ےکشخام تک ہونے سےا بک قم تک رای ہے اور نققصان یہ ےک اصل مت نکی ٹیر مو جودگی یں قاریی کے ذ جن مس یفدشہ و جودربتا 7ج نین کے ہطااقی ہے بامتریم نے انی طرف سے ورڈ بد ل تن سکیا۔ دہ وسراطر یقدیوے ک ای کم ف پر اص لقن اورال کے مقائ صفحہ پوت جا کیاجاتا ہے۔اس یں مل بیشن آ تا ک ہار یکامطالعدکی روالیٰ یش دقت سو ہو ہے تی اط یقہ ہی کیل تج رشان کرنے کے بعدقمد بن وموازنہ کے ل ےآ خر یں ابمل من شائ کردا جات ہے۔ میں نے تیر ےط ری کو ہت ھا ہے۔ ترجہ کے انام بر الاسرا رکا ال ع رب من اب یلم اودایلی تقر <حفرات کے لی شا ئک گیا ہے۔الل ارک دتھالی سے دعا ہ ےک بھی ری ا کاب ل/قول جسشائح فررائے۔آین عاتز سلطا لن ھا نی سور قادری ہے تیا 5 ل2 (اأرروڑے) ماگے عطاکرنے والاءکری خر مائے والاء پا لے وا یت ہد جن عقمت وان ےق نکااپنے کیل الہ کےساتھز ہجوت فر مایا دزودوسلام ہو پم٥لی‏ علیہ لہ یلم بر جھ دالےد بین اورصراط خاقمالرسمالت اورگراہوں کے لیے ہدایت ہیں جن یں قانم(7 سای )کنا بوں سے العل (عظ رد فضیلت دای )تاب کے ماتةدقام رسولوں پیشرف حاصل ہےاو صلی الڈعلیہ الہ ےلم نی ہائی ٠‏ عر اوران ہیں کشر ت سے درودوسلام ہو پیص٥لی‏ علیہ ول ہل مک یل اطائڑ جو ہد کے طالبوں کے لیے ہدایت ( کاٹ ) ہیں اوردرودوسلام ہو پمسلی علیہ وہ عم کے اصحما ےی : .-7.٭++. +0 پ ہابت زرل اور پش ؤں۔- اس کے بح دخوت ام ء تب ربانیء بی صعدانیء ند فورالی: سلطان الاولیا و : ۱ 20 انہب بان الاصفیاودا لین ؛ الد اک کے شہباز اش ہب ہار ے موا وسرداراورالڈتجارگ و تال یکی رف ے جمارےرجنماءاعلی صب ونب اورشرافت دانےسییرجن الدب یدالظاور چیلا فی وین تی الشددرۂ التزیة ہیں ( جاک وا اق ںکومنورفریاۓ ) ج نکا لے بلند پردازکرنے والے دوست من امام سھہداھ بن امام سی اہین امام اش بن امام سد داد ین امام ستموی بین ام انانم یلچن جامس بدلٹر جنلام ا ناش امام سن سن السا بن سا ومولینا امیر مجن ای نین امام راع این الی طالب نشی ال تم وٹ امش عبدالادر جیا ا سلس نب دالد پت کی طرف سےا طرح شی الد ین عبدالقادر جیلاٹی فیس سر الودانی ین سام ارۃ الجبارفالہ رص زا ہہ بن سنیدالی مال اللد بن ھن ستیشود بن سترالی المعطاء عبدالڈ بن ست امام الی عل الد من دجن ستیداما لی رضا جن ایام موی کاشم یی اما تنفرصادق مین اما اق بن امام زین اہی ,لی بن مین بن ا ام امی الم ین سینا تی انال طالب رش ال تم این (فریتے ہیں ہکم بزرگی دالاوصف, بلنرمرجب ہش کے دکی اورنٹع بش ارت ےکیوکہ یق حید رت ااعامی نک کے کا ذربراوراس کے نبیوں اوررسولوں (صلو ڈیہ بین کی تصد تی ککرن کا وسیلہ ہے .عامل(ملاے ر بای )لیڈ تھا کے ان نا بندوکن می سے ہیں جن یں انس نے اپے دی نکی تر و ورس یاندی کے لے جن لیاہ انل سے می ہذایت فربائی اور یں ت عطافرمائی۔دوان یاکرام کے دارث اوران کے انا( ٹین )ءرسولوں رم نا سی رازاورا نیقی مع فت اص٦‏ لک نے واکے یں جع اک ارشاد بای تھالیٰ ے: زا (سر8افاٹ-32) قرجمہ: یل ہم نے اپ بنروں یش سے بے ہو ا بندو ںکولتاب ( کین پکاوارث بایا- ان یش سےٹہض انس کے ل یی الم یں اور درمیاتہ پل لے والے ہیں اوران ٹل ےق سکیوں مس بڑھ جانے وائے ہیں۔ دسےشس .ت٣۲‏ ترجہ :لاملا ۓت اعم (عم ان )کے باعث انا کے وارٹ ہیں اور سان دانےأن عبت ککرتے ہیں اورسندروں میں موجودمچھلیاں قیام تک أُن کے لے مخفرتطل بک رقی رہیں عبَاحِدالْعُلَبا (2:_.۸۵۲) تھ جم بے ٹیک أس(ال کے بندوں مین سے یرف نل ایشڈدے ڈرنے وائے ہیں۔ تحضورعلیاصلا 7 والسلام نے فرمایا: لافرھر ز قیامت جب اںہجلو قکواٹھا ۓگان خلا ر بای کی جماعح تکوا لی کک دےگا۔ بی ال ارک دوتھالی ان سےفریا ےگااے نلما کےگر ا ہے پک میں نے اپناعلم زلم مع یت ) جھ رم تھیں عطاکیادہتہاارے بی لے نفاسو یس نے دم ہیں در ےکر ضا ئن سکیا۔ امہ ارے ےکوی عذا بی ۔ جن تکیطرف جا ہی نیش نےقم لو ںکی مفخر تفر ماد ھٹیس الشرٹ الزت کے لیے ہی ہیں جھ ہرلیاط سے رام جہانو کا پا لے والا ہے۔ جس نے ددرجا تک عاہدوں کے لیے اور اپ قرب کے مراج بکو ھا رن کے لیےہفو نوف ایا بح طال با ن اق نے ہم (سنیناخوٹالضغ) سے درخ اس تک یکران کے لے ایک ای جائ کاب تار کی جوان کے لیے (راوفق رکے ہرمظام کے لیے )کاٹ او ہج رود ہو۔ یں طالمبان موٹ یی طلب اورضرورت کے مطا لبق بی جا تاب تارکی جو تصرف ان کے لیے بللہ ان کے علادہ دوسرے (عد کے زمانے یں آنے وانے)لوکوں زی طا مان موی ) کے لےبھیکاٹی اورشافی ہوگی۔ اور سکو ”مر الاسرار ما یا الیہالا ار“ کا نام دیا نس میں شربعت: یقت اورحقیقت کے اأُن رازو ںکا تک 6ک امیا ہے ج نکی جلاش می مو لیگ رے میں ۔ادری دسا لک طیہ لَاٰةَإل ا مل الڈو کے 24 جوف اوررات ون کے چوٹی ںکھنٹو ںکی تداو کے مطا بای مقدمراور شی ھلوں پشقل ے۔ مقد رہم قلو قکی اناو یا نیکیاگیاہےاودٹلوں میس سے کل انسان کے اپ اق ین (یجنی عالم لاحوت )کی طرف لوٹ کا بیان ہے۔ دوس ری نعل انسان کے ال سای نکی رف پیبرے جان ےکا بیان ہے .تی کول یس ررتوں کے اج رام یں ت رذ فیا نگیاگیا 1 چپچ ول ی نکی دادعا نکایاہے- پانچھ فل تو ,لقن کے بیان کے دوانے مج سے .چٹ یل او توف کے جیان یش ہے۔سا وی فحل زار ے بیان ٹل ے۔ ھوب پل وکرکی شرائا کےۂتحلق ہے فی راھمل دیدار تل کے بیان شش ہے۔ وسو یی فمل می فلت اور رایت کےتابا تک بیا نکیا ایا ہے ںیا عو نعل سعادت اورشقادت (ئی تی او )کے جوائے سے ہے۔ باہو یپھص لفقرا کےتعلقی ہے تی وب یل طہارت شریعت ادرطہارتط یقت کے بارے میں ہے۔ چا موم نل نما زش اعت اورنمازفریقت کے بارے می ہے۔ چ جو یاصل عال تیرہش طمارتمعرفت تلق ہے .حواہو ہل بجت اور زکوۃ ط رایت کے جوانے سے ہے موی نل روز؟ شرلیت اور روڑ٤‏ ےت رر تحت را ایک مرف (ہنٹکل میس )ر جو غکرتاہوں۔ ہت فی ھک ما ئن عطا خر ماۓ جوا سکوپپند ہے اور جو کی رضاے۔ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے فور جمال سے سب سے پیل رون مج سی العلی ول ہل کو پیدافرمایا لیم اکہائل اکر ماتڑے: 8 حَلَفْے زم تی (صل اللەعليةوآلوسلم)ءِن تر َجُوق ت جم :دومج (ملی ال علیہ دآل نلم )کو نے اپنے چرے کفورسے پیدافایا- جج اہی پا ک ٦اد‏ مک وتھالی نے میری دو عکو چیدافرایا۔ تر جہ:ادرسب سے پیل ال انرک دقعالی نےل مرکو پیدافرایا۔ ۵ توَاولمَا عَلیالاالعفل ت جمہ:اوراتارک وتھالٹیٰ نے سب سے یلت لکو پداف میا 2ت چس ان سب سے مرادایک بی ہے اوردہ سےتتتیقت نھد ہہ۔ اس ندرا لی ےک ہاگ اک سآپ صکی ال علیہ لہ ول مکی ذات مبا رک لمات حطالیہ سے پک ہے جی اک ال ترک وتعالیٰ نے ارشاوقرمایا: + ق جَا: ئن ترجہ :لی ایل ارک وتال یک کی طرف ےتمہادرے پا ایک نو راو دای اورپ صلی ال علیہ لہ یلم کا نا متل اس لیے رکھا ہآ پ کی اللرعلیہ لم وی رو میڈ تحت ہیں اوشم اس نیےکاگیام یش مل من لکر نےکاسبب ہے جج کال رق وفات ٹل تل کل مال زخقل )کر نےکاسبب کے یں روم صلی ادلعلیہ لہ لم تا مکا نات (عالم موجودات )کا خلاصہ او رکا نا کی ابتقرا اود ا کی اصل سے جع اک جحقورعل ااصلوٴت والسلا مکیا اج قِاق0 (س8لہ-15) اوراگ/ ارشادے: کاب الال ونزتَیق تمہ یں اد سے ول اودتقام م ون جج سے ہیں۔ الل پک نے تمام اروا حکوتتیقتئ ہے سے عال لاشو ت یش ان تی صورت می پیدافمایا اورای الم مس سے 'انسان“ کا نام دیااور بھی عالم (ششف عالم لاشوت) ا کا صلی وشن ہے یس جب (اضانی اروا نکی قکو) چا ر رارسا لگز سے اتی نے تضورعلی الو والسلا مکی تشم مارک کےفد ےن کو پیدافمایاا عرش سے پاتی کانحا تک پیداف مایا انسانی اروا ںکوکانیات کےسب سے مم وا نے لیے عالم اجسا مکی طف پت لکرد یا گیا جی کہ کےلعقام نے فوراو کاب سے ایک یٹ مراد سے اور وہ سیت زمانے کےاامریصورت میں نظ ہری ہوٹی ہے۔ ہکات اور اپ ھی و جودکیصورت میں مو جو یی ےتروف سیا ہی میس ڑ 2ت شال ارٹا خراحاے: ٭ مَمَرَتذلۂآمفْلماؤلئق سجای۔م) ترجہ :یں ہم نے اس (روج قری )کوافل سافلی نکی طرف تق لکردیا وہہ ہو وٹ کے درمیان نو رج ردت سے ددرح سلطا نی کالباس پپہنیا۔ چم ردد رف یکددو بح سلطالی کےلیاں میں عال لکوت میں اتا رااورنوریمکو تک لیا 7ھ 2 سے عا لم لک ککی طر فا س کا خزول ہواجہاں ا ےو نل ک کال پاش پپہنایا او یہاں رو (د دب فی )دو جسا یہلا ئی راس سے اجسام اف مائے جی اک۔اللمتیارک دتالٹی نےفمایا: جُکُۂ تارڈآغزی (سرتل_56) تق جہ: ہم ن ےتیل ای (ز ین ) سے پیاکیا ودای میں دوبارولوٹانمیں گے اوراسی بیس سے دوس کی مرج ہر 0 رٹ رتھالی نے اروا عکواجسام میں وائل ہون کاجف مایا لی ںی ای دواجمام می واشل ہو گی ایشا دبا تھا اے: رخ (-ر9-8ع) ترجمہ:اورٹی نے ا می اپنیاروپچوگی- جب اروا کا امام نعل ق قائم گیا تد اس ع کیو لکئیں جو انوں نے بوم یف ق اٹ سے جواب می) اذا کبرکرکیاتھا۔ لی دو اپنے ای وشن (عالم لاغوت )کول یں ۔انڈررشن نے ان پردکرف مات ہہوئے ال نکی عددکی اد سای کزائیں نال خر ایس تاک وہ ان سےرماکی لی ے اپنے صلی و نکو باریس جی اکم اتارک دتعالی نے فریا: ٭ ‏ تَذيِرَهْۂ بآم الو( نے عالم لاعوتاورعا لم جردت مہ کیا تھہاراربیں؟ و اروا جع ےکیا” رات ترجہ :اور یادد ای نکوائل کے(س امو گزرے )داع یجن اللہ کے وصال می کم رےون جوو داروا حکیاصورت می ںگز ار تھے تماما ناکرا دنیا میں تشریف لاۓ او نیس اس مب دک باددبالیکرواتے ہو ۓ وابہ یآخر تکی رف لوٹ ھی کان بہت جک لوکوں نے ا نکی بات اور نکی رف مال ہوے۔ چند یں میں اپنے صلی ش نک ک کن کے لیے شوق پیداہوا۔ یہام کک نیودت کا سلسدہ رو نشم لجنی خاتم ارات مخت سی ایر علیہ لہ یل تک جیا جوگمراہی یں تل لوگوں کے لیے پادتی ہیں٠‏ جنپویں اف لوکوں کے لیے (انث ارک دتعالی نے رسول ب اک ربھیچا کرو دای ںففلتکی خینے اک رلعیرت عط اک میں اراوگ ںکوا و جپارک وتھاٹی کے وصمال + دیداراوداس کے ار ی بھا لگا طرف بلاٗیں جی کہ اتارک دتھالی نے ارشاطرایا: وا ال ال صادۃکاؤهِاتَتقیق (-: تر جمہ:( ہپ لی دلعلیہ 1ال نلم ) فرمادری می را راحتت بی ےکہ میس اتی ( قرب مکی طرف لات ہوںء یس اورمیب ری اتا کر نے وا لے صاحب لبرت ہیں۔ ال یلم نف رما سف۔108) او ںکی مان ہیں ان بیس سےتم جن سکیا اتا کرو گے ہدایت پا گے۔ یرت دو نک یھ ہے جواولیا اہ کے لیے تام قلب(فواہ صلی ہےاودب یا ۰۷٤۳ھے‏ ھبچڑھۓ) سے عاص لیس ہولی پل بای دی ےئ ام ہوقی ہج اکا ترک دتالی نے فرای ٭ عَءل.َسلنلَنتاجلباد ومن :ہہ ق :ا ورام نے ا لٹ مکھایا۔ وم جوم شدکا ام بر یی ماورا ام طا لان موی ےلوب می اترتا ہے۔ پا اسان پر واجب ےک الم لاشدت سے باشرم رش دک یقن سے اب پیر تکی یناسل کرے۔اے بھامیداخجرداررہواوراپنے رت ےو کے ذو ےش طل بکرتے رہوج اک پک یش )ارشادفرایا: َجَتَةٍ عَزَهُها الَبوث وَالاَزض” اث اتارک وتھالی نے( ر1 وتار (ر آلکران۔33٦)‏ تر جمہ:اوزم اپ رت سے سخخرتطل بکرتے رہواوردہ نت جس کی چوڑ ال سافوں اورز مان ( کی چڑائی)ےکھی زیاددہاورجڑتخین کے لیے مار یکئی ے- ط یقت کاراست اذا ورروعالی قاظلوں کےساتھ اپنے رٹ کی طرف ,جو غکرو بی ںقرجب سے (ودوقت )کہ(الل کے کی طرفازنغ انے )راس مع عکردیے جا ہیں کےا ہیں اس عال مکی جا بکوئی تی (مرشر) نہ لگا ہم ب باد ہونے والی داجس بمیش رج کے یکہیں آےادرنیصر فکھانے پٹ کے لیے ہیں بس خبی کی خواہشا تپ مکر نے نے ہیں تار ےب کر لی ال علیدآلہ ہار ےختظراوزسارے لین ہیں اتور علیاصلؤ والسلام نے نر مایا: ۵ص ۶ تریھ :ہیسآ خر زی !نے وان اپ اعموں کے لی ین ہوں۔ ۶ روز جم ب نازل ہہونے والعلم دوک مکا ہے: ایک علم خلا ہراور وو اعلم اشن یش عم شریعت اوزعلم محر فت ۔ش ربج ت کا ہار ےما بر بر لاگو ہوا سے اورمح وت انم جمارے پاش پر الع دونوں گاہس کےساجمدجی انم نکو . ےگا اوراس فا لی دنیامٹش ا لا وقشي: و بل تج یم جا ےگا علوم کے ہوجان کا یل یقت ہے جی اکر درخت اورچوں کے لے کچل حاصل ہوتا 5 اضق + وی ۳7ت ل٣0*٭""م‏ اتے ہیں جن ان کے ددمیان لے“ یت و اس سا صرنلم اہ رس ےتقیق تکو حا لی سکیا اسکتا ور نہ یختقصود (اث تال مکاوصال حاصل ہوسا ہے ۔کائل عبادت دہ ہے جس می دونوں علوم ( سم ناہ ری عقیقت )شع ہیں جی اک اشادبار پ(ستاگی۔19-20) ( سر7 الذاریات-56) تر جھہ:اورٹش نے نول اودانسا فو لکوا پت عیادوت کے لیے پیداقرمایا۔ ین انی ٢ع‏ فت کے لے پدافبایا۔ لا جوا ارک وتھا یکو اما نیس دہ ا کی عبات کیوکرکرکتا ہے !تفیہ کے ذرمیےفلب کےآ ئینہ ان کےقیا بکودورکرنے سے (ا تھا کی )م وت حاصل ہوٹی ہے جس کے بعد( طاا بک بقل بکیاگہرائی یش ماس سز میس پوشید بن از لی ک یھ زان (اوڈدتھالی )کا مشاہردھاصل ہوا ہے ۔عد یی ن ری یس ال تھا یکا فرمان ے: جھہ: یی ایک پش ونمز انتا میں نے جا اکس پپیانا جائؤں میس میں نے لو قکو پیدافرایا تاکرد وھ پیھانے۔ یں ال حدبیٹے سے یدام ہگ اتی نے انس نکوا تی چان کے لیے اف بای ہے۔ ج۔ ه_یت‫ جحج مرف دوطر کی ہی ہے ہم شت صفات لی مخت ذات ای مم غت صغات دونوں چان می ں مک مکا حصہ ہے اورم ریت ذاتآ خرت (عال لاحدت )ٹل ردب ند یکا خہ جیما کارشادباری قالی ے: ترجہ :اودھم نے ا کا مدددد را فی ےگا- مج دو فی کے ذر یج ا نکی مددکی جائی ہے ( جک سے ےش یہ ن ہاش نکا جح جس ہس کے يك کِهُ النو عل چبادہ ز عِلْۂ پأہتان ايك الوم النَاؤع يِتُسُوْلِ المَقَصَودِ زج تلم دوطر حا ہے:ایک وج تلق زبان سے ہے اود یا ارک وتھا یک طرف سے اپ بندوں پر ججت ہے۔ دو الم دو ہے ٘ سکأعل لب (اطن) سے ہے ۔ بی یل نل اوخصسود(ذ اتی تھا کی محرفت ) حاص٥‏ لکرنے میس فا دومن ہے سب سے پیل انان کے لےیمشرمیعت ضر دی ہے کہ بن خال مع نت صفات یش محر نت عاص لک کےاوروددد جات ہیں۔ا کے بای اشن ےجس کے ذر سی رو (روب تق ) عالم مخت میس ذ اتی تھا یک معروفت حاص٦‏ لکرکی ہے اور بیس وق تک حاصل یں ہوک یق تک مخالف رس ما تکو رک کیا جا اوراس کےتعمول کے لیے بغیر 6اك نی کے:صرف افل ارک ونھال یکی رضا کے یلما لی وروعانیمضقتیں (پرةۃ خس بلب )بر داش تک جائمیں فر انی تھی ے: وا کی صا تکی مت رفت عالم موجودات میس جو زرل کی صفا تک مظمرے ےڈ لکرعا لم لاضد تک کچ ِ سو کرت ےنات راہب عی حاصل ہوتے ہیں اللتارک وتھا یکا تر ب نال - (عرۃاآہف-110) تر :یں جواپے رت کے لقا کا طاہگا ہوا سے چا ےکک اعما لک اوران داعدر گا ند کی دوس رےاشریک دکرے۔ عالم ریت عالم لاضدت ہے اودوی انا نکااسکی اشن ہے جن کا کر لج کیا جا کا سے ال کے بای ذکر سے ےاورقلب کے زندہہ٭جانے پرد لک ذبان سے (ڈر اری ہوجانے ری ہے ا وف نے اتیل موا انام دی ےکپکگ س پتلق محفباتہق سپ سے ہے اودا یٹیل معالی ا ننصوصیا تک بنا کہاگ یا ےک: اتاپ ہے اوربچرد وآ ہت آ بت باوف تک طرف بل تا سے 2جس طر بچو ںکونظا ینیم دی انی ہے ام طرح ا ےچھیعلم مرف ت ککھایا جا اہے- اہر یمن ہو ںک گنی سے پک ہوا سے لیں یی پل سای )بھی ای طرح رگ٠‏ فلت اورہشرکی صفات سے پاگ ہتاے۔ اتا ہے سے بچماں کے یف سے پیدرا تا ہے اپ ال کی رون شکرتاے از وضصورت پو ںار بینجا صاف اود پاکجڑہ ہے او خی ( الم خواب )کس فرشتو ںکی مامندنظ رآ جہے۔ 5۔ ال تھالی نے جنت کے ندمت رو ںکوطقولیت کے وصف سے و ازا ہے چی اک ال۶ زوگل ے یہاں تیک اعمال سے مراد ظا ہرئی بے رو عادات رشان کی اہی د اضف اطاعت ہے۔ عم روف عم نم ش کا لکل سان گی حرو دی ت یت دو قر سال ی 7ۃ ق/أْبے۔ رق (س5الواق۔17) ترجہ :اغ (اب جنت) کےگروپوع رڈ ےطوا کر میں کے جھ بییش ا یےپی(نوع )ار ہیں گے ٭ عِنمَانْلْم کاتئز ڑوت مَکُون (سر۶.+د) ت جم :ان (الی جنت )کے لے ای ےمان (جنت کےلسن غادم)ہوں گے بیسے پچ ہو تے مولی۔ 6۔ روڈ یکابینام ( ول معانی )ا کیاکی گی اورشخافیت کے باخث ے۔- 7 رو فی بی اس امم ظفل معالی کااطلا یشنم کے اعت اود بشری صور تک بنا یھ صرف میا زی طور یہ ہے اود اطلاق ا کی مد جصور تک وج سے ہے شکہباضفی صفائ یی ہنا - کرای کن راس (ردع ڈری )کے انتدائی حا لکی رف دیکھا جا ۓ ت2( چتا کہ ) دتی اللی و تق انسان ہے ج سک ال ےم ایک خائ فہدت ہے۔ یی ضعمادداش یت ال ے ہرگڑ محرم یس ہیں جا رد ت ٴُ مَنَّكَمَْرَتِوَلَاتّى مُزمل صمفا ھل کے ساتھ (قریت )ایک وقت ابی ہے جس یس نکی مطرب فرخ کین شی ےاودنی نی وسولکی۔ اس سے مرا جاک نال اللر لی دآل ہل کی بش یت ہے اورمشربفرشنے سے ماد پ سی الد علیدآلہ دن مکی رودحانیت ہے حے ججبروت کور سے پیداکیاگیا۔ چوک فرش کوڑھی ججروت کےٹورسے پیداکیامگیا یں دولو رلاشوت میں دائ نیس ہوککتا لے نہیں لفُمُوْڑوَ نجنی لور شرب تکوتی ن بھی اس قرب کے درمیان حا لیس ہوسکتااودضہ تی عالم جقردوت سے لن ےک عا مر کک یکو یوق ا رق بک تقیقت کرک ے۔ وڑی :اتارک وتھا یی ایک نت ای بھی ہے نس مس زرجوریں ہیں شحلاتہ نہر ورودھ (نی نر )پگ رف اللدتھا لی کے چجرتےکادبدارے۔ دیدایقی میں روف ہوں گے )۔ حضورعلی اصلا 2 والسلام نے فرمایا: ت جم :خنقر بت اپنے رکوس طرع دکھو کے ہے وس رات کے چا نرکو(افسیمشل اور پ ینا کے)د یٹ ہو۔ ارک فرشہ پا پشیی دجوداس عال میں داشل گان فو اج لکر راک ہو جات ےگا ۔حد یٹ ق یٹ اتارک وتالی )ا ے: آَز کت جات تق جمہ: اگ یس اپ چورے کے جلالی کے انور سے پردہ با دوں تا حدنظاد ہر زج لکرراً 72 جاۓ۔ ای رع جبرائل علیہ السلام نے عو کیا گر یس ناشن کے برایرجھ یآ گے بدھا تذل جانول ج یں اسان دوطرع کے ہیں : سال اورروعالی ۔جسمانی انان عام ہیں اورروعا نی اسان ال 7 9 5-5 ہیں۔ ام انسان اپے اص اشن جک درجات ہیں ہی طر عم ش ریت ہل یقت اورمح نت ( کےا ات )پ رن ےدوت کرت ہے جیما سول الک ار علیۃآلہ لم نے فرمایا: ے۔ رف ظسا با و مرا و "2 (عال نا سوت )کی دو جنت ہے صے جنت الما گی کے ہیں- دس رق ول ولرک کی دوجنت ہے سے جنت اض مکتے ہیں۔ شی شک اس لے ایلی عالم ےوک اس2 توف کےاصولو ںکواپناتے ہو ے خواہششا تنس ےکی عدکک چھنھارا ا٠‏ لکرلیا سالار ڑوت 27 تو ضس تق ات (الی )الم جرد کی ددجنت ہے جے جنت الف دو ںکتے ہیں۔ یں جساڈین(ادرعام انان کے لی ہیں او نم اپے الم لان نتوں مک طر فجن علیعلم کنا جی اک خی اکر مل اط علیہ دا لم نے فرایا: اعت لیا رََفِفَةُلمَاطلِ٤ٗ‏ ش ریت ہلل یقت اورمح نت کےبخ تج جائع کت اق تال یک مرفت ہے ۔امس پل با کی چان اودا کی ککرنا ہے- حضورعلی ال والسلام نے مر یف مایا و 1 ۵ ال عق و عَدوَأرت لْباطِلتَاطِلَاوَاززفُتا ہار ےرب ام پت کی سے دا ف ران اتا کت فی عطافبادے۔ اٹل تو زاکل ے وا نکر اورالهتللثْل رے۔ >9 مَنءَرَف تسد وَفَاِقۂعَرَفربَاوکابکد جہ: جواپٹس اورالں کے نال قکیپان لیا :ہاب ربگیوچان لیا اہر لک ا جا روح خائ اسائی کا جو اپے اسلی لن قرب ال کی طرف ہوا ہے جووعل یقت کے بب حاص لکر نا ہے او یی عال قرب لا حدت یذ حید ہے ۔ ربعالی اسے دای ندگی مس پت ال عادت کےسبب عاصل ہو جانا ےجس میس أ کا سونا اود چاگنا براب ہوتا ہے۔ بلگہ جب مم سو 2-7 و : / جاتا ےت قلب بیدار ہو جاتا سے اورأ سے فرصتٹل جا لی ہے۔ یں ووگھی یا جذوئی طود یر اچ لے ابی عا لیم جردت: اورفرۂ ال کک رمائی حا٥ل‏ نکر کے۔جوددعانی خاص انسان کے لیٹس ہے گی ہجائۓ' نے ردھائی پاکیزدامالی کے ھی کے لی دو چھد ای الس مصریف ر ہے اس لے ا نکی روعامیت ا نکی جسما' خوارشات پنااب؟ گنی اوراے ال قرب میس ےئی۔ تر جمہ:اللرموت کے وقت جانوں (روجوں کوليٗ رتا اور ریش نکی مو تکا وش (روجوںکو) ٹیندگی ہلت می یں یس کے مرن کاو شتآ اوردوسرکی جانو ںویک مر ردوقت کک چچوڑد یا ے۔ ای لے ضورعل الو والسلام نے قرمایا: یا ہوان ( کی روتوں )کورہگ لیا ا زا 2 ضٍپیُ9 ""ہ" م7 و وو احاد ین فی بی الیل ارک دتھالی ارشاط ا٥ڑے:‏ 8 الاِنْسَاك یز ءآتایڑۂ تر جمہ:انمان میراراز ہے اور انما نکاراڑ ہوں۔ چ ١ت‏ عِلۂ لَبَاطِ یژدن بزق آجْعَله قَلب جَبَادِق وَلا تز جم بے ڈیم بالن میرےاسرارٹش سے ایک مز مہے ےس اپ ل(عقرب )بندوں: تیر جا رج تَفْييوَإِذَا جم :یل اپنے بندے کےکمان کے مطابقی ہوتا ہوں۔ جب دہ نے بادکرتا ہے میس اس کے سسات ہوا ہوں ۔جب دہ مھ اپنے ول بی با دکرتا ہے بھی ا سکواپنے دگل بی یاوکرتاہوں اور جب ددم اک کی جماعت می لکرتا تو یل أ سے اس سے بجعت ٹل پاوگرتا ہوں- انغ (اعاد ین تی ریلم اع ن اور مز ) ےم رابکلپ۰نکر ہے جوا سان کے وجودیں ہے_۔ ان کےںتحاقحضورعلی صلی ۃوالسلام نے ارشاوف ایا: 90 تنک ماءومیڑون جا تق ج: ای ژ4 کانھکر ایک سا لکی عبادت سے ال ہے و 0 :تنگرماعزمازدن با توالی ار تر جمہ:ایکل کالک رارسا لیا عبازت سے ال ٰے۔ پیں اس ق نیقی کے ل کہا جا ےگا جس نے فردعا سکیل م نگ رکیا ا س کا ای کل گر ہچ ایک سا لکی عبادت سے انل ہے جس نے الشدی عیادت بیس ج دہ پر داجب ہے ہک محرفت کے(حول کے ) ےی کک یکا رکیا یں وش تسا لکی عبات سے ال ہے اور جس نے الاک وتھا کی مع فت می ای کل بھ ینک رکیادہ ایک لہ براسما لک عیادت سے نف ہے۔ یی رم رفا ہج“ مو سے عال رق کی طرف رہعالی پرواز ےت ریش واصل ہوتاہے۔ بی ابد جن تک مرف می رکرنے والا اود عار ف قر بت گا رف پددا زکرنے والا ہوتا ہے۔ائ جن یس سے مکی( شاع کن ےکیالزخرب )۷ ۳ 7 ہی عارف انۓ محروف' اوراۓ او حیدے: کی سے ہی غارف ا ٠۳‏ ادرا تری ما لا يَراما النَاطِرزنًا ال مَلکوتِ رپ | ایی شرتی انل جن تلق ما ہر اعوال سے ہو یا مخت کا لم مہ ان سک معرفت حا لک جاری ہو انتعالیٰ ۵ے عا لم داحد یت اوراسل ےاوپ تا وعدت ا؛راعد یت تجمہ:عاشتوں کےقلیب کے لے ای ی یں ہیں جن سے ووس بھی دیکھا جا تا سے چو اہر ہنگھوں سےنظزنی ںآ ا۔ ان کے لے ایی بازد ہیں جن سے دہ خی پروں کے ری الا من کے ال رکحو تک طرف پروازکرتے ہیں- چس ایی پردوازکرنے والاعارف کے پاعلن میس ہوتا ہے۔ ود یی انسان ہے اوردجی ال ارک و تا یکائحوب بحرماورویں ہے جیا رت پا اید بسطا ا فریاتے ہیں اب اللہ الال گا ہیں ےنکر عم یں ہیں اورک روایت یں ہے اول اہ ارتا یی بت پا تا أسی رح وہ اولیا ال تھی عام انسانوں کے پردہ مل تچیے ہوتے میں یں دتا۔ ایک مد ی قی می ال تھاٰف رب اشرانداز ہوثی ہے جس سے دداپے رٹ کے ماق رت یں سأ نکی عبادت ان کے اخلائش کےفرق کے مطابق اورتصب فناہڑھ جالی ہے۔ جا زیاد قرب عاصل ہوتا جانا ہے 7 1 کلم اتقازیادددی دہفاہوتے ہچ جاتے ہیں لیک ولی و ہے جو اپنے حال می فا یا ورالل پاک کے ا : : ۳ مشاہدہمیں باقیہو۔ناسے اس کوک اتی ہواور الیل کے سواسی کےسا تقر و ے انی اتی ضرور ات اورخواہشات اوراپنے وج دک ینکر سےآزاد حہ اللدکی ذات اودال کی رضاکے علاوہ ا و لیکو یھ چھائی شددے اوردہ یح ا ئل کے دیدا ری حور ہے۔ ٣ہ‏ اریے ول یا طالب مو وا ھی پراختیانئیس ہوتا۔ اس کے ٹیش ظرصرف ال ارک وتا کی رای ہہوتی ہے اور ودای کے سواسی کے ساتھومکو چس ںی ںکرتا۔ لسر وف کا 50034 نے ا کی تقد کرامت سے ہولی ہےءاسے شید رکھا جا جاہے او ھا ہش لکیا جا اک الل کے را زکوظارکرکفرہے۔مرصاد ۴ی لآ یا ہے 'قمام صاح بی کرامات تیاب میں ہیں اورالع (مردان خدا) کے لی ےکراعت شون تین کی ط رح ہے یں ولی کے لیے ا سے ہار مقا مات ہیں جن ٹس سےسب سے پ ہکرام تکا تظام ہے۔ جوا مقام کرجا تا ہے دہ باقی ماما تجھی حاصل کم لیا ددرت نا ام ہو جانا ہے_ لوٹاۓ جانے کے بیان ٹل جب ایارک وتھالی نے رق یکوعالم لاعت میں اس نصورت می نی کیا ا سکو پت تین تقام (یشنی عالم :سرت کی طر فی کا راد وھیا خر مال کہ مق دق می مظمت وانے بادشا(ال ارک دتقالی )کے لیے ا لکی عحبت اودقر یت مس اشا: تم للا ا ہے۔ سب سے پیل رو قد یکو عا لم ججروت می تحید کے بی کے ۔راتونتفل خر مایا ٹشتی عا لم فہہواور ىیمقاماولیاگرام اورانیا نورایت سے اس عا یم می رکھا اور سے اس عالم (عالم جبردت ماس بہنایا۔ ای ط رح ا سے عالم مک (اسوت) می سکیا وراس کے لییخصری لبا میا انی ریف نی کیا کہ ددعالم کلک (ناسوت) یس پل ندجائے ۔ادد جب ردگی لاس کے اخبار سے دو رب ف یکا نام دو سلطالیٰ رھ ودنگوتی ( اس کے )اخقیار دورب سی رای دو رب ردان رکھا ادگ اخیار سے ا کا نام دوب مان رھا۔ فلس افلی نکی طرف لونا ےکا متصد تھا رقلب ٹم کے وسیلہ سے اسان ڈیادوترب و درجات عاص لکرےاوراپ نے تقل بکی زین پرتذحیدکا یچ ہے کہ اس سے فو حیدکا درضشت آ گے سک جڑ ہوا سرور می قائم ہوا وراس پر اتال کیا رضا کے (حمول کے ) لیت حی رکا لے ار ہہ نا رش یگ :فی پایاوہواے تیارکردو جسالی وجود 854 م2 تل بکی زین پرش ربج ت کاپ وۓ تاک ال سے شیج تک درخت پیدا ہوشس پر درجات کے کچل یں انال جارک وتھالی نے تام اروا نںکوشسم میس داشل ہون ےکاحم دیاادرپ روح کے لیم میں ایک ظا عم می نکردیا دوج جسما یکا مقا متس میں خون او رکوشت کے درمیاان سے اودددع قد یکامقام ہرس ہے۔الن ئش سے ہرایگ (مقام پددرع قری) کے لیے جحدکی مکلت یل ایک ذکان ہے جس شی سا مان ارت اورمناضع ہے :ای ارت جس بس ہرگزکوتی خسارڈئیں فان تھالی ے: + خر کرتے یں اس ہی پروی ضارئین۔ ہرانسا نکد اپ ےک اپ و چود کے ان ( نہر دباٹنی )-عا لا تکوچ کیک دہ ج اھ ہا حا لکرےےگاوداس کے اپنے ذمہہوگاجیاکرفر ما نی تھالی ہے: ٭: الَلَابَعلۂْ اذ بِفْژمایٰ الْقبزرہ َخضل ماف الشُُو (سدت.0٥1و)‏ تر جم :کیا (اان ) جانا نیس جب تبروں سے (مردو ںکو)اٹھایا جا ۓےگا اور جو پچجیسینوں میں پپشیدہ ہے ظا برکردیا جا گا + 2 (ح٭ تی ام رائل۔13) ترجمہ:اودبرانما نک یقت اس کے لے گا دیگئی سے اطم ال کے مطای اللدکی رضا اورقرب کےتعول کے اورچوائمای ئۓ: یں گےدومقاماورا ال سب٠‏ ملغ ”کمب تپ اروا ع کے ول میں نتصرف کے بیان مل چیتھ جیہھ جیے روج لی کی دکان جدن ین سینا درا ہیی اخضا ہیں ءال کی دولت ش رات اور ال سک تھارت عم ای کے مطابق نہک اکا پشٹرک سے پاک (بےد با لکرنا ہے جی اک یفرمان تق ال ے۔ ٭ وَلَايْفركيجَاءةِ تر جہ:اوراپن وادر ٹک عبادت شک اکیشریک دشرا بے ئک الدداحد ہے اوروہ وا رکوہی پت کرت ہے لی اعمال زا و مان اور یاوگ (اي ے اک ہو ںکیونکہ ولا یت : مکاشفراورعا یم نک (سوت ) یز ین سے نےکر سا نک چرچ کا رایت کےمراتب میں سے ہیں جی اکہ پل بہپچناءہواٹل ارت اار7 کف-110) 0اا مناہردادرا شیا ُا (دہر۴) فاص (لتوں می ) ےکر لیا دورگی بات من لنااود بد کے (اندرول) اسر کو جان لینا۔آخرت میں ا ساےن جن :حور وقصوروفااز شرا پوراور جن اول میں ویر نت ں کا حول ہے ج-ے جضتاالماو یکٹچ ہیں۔ روب رواٰیکی دکا ‏ قلب ہے ءا کی دواتمک ہیقت سے اورا کی تبارت با واسائے اضصول سے پیلہ را حا کا رقف دآ داز ڈکر ہے لفر مان ئن تھالی ے: لے شف سد لکا حال معلو مک رین یہ کک مرا وین پت کے جال جن تکی خدمت پہ ٭ ‏ غُلِ اذْغٰزا ال آواذ غواالڑخلح* ابا تال لھا اأفنای وی مرانیل-۔110) جمہ:(ا جو پیل لی مغ مادتچیخم (سب )اس الل کک پارو اش کک پار وت ج بھی نام سے پکارو گے سب اجک نام أ سی کے ہیں- ٭ تَلوالْنتا' سی فَاذعُوفُہا (سہ تر جمہ: او کے ایا سب اھ نام ہیں لی سے ان( موں بے کا رو- پیا رف اناوت ےکہ را نگ نوعلم پا ن کال ہیں اور(ذا تق تا یکی )مر ضت ف-180) اسمائے فذح( ام الله ذات الله زکر) کا نیہ سے حضورعلی صلی والسلام نے المتعاوتلو تر جمہ: بے تک انتا لی کےناندے نام ہیں بے ئک جس نے ال نکش رکیادد نت میس داشل ہو یا ھریدارشافمایا: ۵ رش عر ف جمہ :در ایک ترف ہے اوزگرار ہار پارے۔ آمند رجہ پاماعد بث ٹیش )شا رک نے سے مرادانع (اسما سے نار ہوئے والی اللکی )صغات سے متصف اوراش ( ال کےاغخلاقی ےق ہونا ہے۔ یہ بارہاس اکا تذحیر لااِلْةَالَاللهُ ےیارہ روف کے مطابقی اللد ارک وتالی کے بارہ اس ۓ اصمول ہیں۔۔ اتارک وتعالی نکی حیر کے بادہ روف می سے ہرقف کے لےقل بکیخقلف عالتوں می ایک ایک ا مکوشیان فریادیا ہے۔ ہ رخالم کے لیے جن اس ہیں جن سے ال ارک وتعالی بل محبت کےقلو بکوشبات بخقا نے فیا ماے ارک تھالی می کے ذر ہی اللدکی صفات کا لم حاص٦‏ لکیاجاسکنا ہے۔ ی مضہدٹی بقرار ہابت ری 8 طسہد ہے جی کال ارک وتھالی نے فرایا: کے الة لَّيذی امکزا رالقزلِ الاپ لَیرة اللُنیا زی الاوزو (سورابرائم-27) ت جھہ:اللتالی یمان والو ںکو(اس ) مضبوط بات (کی کت )سے دنیاوئی زندگی می لبھی خابت متا ہےاورآخرت مس گی- ان کون خبت ل فرباجا ہے اود حید کے رکوقائ رکا ہے جس کی بجڑ یی تصرف سان زمینوں می پگیحت الک می ہیں+ا سکی شا سآ سان می ئن سےبھی او میں۔ شھانحھیں؟1 سمانوں میں + اورروج سیرالی کا مزا قل بکی حیات ےجس سے طااب عالی لو کا مشاہ ہکرتا ےش رف شتو کا مشاہرہءاساے پان لاعف وآ داز لاحظکر کے دہ(لنی )زبان سے پپفیگکگوکرتاے۔؟ خرت میس دو برای کا وکا نددوسرکی نت ے جکا نام نت امرے۔ در سلطالی گی مان اوہ ے۔ ا کی دواتمحرفت اود لکاتادت د لک ڈیان ے چار جنت اوراگ جت ال کے الو اراو نشی اس کازدائی )دک سے جاک ذو رعلی ال2 والسلام نے فمایا: الَعل2 القَاؤغٌ افج الْعلۂ هن رج لم دبطر کا ہے۔ دومج کاتعلقیز بان سے ہے:الطجارک وتعال کی طرف سنوی 27 پرجچت ہے اوددو اعم جس اتل ول سے ہے اوروتیعم منان شی ہے۔ اس دارہ(دائة محرفت یل بے 0 2-] حضورعل یں الات والسلام نے فرمایا: تھ جمہ: بے نک الد اک نے ق رآ یا ککودیس ابلون میس نازل ف ایا۔ ہیں ا کاپ ریش نا ہنی اورفائدومنر کیو دہ( قرآ نکا)مفزے_ اوری(ہارہ)اماان بارہچشمو ںکی ط رج ہیں جوحضرت موی علی السلام کے مصامارنے ے ہار تقر جہ:اورجب موی (عی الام )نے اپچ نوم کے لیے ایگ دھا ات ہم نےفمایااعصاای پھر مارو۔ یں اس (چھر)سے پارو نے جار ہوے اود ہرکروہ نے اپنے پن کا عجہ چان .- و لم ھا ہرکی مشای عاریشیا با کی ہاو ان یش ےکی رع ہے ای لیے پیل دالے تر جمہ: اوران کے لیے نشانی ےکم ہم نے اس مردو ف٠‏ نکوزد وکیا ورس می اناج ید اکیاجشل میں سے ووکھاتے ہیں۔ 88 ہہ اتارک دتھاٹی نے ااسل زش نآفاقی سے (ہ) اناج پیدافر مایا جو تیوانا سای کے لےکات 5 بش ہےاورقلو بکی زشن سے وواناع پیامیاجوارواج روعالی کے ل ےق ت بش ہے فور یریت ترجہ :چولشھصس )ایس روزک اشعالٰ 888/7ت٣۶‏ و راس ےلپ سےکگمت کٹ ےا لکی ذ بالن پرفا ہرہوجات ہیں۔ اس (روج سلطانی کال لال کے کادیدار ہے۔ اتارک دتھالی نے ارشادظربایا: مَاتَتَبلْْزَمْمارای صم++) ترجہ :قلب نے أ سے تجچٹلایاجو(تخم علق صلی اش علی الہ تلم نے بد کھا۔ تضورعلی الات والسلام نے فرمایا: ۵ البزۓمرافلیزسي خر جھہ: مم وک نع یک کا آ می ال من سے م راہن بن کالب ہے اور دوس رےم کن سے مراداڈرتپارک وتھالی ہے ائلتارک وتھالی نے ارشاظرایا: ٭ لََوْم اليَيِْن سنہ ت جم :اھک بھی ہاو رشن (تمہبان )چجھی_ اس گر وہ(یشی روج سلطاٰ )کا کا نیس رک نت ہے کا نام جنت النفردوں ہے۔ رو فیا دکانىز میس ہے۔ارشادباری تال ے: الإِنْمائیزیوگایڑۂ تر جمہ:انمان می راراز ہے اور میں انسا نع کا راز ہو - ا سکی دول تم تقیقت ہے اود و یع مق حید ہے۔ا کی ارت ای رآواز کے :نٹ کی نبا سے سای ترک وتھاٹی نے ارشافرایا: ٍ ھی (سر8لا-7) ترج:اوداگ رآ ویو و ور ہا 7 یں ارارک وتقالی کےسواکو بھی اس با تی جا تاور کاٹ نل معانی کا شپوراوربنز کی آنکھ سے اتال کے چہرے کے جلال و جا کا مشاہرہہ مھا من اودد یداد ہے۔ ال ارگ و تھالیے اشاوف ایا: اإرك0 (سرڈاتاب22-23) وبوة ریز ا ر٥‏ لت ت :اس (قیامت کے )ادن بہت سے چرےتروتازہ ہوں گے اور اپنے رٹ کے دیدارٹل مشفول ہوں ے_ یی ا یضر مامت ادرک کے نیس گے۔ ال تیارک وتھالی نےفرمایا: 5 الْیَصِڑ0 (سرۃاشگی۔11) یھن دالا ے۔ ۔ ت مطلییں کر چان ہیں لوب قرت زدورہ جاتے ہیں؛ز انی یفد ہو چائی ہیں اوران یش پرگز استطاععتنییس رہق یک یدوس کو (مشابرہ) و سکیونگ اتارک وتقالی ہرعال سے پا دے۔ یں جب انی خی ری علا کے ود اع مقالا ت کا مطال کر می علیم کے متا ما تک کجھییں ءا کی تق تکو جا یں ا ورای مقا من پا نی ق کی یودن اورعرقت ذات اعد یت حائٴ لک نے کے لیے جدوجہ کرس اورج مقالا تآ گےآر ہے میں٠‏ ان پراغتزاض اور ان کا ثکار شک ی- پسٹپڈٹآت- 70٦‏ علوم 71 نعرادکے پارے میں علم اہر بارہاقسا مکا ہے اوریلم پان نک بھی جار دا قسام میں جن می ںخوام اورخوائ کی قابلیت (اور مس تی مکیاگیا ہے بیس (قام نا ہر دبالنی )علوم چارابواب بقل اب ال ش بجعت کے اہر تلق ہے جس میس اوام ونواھی او تام ( اہر ) احکام باب دم ا (شرییت )کاپان ہے جن ےکم ان ادرل یقت کا نام د اگ یاہے- باب 2و ات _یعةً خجرا و یڈ آكع اکب ولمِنَ آررکھا و كبیقةُ کُمَاوالرآن ججاوغ حون وقابلدلَالة و الَامَازوْتفنڑا آزتاونا تر جمہ:شرلعت ایک ددشت ( یش ) ہے طربیقت ا کی شہنیاں ہیں :سحرفت اس کے پچ ہیں ؛تقیقت اس کا پل ہے اورقرآن ان سب (عم) کا جائع سے ننس میں سب دلال > اشمارے لن ھاسیبرادرتاو بالات مو جودہیؤں- ”صاحب “کت ہی کت رموام کے لے ہے او تا وہل خواس کے لیے ہ ےکیانک خوائس را علا ہیںء رسورخ کےت یور کے ورخ کی ش لعل میں بات بق اراورمعقبوگی کے ہیں جیے 8 پچ یں سو ت0" غ )1 ددوات کول لیپا اطع کے ایل موۓ < و کا یل اودچاروں داخروں یھ ہر ہے دارم رفت میں (نخس )نو رایت کے دو اگوی کردا تا ےچ کاڈ ترک وتالی نے فرمایا: جم کیا آپ (م ال علیہ :ا لم )نے ای۰ لکوویھا جس نے خواہشا تن سکواپنا مو بنا لاے۔ دائر نقققت میں شیطان ٹس اورفرمشن دخ یں ہو سکتے ہراس می ای کے سوا ہچ ج١‏ لکر ت)فرمایا' اکرش ناشن براجھ یآ کے بڑھائز می سآ کر طالب اپنے دشمتوں (نٹس وشیغان ) سے نات پالّا ے اور راو ہو جاقی ہے جی اک جراخ نے (معرا گرا پل چان گا اس دا وہک مجن کےتمول کے بعرا کا شاررا عاجش ہونے گے۔ ق جمہ:(خیطان نے )کھا(الی) تیر مز ت وجلا لکشم امس ض ردان سب (لوگوں )کوگراوکروں مياگرمدانۓ تی نس بزدروں سے بنرہ ج بتک حتقیققت (کے وائز) مج نہیں پا تام سنڑیں بن سا یکلہ بشرئی صفات اور غیر یت (خراش ئگ ذات کے بی فناننیس ہو سکت اور ہجیتن تل یی( تی )معرونت حاصل سے انی چہالت کا پردہ اتا ہے۔ لیں الل تا لی خو داش سی داسلے (اوردسیلے) کے زیر ےک عم لی عطاکرا ےجس کے ود طا ابع علی السا مکی:شل ادتقا یکم رفت ا سک تحریف سے(ح۔اصل اکر ہے اور کی عبادت ال لکیاعلیم ےکر ہے۔ اس مقام پردہارواب قّ یکا مشاہ ہکرت ہے اوراپے نی رت ئھصلی ال علیہ لہ مکی (حقیق کی محر نت حاص لک لتا ہے۔لوں ووانزل سے ابدتک سب ان جا ا ے اورایا ہہ السلام/ اتی بصا لی خنری دتے ہیں جس اکیفرما اق قالٰٰے: فْيْقا (س٥شاء۔69)‏ تَخضأوی تر جمہ: اور یسب (انمیا:شہداصدیقین اورصا ٹین کیا ھی اجتھ۔ می ہیں۔ جوا علم سے واص لیس ہوتاددتقیقت میس عالم جینئیں ء چاہے اکن نے لاکھو کا یی ںکیوں نہ پڑ ھ ری ہو کیہ دو روعا می بی کک پا نہیں ۔ نما ہیی علوم کے سساتھ جسماٹی انا لک بدلہ صرف جن ہے ہا صرف عفات (الہی )کان جلودما ہے۔ عالم صرف عم اہ رکے ذر یت مر وی اورقر بی تھالی م نی سک کنا کیک .یعا لم پرواز ہے جہاں باہو کے ایس اڑا چا سک نار وہ نرہ چم ھا ہراو یکم پان (دوفوں )کول میں لا جا ہے وو عالم لاھوت جز جا اہ ۔عد یٹ ری یں فرما ای تھی ے: ُذكٌ آن تَنْکُل ‏ المُلّك مَیْطان الْعَالوِ وَالمَلگُو الَْاِف وَاَيزَوتَ 6 43 ان بے تجمہ:اےمرزے بقرےاجبڈ مر ےترم مس داٹل ہہون کا ارادوکر ےو کلک لکوت اور چبرو تکی طرف مائل نہ ہکوہ لک عا یم کا شیطان ہے اورمگوت عار کا شیطان ہے اور جبردت وا تک کا خیطان ے۔ جوطااب ان یش سے ایک عالم یھی دای ہوگیاودالدتوالی سے دورہوگیا تق قرب (حضور تن تال ) سے دور ہوا ا درجات سے دورن ہوا۔ ا لیے طااب قر بکی طلب ت2 رت ہی ںین أ سے حاصل نی سکر کت کیوکمہ دہ خی (نش رجاٹ پانے)کالا ںؤ رکھے ہیں ادن ے پا رف ایک ئا باز دی عم اہر )ہے۔ ال قر بکودہتقام حاصل ہوا ہے ج وی گے کا ون ون.ت را۔دوتقام نی قربا تر جمہ: للا ںآ دٹی یرف ائۓے جس ےا ول کت گے نہ بڑھاء از ہانگ خاخل تک اور تی روا کا یں ابی عال مک چا ےک دو انی ذات م نیقلت انان شیپ معالی کت ہیں: کے معالی عاص٥‏ لکرےءاسائے ہی کے دائی ذکر سے ائ لک یی تکرےاودھالم اجسام ےنگ لکرعالم روعامیت: چو ھا لم ےہ میں داشل بدا عالم میس غیراللد ہرک نی قرار پاسکتا کین ووٹور کےیعخ کی امن ےج سک یکوئی انیس شف معاٹی اس یس پردارکرتا ہے اوراس کے ووتیاب ہے نکو(ز پان سے )ما لئ ِ یں ۔ یوعد بی کاعظام ہے جوا ذاتکو ون ات ئی سر مردیے ہیں اور جما لن تعالی کے دیدار کے وقت ا نکااپناوجودایےے غاب لے وولوک جوازل ےق حیدبرقائ ہوتے ہیں اور ش نکاس گی خی رائلھ کے ما ےنیس ھک سار پل 44[ پت ض رہ و جا ا ہے یسور کی رشن کے با حث (آکحیں چندسیا ای ہاور )اسان خارا کول و سکتا ای ط رح انسان مشاہ ة جال لی کے وقت غایوضرت شجو یت کے باعحث اپ ذا تذل دکیھ انا حخر تی علیہ السلام نے فر مایا ”جب انسا نآسا نکی سلطعت یس داشل ہوا ےت پرند کی پد ا کی طرح ام کی دوبارہ پیدائشی ہوثی ہے “اس سےمراداضا نکی تقیقت اور قابلیت سےروعالی طورپشفلٍ معالی کا پیداہونا ہے اوردجی انسا نکاراز ہے جن ش ریت اونمم حقییقت کےارشمائح سے وجوداورقول مل ظا ہرہوتا ہے یس مرداورفورت کے ٭ اِتَعَلفتاالإِنانمن 3 (سرقالاف2) جم ب ےنکچ نے انسانکو لے جلے فلفے سے پیداف مایا اکا کوآزمایاجاگے۔ طفل معالی کینبورکے بعدازان عال تی کےسمندرو ںکو ارک کے عا اھ رک یگہرائوں می س٥‏ جا تا ہ ےکیوکہ رام اہر عالمء عالم روج (عالم امر) کے مقاٹے یس پانٰی کے ایک تر ےکی نل ہیں .ا و کے بعدعلوم روعافیاورعلوملد پا شی (ا سا شی میس یٰ مروف اورآواز کے چاریوجاءاے۔ لو اور سر کے ام عتمت ان لن ےکگزشینل من ا نکر دہمراحب خلت رادرم ش کال لاکن کے فی حاص لئیں ہبوت ۔ اتارک وتھالی نے ارشاوفرمایا: الكُفُوی(-,28.278) کی کاک ہلان مگیا۔ یں مھ کت یرٹ زندو ول (م شدکائل )سے اخ ذکیا جا فو تل بکوز ند ہکرتا ہے۔ بی بجی پا ئل بے ہے ا تو ا وت تج ہر نے شس تس یں یشکاتگوام کے مس نازل ہوے ہیں۔ لے مھ ز پان ےآ فی :یں ظا 2 ... پوس ا ہرم 1 من مردوں اور من گورفوں کےگناہوں کے لیے مخفرتطلب ف مانمیں- یں ںآ یت ش رین کے نازل ہو ےکا مقصدخوا کین ہے_ .پچ دک یتس وین ڈوو سب سے پیل جس نے تضورعلی اص والسلام سے(ا کے )قرب کے لیے ال او رآ سان تن راس کی خواپش کی ووحضر تع یکرم اللد وج ہیں ۔تضور علیہ الصلوت والسلام نے د یکا اتفارفمایا۔ جب اش علیہالسلا ریف لا نورق حیدن مرح لق نکیا حضو علیہ اصلج والسلام نے ا کو طط رح اداکیایے جب انل علیرالسلام ت ےق نکیا تھا۔ نی اکر کی الد ےہ یک حضر تل یکرم اول ہج نشی نکیا چرام صحا کرش کے پا چاکرسب کو ترجہ :نمہارے ٹھنوں می سب سے بدا ش۲ نتہاراشس ہے جوڑہارے پپہادوں کے دریان یم تب کک الظدتھا یع تکوئس پاسکتے ج بکدتم اپنے وجودیش اپ ںآ ارہ الدکی ھع دتپچعلم حاص٦‏ لکرنے کے بح تقمد بی بانقلب ےق حیکاقرارکرنا سار ج3 7ھ مر لوا اوزماہ یکو انی سکر لیت ءاخلاقی ذمیہ و بہی مل زادہکھانے پی ؛ز بادوسونے اورنضول گوئ کی عحبت اورحشی نہ عادات تی قحب مگالینکو مار پیٹ :فص اورشیطالٰ صفات تب حصدکییاودا نچھی دن بدف انی پیاریوں سے پاک یس ہوجاتے ۔ ٹیس جب طااب !نغ (ئری عادات وخصال) سے پاک ہو جاتا جے دوگنا ہو کی اصل سے پاک ہو اتا ے اور کے وت ہے۔ائتبلرک وتھالی نےفرایا: ا رو کے ور جن مم وٹ صرف نا ہر یگناہوں سز کرتاہے دو ںآ یت مارک سج تل آت۔ و رتائب ے لین تاب ہرکنی سروک ناب مال کا عیض ہے جس سے مراد سے خوائ لکاتو بر جوصرف اہر یکنا ہوں سے تو ہکرت ہے وا یے ہے بی (کولیٹص )انیل ے نود وکھا ںکیصرف شنھی کات نان جڑے ماھت ہد یں ہیاس لا دبارہ پیل ےچ زیادہ ای ہے۔ تاب لت یکنا ہوں اورقام اخلاقی ذمیمہ سے و کر نے والےۓشح کی مثال اریے ہے جیے تھا لکوجڑ سے اکھاڑ دبا جچاۓ جوبحدد بیس شاذو زا دددی گنی ہے :لی ےئ کے بد رشن عرشد طااب کےقلب سے ماسوک الد ہر یکو مانے کے لی ےآللہ ہےکیونکنصس تن ےکڑدوے درخ تکو ہکا ٹا أسں نے اس (کڑدے ددشت )کا تک شی یں دش تکوشہ پایا۔ ین اے ام یریت !اس ےرت حاصس لک و کم فا ح پا او شود ( اوہ الی )کو اص لکر و ارڈ ارگ ن الشؤکات (س 7اض گ۔ه2) تق جہ:اوروو(ال) ہے جواپنے بندو کی رقیول فرباتا ہے اوران کےگن ہوں سے درگ رفر اتا ے۔ ریما نت قالٰٰے: سرلاہرر جووتیا ور وو رب من تاب وامع وکیل عَل صالتا قاولیك عزِل الله سَتِاوہۂ عشنايٍِ (سیرۃالفر5ن-70) جھہ: جوا کرےاورا یمان لا ئۓ اورکیک اعم لکمرےٹی ادا کی برائیو لکویوں جس برل دتاے۔ لات رد ڈحمکی ہے تل چعام اور بناش۔- یعام: ذکر(ام اللدذات )شمدید جدوججداد رخ تکوشأش سےگناہوں سےکلیو کی طرف٠‏ اوصاف ذمیہہ ے اوصاف ید ہکی طرف ‏ ج]خم سے جن تکیطرف اود بد نکی رات کٹ کی مق تکی ططرف رج کھناے- و ماع : نو یڑام کےجعمول کے بح کا رو ںک نیایوں سے معارف (م رش دکا لال ےلم مع فت کےتصسول )کی طرف: درجات تےتقر کی طرف اورصسمانی لذات حروعالٰ لا تک رف جو کر ہے اود ماسوکی ایکون کک کےا کے ساتدایی تکارش جوڑ نااورأس زذات کو(مرفت کےتصول کے بعد بلق نکی نا سے دنا ے_۔ تام فرکورہبالا امو رش نکا کرک یاگیا ےہ وجو و کےکسب ٥ق‏ رکت ہیں اور جو دک اس گن ہے جاک رتضور علیہ اصأ ‏ والسلا میا ط بک کےیفرمااگیا: ونگج اش بوکنجائز تج :آپ (ص ا علیدآل پلم )کاو جو دای ہشریت )ایا تاب ہے جس پا ادروابکوقال نی ںام کات“ لے دجو لکرن کاذ راج ]:2277 اکا کال الف رات یں: ہت حسنَاث الہزار ستناث اریت ت جم نیاوکارو ںکی ٹیا مق رین کے ند یک گناہ ہیں۔ ای لیےتضورعلی اصاؤ ۃ والسلام ایک ون میں س مر مخفرتطل بکرتے تھے ۔ف رما نان تھالی صر٭وہ) گنا ہوں ہے (الل کےتضور) 2 ہکرت ہیں۔ ام ے۔ یں تو پنفائش ماسوکی ال ہریز سے ال کی طرف رج حکرناءآخرت میس سلامئی وا نل ےق رب (یچی جیقرب) یش دال ہونا اوراللتتارک دتالی کے چر ےکا دیدارکرن ہے ۔حضورعلیہ الج والسلام نےفرمایا: ترجھہ:اوروو( نیس لی می ودک ےکنا رسے ۔ اڑا جمہ: بے کیک الدتھالی کےا یی بنلد ۓبھی ہیں جن کے بلدات وشیا یش اوران کےقلوب عرش ؤں۔د میں الک ( با اس د یداد حاص لیو سکیا جاسکتاغک نقلب کےا تیہ میس تی تل یک یا جاسکا یی اکر حفرتپرشی العد نے فایا: ٣‏ رَأَتََلْن رَوَينوْرتَن تمہ نے اپنےقلب ٹس اپ رکفو دی کے واسلے سے ویھا۔ قب جمال'الھی سکس (کود ین )کے لآ یہ ہے۔بیمشاہدہسقبول چ واصل یکین . جوسااقین می سے ہوہ کے بحاص لیس ہوسکتا صے الک ےم او نیک رب سلی لعل ںیلم لے الل تھا کی بارگا وی متبول فتاقی ال بقا امرش دکائل الل سرالا ار جڑ تا 50 اج ض رہہ کے وا۔یدے :سو ںک یکول کے لیے بھی اکیاہو۔ اول کرام شی انڈتج مکوقوام کے نکی لک خوائص (ک تمیت )کے کیا جا ا ہے۔ نی اورد مل فرقی ہہ ج ےکن اکووام اورخواس دووں کے لیے پیا جانا ہے چوک تفل بالذات ہواہے چک و مرش رپوصرف خواص کے لیے با جا جا ہے اور تل بالات نیس ہوتا۔أ سے چرحعال می نیک ریم صلی علیہ لہ یھ مکی اجا عکرن ہوئی ہے۔اگرو تل بالات ہو نے کا وٹ یکر ےذدءکافر ہو اتا سے جحضورعلیہ اصلف وا لسم نے ( ا اولاکرام کے لیے )خر مائی: ان جس ٠‏ ق جمہ: می ری امت کے نعل نے انی )بی اسرائل کےانمیایے ہیں- بیفر مان ای لیے ہےکہبق ام اتل کے نیا یک بی بی می موی علیہ السلا مکی ش بج تکی اجاح کرت ےآ او ینیش ریجت (کولا ےکی با یع تکیحی یداود اکیرکرۓ رے۔ ای رع اس امت کے دو علا جواوایا ٹس سے ہیں :خوائص (کی 7ہ کرد( شی ت رکیل ای علیہ لم کے ) اوامروفوا یک اید دک یں اورمتکو(ان انل میں اجک مکی کیرک یں ۔ اص شریعت جک یقاب میں مقاممترفت ہے ہکا یرک یں اورا نکو ٹیک ری صلی ال علیہ الم کےعلوم زین ان علوم) سے بانرک یں جاک اواب صفہب کرگم صکیاول علیہ دآل زلم کےتردیے سے پیل دی معراج کےامرار کوک رہے تھے۔ یں وی نکی ”لی اٹ علیہ لہ یل مکی اس ولا یت کاحائٹل ہوت ہے جن یکر مکی الیل علی لہ نم مکی مہوت اود پان نک بجزو سے اوس دی کال کے پا اماخت ہوثی ہے۔ اس سے مرادوہ عال یں جس نےصرفخا ہکلم حا لکیا ہاگرد ری لی لن مکی 0ء‪"ھ0۸ ۶ وت کے وارے بھی ہوں فو بھی ا نکیا رش ذ وی الارحام کا سا ہے۔ یں وارہ يکائل وہ ہھتا یرف اشاردےے نکاورافت یل حصق رآ نو ان دحدیث می مقر رک ایا ہے )جوں اورنہی سی رشن داد( ہیں تا شت شی ضصتاے)۔ 22:0-2 ہے جو تی اولاو ہواور جو باپ ےتھامنشی رشنددارو ںکیانہدت زیادوقریب بواوردہ ظاہرو رورپ ان میں اپے با پکام کو ابی لیےتضورعلی لص والسلام نے فرمایا: ےت ا ہحےے۔۔۔ ےت یس سےسب سےگہرے اشن یس ودج تک گیا جس امحاب صذراو رم رین کےعلاددگوام ٹیل س ےکی پدیھی فاض نی ںکیاگیا۔ سی را کی برکت سے قیامت کک ش ریت تائم رہ ےگ اریم اشن تی اسب کی طرف ہایت دا ہے۔ دنگرتھام لوم اورمارف ام رکی طاطت کے لیے سو یں۔ جوغلائۓ خاہر ہیں ان بس بھی انا کے وارث ہیں جن بی ےچس .ھ2 "اور چجٹ یٹ ۔ان کے سپ ریلم رر تن اشن علیم )کا چھلکا ہے کےزر ‏ وومواعؤاحت سے دوسرو ںکو ال ارک وتال کی ضرف ووت د نے ہژں- دو مشا رک لی سز جن کا سکس متکسل کےساتھ با لم حطرت کک اطدو جج ےلم کن (حضورعل اصلوۃ والسلام) تک پڑت ہے :لوگو ںوت سے ال کی رف وکوت دیے ہیں الد ترک وتھالی نےفرایا: زشدکی ذات می فیا ہوک راس سے کنا ئی اققا رکرتاے اورمرشدر انل ا ہرد ان می اپے اپ (مرشد )کا حی مطبر: یاکیاہے۔ ماک ونشیعت چرم رازہ لکافحرم ء ود طا' اورعلا ۓ پاش نکاقول نیدی ود پرنو ایک ھی ےکک ن فروعات کےلیانا سے لف امعالی جومندرح پالا یت می جع ہیں ءتنوں تضورعلی الو والسلا مکی ذات مٹش پملی علیہ دل نیلم کے بعد سی ایک می بھی اتی طا خت یی س کہا ن کا تل 0 ا یتلم ای سے جوان تینوں علو مک مخز ہے اور یع ردو لکوعطا تا ہے جس سے یس بت حاصل ہوتی ہے اک تضور حا ال والسلام نے فرمایا: تک جال تغل الما تر جمہ:ھردوں (طال ان موی کی جمت پہاڑو ںکو(جڑ سے )اکھاند تی ہے یہاں پپاڑ سے مرادخت دلی ہے جوا نکیا دع اددرعا کی ےنم ہو اتی ہے ۔فر مان تن تعالیٰ ٭*٭ ومن ہُڑت الکكمَةفَقَذْأوِْ كَڑا کُیڑا (سرہۃ۔وہد) و دوسر یم (سلم نظابر) مفرکا چھاکاعلاۓ ا رکوعطا ہوتا سے جوم دوون وشحت سےمم رض تکاگم دتنے ہیں اور برائی سے روکت ہیں حضو مل الو وااسلام نے فرمایا: اتعالف و بالعلب التب الال َو ِالطزب وَالْفَضَبِ ترجہ :الم اورارب سامح تکرتاہے لہ ئل مار پیش اور ضھے ٹم یح تکرتاے-_ تیس ری تم (مخ زس ) تیگ کابھی چھلا سے ج وس راو ںکودیا جات ہے اورو ا ہریی عدل اورسیاست ےجس سکی طرف افطلدتبارک دتال یکا ریف مان اشارہکرتاے: + وَجَاوَیْۂْ ان ۵كَأَخسَن ج۔روائل_چوں) ترجمہ: اوران سے ان یق سے ہن ٹکرو۔ جک ہنظام دی نکی فاظت کے لیے رکامطظہ ہیں ۔ ان (ا ہکم ش ریت کےےنفاذ او عدل وسیاصت کے عرلاہر وو دہ وو فرب علوم )کی مال اخروٹ کسی جچکگےکی ہے علائۓ مظاہر( یم )کی مثال چکیکگےکی ہے اور علائۓ پان کیم کی مشال (ناخروٹ کے ) مغوکی ہے_اسی سے تحابق حضورعلی ال والسلام نے مایا: 0 علیکۂ یممَالَسة الْعلماء وا ضیماع گلا النگجاء تج می یلا یجس می یٹنا ا وکا الا ملمنالازم ہے بے شک اتال نو یھت ےقل بکوزن ہکرت ہے جیسے بارش کے پائی سے مردوز می نکوزندہکرتا سے ۔تضورعلی الو والسلام نے فرمایا: لچ مہ امم الا ترجہ حم تک باتع مکیکشمدہمیراے ہے :وو اسے جہاں پا اہ دای سے لے لتتاے۔ عوام مکی ز پان سے اداہہونے والاک لو ںمحفوظہ سے نازل ہوا ہے جو ھا لیم جروت میں ہے اراس ک تلق درجات(حضرل )سے ے۔ وی نت نکی ز ان سے ادا ہونے والانل ھالھ رپ (ناحوت )یی سی واسلے کے با تد سےاوع کلف مین سیقلب )پر نازل ہوتاہے لی وچ ال یه ڑج”'ہر چا پی ابص لک طرف رج عکرتی ہے سی لیے ای شقن (مرش ول مکی طل بقل بکی حیات کے لےفرش ہے فرمان رسول ایلیا علی و الہ یلم ہے: ۵ عَل لو تَريِمَڈ مل لُلْمعلو تئدیتۃِ ق جم مکی طلب پرسلمان مرداورگورت پرفرنل ہے۔ کے باتی ا ری لو کی حاج یں جیا اس سے مراشصترفت او رت بکاعلم ہےاورسواۓ' فاعم خ سض ردرتتبادت یں ول ے- یں ال تپارک تھا یکا رضا سی یش ہج کہ اس کے ہندے (اس کے ) تقر بک طرف رج کم اوردرجا تک ططرف متوحنہہوں رانا تقالیٰ ے: سر ڑوت مت وت سر للا متَنکُم علیوآبزاللوثذذ القُرل غیت جہ: آپ (صلی ال علیہ دا یلم فرما دی قر بکی معحبت کے علادہ سپ سے با ہیں اگتا۔ یکول کے ماب اس مرا قرب ے۔ شغھ مم جسہ ‏ ل ہے ال توف ےے بیان مل صوف اک را م اہ توف کے نام سے موسو مر نے مرفت اور حی کے اورے اپے پاش کول( اشن ار وں اود ای آلانں سے )صا فکر لیے ہیں اس بینام اصواب ص فک 7 9 ۱ : : بت سے دیاجاتا ہے باال لی ےکہووصوفتے الال پیے ہیں مدکی کے لیخت صوف ہے:+ تو سط کے لیے درمیا ددرت کاصوف او شی کے لی نرمنگر رگا صوف ہوتا ہے الن کے اشفیاعالات اودا ناکھا نایا بھی ان کے احوال کے مراجب کے مطا بی ہوتا ہے۔صاحیٹظیم کے ہیں ”لی ز ہکا ےکرلیاس اورکھانے نے مخت ر ہیں ءال محری تکوچا ےہ ای دج کےممراہب والوں میں سے ہیں ۔“ لف قسوف کے بارتروف ہیں شش ت بل ۱ووف حر ف ات تہ سے ہے اوردددوطر کے تق ا ہرگ اود ہہ باشفی ۔ و اہی می ےکہتمام ظاہرگی اخض انا ہوں اوراخلاقی ذمیمرے اطاع کی طرف او رمخالٹ: ام اٹ کی خالفت) سے موافقات (ی رن ڑل )کی طرف اپ قول اونل سے جو ںعک یتو بہبالنی ىہ ہ ےک رتھغقلب کے ذربیچ مل جھیٹکی اون سے الما مموافقتا تکی طرف رجو عکیاجاۓے ۔ جب می حاصل ہو جاۓ اوراوصاف زم اوصا فمیدہ یں بدل جامی ات کامقا مل ہوجاجاے۔ ٠‏ صفائی سے سے اورد ہی (ذکورہ بات کی طرع) دوطر نکی ہے تق بکی صفاقی اوج کی ان بیار و ںکشل پٹ سونے اود پو ل ےکی زیادثی+دمیاوگ لت جی اک زیادکائےء صفالی ۔تقل بک مفائّ بے ے_تلب نر حاجات سے پا ہوجا ہیں ج٭وقلب می ںکھائے ؛ کثزت ہماع اورائل واعیا کی حب تکی زیادل سے پیدا ہو جانی ہیں ۔ نرکودہبالا خصائل سے قل بکوصا کر نےکا مر قہابترا مس (مرشدکا لک )امتن سے بلن در واز میس ذکر ال "مکنا ہے یہاںک ککہذاکرمقا ممیت جاتے جیا کال تیارک دتالی نےےفر ایا ٭ إِمّا لْزْينت الَْنْنَ(ڈ ذُکرالةوجَنَت کُلُويئُ مر ستوول۔ء) جمہ: نے ئک دی م وشن ہی ںکہجب (ان کے سان )وک الله کیاجا تن کے و ل کاپ آٹھتہیں۔ یی (ون کے قلب میں )شی ای پدا ہوعائی ہے اورخ یت مب کک پیدانیس ہولی ج بتک تقل بکوففل کی نینرے بیدارتہکیاجاۓ او رپا رقل بکوا انی لکیاجان ۓکہأئس میس خر درک یی صور قش ہوچاۓ چیک تضورعل الا زوالسلام نے فمایا: 9 الَعاِۂ یْتَیِموَلْعاِکف زج :عالپڑ کرتاہےاورعارفیحتلکراے۔ گی صفائی بی ےکس طالب سو الس اجقا بکرے او یرف اس (ای سب تککرے اورم کی زبان سے مقام بر بس اسائۓ ےجیک دای ذکرککرے۔ ہیں جب یقت حاصل ہو جاتی نع کامقا نل ہو جات ے۔ کے بعد حائکل ہوثی بجی اک فا نان ای ے: ن٥‌لَهُم‏ الذری ف الَیوةِ کیا و الأخرق (و8٥-66٥64)‏ سے رتو ف ہے اود نہکو گم۔ ان کے لے دجا کی زندگی ‏ اور و ترجہ :ال قالی ساظاۃ او 6 "×0" .۔(حدیی قی یس ) فر مان تق تعالیٰ عَبا کٹ َه تما ڑا وِماتا فیا ترجا فی مغ ون اق رکیل ردکیں ترجہ :جب م٠‏ کی ند ےکوچاوب ایا ہول وی انل ک کان ہز با ہپاتھاورپاڈاں ین جات ہوں۔۔ لی دو سے ای مطتا اوھ سے می دک ےاور سےا یکلا رتا ے اور مھ سے جیپ ڑا ےا وریھھو سے بجی چلتا سے یل زوا نطو فرا نت قالٰٰے: لباطِلٰ داي کا تق جمہ:اورآپ (صلی لعل الہ نلم )فرمادی یکرت نا رہوگیا اود ال مٹگیا بے شک پل تھاٹی کے وا ہریز سے پاک ہو جا ا ( ود تی امرئل-81) نے کے الا ے۔ نے اشک ستی فا ہوگی ہ می اللدتبارک وھا کی ذات؟ کان ک0 اتارک وتوال یکائل ی جتا کے یں یہاں کا مقام حاصل ہوجااے۔ شربی صفات ا ہو جائی ہیں ل صنات رف ہے جکہ الد بل جلاللۂ شس نا سے ے۔ اعد یت کی باقی رہ جال ہیں لو اک ہےاوراس کے ینا ہے نہزواں ۔لیں فافی و چوک بات رٹ کےساتھا کی رضا کے مطاق بقا حئصل وی ہےاورنافی لی کوہقاپانے والے سن کے ساتحد بقاحائل ہولی ہے ۔ائ کی مال سے ہےکیفرما نان ای ے: هلُمَزمَاِيِك الا وَجْین (۔رجاسب۔ہ) ترجہ ہر ےکوفایے سوا ال (اللد کے چم رو کے۔ بنلرداعمالی صا لے ا کا رضاادرااس کے چرے(کے دیدار )کوحاصل لکر نے کے لیے جدوچہدکرتا اذ ا سکی رضائیس داشی ہک بقا حاص لک رتا ہے۔ اغرالی صا یہ کے تی یں انان یل موا یکہاجا ا ہے ءزندہ ہو جا تا ہے فر لاق تھالی ہے: رَضکل الام القيب وَلْعَمَل لاخ ُتَزفَعُة ( ۷× )+٥_‏ ترجہ :پاکیزوکلام ا یکیطرف تچڑھتا ہے اورودی صا حا خا لکویلندف یا جاہے- ووسب اعمال جوغیرالل کے لیے سے انی :نشرک ہیں اوردد انال کرنے وا لے کے لی بک ہیں۔ جب فڑامل ہوجاتی ہا عا قرب یس (ح فقالی کے ماد ) تا خسن ہوقی ہے جیا کہ فرما نان تھالی ے: محت ت جم جظی ددرت وانے بادشاہ ک ےتور کیاجاس میس (داٹی حاض)ہوں گے_ اور الم اوت میس انا اوداولیا امام ہے جی اک یفرمال نان تعالیٰ ے: اچ تَلهمَع الع ساتر55) سے کہ پاش ن کا ایک حصہ ہے اس لے جب بندہ ×جالّٰےیہاںکک/تلبی۔- 59| ضرنہ تر جمہ:اورالش صا رن کے اھ ہے نتم “سم پر مافرظ لے ون اق کا جب نفریسل ہو جانا ےو صوٹ کون اند دتالی کے سا دای بتا حاصل ہوجاقی ےج اک فرماب اق قالٰے: ٭ غاب اوت مُز فَیتا عَاُِؤن (ص۸7ت..2ن) جمہ :اب جقتت ال ( جن یقرب ماق تال )کے ساتھ میشہر ہیں گے- اورفر ما نی تھالی ے: ٭ و َاللهمع الضَابِرِئ (١‏ جمہ:اودا ھی رکرنے والوں کے ساتھھ ہے۔ عحلوقی عو اردتواٹی سح لین وجددفاہوجاجا سےاورایکی ذات بای رجا رر تا اذکارےے بیان ٹل تد مج تمہت ےتک اللدنے ذ کی نکو ہا یت ڈرمائی ہے۔ اتارک وتھال یکا ارشادے: اذ تُزوْة کَنَاعَ لم (-728ۃ-ہ19) نال )کا کرای ےکر وج کال نہیں برای تفربائی ہے ۱ ین تہارے دک کےمراح کی طرف حضورعلی ال والسلاسکاف مان ے: 9۵ َْمَل مال کاوالتَِيْزدمن قین لال تج :میرے اوھ ے یلا نیا کےا رشادات میں سب ے لح ہل الةإل ال ے۔ یس برمقام کے لیے ایک خاص سر ہے اہ دہ ا ہرک ہو باپشیدہ سب سے پیل (اشدنے نکی )ذک زہا نکی طرف, پھر ذکر سکی طرفء پچ رذک رق بکی طرف طرف, پھر ذکر من کی طرفء پھر ذک شف یکا طرف اود (سب سے٦‏ خ مم )کر اٹ ی۱ ہامعذرائٰے۔ ذکرزپان ود ےجس می قلب (و)ذک کرت ےنس کر الیل کوددتھول پا ہجتاے۔ ؤکیٹٹس دہ ہے چجوتروف اورآواز کے ساتھ نہسنا جاۓے بہ دہ می نمس ومرکت سے خا ای طف علاس کت ذکرقلب دو ےجس می ںقلب ا شی (ٰین اشن )بی (او تال ک) جلال و جال ملاحظہ جا ذکررو عککاحاصل (اش حا )صنا بذک رسردہ ھراقہ ہے جس ٹیس اس رارا لہ حکشف ہوتے ہیں- ذکرٹی دو ےجس می ںیم قدرت دا لے رت کے پا حصد کیانکس می ذاتِ اعدہت کے جمال کےاثوارکادیدارے- نکر خی تی وو ہے جس میق اتی نکی تی تکواں طرح دھاجا ما ہےکہائی تق تھی کےسواکوئ بھی شع نیس ہدتا۔ ال ڑل نے فرمیا: ٭ تَانَديَعلَۂ انی ڑوآغقی سرد ت جمہ ےٹک (لش) جات ہے پزداکو راس ےبھیچگی-۔ فی اش ) تی علوماورا کی اناو رقیام مقاصد(کےتمول )تک بچیانے والا ے۔ کےانوارولیا تکامشاہردے۔ بجالنلو گرم آخری روح (لشن رہ ناقری کین ترت یکرلد تام اروا ے زیادوالیف ہے دو ود یف معانٰی سے جوایت اطیف ہے او لف ط ریقوں سے ا تپارک وتھا کا طرف دقوت د اہ ٹن اکب بن نےفرمابا ہے یدوم( ردرۃ دیج ایک کے لس فاص کے لے ہے ۔ فا نان تھالی ے: بل الزْرْحمن آمِہهلمَنيَمَآامن چبجاید سءضی۔١:)‏ تمہ :دہ اپ بنقدول یش سےجمس پ چا تا سے اپ حم سے دو القاف ماد تا ے- اقذرت اورمشاہ ٤ای‏ ول رقٗےاوراشد تی نو رعلیاصلأ ۃوالسلام نے قرماا: عل آملِ اللُنیا بیروچ حا رتخقیقت (عال لاشو ت )مھ سا تھالی کےم اکس یکیطرف لی آفلِاللِ جیا ا لآخرت پرترام ہے اورآخرت ائل دنا رقام ے اور یل (ىّن یارآت) اي الد ( شی طالان موی )یرترام ہیں- وو( روج قری )ففلِ معالی ہے اتارک وتھالی سے وصا لکاطل یق یہ کون رات ا ام ریت پگ لکر کےعرا یتلم یی مکی اط تک جاے اوردائی طود پر پوشیدہ اوراعطا شی ۃکر ال یش مشقول رہا جا ۓےکیوکمہ بیطالیوں پرفرخ کرد گیا سے ( کہ وہ ازڈہ میں شخول ۔۔ اتارک وتھالی نے ارشافرمایا: ٭ تاذ گزوا الله انا کڈ ول جو کم (-8ض.103) تر جمہ: پیش الیکا ڈکرکروکنڑے یھ اور پپلوؤں کےبل لیے ہوہۓے۔ ال تتالرک وتھا لی نے مرف یا: ٭ ‏ یل کرو الله ؿا روک زعل جُلؤرہم وَبَکفَکُزؤق ق ى عَلق المَلوتِ وَالَزض (سرۃآلیکرن۔191) تر جھہ:(ییددلگ ہیں ) جو اکا ذکرکرتے ہی ںکھڑرےہ یھ اور پہلووں کے بل لٹ ہوئۓ اور زشن دسا نکی چیدنٹ می فوروگرکرتے ہیں سر ڑا جھ جھ جرب و ہ2 4 ری شر الا کے بیان ٹل چوجھ ویر و ذاک کا ےک ووکمل طو بے پاوشوہواورشد درب اود( انی طود )تو یآراز کے مات کر ککرے یہا ںک کک ذاکرکو کر کے افو ارحاصل ہو چاکیں جوذ اک بن کے پان میں (ذکرے ) بن کے ) لو بکوزرگی ادرحیات ابد وأخر و عیب ہولی ہی کاو تبارک وتھالی نے ارشادظرایا: پیدا ہوتے ہیں اوران اٹوار کے یاعث ترجہ :اس (جنت) یل پہگی موت کےسوادودوسرکی مو تکامزہ میں گے _ تضورعلی الو : والسلام نے ارشاوفر ما تج :موجن مرت ےنیس پگ دارالغنا سے دار الہ کیل ڈ ئل ہو تے ہیں حضورعلی الو والسلام نے عر یف رمایا: ھ الاثبیاوالاريبا مرو ؤئبزریۂ گماعلرؤئیزہز تق جہ:اخمیالوداولیا پت قبروں میس (بھی ایی )نماذاد اک تے ہیں یس اپ ےگھروں مس راز ادا رت نی اپے رک مناجاتکرتے ہیں ۔اس سے مراددو اہی نما ہیں جس یں قیا حور رکوئ او رود ہوتا ہے بی دہ ما جات ہیں جو ہنرو کی طرف سے ہیں اور(منا ات کے بد لے ہیس )محر ف تکا ہد یراز دہ لک طرف سے ہے۔ بس ایماعارف زنر تل پک بدولت زیادہ منا جا تکرنے سے ایارک دتھل کان بوجا تا ہے اوراس (وارف )کے لیے سو تی جیا رتو رعلیااصلت والسلام نے ق رمیا اتنام عغَیین وَلَایَنائم قلر ترجہ مر ی 1ں سوتی رگن میردولیں ۶ - تضورعلی اصلؤ والسلام نے مریدارش ادف مایا: 2 من نات لپ لولی بعک الۂق قترهَمَلَکتي يعَلهایم لم المعْرقوزل َو الَهِيمَةِوَ وعَاِمَاؤَعَاينًا تر جھہ: ےم( یم معرفت کی طلب بی مو تآے الل ارک دتھالی ا ںیقی دوفر خے مین خر ما ےگا جوا ے قیام تک مرف تکاعل کھماتے ر ہیں گے اورجب دہاپن یق ر ےا جے گاتڑعالم اورعارف ہوگا_ ٍِ ں مرا کر صلی ال علیہ الہ ماود یلم ال( م شک لکل پکی روحاعیت ےکیون فرش عالم سح نت میں داش ٹیس ہوسکتا۔ نکر سیا علی دہ نے اشادفایا: ۵ھ گَزیِنغَذ الا وَقَامم مِن ڈ : الع دوڈ تر جمہ: کے ہی لوک اےے ہیں جو جائل ( تال کی سرت سے بیخرفوت ہوں ملین ان تر سے عالم اود عارف (ی یکر)انھیں گے او رسکئے ئی لیک اہےے ہیں جو عالم فدت نہوں گےلجان جو ےن و' تی دومرنے کے بھی ا حیات کے بعد یی بھی ا ںککادل انگود ار ورای سےمام میں شغول ہوتا ہے اتارک دتھالی نے ارشافرایا: اَلْتَیٹم طپجایکُد ؿ عيايکُۂ الُنیا واضک عَلَابَالْیُوني ( ر18 6اف-20) تق ج: اپے ےکی پک نہیں تم اپنی د مکی زندگی یش بی حاصم لکر گے ہوا ورای خوب اتعو کرای ہو ںآ( امت )کے دن ان ادا سےا ال) کے برنے مہہ ہیں ,انی کاعذاب دیاجا+اے۔ تضورعا الو والسلام نے فرمایا: ھ ھا لاخالیا تھ جم ےنتک اغا لکادارددارغل ہے۔ اپ 22 ےسا مت ھی پدنز ہوتی ترجہ :چچ (خل ۷ک 2 ھ,ج"ءم0 داسد(یت) کے باعحتث فاسدجوئی سے ال ارک دتعاٹی نےفرایا: بہت بڑے الم مانے جاتے ہوں گال تال یکی مرفت ۱ سےان ھھاویخرد ون اویم پگ رکے با عث روز قاصتتماس یاجایلآشیں کے لین بہت سے اوک ابمے و کے جو جا وت ہوں سگرا نکی طلب مرف کول اس شواک ایس گے یا چک اتا لکادارودار کرت بی فا دہوگی نون بھی فاسید تہ مق اتالد ا - ا ا سی چا ا ا2 دا ائھقی جا ہنا ےأ سے اس (دہ ےھ 0 02-221 ے دنیائش مرنے سے پیل ال یقن ( رش ال مل ) سے میا کیدنکددنا خر ت اتی ہے۔ یں جب اس میس ہو کے بیہی ں2 آخرت می ںکاٹو گےکیا۔ اونگیت سے مرادفاقی لیج عالم ا سوت ) م ففسالی جو دکی زین ہے۔ اگ یھتوں ) یش سے دے د یئ ہیں او داع یو ا خرت ال وأ رو اطل بک ناواجب ے ےہ ان کوں کے اتال اورعباداتکا مقصدجی دا وٹ ات اوزخوا شا تکا مو لتھا راڈ تھی نے انیس دنیا 3 یں خرت میں روہ ان کے اخھا لکا بدا ردےدیا ہے اور جو لوک جول جنت با رضاے ال کے لیے اما لی صااگر اےگا۔ م10 پووں-<-<ج- ٦ بیازق کہائع اس پں دیدارالبی دطرح سے ہوکتڑے: ا۔آخرت م یآ ینرک وا کے شی رالتجارک وتھالی کے جما لکادیدار۔ ٣‏ دنام قلب کےآ نہ کے واسط سے الع ڑدی٘ لک صفا تک دیدارہوتا ہے چوک اد( ظب) ظز ربصیرت) سے (ال دای کے )جال کےا نا رکانس دنا ہے۔ لی اککرالڈ ارک وتھاٹی نےفرمایا: ۴ تَا كَتبالْقَاكمَازای (بو:م۔۹٦)‏ ترجہ قلب نأ سے لو باج( تجئصلنی لی ارہ تضورعل لصا ڈوالسلام نے فر مایا ۵ الزمزیرآؤلزمي چمہ: کن کن کا آئینرے۔ کمن )دکھا۔ یہاں پیے من سے مرادسن بنر کالب ہے اوردوسرے من سے مراواللدتال کی ذات ےت یں جودنیائٹش صفات (مشی صنات الہ کا مشاہد ہکم ےگا و ہآ خرت میں (انشری ) ذا تک با لیف د ےکا اوردیدارلہی کے تاتی اول کرام نے اکا یے دکوے کے ہیں جیا کرت مررشی 84 نو حخرتک کر مالی وچ نے فرایا: لئ آَۂ آَغبن راگ آراۂ جمہ :بی اپ دم کی عبادت تب کک لکرتاجبکک می اسے دک زاوں۔ بیسب (الکی )عفات کے مشاہدات میں جی ےکوئی طاتی سے سور خ کی شحاعو لکود کے اور(وء) اس (د ین )کے بارے میں اہ ےکیونکہدہا کی (ر کی )وسعت کےلیاط س ےکر کنا ےک سی نے سور نکودیھا۔ اتی ا کلام یل اپقی صطات کے انقبار سے اپنا ورک مثال ایی ے (-ر7افر۔35) ت جمہ: ا (الل کے فور ال اپےے ہے تی کہ ایک طاق جس یں جوا ہوادردہ ھا ایگ فا نوس کےاندر سے اوردہفا وی اییے ہے تی ےکوی چک تاروہ جکہز ون کے سبارک درشت سے رون بوتاے۔ یی ںکباجاسکتا ےکم طاق موی نکاقلب ےہ جوا قل بکا مر ہے جوکسدورم سلطانی ہے قلب فایں ہے ےا ںکافورانی تک شدت کے بات تنمدارسوثی ےتشیہد اگ ہے۔ ا ور کے معد نکو بیا نگرتے ہہو تفم دہز ون کے مارک درخت سے رشن ہے (زقون ے مرا لقن اور حیدکاوددرشت ہے جس کا ماخ کیا واسطہ کے (خو دز بالن اق تی سے جیما کرجحفورحلی الا والسلا مک وشسل می ذ اتی تھالی نے تق رآن پا نکیالین صلحتعام٠‏ کفاراور مالین کے( آبا تیقرآن سے )ا گار کے با ث چراشنل علی السلام نال ہوتے اور اس تر جمہ: اور ےئ ک1 پل( صلی الشعی دا ر0 ۳َ"ە0ە ع2ا رآ نان ریا ای لی ےتضورعلی ال والسلام جلدی فماتے اور جب اتل عل الام کے پا ویش سبقت زل ہوا: إلَيك شڈ (ًرتلا۔114) نے جا ےن فا اتارک وتھا یکا وآ تَفجَلبِلفْرایمنة ترجہ :او رآپ ( صلی ا عل :ا یام) جار ٹر کر جیک؟ پ ( صلی اضعلی ال تلم )پھ وی ری نہ جاۓ۔ ای لیے محرا نکی رات جب ال علی السلام چچچ رہگ یوک ووسدرۃ اضخی ےآ کے بل نکی استطاعت نہ رکتے تے۔ای لیے ا دتھالی نے اپ نےکلام یں اس درخت کے لیے شف اتی (-ر8افر۔38) زجر:(ر رس۷ وددرشت)نیشرتی ہے نر ی- نی ودای ہدودوعدم او روم وخ روب سے پاک اوراز کی ہے سے انیس ۔جیسے اتی ج٠‏ از یہلا ز ال اوردائی ہے اتی طرع ام کک صفا پیا ری ہی( قح ءال+لاذوال اود دای )ہیں کیونک اس کے انواد وق یات اور ا کی عفات ا سکیا ذا تک وجہ سے ىی قائم ہیں۔( ا لکی) عبادت ج بک نیش ہ یتیج بک کقلب کےآ سے سے تبابات (مشق ال پردے) دورنہ ہو عاکن۔ یں ج بقلب افدار(کے خوضات )سے زئدہ ہو جا جا ہے او رو اس طاقی (یی مین ےقب) یی تضورعلی صلی والسلام بت انل علی السلام کے بتانے سرالا سر پڑت 70 )ا0ج ضرنو سے عغا تق تال یکا مشاہ وکرٹی ہے جس کے س اتب اس پہبیدازمخلف ہو چا تا ہےکرائل علق کو پی اکر ن ےکا مت رش خزانہ( یوق تا کو ظا ہرکرنا ہج اعد یٹ قدی می نر ایا صفا تک معفت عائل وی ہے او خرت می وریہ کے وا سیل کے ہر (ز ضف معان )کی ڈگ سے انشا ادشرا کی ذ ا تکاد یداد ہوگا لی اکہ اتارک وتھالٹی نے فرمیا: اورةً ہل رَيَاتاظِرڈ جہدھیں۔ددودن تر جھہ: أس (قیامت کے )دن بہت سے جرے تر وتازذہ ہوں گے اور اپنے رٹ کے دیدار ٹل ممقول ہوں گے_ شا یراس سے مرا تضورعلی اصل والسلا مکا یل ے: 9 رآضرق مل مَزومًا تر ہمہ :می نے اپے رب کو بے دلیش نوجوا نکی صورت میں یا۔٠‏ دو(صورت )طف معانی (ی) ہے۔ روح کےآ نیش (شضل معانی کا )بیصورت فیا ربکا گا ہ ےکیونگہ پضورت رو کا آ یر جومگ ای کے ود ان دا ریا دشا ش تار ال کی ذاتصورت ہکھانے پنےا یں (طفل معانی کی ) صورت ای کآئینہ ہے اوداس میں دکھائی دیے والا آئنہ ہے مدد یھ والا تالی ہے )۔ (ا تقیق تک )وا ھک روج عا یم صفات میس اس مل زکا مخ ے کیونکہھالم ذات یں قرام واسے اوراسباب جل جات ہیں اوداس عالم مس ال کےسواکسی بھی لے ال رتپارک وتھالی کن جم لکی رف اشاردہے۔ 102 جحدی ضرودیات ے پا ذے۔- (منی و خووز تر جمہ :نے اپ رکاپ رب سے7 ینوی سے پہیانا۔انسا نکی تقیقت ا نرک رم ہے جی اکس الڈ ارک دتھالی نے عدیٹ فری م فیا ٭ الَاِنْسان یز وَکایژذ تر جمہ:انمان میراراز ہے اورٹش انما نکاراڑ ہولں-۔ تضورعلی ال والسلام نے قرمایا: 0 کابی‌ائووالزیوںَیق جو سے ہیں۔ خر جھمہ :یں الد ہہوں اورقراص موی اوراٹھ ارک وتھالی نے فربایا: نلَْيقَجُون تر جم :بی نم( صلی لعل دآلہ نیلم )کو اپے چرے کور سے پیدافرایا- 1 یے کےساتجعھ (حضور مل اصلو رتا چرے سے مرا داد تا یکی ذات نقرسہ سے جک صفت ار واسلا مکی صورت می )لی سے ٹمس کے تحت الشتتارک دتھا لی نے فرمایا: جم ےئک می ریرقت م ر ےب پرسوقت ےا- اتارک وتعالی نے تضورعلِ الو والسلام کےنو رکیشمان شف ایا: ٭ وتاآزم لا لارۃ تر :ارام نےآپ ( سی الف لی دا :-107) لم کوقھام چہانوں کے لیے رجمت بتاک رکجیہا- لے رجحت از لکر ن ےکی عفت الد تالی نم یفرایا: ٭ تنآ فور ت جمہ: لپچ اتارک دتعا یک طرف سےتہارے پا ایس او راودا ککتا ال ژوَ کات هُِاق (سر7ل15-2) اورال ارک وتھالی نے عد یق دی میں فرمایا: ٭ آَلالتلبا لغ الَفْلاكَ ت جہ:اگرآپ (سلی ال علیہ دآل زلم )نہد تق ہش افلاک (ل یکا نات کو پیدانفر اتا کے حضورعلہ صلی والسلا مکی ذا تم با ہکی طرف ا شا رہ ہے ہرذ مانے ماس ز ہانے کےامم لکی صورت مین صورت یس ہی الہپ ککادیدالمیب ہا ہے اورانسا کا لکی پان ذکر سو راس ال ذات سے ہولی ے۔ ے۷ )اںلمتجارک وتھالی نےفرمایا: ترجمہ:اورجواس چان (یژنی دنیا) ٹس (مح رت الھی سے ) اندھار او وآخرت می لچھی (مع نت ال ی سے )اندجھااددراول(ممغ تکی راہ ) سے بھڈکا ہوار گا یسپ کس وت 4 ترجہ :پیک یاكکمیں ا نیش ہویس بتکوب اط قلب کےاندھاہون ےکا سبب اپنےارٹ سے کے ہو (آلۂ و وو یجس تل ری ہے اد یریک اتی مفات جیا یگ رکید :سد ہشن جب مخیبت :ہاور وٹ ویر ہکا خلبہ ہے۔ انان کے ال سرافلی نکر کی رف زرل یکا سب ببھی می صفات ڈذمیمہ ہیں ۔اان صفات ذمیہ سے دہائی کال یقہ بجی ہےکرقلب کےآئین کی نہرگ اور انی طود پہ )لم پل اورخت ہیا ہرہ س ےکی جاۓ بیہا کت کک فو رت حیداورصفات ( ین صفات الہ سے متعف ہونے ) ےقلب زندہ ہو جاۓ صفائی صا فکرنے والےآلی تح (ؤکر ورام اوہ ذ [ 97ض 0+ اوراپے صلی وشن (عالم لاغوت )کو یا دک کے اس می اپے تیقی ری نکی طرف رجو رن ےکا شوق پیراہوجاۓ جوک۔اڈڑو ج٠‏ لک عنایت سے بی حاصصل ہوگا- ام کا ٹھجانے کے بحدفورامیت باقی رو انی ہے اور رد ںکویینائی حائصل ہونے کے اکا باعث انسان صاحب بصیرت ہو جا ہے اود اماۓ صفات کےپور سے منور ہو جا ہے یہاں کن کگہ(عفا تک )فو راثییت کے تارجگ ہت أجھجاتے ہیں اوردل و رذات ےمور ہجاتاے۔ جان لوکہو لکی دوآمگھیں ہیں: ایک ونیک اورایک بڑئی کو چتوٹی نک الم درجا تک انا کک اساۓ صفات کور ےلات صغا تکا مشاہ ہکرلی ہے اور یآ کک الم لاٹھوت اورعا قرب مس احدبیت کےلو رت ید سے انواردقلیات ذاتکا مشاہدہکرلی ے۔ انسا نکو یماح موت یکل اپ ففسا غیت ا دش یکو کر لیے سے عاصل ہوسکت ہیں جن اس عالم زلم لاشدت) میس ان (عراحب) کے جو لک اما ر انسا نکی نضماحیت کے شع ہو جا ےہ ہے۔ا تک سار کڑس ہوفی جیٹس کی جک بل مک معلو تک عق لکیمحتو لیک اور دع مکی مو جو تک ب؟گ ہا لام یی کہ بندواس قد رغیرایشد سے شع ہو جا ۓےکیقرب ددددی :اط رافےو ابا اور پل وجدائیکابھی نشان نے ۔ بل پاگ ے و ذات جو شیدگی می بھی نا ہرہے اوداپی گی یس پیشیدہ ہے اوراپچی سرت مس غیرحریف ے۔ یں ٹس نے دای ہی ا سیق تکوحاص لکرل یا نے اپتٹو کا محاسپبکر بل اس کے آخرت بل ام کا محاسہکیاجائے۔ یں دہ فلا پانے والوں جس سے ہے ور نہ تقبل تن آخرت یی اس کےےمروف ری بکا انا قہیت پھ اتک خلا عذا بیقر صابیششراورمیزانء یراط اوداس کےعلاد و دوسرےا ايآ ما تم ہوجانا ے چاراطرافہشرتی ہمغرب .شال ہجوب گے آگےاور چک اطراف گیارعو یں نعل حسم ےڈ سعادت اورشقادت کے بیان مل جان ےک بے شیک الکن دوتفات لئ سعادت اوزشظاوت ے ( گی گی) خاش ہوتے .یی یرددٰوں صفات ایک فی انسان جس پالی جال ہیں۔ یں جب انم نکی شیا اور اس کااغلا طال بآ جاتا ہا غسمانیت روعاضمیت ٹل برل جالی ے“ن شقارتسعادت ٹل بی ہو اتی ہے ہے (یشنی سعادت شقادت یں بدل جاتی ہے ) اور جب انسمان ان دونوں جبتوں کےلیاظط سے برابرہو دہنگ کی طرف ال ہو جا ا ہے جی اک اٹ تھالی نےفرمایا: فَلَعَرُ مَنَايا ز× ظظم-160) جب انسان ہوا ؤ کی رو یکرت ہے معاملراس کے برکس بد چاتا تر جمہ: جو ایک جک لا ۓےگااس کے لیے أس (یی جی وس خیکیاں ہو ںکی- اور شاب ال سےجھی زیادہ (شکیاں ہوں)۔ اس کے لیے مینزان ڈائمکیا چا ا ہےنن ج سک مامی تی طود برا سکیا روحامی تید ہو ای ہے اس کے لیے میا نک بھی ضردرت تیں۔ وہ بی رصاب ک ےآ ےگا وریضیرضراب کے ججنت می دائل ہہوگا۔ جوا کے پگ سکرتا ہے دہ اخیرصراب کے دوزرغ یس وائل ہوگالین جس نے تکیو ںکوتر بی دی ہوگی دواضرضاب کے جننت یس واشل گا کال ترک وتالی نےفرمایا: ٭ تَأَقَامَن تَلتَمَوَاریْنذہ فَھُوَؤ اضِيَة 0 (سرۃاتارے-8,7) سار جڑو ڑا 76 اخ ل11 ترجہ :یں جم سککامیزیان (یجن یں دال ڑا ) ای ہوگادہپند دہز ندگی می ہوگا۔ جس نے بدائتو ںکو تی دا ہوگی ا سے أن برائیوں کے مطالق عذاب دیا جات ےگااور روہ دوزغ سے لی دیا جا ۓگا۔اگ راس کے پا تھ وڈ اس بھی ایمان ہوانو وو جنت بس دا٘ل ہوگا_ اکا سعادت اورشتقاوت سے ہھارئی ھراوضیول اور برا تو لکالیک دوسرے سے بدلنا ےج اک تضور لی اصلا :و السلام نے ےادرسعیدی یٹ ہوکتاے۔ انسا نکی شیا (جرائیوں سے) بڑھ چا میں نز ومسی رونا اود چپ برائاں (گیوں سے ۳ بڑھ جا امیس ت2 (ووانمان )شی ہوگا۔ یں جو کر رے(الل پ) ایھاانع لےآۓ اورئیک اعم لکرے لوا کی شقادتءسعادت بس تید لی ہوجائی ہین جس کے مقر یش ازلی سے بی سعادت باشقادتکگودیگئی ہودو ا سے لکری ربتی ہے جیا تضورعلی لصا والسلام نے وھ" کو انان سید بتق) کر ےکانتجہ بد ہنی ہے یی کے بھی وا 207 ہل تر ککردے اور کیک اگمر یں ازل سے ہی شکلد دی گیا ہوں ق می رے کیک اعمال جھے پچ فائد نیس پچچاسکت اوراگ یں سعیدہولقزئ ےاعمال جھشریں پا سکت۔ ےلیک اٹٹس نے اٹم لکوت ےکی طر فمضسو بکیاق کافر ومردودہوگیاا و رحضرتآ دم علیہ السلام نے اپ خ کاٹ س کی طرف متسو بک یا فلا پان او (لشدنے )لن تفر مایا ہرمسلمان کے لیے واجب ہے کہ دواس را رذ ریش ہرک نکر ےکی الیمانہہ2کروداپے ال ش۱ لکی بدوات پریٹان ہو جا اوداس بات سے پیش خوردہ رہ ےکی دہ بے دن نہ ہو جاۓ۔ ہرم یکن مسلمان کے لیے بیتقید ورکنا فرٹش ہ ےک الد وج لحکمت والا ے اور یقام احوال جاک ہکفرءنقاق بن جوازمان اس دیائش دیکتا ہے :ام الین جلاۂ ےم کے ماتحت ہیں جس سے وہ انی رضا کے مطاقی اپنی قد رت اودحس تکوظا ہرکرتا ہے۔اس می ایک شلیم راز( شیدء) ےجس سے موا ے حض نی صلی اور علیہ لم کےک وٹ یھی بش ہیں ایک ثکایت شس جیا کیا گاب ےہایک خارف نے اللہ سے مفاپاٹ می عوشلٗ 20 د چٹ نے بی زا وکیااورگ نے ہی می رس می برائی دای" آ دازآ اے میرے بنرے! می شر یا حید ہے چوش یور یت اف نف اورک نیش نے خطاکی میس ن ےگناوکیاو ٹیس نے انس 7 ا تضیشی ےر زآل نمی نے(جیری خطا و ںکو یش دیاادد(م ےکنا ےد رکیا اور (حرے مال پارکیا۔'“ ٹیس پر کن پرفرٹ سححکہتیک اعم لکول ارک وتا کی وخ چھے اور برائ یکو اپنےش سکی شامت جھے بیہا ںک کفک ہاور کے ان یک بندوں بیس ہو جا مج نکا ذک رای ارک وتما لی کے دالوا فَاحِمَة ولا اْفُمَهُم دَكزُواللهَفَاستَكَْرُ ا اگ ( رہل مرن۔135) جمہ: جولوک بے حیائی کا کا )کر میں با مناہوں کے باعٹ ا پنیا جانوں یش مکٹیٹھیس فو ود کر الھک اود اپ ےگمناہو کی معای چا ہی ںکہالل کےسواکون ہے جوگناہو ںکوینٹ _ انان ےکی بہترکی اور ھلائی ای ٹس ہ ےک گنا ہو کا سرزد ہد جانا ابی طرفمنسو بک نے گا جا انس کی رف فو بکر ےکیونکہودی خال فی سے جحضورعلی الو والسلا )کا ین رکھناکہ ہرامرالدت یک طرف سے ہےاورالل ےم کے ہیر یھی ہونامکنئیں۔ یچ اس پا 6ا 9878 ر11 اکا خر جہ:(انمان )کی اوسیدراپتی ما کے پیٹ سےکیاے۔ ہا ماں سے مرادان چا رعناص ر(ض ٹیگ اورہوا) کا موہ ہے جن سے بش ریو نیس پیا جو یں- یں می اور پائیٰ سعادت کے مظپر: 2 میس ایمانبعلم اود اش خکوزندہ کرت اور نکی نٹ و ماکھرتے ہیں+ اس کے بن سپآ گ اور ہوا جلاتے اود لا ککر تے ہیں۔ 0 جوں ہب تھ سو جع ب اليْقال ٥۸70ص2‏ 1) نیت میں وو ہیں پاواو ںکو۔ حخرت مھ بن معاذ رازگ سے سوا لکیایا ” آپ نے الر کے پا ؟'' جواب دیا” جوم افروڈے“ ای لے انسا نآئینت بعال جا وی تال اورجھوعۃ اکوای ےہ ا ےکون جا ئگ اورعل کبرکی کنا د کیا کیو التنالی نے اے اپ دوٹوں تھوں تق مغ ت راو رمف لیف سے پیداف ماک آ تی کے لیے دوصات مین یکنا نت اود اطاف تا ہونا ضروددکی ہے۔ لی انسان اسم جائح (اسم ذات) کا مر ےکیونکہ اس کےعلا دہ دوسری قام اش یاوصرف ایک دی پاتمد تن صفت الف سے پیدافربابا جی اکنف رش ام سو القویں کےےمظہ ہیں عفت ت سے ائٹش لے اداد سے ایک تی میں ش کرد ینا۔ کی صفا گی ادا کا بوصہ ہے۔ وہ رت مچھی ہے اود جبا یھی راتا کن عالم موجودا تکا خلاصہ ٣‏ خلا تےکائبات ج سب سے باعل اکا ار 00 29ا س1 اور کی اولا کو راف رما یا وہ اعم جار کے مہ ہیں ای لیے شبیطان نآ دم علیہ السا )زمرہ ککرنے سے ہش اور رکیا۔ نک اسان ام ایا تک وی اوری فا ت کا نوم ہےاسی لیے انی اوراولیػکرا بھی لغزشوں سے نال نی مان۱ لغزشوں کے علاد کی روگناہوں سے پاک ہوتے یکین اولیاکرام (اہوں سے )متصو نہیں ہیں۔ پیک گکہاجانا ےک ب ےیک اول کرام لیت کےکما لکوڈ جک کی روگنا ہوں سےکبھ یتقو پیا خبوت ورسماات کے با عدث “مو جات ہی ںاد شی شق فی لعل نے با یعاد تک پا لمات ہیں :(ا) زم دل(٣‏ )کٹ گر زاری (۳)د نیز بر( ۴)امیرو ںکوگرکرنا(۵ )کے جا- شنقاد تک بھی پا علامات ہیں: (١)خت‏ دی (٢)گھموں‏ سے آنسو کا جایی نہ ہونا (۳)دنیا (کی لذات) سے رقبت (۴) طول اسیریی(۵ )ہیاک یگی۔ جمہ:سعیدکی چارعلامات ہیں :جب ا سے اشن :نایا جاے ذعد لکرے جب ود وکر ےل وا کے جب با تکر ےلپ یکرےاورجب ھک ڑ ےا گال یلوچ نارے_ شیک بھی چا رحلامات ہیں :جب اشن بنا جات خاش تہکرے جب وعدءکر ےار وعدہخلاقّی کے جب با تر ےو وٹ بونے اور جب منکڑ ے2 گال یکو نخکرے اور اپ بھائوں ےے اعلترین اکا سر وو تنا یا خلا نو سے درز رت ارے۔ حا لاک معافکرہینادی کا ایکیم وصف ہے ای لے ال تھی نے جعترتھدرسول ا سی ال 11۶489۵80 [ 1 رض کن ايل (-رۃلم)ف-199) ت جہ:(اے نیصلی ای علیہ لم )فواختیا ریچ اورمع وذ تاد تیاور جابلوں سے اع را خرامیجٹ ال تال یکی رف سے فواختا کر کاچ رف نی اکم الل علیہ لہ یلم کے لیے میں کہ یم عا تما مامت شم زی کے لے ہ ےکیونہ جب سی سلطا نکی جاخب سے اس ک ےی عال کے ےس کے تل نیعم جازی تا ہاذ ا عم اطلاقی ال عائل کے یف مان علاق کے تما شر یوں پر ہت ہاگ چفطابعرف عا لگو یک یاگیاہوتاے- الْکَفکیٹ, رن ئل فقیرنے ا ےکی ہ ےکر اتی کےیفران شل' “سے مراد ےکہ پنےا مرف دائ و پچدا اکرو۔ چوک ںکیلغزشو ںکوموا فک نا سیک ہگیاد وا کے ا سای کی کے لیے اتارک وتھالیٰ نےفمایا: ےفََجِرُذعَی الو (-ر2اٹرگی۔۸0) رجہ :جس نے ما کیا اوراصلا ک تا لکنا جرائلھ کے ذ مہ ہے۔ ان دک شقادت کے سعادت مم بدرلل جانے اورسعادت کے شقادت میں بدل چان ےکا گار تر یت پر ہے جلی اک حضورعلی ال والسلام نےفرمایا: ليظزة الإشلاِ وَلکِن اوه يَودَایه آوَيْکَوْرایہ 9 هن مود ہن عل ل [۔ ۴ ترجہ ہر پچراسلا مکی فطرت پر پیدا ہوا ہتکن اس کے دالد بین اسے بہودی با را بای ہنا ہڑؤں۔ ا 11ہ پوت و نت نات اما یعدیث اک اس با تک دحل ہ ےک بے لک سعادت اورشتا کی قالمیت ہر موجودعوئی ہے۔ لی کسی کے لیے یکہنالکہ دنس سعید ہے پاضقی مناس با مناسب ہ ےکہ جب خییاں براموں پر ال بآ انی تذ دوسعید ہے اوداسی رع اس کے پنگں۔ جوا کے علاد گی با تکہتا ذو وگمراہ ہےکیوکدہبیاختقادرکتا ےک انان انل اور کے جنت می ول ہہوگا ورای گنا ہول کے دوزغ مس دال ہہوگا۔ یق لآ یا تق رآ کےخلاف ہ ےکیونکہ اتارک وتعاٹی نے جن تکا وعد ہکا روں اورابگی ایمان ‏ کیا ے اور دوز ںخ کا وعد ہکاخ روں بش رکوں او رگڑا ارول کیا ہے لی کال تپارک وتالی نے فرمایا: لیزی فُُّتفین جا تمَت لالم اأیزم سولی۔7٥)‏ تر جمہ:آ کے دلن ہر کودھی بدلہدیاجا ےگا جود کرت زہے۔آ نج کے د نکی پل ڑئیں_ ٭ تَآذلَیللانماپالانامش سدخفبوہ جمہ بے ئک انان کے لیے وی ہ ےجس کے لیے ووکوشش کر ٭٭ وَمانْقَيِمُزالَنفِکُم غن ٹر تَنؤهجنناڈو س0اۃہ0٦٦)‏ تر جھہ:اودجوجگی اپنے ےآ یچ گےاسے ال کے ہا پاؤگے- اع ہت چیھ چ جن بانتویینحل نتراکے بیان میں اکواس بج تصوفیا کا نام د گیا ےک یبن لی ک کے ہیں دوصو فکالباس پنتے ہیں یاانہوں نے اپ ولو ںکودخیاو قد ون سے صا فکررکھا ہے باہو نے اپ ےقلوبکو ا سوقی الد (ہر )سے پاککررکھا ہے ٹین لوگ ای صوٹی اس لے کیچ ہی ںکہقیامت کے دن دوعا لم ب ٹیس (حؾ تالی سےتضور) لصف می سکع نۓیں گے عائم ار ہیں: عالم ملک (نا سرت ):ھا لم گکوت: حا لم جبروت اور الیم لاعوت جوکہ عا لم تقیقت ۓے۔ علو ٗی ار ہیں کرش یت پک ررقت بکرم عرفت اویل یقت اروا بھی ار ہیں :دوج جسمالی دوب فودانیٰ دو سلطااورد با ذی- تقجلیاتبھ جار میں :گا ارہگ افعال ؛تصفات اورخگ ذات- عق لبھی چار ہیں عق موا ش کم عق معات یا ین کن دہ الا چارعالم؛ارواع بات اوریقول کے مقابمہ بی ٹچ یکلم ال درو ال تٌ ال اوریشلٍ ال یں مقی ہیں اوران کے لیے کی جنت نی جنت الما دی ہے ۔اچ دوسرے دن کان ےنکر ربتی ہے۔ کے دنت جھ سرلا رر ڑوت ا 3 ےا یس ص نر12 دائر ویش مقید ہیں اوران کے لیے ددسریی نت نی جنت انیم سے بح س تیسرے دائرہ یں مقیر ہیں اوران کے ری جنت شی نت النفردوں ہے۔ پیلک (جو پ ین داروں ہی مقید ہیں ) ان تماما شیا کی مقیقت سے بےنج ہیں اہ یج میس سےنقراو ھارین نے ان سب (عقابات د جات ) سے فرارحاص لکی اورعا لم تقیقت وقریت میں (ج تعالی سے ) واصل ہو ئے۔ ال تعالیٰ کےسواکسی 3ی عبت )ای گر رہد ئے اوداللدتھالی کےا س فان کا ای اللہ 7ھ: ” دوڈوا دی طرف “کی پیروئ یکی حضورعلیااصلے والسلام نے فرمایا: ای ا نے ان دوفو کی طلب اورعحب تکوا نے ٠س‏ پرقراممکررکھا ہے ۔ا اکنا جےکہ بردفول 0 7 عازن ہیں اددہ نل ہیں حادٹ دوسرےحازن غکرکیےطل بکرسکتا ے۔ بک عادٹ پل کو ک2 7 1 یطل بکرے۔ عدی نے ق ری می فر ما ن ای تھالی ے: واجب ےل دوٹر تر جم :بج سےےیحب تقر ےیحبت کنا ے۔ حضورعلی الو والسلام نے قرمایا: تج :نم راتھر ہے اورں اس پٹ رتا ہوں- یا فقرے مرادو وف ہرگنئیں وقوام میں مشبور وم روف ہے پلگہا لف سے مرادالڈیخڑ وت لکا تاج ہدنا ہے اورایڈ کے سوا ظا د گی اورآ خر وئی لیخ کات گکرنا ہے۔اس سے مرادی ےکم اب تی ا قر راف ال ہوجائۓےک ہراس کےنٹس بیل اس کے چینفس کے ےکوقی ے باقی ند کے وو تے ج پیل شی اور یھر ایی لوق چیداہونے دالی نز کہ چداکرنے وال ءنا تی سر ڑپ 04 انس ہ12 رہےاورااس کےقلب می اللرتبارک ودای کے علادہ وہای وی اراتا فرماتاے: لَایَمغی اَزضن وَلَا تَمَاتَل يَمغیی قَلْم عَبیی خر چم تہیساز شان مل مات ہوں تا سان بس بک اپنے من بندے کے لب مس ساجا تا ہوں۔ من سے مراد وٹ ہے ج کا قب یشرکی صفات سے صاف اورخی راو ال) سے خالی و میا ہواوراس کے قلب میں ذاتیتق تال ی انس گیا ہو حضرت اید بسطائی رم تال علی ےمرمایان اق العزش وَما عو لق ن تر چم :عرش اورااس کے اط راف میں جو و رف فان ایک کو میں رود یا جاۓ زا سے اجما کک تہہو- یں جو (ار ارک وتالی کے نین سےعحب تکرا ہے دہآخرت می ان کے ساتھ ہوگا اورا نک یس اب ار کھ و تد تر جم کیاوکا ری رےد یداد کے مشتاتی ہودتے ہیں اورس ان سے ڑکا نکیا مخت تی ہوا ہوں ۔ چ( نی )لاس فٹرا یی ہیں دہ تن طر کا سے جن کا تی رینصل (جموں ہی ارداح کے تحرف ) می آ کا ہے اوران کے اعما لک عاات بی ےک من کل میس اچھائی (خ )اور رائی ( شر ددنوں حاتیں خی تع" ہیں۔سحوسمے کیل می اچھائی ےخقلف رگ خلا افوار ریت طر یقت اورمدرفت خی تل طور پا جاتے ہیں اوران کےا بھی خی تخل دوطااب جوائیھی راوسلو ککی ابٹزائیش ہو سے میتی ہبی رف مال ہوتا ےامی شک طرف کل لی دیشر سے ضات پا کا ہکن خی راس کے پان مقاات مقام ش یت مقامط یقت تقامح محرفت کے مطا کم یا سرالا رر جا 05 انس ل12 الف گوں کے ہوتے می مشلا فی ضیگکوں اورین شی کال سور نج کیفوری اسب رگوں سے الی ہوتا ہے جوکوئی بھی رگ قبو ل تھی سکرتا۔ اسی طرع ا کا (انی )لال بھی سیاہ رن کک ماق دکوئی رک ولیک کنا ریف یمحرشت پر پڑے تاب کے نا ہون ےکی علاصت سے لی اکر رات سورج کے ور کے لیے نقاب ہے (ای رع فق کا ضلم اس کے بای فو رکے لی ناب عَاقات(-.25۔11-10) تج :اودم نے درا تگولپاں اور نکوذر یه معاضلبنایا- اس می ایک اطیف انشاز نے جس می کنل اورع مک ایک فا جو ہرہے۔ ناس طرف اشارہ ہ ےکسا قرب کے لے د یا کی ندگی قیخا نر بت لم قص جحنت ومشقت او رت ( کٹل ) ہے جاک تضورعلی ال والسلام نے فرمیا: 92و اْنیان لمزم تر چم :د نیا کن کے لیے قیدخاندے۔ پس ( من کے نے )اس عا کلت می خلا ”لاس ىی بت ہے حد ‏ شریف می تضور علی الو و والسلام سےروایت ےل ہ: مم شع انبا ءَالاوَلتاءفَالامَقَل ثُمَالامَتّل ادالیاپراودا نکش لوگوں پر با ڈو لکومسل اگ گیا را نکنل لوگوں پ_ (علا سوک ا ری طود بر )سیا ولس ہما ورس دظامہ پان ناد ول اس ہے جوف تک علاصت ہے ۔ یہ سگواروں اورمحیبت دو ل کا لباں ہے جن میس مکاشفہہ مشظاہرہ اور موائہ (یے مراحب کے ول )کی قابلیت فذت ہو گی ہے اورشوق ء ذوق بش ء روب فی اورم یقرب وصا لکا دہ طال بی جودا و سلوککی انجا رگا ہوم مین جس طرح قی خانہرمش قیریکی ےنوس لپاس ہے اکا رح اس دنام جیا م پک نکی پاک اورآذادرو کے ےت مخلماقی اس ہے۔ مو تک دج سے حیات ابد سےمردم ہو گے ہیں۔ بیس بٹشیممصاعب مل سے ہے۔اییے شف کے لی (جو مس بک پکاہو) تا مس وگوارول جیالاس پلنا رود ہ ےکیانکہ وہاچ خر تک منفع تکوکھو ہکا ہے۔ رسب عراحب ایی ے ای ہیں جی کی حور تکا خوہرفوت جو جاے جس کے بے ال کام ہےکہدہ ار ماو ادس دان ما الا ےکسا کی دای محت فذت ہوائی ہا نآ خر ت کے مات مکی مدت یرتا حضورعلی صلی والسلام نے قرمایا: 90 : لمزم کل کر عیبر ترجہ برکزیرویندو ںکوشی رات دری ری ہیں۔ بیس ب نر اود فاکیاصفت ہے ۔حد یٹ می لآیاے: 9 النَفْزمَو ذو خُوف الَارف جم نقردوفوں جہان ہی چر ےکی روسیانی ے۔ ا سکامطلب یح یی تھالی کے چرے کےنو ز کے علادءکوئی رک قجو می سکرتاکہ (نقرکی )سای حبدب کے چجرے کا لت لک مامند ہے جوا کےسن دجما لکوعز ید بڑھادتا ہے۔ جب ائ قرب تن تال کے با لک طرف نظ رکرتے ہیں اس کے بعد نکی مو ںیا وراللہ کے سوا یکو دنا کوارا نمی سکرتا اورووتی تھالی کے سوا یکوعبت ےی دی کہ دو چان میں ا نعکامحیوب اورمطلوب اللتھالی ہے نی دو ال تھالی کے سوا اور چڑکا ارادءککرتے ہی ںکیوکہ ا ای نے انسا نک اپتی صح فت اود دصال کے لیے پیدا فرمایا۔ یں انان کے لیے داب ےک دوفو چہانوں یں دہ طط بر ےج کے ےا کو پیدافرایا کہا لکی عم لالج یکا موں میں ضا لع ہوجائۓ اورمرنے کے بعدأ ےگ مم ضائَ کر نے کے اعت حم تھا کےسات )ناد ہوناپڑے۔ گی ہے ہیں الیا دیس جس تس تسہ شریعت کے پائی سے حاصل ہولی ہاور باطفی طہارت مرش تصخیراورط یق کا راو اتا رکرنے سے عاصل ہونی ہے۔ لیں جب خجاست کی ہے ۔ ما ہیی مار کےاخرارع کے باعث ش رت کا وسوفوٹ جا ےق پالی سے(ہضوک )تج یرگن اجب ےج اکہ تضور مل لصاو چ والسلا؛ ترجہ :جس نے وضسوکوتاز وکیا اتارک وتھاٹی نے کے اما نگکتازہکیا_ تضورعلاسلؤ و والسلام نے مر یوفرمایا: 2و آلوضُو: مل الْؤمُوء نوز مل ور تج :وضو پر وضوکر اگویالور پلورے_ یں جب افعال ذمی اوراخلاقی رڈیل ش لاحرہب ؛حصد کین خیبت :ڈنیہ بجتان اورجھوٹ اور ( ظا بر اعضا) کہ ہکان ءا تاور پا لکی خیاخت سے پاضٹی رضوٹوٹ جاۓ جیا تضور تج یھھں ھی زہکرئی مزا ںکجریر لیے ری جھرتک ان مفمدات سے چگی تو ہککرے۔ نداممت کے باععت خووکوملامت اور علراصلؤ : والسلام نے فیا استارکرےاوردواشغالل انقیارکرے جن ے اط لاق ع تع ہوجائۓ۔ عار فکوچایے کان آفات (جن سے فی وضوٹوٹ جات ہے ) سے اپ فو بہکی طف تکرے کان لک نا زکائل ہو اتارک وتھا لی نف رمایا: وِْعَدُوِتَيِكنَ تن تر جمہ: ھی ہے ج سکاتم سے وعد ہک یاگاہے ہراس کے لیے جواللکی طرف دجو نکر نے والا اور (اپن کی ) فا تکرنے دالاے- اہر وضو کے لے تمام دن اور رات کا وت سے چیہ پا نی وضسوکا وقت تما مھ ر کے لیے دانگی وی ںیگل - خمازش ریجت اور یقت کے بیان ش دیس جس تس تسہ ا نزازش ریت د ےج الم الد تالی کےا فرمان حاوکلواعل الشواب والش اق ند (سورۃابقر238)ت جھہا* انی نمازو نکی فاق تکرواود (خاص طور) می ما نکی مل دی گیا ہے۔ نمازش اعت سے مرادو:ماز ہے جونظا ہر اعضا اور جمالی ترکات سے ارکاان مز جیے قیام قرُت روغ :کو آحوداورآواز والفاظط سے اد کی جائی ہے۔ اس لیے الل تال نے اپنے فرمان حأفيکاححقی الاب می (صلو: ک لے )ئئ کا اف (ال تو اب)استعا لکیاے نماز طر یق تق بک دائ یراز ےج س اعم اس آیت وَالصٌلوقالوْسَط یس دیاگیاپےاور شی مز ےکیوکیقل بکوقسم کے دسا یس داتیں وہای پہلو کے درسیانہ پالا کی وی میں (حصہ )کے ترجہ بت یم سےقلوب ایندکی انٹیوں جس سے دوالنیوں کے درمیان ہیں دہ جیسے چاہتاے (قلوبکو) چھیردتاے۔ دواپیوں سے ماوق( جلال )او رطف (جدالی کی صن واج ہو یک اصسل نمازٹی خماز ہے۔ جب انسان اہ تھی فماز سے ئل ہو جا تا ہق سک نماز فاسد ہو جانی ہے اوج( کی نماز فا سد ہوگئی ا کی اہر نمازیھی فاسد ہو جاٹی ہے۔ ای کے ا ںآ بت اورحد یٹ سے بات تج حضورقلب کےافیرماڑیں بوئی- نگ ہمز (نمازئش )اپ رت کی مناجا تکرتا ہے اورمنا جا کال (مقام)قلب ہے۔جب قب نال ہو اتا ےق دہ انی نماک اش لکرد یتا ہے اد اہر نما یھی کین لب اصل سے اود ہائی (اخضا)اس کےتاڑ ترجہ :اولاوآدم کے مس ای کگوشتکالھڑا ے٠‏ جب دودرست ہو جانا ےا رجتاےاودجب دوگڑ اتا ارامھ منڑجاتاہے ٹرداراووقلب ہے ء۶ مازش بت کے لیے دن اوردات مس پا ا ودقات (مت رب ہیں +(ا کی ادا یکا) مت ط ریہ ہے ہ کالما رکوس بیس اما مکی اق ایس باجوماعت اورکع کی طرف+ موجہ وک بلا یا وق ادا کیاجاۓ۔ خمازط یت دائیخماز ہے جوا عم رکے لیے ( قش مک جا ہے؛ا کسی رقلب ہے ا سک جاعت قمام انی و نو ںکوش کنا اود باش نکی ز ان سے تام اسماے فذحید کے می مشغول مر حم جرف زس شترت اعد یتیل جلالدادر جمالی دی سے اورو تنا شی قبرے لٹ اوررو دوٹوں7۱ ںنمازش دای طور یم شخول رہ ہی کیو لب کے لے نیفداورمو تی بہ ریندادر اتی می چجی (ؤکق میں مشفول رجاے_ ہوا زی تعالی کے چر کو دکاکراداہوثی ہے اورنمازئیکاضقی قب بے از ذا تی تھالی کے بما لکا درارے۔ تی زمازحیاتقلب کےساتھداغیرآوازاورقیام تو کےتائم وتی سے یی قلب نیک ریم سی ال علیہ دہ مل مکی متابعت یس الل تھا لی سے ا کاف مان ا تی رای عباد تکرتے میں اور سے جی مدد مات تق قضی می ا نآ بات کے مات آیا کہ بغار ف کےا عا لکی رف اشارہ ےجس دہ عالرت یب ےنت احدبیت بحاء؛ دنا ی یپ جانا ہے اورا فرما کا فک بن جاتا ا اد یسلت ُبَو رِمِمْتَمَايْعَلونَؤُْوہر ایا وراواا اپ قیروں میں ( بھی اہی ہی )نما اداکرتے ہیں تی اپ ےگ روں میں را ادا کرت کا ین اپنے زند ولوب کےسس اتال ارک دتال کی مناجات می شخول رجے میں ۔ جب نا ہر انی دٹوں نما زی تی + ای مال ہو اتی ہے اور ا نشی دوعانی دق ربق چک جسمائی طود پرددجات (ینی جنت) ہیں ۔ ای مازئی اہر عابداود اشن ل عارف ہتا ہے۔اگرحیا تقاب عاصل ذرہونے کے باعث نما زل یقت ما زش اعت کے تع ش ہو سے قد جم زنس ہےاورا کا برق بنمیں بی ددرجات ہیں- ھکل 4 عال مخ بدییش عہارتی رت کے بیان مٹش عالمخ میں ہار مرخ تکی دوا قمام ہیں مم نت صفات کے لیے عہارت او رمع رض ذات کے لظہارت۔ معرشت صغفات کے لیے طہار تن مرشید اوراسا کے (داگی) ذکر سےنخوش بشرییت اور حدانیت سےقلب کےا تیکوصا فکر لے کےفی رعاص ہیں ہہوئی بس ےن مق بکوصفات الہ ےکےفور سےا نظرعاصل ہوجاتی کہا (نظ)ےقلب کے یرٹ جال ای کے تس کا مشار وکرتی ےج اک تضورعلیااص١لوالسلام‏ نے فرمایا: س ات سس یں جب ا سا کے داگی ذکر سے (قلب کےآئکا )یکل ٭وجاجا ہق (طاابکر الب کےآؤز میس مات الہ کے مشاہرہ سےممرفت صفات حاصل ہو جا ی ہے۔ یت ذات کے یبارت ہار واسانۓےتذ دیس سےآ خری تن اساکا میٹ میس دای وکر کرنے کے بی حاص ل نیس ہوئی ۔ بیس ٹو رق حید ےت ہ کوائیی نظ حاصل ہوٹی ےک جب انوارذا کی ہی ہوتی سذ بش یتب کل طودبرفا ہو اتی ہے۔ لیس اجتلا اور فا الفناکامقام مہ ےکیدک۔ یت تام افدارکمٹاہ رق بجی اک اتارک :تال ےرا ٭ ‏ هلْمَزنمَايِٹ ال ريد (سرواکصس۔ون) ترجہ چش رہ ٤أ‏ الکاپ(-:۸7/ء۔39) جہ:اورائدیئس (چز )کو چا ہتا سے ماد تا ہے اود( جس چک چا ہے ) قائ رکتنا ہے اوراسی کے پا سا ماککتاب ے۔ پں روپ قوسی فودالھی سے با پاقی ہے اود اخ کیکیفیت اوتیی کے ا لک طرف :ای ے٠‏ کےساتہ اس میس سی کے لیے لے دیکھتی ہے۔ ا رک دتھالی نےفرمایا: ٭ نیس کَئِْمّ سعو۔:۷) ترجہ أس(ل )کی نع لکوکی ےر اس وت صرف ورمعکق ہی باقی رہ جانا ہے اوداس سےآ گے (کے معال کی جرد ینالاکسی کے لے )مک نو ںکیکلہ یہ مال وگویت ہے جیہاں تہق تل باقی رنقی ‏ ےک کٹ ردے کے اور لٹ ے بلاکت اورتا سرالا رر ڑوت 4و ڑا مضہ تھالی کےسواک وی زاس متا کا نم سے لچ مع ان ولا جھہ: می اتارک وتھالی کے ساتھ (قرت ۷ ایک وقت ایی بھی ہے جس میں نیقی مقرب فرش کوکش اود یا دولگا۔ ےجس می یراک یگن کش نی جج ام اٹاک دتعالی نے فیا : جاک تخخورعلیاصلےت والسلام نے فرایا: ترجہ گگردای رکرواور کے پااو۔ ری سے راز فا ال ےک ا ہونااور اس عالم (عال خویت) یں صفات الپ سے متصف موکر تا حاصس لکرنا ےج اک جضورعلی اصلؤ ۃ والسلام نے فرمایا: ۵ھ تر راَفلایاتعال مہ :تھا لی کےاخلاقی ےشن ہوچا_ تی صفات اہی سے تصف ہ 9ا2 ہج جو یکل زکوتے شریجت ادرعل یت کے بیان ش نزکوقے ش اعت یہ ہ ےکہد امیس جو ما لا ۓے مقردونصاب میں سے ہرسال معیدوقت پرمصارف گن اور مس اکین أُخرو یکوع اککرےاورا رکا وق ران ید قہکانام دیاگیاہے یی اکہالل جاک و 7 1 رک کوعطاکرے۔ کو یقت مہ ےک ہآ خر تک یکمائی تک اعمال ) سےنھرانۓ تعالی نے ٭ ما الضْنَنَافيفقرہ (-×'ب۹٥)‏ ترجہ : صدقا ت نتر کے لیے ہیں۔ ین فی رس ات میں می سے پیل ہی ال کے ات م سک کا اس صدقکقو لک ایناے۔پ(زکا؟ یں جب انسان الل ری رضا گا نما رآ خر تک کمائی زیم تیک مال میس سےگناہگارو ںکو اتے ہیں۔ااسن سے سادا شال ی نی ہاور (کوۃ ریت سے مراد)ایصال اب ہے۔ 4 شی د تاذ الشداس کے ودس بےگن چس نے صدقہنماز روز در حلاد تق رآن +خادت اور دم یگ اعما لک ادا شی کے دوران سے تھے:معا ف ماد تا تب ا سی اپ نیوں یش سےا کا پت ذات کے لیے باب پچتنا۔ یں وبفلس ہوجااے اورالڈ رتا ری ساوت اوخ یکو نکر ہے جج اک تضو ری انل والسلام نے فرمایا: لے زکو ہے فی افرادمصارف ڑکو ہلا ہیں ٣‏ طلب پگرن تھا 9 لغش آمابللتعال ؤالنَارتی رج فلس دوفوں جہان میں الل رکا مان یس ہوتاے- اورحضرت رات عدو ہش ال کتہاغ اتی ہیں: جمہ:ا لی !دٹیائس جو ہوم عیب میں سے د ہکا خر و ںکوعطاف مادرے اور می رےعییب میں سے وہ مو[ نکوعطا ف رما د ےکیوکہ یس دنا ہش ترے وکر او رآخرت مل تیر دیدار کے وا پنوییس اہی پچ (تقی) بندودہ ‏ ےک جھ ھا کے پاتھ یل ہے دہ لل کی راہ بس دے دے امت کے دان ایل تپارک وتعالی ا کی تیم تییوں کے بدلہ یس ا بی دی خیلیاں عط اکم ےگا جی اک عَفْز آفتَايقَا (ستدغام.٦٥1)‏ جو ایک نی لا گا اس کے لاس (یی )تی جس شیکیاں ہو ںگی- اوراس زکوۃ کا مقصد بیکھی ےکىقل بکوفسالی صفات سے پا ککیا جاۓ جلی اک ف رما تن قالٰے: تر جم :کون سے وہ چو الکو رض حت ہد ےکہ اتارک وتا لی ای کے لیے اس دی ےکوع رب بڑھا وعات انس دائر وی۲ رخ سےعرا اد یہ ےک۔اللرکی داش اپ مال اونیوں میس سے خی رمنت کچ رک ری مکی شفققت کے لی ا سکیقلوقی پر اما نکمرےجی کہا تھی نے فرمایا: تَاتنيِلَاعَنفَادِةً روز شریعت اورطل ربقشت کے بیان ٹل چتھ چیچھ جاتھ جب جن روز؟ شرلیعت دنع می سکمانے ٠‏ پٹے اور جا عکرنے سے باز رہناے۔روز٤‏ طریقت پر ےکہ انسان دن اوررات :ا ری و انی طودراپت تام اخضاکوترام چمنوعہ چزروں اور برایوں شا تپ ونیردسے دو کے۔اگرودان تگودہپالا ناخ ا‌یال می ےکا ای کٹ لکابھی ارطا بکرےگاروز؟ ط یقت باٹل ہوجا ۓگا۔ یں روزہ ش اعت کے لے وقت مقر ہے چیک روزء یق تع یگ رے لیے دائھی سے حور علی اتل والسلام نے فرمایا: "0 بَزيَمائوِلَیلەمن مَزممالاالز تر جمہ:اوربہت سے روز ہدارا پے میں جن میں ان کے روز ہ سے سوا موک اود پیا کے با حاصصلی نہیں ہوتا۔ ای ےک ماگ یا سک ہی روز و دار ایی پر جو افطرکرنے وانے ہی او کے بی اط رکرنے وانےابیے ہیں جو روزہ سے ہیں اپے اعا رما اورلوگو ںکوایڑر ادیۓے سے روکۓ تر چجمہ:روز+میرے یه ہے اور ا کی جتزایں خودہوں۔ نے شریعت ی سقرام اوریمنوم باتیں 5 ک تڑے: روڑہ دار تھای)کی۔ اشقا ١ٰ‏ کے ار ےکی بھی (ریخوشیاں )عطاف مائۓ- بک ش رت کے ہی ںکافطار سے مر ادف رو بآ قب کے بحرکھانا پیا اورروعیت سے مراوحیدی شب چا ندکا دنا ہے ۔ابلی یقت کت ہی ںکہافطار سے مرادجنت می داشل ہونااوراس مل تا لی انی توں میس سےہیں او رآ پکوعطا دوخیشیاں یں 0 ٰٰ “ٴ۰ و" "0" ہیں ہیں ان سے روزہ انظارگرنا ے۔ فررائۓے۔ روحیت سے مرادقیامت کے دن ہٹ کی کاو سے ارتا یکا درا رکرنا ہے الڈتھاٹیٰ نل وکرم ےی اورآ پکوشی اینا یا فی رباۓے- ےک تل بکو ماسوٹی الل تی سے پا فکیاجاۓ اورمٹ رکوخی را کی حبت اور الَأَنْمَاك نل ٤وَاکایرٔذ‏ تر چجمہ:انسان میرامٹز ہے اوریں انما کاب زہوں۔ تر اتال کےدر سے ہے اذا ا ںکامیلان خی ال کی طرف پرلڑ یں الل تال کے سوا یھ یحیوب موب اورمطلوب یں اگ وہ خی رای محبت میس بت ہو خرت می ال جاعۂ ت فاسدہو چا ے ۔أس روز ےکا تقاہی کید تال یک عبت اوددیدارکی رف (ددار )لوٹ جائۓے اتارک وتالی نف ایا: اَم ءَكااَْرِؿیہ جمہ:روزہمیرے لیے ہے اورال کی بتز یٹس خودہوں۔ اٹماروزنگل ت تا رش ریعت اورط ریت کے بیان شش دجو جو جس تو سپ ش اعت :ری ش رات یہ ہ ےکھت شرائط اورارکاان کےساتھ ببیت الل کا کیا جائے یہاں تک کہ( حا یکو کاب عاصل ہو جائۓ ۔لح۲ناگریشرا ا( کی دای ) می یتم انس وت ہو جاے ور کاٹ اب :اق اور اع و جاتا ‏ ےکیوکہاللتھالی نے اپ فر مان مج کو ( یی ٹخصس سے )اہ لکر نے ۷اس نوا لے وَلْهمرَقيلہِ :٣(‏ تجمہ:ادد الک لے ادف کک لکرو_ گی شرا فا ہیں:سب سے پیل اعرام اخدھاء کی ال ہدثل اق کرت عرفات ناشن رات نزارناہمخی می تال یکرناءتزم میں دائل ہونا ہبہ کےگرد سات ھرتطوا فکرنا:آبزم زم ینا ادتقا اریم الپ دو یں واجب القراف :۔196) اانع ( شر نکی ادا گی ) کے بعددوسب زس علال ہو جالی ہیں جوا تھاٹی نے اترام ( کی حالت) تام قراردیتیں۔ یں (ھاجی کے لے )اس کی کور برا وصرکی: سےد کی اددانڈتھالی کقیرے دا ہہونے کے وفقت جطوا فکیاجاجاہے ۔ م مدان عرفات شس ر کک رر کاخطی ہما ججاں اما ز تک کے پڑش با ے۔ تمہ :اور جوائسں(کےترم) یٹ دائل ہواددامان پاگیا-۔ اس کے بتدطواف تل راو راپ ش نکردایی ہے۔۔ اتال یں اور پکوا ( ثریت) ینف عطافر 1 لے رت شی زااادواری سب سے پی لماح نز شا لآ ل )گا نظ رت ہوے زبانع ے دانی 1ئ0 حر ات اق قالک مات کےانوار سے (یاشن مس کعپوسٹ ارہد جا لی اک اتارک وتعالی نے حشرت ابرائیم اور حضرت اس ایہم السلا کوک ف ماب : سورۃالقرہ125) تر جمہ: می ر ےگ یتال )کوطوا فکرنے والوں کے لیے کیو رکھو یی خفری کت یں لا ہر یع قوقات میں صطوا فکرنے والوں کے لیے صا کیا جا تا سے اود پاش یکحہہ خاللق کے ماپ کے لیے ۔اس (ذا تق تعالی )کا جلو دو لے کے لی ےکعیے پاش نک ماسو کی (الد کے )سے طاہارت دک جاۓ ؛ بچھم دو کی کے نور سے اترام باندھاجاۓ :لب کےکعبرٹش ری الوداگیطواف جج پان می اساے صفات کے دای اعفات ےتصف ہواجاۓ متام سے رخسمت بہونے کے وقت ہیت ال کا خر ذکریش مشخول ہونے سے ماد ےک رصفائی سا اوران صا تکود ایور پاپالیا جائۓ ۔اسماے الہگی صفات سے تصف ہونا صرف مرش دک لآ“( لات اود ای یلکن ہے سح وا فکر نے والوں کے عااوہ ال ارک وتالی نے ائ لآ یت مارک یی رک نکر نے والوں اورامشا فکرے دلو لکابھی ڈوکرفر ایا ے۔ ٦ لسر ج020 001 نر18 وال ہواجائۓءُچھردوص ےار اللہ ملک ےر ای کر کے۔ ولاف قد چاو رفات قب ج گنا جات کاعقام ےم تر ےاع اود جو ے ”3 1ھ اتد وو فکیاجاۓ ) روا کے موی ںآنے اور پا یس۶ و کے سس کو(ؤکرمیں )ہگ کر سےاو یمام و مس کے جورم زنئ کےدرمیان ہے اراس کے مان وقوفکمرے سا9 یا اک دای ذکرے(مخ لی متا من می )نخس معلم کی قربانی کھر ےکہ یرام فا کا بات اورکف کیا بکوکھو لے والا ےجیک تضورعلی صلی والسلام نے فراا لت الگُفڑ وَالِنَان مَقَامَانِ مِن و عَرَمَالهْاَعَلهُتا آشَوَدُوَالْامَزابیش ترجہ :کفراورا یمان عمنشی سےا گے کے دوہامات میںء یبدونول مقامات بندے ادرال کے رب اق بالی کے بت دعلقی سےئجنیآٹھو میں ام کے کر سے درف یکا سنا برے(یی ان حضبات حاص لکرے ۳ او رو یں اکم کے ذکر ےترم یر میں واشل ہوچائۓے اود اکا فکرنے والوں کا دیدارککرےه وسوہیں اسم کے وک سے مظام قرب اور ایت مل حاصک لکنا جو ھ ذا تن توالی کے سا تھا کرد ینا جوالڈراد بے کے درمیان تباب ہے۔ بے سرمنڈانے کم لکل کچ میں ہیی صغا تہ جات تاس لکرنا۔ کے بی رگیارتویی امم چا ماس فردجوات کے دای کر سے مات طوا فکرے اور (طوا فکرنے کے بعد )پا نمو یی اسم کے ذکر کے پیالے میس بدستت قددت (پاکیزہ)شراب بی لی اتارک دتھالی نےنرمایا: ٭ ‏ وَمَفَاُْم رَبثُمْ کَرَاَاظیُورا بدلم۔+2) رھ :اورال یکارٹ| اس بر جن تھالی سے نقاب ابٹھ جانا ہے اود( یبھ یا مکی انشیب سے پاک ذات (لین الال ) کواسی کور سے دبا ہے اور ا تھی کے ال فر ما نکامطلب ہے: مَاعَيِقرَآت وَلَأكيْ میمت وَلا عَطرَظل قَلَِبَقر (سمیۃی) ترجہ جک یآ کھدنے دیھا نان نے سنااودضہ تی سی بش رکےیقلب پرائ ںکاخیالگز رای جروف اورآواز کے واسیلہ کے لھا لی سےکلائمکرا ہے او ری بش کےتاب پ۰ (ان کیفیات۷)خیال جگزرنےۓ ہے ھرادا تھا یکا دیلدارادراسں ےت خطا بکاذوقی ے۔ وا ا چو ںورام کیا تھا ددعلال ہوجاتی بادداسماے و حیدکیگرارے برائیال وں یں بدل جات یں۔ از شراب پلاگ۔ یل عَمَلا صَايِتا فقاو پڑناہتاکفلب می میا مکی لنتا گی :علال ہوجائی ہیں- ند ہے۔قر بی یس کرووسب' 6 جم ر1 برل د تاد پچھردونمانی تصرفات سےآ زاد ہو جا جا اورخرف ُُ سےامان پاجا تا ہے جی اک انارک و تما لی نےفرایا: + الَاِِنَ ترجہ روا !او رق (سرتیاں۔652) یاشگد ةکأغف ×ا ےا هی ذُ- اتال انل او جدوکرم ےی بھی ب( رع طریجت )نیب نر ماے۔ پچ تماما اک ینکرارتےطواف صدد ہے اود بات ہیں اعم کے کہ سے اپنے صلی لن عالم پل اورجعالم اص نآ مم میں وا یں اوغا ہے۔ ہی (مقام) عالم لین ستعاقی ہے اور یناد یلا ت دائزہ پان اوصشل کےاندد ہیں ۔ جو (عقامات )انل سےآ گے ہیں ا سکیخجرد یا( می بش رس لے پلمکن غیںء کی (عام انان کے )لیم وذ نکوا نک ادراک ہوسا ہے اور نی جو مل ان (متابات کے اياتب داش تےکر ےی ماق رکتا جی اکتظور ترجہ بے فک علوم میس سے ای کلم پشدرھاکیے صالعے ال کےعلادہکوگ یں جاتا_ یں جب دو( لا رپنی) اس (یشید :و طنیعلم) کےمتحل قنفشکوکرتے ہیں تو ابی عزت ا کا اڈگازٹی کرت ےکیوکگہ عارف جو باتکجھ یکرت ہے د ہق (اود نی )وق ہے اود عالم جو با تگگ کرتاہے وی (اواہری وی ہے۔ لی عار کا لم اللتھا اج ےج کواللہ کے سو اکوتی نیس جا تا غرم باقن تعالی ہے: 2 بی تھا کی طل بکرے اور ا گنا ہول مع رت تی توالی سے یکن پک اگ چا ےا اہو کو قد بی بااقلب سے ایمان لا کہ برائ ںیا ول ٹس بڑٰقی ہیں دنز ای اقر راودا ہرک تہ ے الد تج :اورودال' یس سی چزکااھا میٹ شکر سکت ہکرس فرردہ چاہتا - نی دواخیااوراولیا ہیں (ج نکی رسائیدداپلل من ککرتاے )- ٭ تَالَ>علم ال وآغفیہ الال و لد الانمآذ دای (هدەت ھ ھجم : بے ئک (ا جا تا ہے چررازکو ماس سےبھ نی ۔ ایل کےسواکوئی معبو یں اورقام ایشھ نام ای جےہیں۔ اوراشی(سب )جاتاے- ایسورنگل چجہ:(ا لآ اتی نکر ان ک عم پردہ گ کے ہوجاتے ہیں اورجوانٹرسے ڈرتے ہیں الن؛ کاو برول خم وکرائ کے ذک کی طرف انل ہوجاتے ہیں ال تھا ی نے مز یدفرایا: ان مزع الله صَنرَۂلِلاشلاو قھو عل اور دن ٍہ* تَوئل للعَايِمَِ فَيلۂ ٹن تر اللہ س×ہردت) تر جھہ: جس کا بدا تھالی نے الام کے ل ےکھول دیاوہ اپنے رٹک طرف فورپ ے۔- ںان لوگوں کے لیے بر بادیی یجن کے ول دکر اللہ سے ال ہو گتے ہیں۔ جم :تن قعالی مات شی ےئ ان ضا عمال کے براردے۔ جزفرایا: :جس یس دی ا میں زندگیائژں- ححضر تجتدبفدادگی رحتتر ال علیغرماتے ہیں: ٣‏ اََرَجْنَإِذَامَا اي الَبَاطِی وت اذہتعا لثم زور آ تر جمہ: وجد جب اللوتھال کی رف سے پان میں راہ یا تا یمر ات پداکر نے کایاعٹ بآ ت- وجددیطرں کا ہوتا ہے :جسمالٰ اوردوھاٹی۔جسمانی وجرفغمانی ہوتاے جوجسمالی قوت کے اھ تح یک می سآ تا ہے اورشوقق (زعش قتقی ا ارد یدارا گی جات ) کے اش( پھا٭ نے0۳۸)روعاٹی لہ شس دیاہناوٹ اورشرت کے لیے ہوتا ہہ (د ہدک یٹم پل پال ہ ےکیوکہ ا کا اتا کنا خی مفلوباورفی سلوے ہ اور کم ےدرک موافقت جائنئں - روعالی وجددہ ہے جوشو کی قوت کے ذر ببرروعا یق یت کا باعٹث ہے اوراجھ یآواز می سک گی تق رآ تق رآن یا موزوں شم باُراث ذکر سے پیدا ہوتا ہے۔اس سے عم یں قوت اوراخقیار بات شس رجہ ىی(وجدررحالٹی ہے اودا سکی موافقت اغیارکر اتب ہے۔اس وجدکی طرف الد کےا خر مان میں اشمارہ ہے: ۰ چ رن سے ( ۳ ر8ا17-187) ری یں (اے نی صلی ال علہدآلہپم)خن خی ہے مر رےالن بندوں کے لیے چو( میرتی )بات حور سے لت اوراا کی مم رین اتا کرت ہیں۔ ابی رح عشاقی :یو رکآ واز یی اوہ۰ معالی صدائقیں سب رو عقوت کا باعث میں ۔ائ تم کے وجدٹٹرنٹس اور حیطان مداخلتنأثی سکرس کون شیطانفڈما لم یت می نو تر کرک ہے دفو رایت مرف سکرس میں دو پفی رضح کک ما یکل جانا جییکلہ لا حول ول ےید ہلان پان یشوقی کےماہ سے ہوتاہے اور نیشم کے ایا کےسلب ہونے سے بوچاے۔ اقطزیھ ےبمل جا تہ ۔عد یٹ شرف لآ ڑے: وَالقَی وَالَّاَشْوَاتِ ال در پُردددآوازی روح کی ورای قو کا باععث میں لیکش واججب ےکم( نکیتقیت سے )لور پور نی روح سے لے _ ترجہ آیا تک قرآتء اشتارممت عبت وش اللدتھاٹی نےفرمایا: ٭ َلقَیتَا قَ (ص5افر26) مہ :اود اکینرہ(قس )پاینرو(رج )کے لیے ہے۔ اکر وجد شیطاٹی اورغمانی ہونو ان ہیں نو ریس پلگنلمت مکفراورگرادی ہوئی (-ر9۶ر-26) زس )ضبیث(روںاکے لیے ے۔ اس( کے وجد یی ددع کے لیے ہرکنک یق ت ہیں - یں روعانی وجد بش ور عکی حکات بل ہیں : نوج ایارگ اورنوپع اضطراری۔ اخیاری حرکات ا انسا نکی مرکا تک ماخطد ہیں جس کے سم یس جےکوئ نم سے یکوئی من اود بیاری۔ اش مکی سب تات نمیرشرئی ہیں کیک یا ۰ اشطراربی ترکات دہ ہیں جک دوسرےسبب لاو تی روح سے عاصل ہوقی ہیں اوس ان کے پد اکر ن کی قو ت نیس رکتا کیونکہ بہتکات جسمانی حرکات بر غالب ہوثی ہیں جچے برک تکات جب تاب پا ہیں تو انان ان ت کا تکا تل ہونے سے عاتج زآ جا جا سے اوران ت کات پہ بے اقیار ہو جانا گر جب روعالی ترکات غال بآ جالی ہی تو وجدروعالٰ اضق ہو جات ہے۔دجداورسائ دوددآلات ہیں جویعشاقی اور عارفن کےولو ںکوٹھرک رک ہیں او نی نکی لسر 0990 81:ص ن19 خفرااورطال بکی ( انی وم چو موا خر تجمہ: بے ئک ما لنحس لوگوں کے لیف :پت لوکوں کے لیے سنت اور لوکوں کے لی بدعت ہے لیں بی(اع) خواص کے لیف ین کے لیے نت اور خافلین کے لیے بلگت ے۔ تضورعلی لصاو والسلام نے مریدارشا وف رمایا: ا۵ من لم یَتعرك يالمماع وآفعارہ کے کن شا ران شس کا وا یک تاروں سے وچ رم لٹ لآتاوہ راع ہے اورائ ںوی علا نیس ۔ د ود تاور پرندول بل تام جانوروں ےکر ےکیو خقام چاو مات اورموزوں اشعار سے متاثر ہوتے ہیں ءاىی لیے ہرند ےححضرت دا وعلی السلام کی (ئش )آواز سن کے لان کےس برع ہوجاتے تھے۔ ۵ مَیَلَاوَتل لویل تجی:جودج رٹ نف ںآ ہا لک لد بیایں- وجدکی دیس وجو بات ہیں ان ٹش سےٹج چلی ( ہیی )ہیں جن کے اش اما( اہر ) ت کات سے ہو ہےاور نف فی ہیں جن کےاٹ کا اسم یس جوتا لاق بک کر یکرنابق رن کی قرآت ےآ :دہکاء نیدی خوف جم اورتاسف وتیرت می کا ہونااور کرای ۔ےضرت لے ازم تی وندامت اور ظا ہرد پان بیں بد بی آنا اوراس سے اللتھال کی رضا کی طلبءشوقی اور اس (ڈپ ) سےترارت ‏ ھرش اور بین جار نا پت ۰ 0 لوت او رگوش کٹ ی ےت یا نٹ تسد جس تسد تشسہ خلوت دوطظر کی من خی جم یہت <ھئھ َ۲ گی نظ اَل ہو ونے کےاصور سے پا ی جوا کل پا“ میں او رام حلوت ۷0ئ9 سے ومن اورمومنا تکوبچا نکی یت ہوجعہ ا تضورعلی اضلؤ ‏ والسلام نے 9 ایم نم لسوت من یرم وَيسايهةكفلِمَاتَۂعكَالائَفییہِ ترجمہ:مسلمان دو ہے ٹس کے پاتداورزبان (کےشر) سے مسلما نتشوظ ہیں اودال کی ذبان انی ( تسد فضول )باتوں ےرکی رے۔ و ال روید ےق لاسما ند ح2 اسے چا ےک اپ کو ںکوخیاعت سےاوراپ یرام سے دو کے۔ میرح اپے پل اود کاو ںکیڑگی_ لپںتضورعلی اصلوت والسلام نے فرمایا: [298112غرن 20 اورال کے پا ا(زن ار لاف اہی دےگااودائنش کا موا کر ےگا وردوزغ 7ھ س7.2 ڑا ایا ہوں سے )ل برک نے اود اٹ سکو(اخلاق ردیدے) سس ض رت ۱ 7 و الْعَأوی ٥‏ (سرۃاازدت4041) سوخواہشا ٹیٹس سے روا ا لا وکا نہ جنت مدکی ے۔ یس سے رشن اعد ا ٹین لکیصورت جنشنت کےغلان کے بے ریش .22 جات پا لگا خلو گنا ہوں سےتفوظا ر ہے کے نی ای کتقلعہ ہے( کیک اعمائل بی باقی دہ جاتے ہیں اوردٹیوکا رین جانا ہے جی اک اتارک ۸) اس (مجئی )کے شر سے چپ اما نگناہوں (سر7اگبف-110) جواپنے رٹ کے لقا کا لگا رہد ا سے چک ہتیگ اعحا لکرے اور اپ داعدر ٹک بنگی می در شیک نکرے۔ 9 سٹک سرالا ار ڑ0 ا 11بف رن 20 نے اود نک محبت :اٹل وعیال اورتیدانات ضلاکھوڑے ون رہکی عحبت ۷ر یاءناوٹ اوشبر تک حبت۔ تضورعال الو والسلام نے فرمایا: وَكُلمَایَکوقاما تج :شبرت (ی )1افت ے اود مرش ا لکاخواہشمند سے مکنا می لیم ارات ہے اود ہل ا سے تاے۔ خر مٹش ےا ےا اقب مہرب بلی:ض فی بل کی ضر قب اوراس یی دوسرے من مکوراشل یہ ہونے و ےکیوکہ جب خلوت میس ان ذائم یں سے بپجھ تقلب میں واخل ہوتا ےآ خلوت وقلب اراس قلب می احسان دائرالی صا فاسدہوجاتے ہیں او رقاب پر نک منفعت ےئد رہ جا تا ہے۔ انتا لی نے فرمایا: إؤاالایعیغعخل تر جمہ: ب ےتک الد مفمد بین کے اعما لکی اصلا ںی فرماتا- رد وش جن سان مین ان عق ندات ین سے دو طاشن سے ہے اح اہر میس وہاصلاککارو ںکی ہی فصورت والا ہو ہیی اک تضورعلی اصلا *اوالسلام نے فرمایا: ال وَلمخْبيْفتَالیفا تر یم :کبراورکچپ دوڈول ایما نکوفا کرد ں۔ يِف (عرویاں۔81) 1 زنا ےکی شد بے( ائی)ے۔ 3 نأ وأ ئن سناب گمائأفن الناز لطب ئک ککڑیو ںکرکھا جال ے۔ جنت میں داخ یں ہویکا کر چردوعابدت یکول تہہو- لكْعَیغ وَيِزک: كُفْڑ اوداییاشرکگفرے_ 9 دینفل ترجن: ٹل خو رشن یس دائ لیس ہار ان (اعادیف) کے علاوہ ا لاق ڈعی کی رت می دنر بہ ثکی احادیٹ وارد ہو ہں- ( ہنی لو نین کے لے ) اعقا طکا مقام سے تحصوف میں سب سے پہلاتصودان (اخلاق ذمیں سےکقل بک تیراو س کا خواہشات تع ت کر ہے لیں جوخلوتء ریاحضتہ ما موی ء دای ذک عبت مز وا خلاس اور تی اعتقاد ےا گرا شش سے اپت سلف الین ادرمخا کا میس سے تا مین او رعلمائۓ عم نکی متلعت اخقا کر کے (ان بدائیوں سے ) اتی اصلا کر لیا ہے لین او فدہ بلاشرائکی اداجگی سے من بی نکرخلو تین ہوتا ےتا اعم اور حم ال کے لیے الس ہو اتا ہے ا کا قلب مٹورہو جا تا ہےء ا کی خر اودا کی زبان پک ہو جالی ہے؛ ال ک ےھ ہر د ہاضفی حا مع ہوجاتے ہیں ۔اس کےا ئا لںکوالش تی اپے تضور میس رفعت ع ط اکر کےقپول شوج امن مک ت جمہ:''او راڈ ہنا ہے جوا سکیترنی کی جا ےلچن ا دتھاٹی اک دعاء ا اور از یکوقبو لکرتا ہے اوراس کے لے بی اپنے بن ےکواینا قرب اور درجات عطا شتبارگک وتھالی نےفرمیا: لِم التب وَلْعمَلُ الضَاٌَّزفَكُة ( و8 )1٥_‏ تج :اکیزہکلام ا یکا طرف جڑ ھتاہ اوروی صا اتا لکوبلندف راج ہے۔ لیا ہے اوراا کا دھاکوستا ہے جیسے وہ (نماز میس کنا ہے ضُوْنَہ (۶راٹن1-3) نمازوں یش ضٹوغ پداکرنے والے ہیں اوروہ چھ فو پان سے پرہ کر ہیں۔ یں اتال ان ک یلم اور لکورفعت: رضا سے اپنی رت اورقرب و درجات عطا فراتا ے حاصسل ہوجاتے ہی تو ا کا قب سحمندرکی رع ( و ) ہو جاتا ہے اورلوگو ںکی ای ارسا لی سے اس می رآتخیکی سآ تا جحضورعلِاصلۃ والسلانم نے فرمیا: مہ اج ترجہ :سمندد(ی مامد ہو چا ؤینس می کو ینتھ یس ٦۔‏ نفمانی نی اس (بطفی خلورہ نین کےقلب کےحندد یس الےے نا وی ہیں یف رون اود ال آلیسندرمش فرق ہو ےی" اس میس ش بیع تک شحی سای سے جار ہوچائی ہے اوردہ بی ال( تیک حا لکرنے دانے کو منرت اورای جب (ہنی )خلو تی نکر یعراعب ِنبا الو َو وَالْمَرجَان (آ 7ی2ت ترجہ :ان دونوں سےمولی اورمرجان نے ہإں- بی حندرائ ںکوحاصل ہوتا ہے جو کا ہراود پان کےسمند کو یک لے بس کے بعداس کےقلب کے حندر می کول اد بر پان ہونااد(بنی خلو نی کی ) ہ فا جرف نل ال پک لے نی لی لنشین کے وع قلب می فسانی یا یں فا ہوجالی ہیں- ٦ الا ار ا6 11 5خ ز20 بوجانا ہے اورو ارد ما کی طرف وک یں ہوتا۔ اراس کوک یی او ول چوک ہیی جاے وذ اتخفارءنداصت اورلشن کے باعث ا نگمناہو کی معافٰ هوجالی ے۔ حلوت کے اورا کے بپارۓے ان ا ےک جب لوت میس ٹیٹھےاگرطاقت رکنتا ہو روز ے ر کے پا چو نمانزی اپنے اپنے اوقات پرسنت دشرا اودارکا نکی ابی سے لوکوں کے ساتھ با جماعت اداکرے+ نف شب کے بعد بارہ رکعات نما زتچچد پڑھھ اور ہر دورکعت کے بحدسلام پیر ےکیونہ نی شب دودورکح تک کے پڑی جاۓ اورائس کے بعر جن ت جمہ :رات کے پھ جھے یلما راد اکروا ورس کےس او رآ بڑھوں انشدتھاٹی نے مر یوق رمیا لْمضَاجج ( 7 ابر:-16) ترجہ ان کے پبلوٹستروں سے دوررجے ہیں۔ پچ راوج آ غاب کے بعددورکحت نماز اد اککرے چوک نماز اش راقی ہےہ اس کے بعد دورکحت نماز اک یف نا ا ا رق وت کی تق تح من سور لزا ساس کے بععد دو رکعحت نماز استقار ہکی یت سے اد اکم ےجس سک ہررکعت یل سورۃ اہ اکنا 5 زار ج00 0811 خرن ے21 فا ایک مرتبآیتاکری ایک مرجبراورسور 7 اغلائ مات مرجبہ پڑ ھت اود چو رکا تصلو نی (نمازچاشت )پڑتھےئنس میس اپقی ھ شیا ےآ بات اورسورۃ ملاو تکمرے۔ ا کے بعد وورعت لے َ‫ خمافرکفارۃبو لک غیت سے اد اکر ےجس سکیا ہررکعت میس سور فا ش ایک مرحبراورسور وڈ مات بول وی اور خر اب قبر سےمجات دو ےکی ۔تضور علیہ اصل رک و ]ای دجرےوتاے۔ (اس کےعلادہ) چار رجات تیاڑ ادا ے۔اگکردن مس پڑ ھھے اون ےت چارر اٹ نشی ادا کمرےاوراگرشانچی ےذ دودو رکا تک کے اداککرے۔ کردا کو پڑ ھھے نی اورشا تق روڈ دودورکجی ںکرکے پڑ ھھے۔ ریصلو وا جع نے تی خرہب کے مطابق اکردن میس بیماز پڑ ھت بینیتکرےۓ ال کے لعل ۃ اٹپ ہک می کرت ہوں ریرج ری پڑت اورجہ( )کے بعد پندرەم ہمان اللہ َال لہ ولا لهإِلَا الله الله اَكبڑ ول عول ولا قُوةالّا یڈہ ان ا ایروک یآ خریآ بات پاکوئ یج یآیا رئیش جاتے اورتن مرتبہ ما رپ اتیج بڑ تھے اس کے بعددں مرج ری نت بے روغ ےکھڑے ہوک ول ھر تم پڑھے ید ہکرےاود لس ومن مت تکرےاو دی رد مرتب تیچ پڑھے۔اس کے بعد خی کیےہ رد مرج تع بڑھےاور(دوسری رکحت کے لیے )کنا ہواور کی رت کے بعد وس مرج شع پڑھے۔قعدہاولی می دں مرح ہنع پڑ ھھ پھر دوسا ہکرے اون مرجبہ کی تیب یں ای طرح یا جکرے اورالقیات دبنگ پڑتھے۔ ریا مکرے بجی ٦ سار ج0 9 11 0ن ن24 از ھی رکعت اداکرے۔ ہرکعت می اس جا ھت (5 7م جا وردورکحات یل ایک سو پا 150م جبادد جا کات یل تن و(300) مرج پڑھی جاہی گی شال مرج ب کرو جا دن ہدیارات :زی تک ے الد کے لیے دوراحتنمازسنت ا ریہ کی اورال کے بحداءسورۃ فا اورکوئی سورۃ پڑت پھرپنددہ مری بت پڑ ھھ_ پھ رکا ہوکریں مری یت پڑتھ: رید وکرےاوردل مرج پڑھے۔قعدواولی بیس دں م راو (دوسرےباحجدو ٹل یں مرن بے ھے۔ پھ رکرو مہنع بڑتھے۔انقیا تآ رک بڑ کرام پھیرے۔ ای رز یورام یٹ لگلادے۔ بے پڑ تھے اس کے معدرکو کر ے اوردں خلوزث جا ین پرواجب ہ ےک بیفماز بردلن اوردات می پڑھے۔ اگ رال سکیا استطاع ت ایل رکتا تو ہرہعہ کے دن پڑتھءاگرا لک بھی استطاعحتنیل دکتت تہ مین ایک مرعیہ پڑھے؛ گرا کی استطا حم تپچھینئیس رکھتان مال نٹ ایک مرج یضردر پڑت اوراگرا یک بھی استطاعحت نیش رکتا رپ میں ایک م رب رازم پڑ ھے ۔تضورعلیاصلو ‏ والسلامنے اپنے پا ضر ت ع با دش اڈ عفد سےفرایا: کے ذرات؟آ سان کے مار ول اورروۓ زم نکی ہچ کی تاد پڑ کرہوں- سان ککوچایےکردوزانہ ایک مرج ہد جا ےکی پڑھ :ایک دن جس دوس ات کے برا ران خلاو تکرنےاو رگ رکنثزت سے کر الگ کرے۔اگر ےکر کا ای مد 2ج راوراگ ر1 ون کاایل ہوو دک یکرے۔ مقام خقیرحیاتقلب کے بعد ہے اود ذکر مر کی ز باانع سکیا جاتا لے ذک چجرز ان سے بلندآ واز کیا جا ا ہے۔ عو پاس انا کا ذکر ےشن ممانسوں کے س اج ھکیا جانے والا وک اَعَلََ ون آئورث کات لے رتا اتعاظاویق .ت7 وآنی عل قُهئ کریڑ (تڑجہ: ا ےع مت وانے الا یچ سے مخفرتطل بکرا ہوں ۔کوئی معبو وی سوا قئ ہو کے جوقی قیم ہے۔میر ےگا ہو ںکویش دے جوٹیں نے پل سے اور جآ حمدوسرذدہوں گےء رپ کے اورجوخف وریہ جویش نے حد سے تھا رکیااورد وکنا جوق جو ےکی زیادجاتا بے : آ گےکرنے والا ہے اور چچےکرنے دا لا اود جرۓ پہقادرے۔-) جو میں نےا اگرٹو مل اورحلاوتیق رآ نکی زیادہاستطاخت رتا ہو یا نینراور اوک کے واقیات کے بیان ٹل کے ید اوراوگ نی جوقا بات روا مات دہ ادرف ٹل ہدتے ہیں ال ارک د الله رشوئة ڑا ابیلی (ووان_ جن ت جمہ: بے ئک اود نے اپے رسول ( صلی اض علیہ دآلہ لم )کا خواب بک ردکھایا۔ انشاءانٹآپ (صل الل لی ”لہ نلم )مسجبر ال ام میں امان کےساتددال ہہوں ےد اتارک دتھالی نے حضرت بوسف علیہ السلا کیٹ پان سے پیکجلوایا: ٭ اِيْرَآَيَث اعد عَت گوگیا (سرویٹ۔+) جم ےئک مان ےگیادہستتارو لکودیھا_ حضورعلی اصلووالسلام نے راا: ٦ الا ار ج0 22 1بخ ل22 تر جمہ:ھیرے بعدبوت می صر ف یش رات عی باقی ہیں جو کن د کت ہے باکوئی اس کے لیے دیتاے۔ اس عدیث کے لیے دیُل اش تھا یکا یر مان ے: تڑھ: انغ کے لی دمیاکی زندگی ‏ اورآ رہ ر.- حضورعاااصلط والسلام نےفرمایا: القرنکةةَالكَِيْكَةءَالکٹر تھی ہنیس نے چکنے یھ ون اس نے جا سک ری ا سکیشل جس نے نو رش رایت ط یقت معرفت اور رحقیقت ولصیرت کے در رکا نا ال۔ نا لاتق زی اش تا ۔صاضبیأ مرن ےکہا جک بیکمال صر فتضور علیراصلے ۃوالسلا مکی ذات کے لیے ہ سی یس بک شیطان ان س بکی ضُ بھی یس بن سکتا جورمت شفقتہ اطف اور ہدایت کے مظہ ہیں یی ےقام اخیاء اولیاء مان ہہکعب سرع ء چان ۔ خیطان ق رکا مظہر ہےء وو (ال ارک وتھالی کے )ا ہتض لکی سفید پاول :صا کک ویر جواللتپارک وتعال کی جانب سےم ون کے لیے اشارے میں جیما کرد یٹ مبارکہ ہے چخواب نوہ ال ‌صیریں۔“ 4 الا ار ج230 4بخ ل22 (مظب)صودتوں کےعلاو ہی (دسری )صورت می نظا ہٹس ہوسکتا۔ جوصورت اسم پگ یک مظہر ہے وہ اض لک مظ کے ہوکتی کہ بے شک ایک صورت اٹ متا دصور تک میں ہو عق تی ےگ اود پانی۔ نیٹ سک نگ پالم تجدیل ہو جاے اورن یپا سے ین ہ ےکدہآگ شی بل جات ےکردوٰوی کے درمیا ار اود ےعدفاصلہ اور یکا ال ےتیک نے کے یی سے ال ارک دتھالی نے فرمپا: ٭ گَليكئضرت اڈ ال والباطل سس7 ترجہ :ایر ایق د با لک لی جا نافرااے- حیطان صورت رکیل بن سکتا سےا بوی تک وٹ یھ یکرستا ےکیوکہ الع دی لکی صفات میں جلا لبھی ہے اود جھا لبھی۔ جس میس سے شیطان صفتب جلا لکیاشل بن کت ے کیوککہ وق کا مظہر ہے اوراس صفمت ر بوبیت ٹیل اس (خیطان )ہا بوراورر اوبی ت کا دڑو ٹل (ول کے )1 بضل ( ا صفات ریہ سے )رت تھا کی صورت ین بو راس ضل کے باعث ہے لی اکساو بی بین ہوا- لن دواسم چا عکیصوری کامظ یس من کنا کیوکیاس (صورت اس مات دای تک ہیں۔اس پر بہت زیادہگفشگوہونکتی ہے اودا کی شر بھی بہت طو لی ہے۔ اللدتجارک وتمالیٰ نےفایا: علئیڈوکاوئی تر جمہ:(اےحبی لی علیہ الہ فربادیجیے )جس اودمی ری اتا حر نے وانلے صاحب لعرت نے کے باعح(ث ہے جیم اکا پا ےخیطا نکا(ان اتتقق (کرتوسٹت-108) لی تال رکا مططلب نف کا ہے۔. یی ہیں جو اتی عفات وخوصیات یں یک دوس ےکی الف اورضد ہوک ہیں او ری ای امم جائ کی صورت سے مرادانما کا لگا ظابریضصورتدے۔ 10ض 2ہ یت وار کال م شدکی طرف اشارہ ہے میتی دہ (مرشدا کال کل )صاحب ارشادہول گے بی خی اکر ملی ال علیہ لہ یلم کے ) بعد مر پیر تکی ط رع انی بعیرت کے عائل ہوں گے۔اس سے راد وا بی کا بلہ ےج۲ کا اڈ کے اس خر مان فَلِا کا یں اشارہ ے۔ صغت قب سے ہے۔ دہ خواب جن میس ضیدانات اور برندو ںککاگوشتکھایا جا بن مطمعیر لی رت ہی ںکیوکہ نت می رس مطمن ہکی روزئی ان انا یش سے ہوتی ہے یی ےبکرکی اور پرندو لکا پھنا ہواگزشت ۔گاۓے خر تآوم علی السلام کے لیے جنت سےآکی تک دہ دنا یی تی پاڑیکمریی۔اسی مرح اوٹف ججنت سےمظا یی اود اشن یک کی ذیوعت کے ےآ یا٠‏ کھوڑا چا واعفرارا کے رن کےآی اود یسب چی یڑ مرشد( می کوئی رادکھا نے وا )انا مد دگار 7۸ وت نی کس 1 تر جمہ: بے ںی ک بر یکو خشت کے تشہد سے گا ۓےکوجنت کے ) فراع سے ء اون فکو(جنت کے ) ٹورے اورکھوڑ ےکو(جنت کے )ر یجان سے پیداکیاگیا_ زس ملمفتہ کی اوٹی ععفت ہے۔ اکر ا خواب میں یھو ا لکیاضی ریو لکخواب د یھ والاعبادت می ست ہوگا اوداس پش (کی خواہشات )کا غلہ ہگ اس کےاعما لکاکوثی یس وا اس کےکردہ( ہچ ول سے )تو بکرےاود(خلیمیت سے ) کیک اع لکمرے پچ اس کے لے زا کےطود بب چھلائی ہے ۔گمدھا آ دم علی السلام اورا نکی اولا دک یلجت کے لیے کے نی دنیائی شعحن تکرمیں ۔دہ چھ (جضتت کے )پپچھروں سے ند اکیا گیا اک دہ اس ےآ )رود کےساتھ بے ریش نو جوان ےخطا بکرے نواس پرافو الہ جی ہوی گے کیک تھام ایل جنت ائی (ام ری اصورت میں ہیں جاک تحضورعلی اصلؤۃ والسلام نےفرمایا: )و نل ند برٹفرڈمکولوى رج :الک جنت بے رش بومزاود گی آگھوں وانے جو گے تحضورعلی لصاو 2 والسلام نے میدارشادفمایا: یٹ رق سی طز رز ِمَاب رد ت جمہ: شی نے اپنے ر ٹکو بے ریش نو جوا نکی صورت مل دیآھا- چس لو کت ہی ںک ا طر کی گی سے م راب تا کاو کےا ریش ابق تر بدبیت ےچگ رانا ہے۔ بر دی روح ہے ینف مھائی کا نام د اگ یکیو ںکہ بیع رپ 2م شود لکل ) کے وجود کے لیے ینہ ہے ارد ہآ یراس کےا رٹ بھانٹ تعالی کے درمیانع وسیلہ ہے ۔جخرت تز جمہ:اگگر ار میرک تر یت نف ماق اپ ر بی ٣مرضت‏ مال دپاتا- جووجداورقوب کے لے تراغ ے ان انمیااوراولیاکی ت بیت ےآ ریا رو ( ]روب ھی ) اد ید ہوتا ہے لی اک۔ اتا لی نے فرمایا ٭ ایی ال من آفرہ ت جم :دداپے منددل ٹل ے”ضل پچاتا ےا ےم دو القافربادتاے_ مرش دی کراپ کے لیے لازم کیو بجی دہ رو (ع رش ہے چوقلو بکوزند وک تی ہے اودو مخت تی تال یکا ا عث ہے یں بھو۔ امام خرزالی رش الشرعندفریاتے ہیں ذکورہ الا تاو یگ لک رو سے یمیس رت تو یکوصورت جمیلرافروہیٹش دیمنا جات ہے آنفراتے ںکہ یع رآ ایک مال ہے جوا ارک دتھالی د ھن وا لن ےکی (بالتی )استدراداورمنا بت سے پیدافر اتا ےلان دوذا کی یقت ہرک نی نکیوکہاللرتبارک ونقال کی ذات صورت سے مڑہ ہے۔اسی طط رح می کر ”لی ینعی لہ لوا قاس پر دنا چا ےکیوک تضو علیہ اصلز والسلا ملف صورتقول بی ومن دب وا ل ےکی قاببی تک مناسبت سے چائز ہےاو روگ بھی تقیقت مر یکس مکنا سداے وو چم بل ء حا :ارت اورٹما زگ اک أھ0+01]) انی دوفوں عالتوںکا کال وارٹ ۶- ابی طرع شر مسلم می س جک اللتبارک وتھا کو ذرکددہ الا تاوی کا رو سے شر وفورالیٰ صورت میں و یکنا ات ہے اودا لگ کو برصفت کے مات ا کا پیا سکیا جا سکنا شی تی موی علیہ السلام ب ناب کے درخت ےآ کی صورت جس ہہوئی او رکا مکی صفت سے الد نچتاجڈ ودی۔15۹) ارک وتھالی نے(درشت میں سے )فرمایا: ٭ے ََازا یاممولی (روا۔17) پے کے تھی کیاے؟ دوگ و رتھانگرا سے موی علیہ السلام کےکمان اورطلب کے مطا نگ سے موسو مکیامگ یا کیوکلہ ترجمہ: ےگ وی 220 78 د ال وق تآ کی جلا ٹیل تھے۔انساان الس درخت کے متقا بی ھرجبیس ہرک میں اور امش بدل جات پیا فات میس ےکوئیصفت انسا نکینییقت می پگ فرباد ا ہے یی ےکر اولاکرام ۳ت اف ائی۔ ص2 1 ۶ انہب یم ہے )اورتخرت جنید بفداد نے فر مایا نبہرے یس التالی کے دای بیگوئی تر تکا بات ہے ۔تنی کے بعد جب صفات جوامیعفاتا تو اتارک وتھا سوا یں ائن جیے اور بہت سے اقوال ہیں اس مقام بی اب تموف کے لیے ہجیب اطائف ہیں ج نکی شرع بہت طول ہے۔ لی تر یت کے لیے مناسب ت کا خیال دنا فہابیت ضرودی ےک ہمد یکوابقداۓ عالل ہی اڈ تواٹی سےکوی ہد ت یل اد نہئیا اس کے او جیا کی مکی اشعلی ا > م کے درمیا نکوکی مناسبت ہے۔ضرورت اس با کا کہ پل وی ا کات جی تکمر ےکیوکنہ بش رج کی دہ سے دوفو کے درمیان مناسبت یکر پلی اعلیہۃآل 5ل اپنی زندگی می (سحا کر شک ت ءیتف بات رے) تھے۔ جب می اکر لی العلیہ یس (یشری لالط سے )مو جود کسی ددسر ےکا لن یک )شرورت نان نآپ صلی ا علیہ ول الم کے1خرت بی ںپفل ہونے کے دوہ( ظا ری منا سرت اوران نع کیا او پیمکی ال علیہ ول یلم نے (د ناوت ککر کے ) تر دایرف مایا امیر اولیاکرام جب آخرت نعل جوڑ لیے ہیں تو ان میں ےکوئی بھ یکس یکونقصودبیک پہیانے کے یلقن د ارشاؤیی سکرتا۔اگرٹ اب ہم مس سے ہے بج جا۔ اگ ری تر بات فو داش سے وڈہم حاصل کرجشلماقی مامت پرنااب ‏ وکیونکنج فو رامیت ےحال ہوناے کلت ے.ج بک مقام برلورآجاتا مل وہ مقام 1 ہوجا تا ہے لی مدکی میں اس کے لیے مناسبت وی 8 نمی رتتی“ جووٹی (دنایش )حیات ہوتا ےق اس مد یکووکی کے ساتھھ (یشری ) مناسبت ہو ی مین وی کے وصالل کے بحدم ند اوروی می کوٹ منا سب تی رہتی - ہ کوک وداشکا لک رو ےأ (و ]کو ای علق اود دومئی تی یی کی جبت حاصل ہوتی ہے۔جس دو یکونھا ہی حیات میس نی اکر صلی اللہ علیہ وآلہ لم سےعبود یت شبو تک ولایت سے مددعاصل ہوئی سے وواس (ولبیت) ۓخلوقی میں تصر فک رسکتا ہے ہیں چا ن لوہ اس عقام سےآگے بہ تگبراراز ہے جن کا اور اک اس کے ابل بیکرت ہیں۔۔ الد ارک و تھالی نےفرایا: مج شوہ وَلِلَهَوميِی (سرہلنانترن۔ج) تر جمہ:اورلزت اللہ اس کے رسول او موجن کے لی ےکی ے۔ اروا عکی تر یت کے لے رد جسا ی کات یت شی کےادرہوئی ہےاوردروب روا یکا جنگ قلب یس :دو سلطان یی جک فوادیش اورردر کی بک نی ہوٹی ہے جوک راس کے اوزتی کےدرمیان واسطراوریق تعا کی جاخب لوق کے لے جمان ےکیوکہائل ای اس ےھ ہیں۔ چوقواب اغلاقی ذ می کے باعحث وکھائی دی ہیں دوامار ہما وامہاورمابمہکی صفات کے پاٹ ہیں۔ یں درندرے یسے چیا :شی یٹ یا ریچ ہکا ورشمہ پان جیے دوسرے جانور خلا خ رگوش٠‏ ٹیہ بی :تینروایا جیے سانب ءپچھواو رٹ ادوس رےموذ گی جا نود( خواب میں )دای دی القاس)(ر×مرت۔4۸0) جمہ: بے ئک دہ چو( کی )آیات جننلاتے ہیں اوداس پگ رکرتے ہیں ان کے لی ےمان لے ایک تےکادوسریی لق بیداک رن ع ایک ےکا دس ری تین مکرنا کےدرواز می نکھونے چا میں کے اور نی دو نت یی داشل ہوں کے یہام ککراو ٹکو وئی یس ےگ اراجائے ۔ لی (جولوکوں کےا ےب رکرتاہے )ا کو می یدن یاجا ےگا (خوب میں )شر لوق یقت اور ہڈا یکینعفت سے اوررچھ کور دکنا)ضے اوغنضب کی صفت ہے (ان پر)جوااس کے زی وست ہیں ۔ پنیٹریا (دینا) با تام اورمشتہ چو ںکو کھان ےکی عضت ہے اورک( یکنا) دتیا کی عحبیت اورا کی ا خی و غص می ش7 ن ےکی عفت یکنا )کیب حد تی اوشبو کی صفت ہے اوخ رگ (رنا) معا لات دنا بل حر 0 خیش مکی رح ایا فا تکی عفت خ کنل زالب ہے۔ نوا کوراا َال 290 (دا گل اورنقاقک مخت اپ( دمنا) زبانع سے اب ارسانی جی ےگا یگوہ بہت اورجو کی صفت ہے ۔اس جیسے درندو ںکو(خواب میں ) دب ےک یق یت رکا ادراک اس کے ای می یرت ےکر سکت ہیں ۔ کچھ و( چکنا )تی :حلعنہزلی ول خو ری یکی عخت ہے ۔بجھر (دینانفی بای سے (لوگوںک) اذا چان ےکیصفت ہے اورسانپ (وینا) لوکوں کے ساد عدادت پل ہے۔ جب سا لک دی ےکردوالناموذیات سے جن ککرد پاہے اور یی دک کرد ان پر لیٹس پار پان عحپادت اود فک (ک یکثڑت )کے ساتھ جددچجدکرے ہا یک ککان موذیات پلیہ پا نے اور ان خیب ناک ہوکر ایل ف اکر دے یاانع (مفات شوایت )کوصفاتت اش ریت مل پدل دے ینان پیل خلہباودا نکیممل جای اگوی برائو کات کک نا ہے جلی کاو ارک وتھالی نے تن مر فرایا: ٭ تر تلم میتابۂ وَأَضلَعَلیۂ سے ت جمہ:الل تھی نے ا نکی بداو کشخ مکردیااورا نکی اصلا ‏ فرمادی- از ییااورنارواسلوک سے ای ٹیا دندوں لصو رتس )انساٹی صورت مس بد لئ یق ا کا مطلب ہ کہ برائاں تیوں می تب کرد یئ ہیں جی اکہالڈتارک وتھالی نے این کت مم فمایا: چان م٭ذیات سے اک ہوگیا اسے چا کہ اس کے بحدبھی ان کے شر سے بے توف تہ ہو جا ےکیٹ سکوابھ یچھ یگناہوں سے ای قوت حاصل ہیکت ہے جوق یت پاکرڑف شس مطمعند پھ ذال بآعکتی ہے۔اس لاٹ تھا لی نگم دیاک: ٠‏ جقتابکرے جس بی سبآفات ہین امارہ کفارکی صورت رین اوامہ بہودکیضصورت برڈٹ ٣بر‏ نسا گی ضصورت ملعا یا ےاور بھی انوھ او زی صسورتقوں میں ال وف کے بیان مل دیس جس تس تسہ نے وال ےلوگ ار امام کے ہیں ۔ کشم کلک کی ہیں ۔ بیو ولک ہیں جن کےا ماقوال اوراقوا لش ریجت اورطل یق تکی مواققت مس ہوتے ہیں ۔و داب سنت دائراعت ہیں جن میں سے“ ای صاب اورغذاب کے نت یں دائل ہو گےءان مں ےنس سےآسان سا حساب اور ا تھوڈا سا عخراب ہوگا اور وپ نم ےکن لکر نت می دال ہوں گے و وککافروں اورمنا فو کی طرح ہمیش ہآ گ می لن رہیں گے (الش نت واماعت کے علاوہ باقی سب پڑت ہیں جن می شلولی. حالی. اولیا گی مراني:عےء و ري ابا میاسل: متالہہ دافتب اورالہامبیشائل ہیں- پل خلولیہ(ذہب) کےلوک وو ہیں ج کے ہی ںک۔خواصورتعورت اود امرد(بے رلیش اھر لڑ کے کے بد نکی رف د ینا علال ہے۔ بالگ ق لکرتے ہیں اود دو کر تے ہیں اک(ان کے نہب میں ) بوسہلونا او لکنا از ہے ۔ یکقیہ مرا رکف ہے۔ پل حالیہ(ذبب )لوگ دو میں جوکتے ہی ںک رٹ اورتالیاں جھانا عطال ہے اد رسکجے ہیں کہم رش کے لیے ایک عال ایا بھی ہ ےک اس کے لیے شر یا کل ان برقت اود سزتیرسول ی۱ ان علی وآ بم کے لاف دے۔ پل اولیائیہ (ذبب) کے لو کککتے ہی کہ جب بندہ ولایت کے مقام ین جا ہے تاس ےہطالیفی شر ساق ہو جاتی ہیں اوروہ کیچ ہی ںکہ ول نی سے ال ہوتا ےکی نیکم جرح کے واسطے ہوتا ہے اورو بی الم خی واسطہ کے ۔ بیتاد یل ال نکی خھاہے اوراس اخنقاد کے باعحث دہ ہلاک وگ ۔یکتقیدوگکفرے_ پل شراعی( جب ) کے لوگ مہ کے ہی ںک یعحیت فر ہے ٹس کے باعث ادام روٹو ای ساقا ہو جا ہیں.۔( الک )وف دواد دو ے؟ لا وا ل ھت ہیں اونگورقل ےی تس فان ا نزو س بت ۔ انگ کا ہیں اوران کاخون جا ون کل حفیہ (نب) کے لوگ کے مہی کہ جب ند حبت کے درجہ پت مالی شر ساط ہو جال ہیں اور یلیگ اپنی شرمگا ہو کس ڈحا تا پل حودیہ(ذجب )کے لک یدک مان ہیںلیکن ہووت یکرت می ںکہ جب الن پرعال داردہیتا ےن بیورے ہما کرت اجب ہش س1ت ینس لکرتے ہیں۔ یلگ تھوٹ بو لے ہیں اور متقیدرہ کے باعحتث لات شی ہیں۔ پچ اباحی(ذیب کے لوگ دہ ہیں جوام بامعروف و حلال اورگودت لکو(اپے لیے )رط رح سے از ھت بر پچ موک سلہ(دب )کے لو گکسب کون گکرتے اود پردزوا لن چاکرسوا لکرۓے ہیں نا ہی لود پر ینرک دنا دو کرۓے اسی دٹوگی کے باعث یلوگ ء۶ بلا٥ت‏ کےکڑ ھے ٹیس ہیں- ہونے سے مراد یہ ےکیٹرئی اظا ما کنل واجب پاش رودئیفنیں نی ۔ اس فایڈجی مل نک یر ری امو رکواخو یں اور سے م2 ئھی یں ج تی ںکیکوئی پیٹ اس فرقہ کے لوگو ں۷ ہاں انی ای خاصی وج ےش ینف و کن ےکاعلم جار کیا جاۓے مشقت سے روز یکھا نات ککرد نے ہیں اوردوسرول سے مان ککمراوروست موا درا کر کےاصسولوں کےخلاف ے۔ ہے۔ کے برلوگکنتد کرتے ہیں۔ سا ا کپ متابلہ (ندجب کے لوک ) دو ہیں جو فاستوں والا لاس نے ہیں ۔ الہ ارک دتالی نے ر113-277) تر جمہ: ظا لو ںکی عطرفلیل جول نرکھوو ہیں جو ےکی تضورعل اصلؤ ٭ والسلام نے فرمایا: تزجہ: جس نے یتو مکی مشابہت اخقیارکی دوا نمی یل سے ہے۔ پل وانتیہ(ذہب ۷ والے و ولوگ ہیں جو کت ہی ںک خی راللہہ ال کی مخت حاض۹ لن سکرکتا اسی لیے انہوں نم رف تکیاطلب تر ککردی اوراسی چہال تک نار دہ بلاک ہو پل الہامیہ(نجب کے لوگ ) دہہیں مور ککرتے یں او دنر ریش سے کرت ہیں۔ تما کی متاہص کرت میں اور کیٹ رآ ناب ہے اوداشعارطر یق ت کات ران ہیں ۔ائی عقیرے کے باعحث وق رآ ن تر کک تے ہیں اوراپی او لا یی (بی )سکھاتے ہیں ۔النالوگوں نے ودد(وطائف )تر ککیااورائس کے با حث پلاک ہوگگئ- فقہ اشن میں ابلی سنت داٹھاععت کے می ںکیحا ہکرام رسوان ایہم ا نین نی پاک سی لد علیہ الہ وی مکی عحبت کے باعحث االی جذ ہہ (ال عمت)تھ اور وہ جز بے بعد می نقشرہوکر لر یقت کے مان تک پچ وک سال مٹیم ہو گئے۔ یہ ں کک لکل کرد ہوک ش ہو گن اور باقی کی ور یہ نے عنی مشا کی وزت ین دوگ شی ال بزینت کےگ رذ پیرا ہو گنئے جن میں ےن نے خووکوقلندر ہین نے حیدرہی ہلان نے اعم سلسلے اور تن نے ویگرسلسلوں سےمفسو بک رلیا جن نکی شرع عم ہے۔ ای فقرادرصاحب ارشادال زہانے یگیل ےچ یکم ہیں ۔شاہر یفاکان کے نا تماق سے اورصا حصببارشاووان کے اشن سے جات میں ۔ ال یرش ربیعت اودامروٹی محلم ہوتے ہیں جوی سے پپشیدہ الا ار ج134 0خ ر23 شی ابل پاش نکوسلو کا مشاہ بیرت سے ال ہوا ےک دوتفتبی (اام) لین یکم صلی ال علیہ دآل ہیل مکود یھت ہیں۔ ان کا سوک (ان کےا ورپ اک می الیل علیہ دہ ےمم اور تال کےدرمیان داسط ئن چاتا ہے جک یکر صلی ال علی ےلم میادہعاخیت ے+چاے دہ روعائیناگل کے اختبار سے جسمالی ہو باروعا نیک شیطان تضوراکرسزسلی الل علیہ دہ مکی تعور رق شک نیش من ککتا۔اس یں مر یبن کے لے ایک ا شاو ہ ےکر دو داوسلوک پان ھے نکر یں اود (اشارات) ان (من دبا میں خی رکرنے کے لے دش عطامات ہیں نکا اور اک انغ کے ائگل کے سو کو کی سک رتا چیٹصونگل 4 سال ککوچا نےلٹڈ ین اورصاحب لصیرت وی اکرش عر نے اق لو :ا٥ا‏ َِلَُوا ١‏ صاخ الخالِ جمہ: الد کے ابی ذ مین بندے ہیں جہنبوں نے دا کی مکالیف سے خوفدہ ہوک دمیاکوطلا تی دےدی۔اکرد اک ےکا موں میش اقر ت ےبھی میق تیک اخمالی کے سی یش سوارہوگر۔ ( مال ککو چا ےکہ)اپت(دخد )ا مور کےانجام نر کے؛اس دنیاکےزوال پذ رہونے پنگر ف کے ہی ںکاحعالکی رف راہیں اس ماحو لکو بنانے وا ل ےکی جانب سے ہو فی ہیں ۔اولدتھا لی نے ارشادفرایا: مَکرالٰوالً الْكوۂ لَایزوق روم کھرے اوھ ہرک احوا کی عطادت کے فریب میں نآ ئۓے_ ترجمہ: ا ےھ( صلی ال علیہ ہآلہ نلم گنا ہگارو لوت و یذ ےا ےکی فقو ہوں اورصر ٹن کوڈراٹیۓےک میں یور ہوک بے ئک او گرا مک کرامات ‏ ہیں اوران کے احا لپن ہیں کر داحتد راع سے ہگ ماسو نہیں سوائۓ کے ہی ںکھاضجامک حضرت بین بربی رشمی ال عددفر ام کے ہزات کے روہ بییشہ ان (ک واستدراع )سے ماصوان ؤں۔ ا کا خوف انا مک خرالی سےضجاتکاباعث ے۔ عکی اتوف ت جمہ: بے شیک اولیا ال خوف کے با عو یلان کک رسائی حاص لکر لے ہیں۔ بی خوف رجاپھ طال ب؟چاتا ےا نہیں اض ہوک ہانسان پشر یت کے باعث دھوکاکھا جاے ادرالکی وج ے کر ٹیٹھ ہس کا ےشعورٹک نہ ہو ۔ کے ہیں جج بکک انسان تندرست ہوخو کو امیدپرخال بکرےاور جب یجار ہا أمیدکخوف پرخااب رکے_ عالمت نز رجاخال بآ مال ج- حضورعلیاصلو 7 والسلام نے فرمایا: بتک نممر ےگا ج بتک ودالڈدتھالی کے سا تح غیرسوصض اگرولنے۔ الدتعاٹی نےفرمیا: چ تخت وَيعَت کُلمَیي ق جمہ: ری ریت پر سے وع ہے۔ تھ جم بے ئک ووسب حم تفر مانے والوں سے بڈارقت تر مائے والاے۔ ما لک پہ واجب ہ ےک وہ اللھ کے تر سے اس کے اط فک طرف بھ جائۓ ء راس سےکھیا ء پز داکسمارگی اورعش ولا اور عد ومعرورگی سے اس کے در پےگناہو ںکا اعترا فکرےاودااس کےٹی پل ملف اوردہمت سے ری تع رکرو ہکا ہف نکومحا ف خر دے۔ بے لک دہ اصان فرمانے والارمء بن ما گے عطاکر نے وک ریم مم دشا ونیم انی ولیہ و حخب اوت وَالكتتْ لوب العَالَیع امژں او سر ج3 2-138 مرا می ان تا وزینز سخطصرر ررتی) ڑود 2002 ا7و سر 00140 مرا جا ا ال ہے یئن ارت نت وت کو هو 6ے ساا ہے کت الع 0ھ لس وت اہ تھا ھت ٹس الففگر تا قال عَليه الشٌلوهوَاكشَلم تفَکرالشَاغة تن 2 کر نے ظا تھے عریا١‏ ستۓ سس 56 ج2 14 2 وےعر اض 22وہ لی عَلَیوالکآھ اقاللله 0ھ لس وت تاغاب تھا ھت ٹس تع قالکئش 0ھ لس وت تاب تھا ھت فی کا قال اللهُنَعَال: ینوی الولا کن کت تھ ھت مت رم دب تاس ما 220 نے ھسھتت گماقالالۂ ۴مم ہے ۔ے 2900 یع ٭ وا اکٹ تق كَلي لق الكیوت زالازشی۔ 2 لت علضاہ تھا سن ااتفیزالاقاؤِ مٌفبيَان روَْةِالل تال اللهةَحَيْ وو کے بس طاست عریشن شتے ھ س تھ ھت وو ات تن نا ا مر نت وَعَلا: َو از تلاح ئل ت اتل لال تا او سر ج3 59 2061 مرا می ا تا الله کھال پیتایں؛ هو الله تقال ئی جووہ ک2 ج0 60 931 عر اض 22وہ لفرفالڈزاکالکٹر -جھظ اَل اج یوار وو پل ج0 7 2او عررتض اس وَلافعوهِقهُو كاط رلةتعال کم ا ِِقَة اللئعال همَاقَال عَلَيو عیۓ کے ات مرا جوا لو کعال گا )2مم 0 ۸ وو نر ج3 2:159 مرا می ا تا الله ھا ت الاغزاوِ س تھا ھت وق 0ھ لس یت لاہ تھا ھت او انل نیف 02 ہے ظا تو عریاشن ات 0ھ لس رت اہ تھا سن تٹ گیل الربو یو دغواكم ن !نم الَبسٍلِ ققظ گمَا مز ُ٘ف ابولما یوین ال 0ھ لسوت لاہ تھاھست ت تو كغید الیرك طلل لیے سے 15 تھ ھت انتا مہنتت آ وتَفولر یلقع عائ ا کڑڑ عنۂ ار غوَمَنًا ملاس راد“ یق نرازوں کے را سینا وت اعم جن عبداقادرجیلا نکی کاب ہے جواسرارال یکا وع اورمت ہت تھالی کے اسرار ےلب ری ۰ ا ساب می فقرکی نیقی تل ما تک بیا نکیاگیا ےت وٹ اکم حضرت تن عبدالقادر جیلانی شی ال حنۂ نے ابنی ا فی مبارکہمی کل چوس (204)نحسلی کت یرف مائی ہیں جن یس 1140 سے زائدسوضسوعا تکو ہرد دا ہری و اشن پہلیوں سے بیان فر مایا ہے۔ اندازت راچا یف رر جائع ہے۔ ایک لالب مول یٰکوراپفقر( راومترفت دوصال ای یس پٹ نے والے ہرمقام اور گرا وکرنے والی کل اوراس کے لکوا کناب یس بیالن اف ایاگ یاے- و ولا ہ ود پاش لکوڈ54790. 66 322 92+ :اا6 92-42-45436600+ :۱م یں ةػ۵ك۳۳۳۷۵/ 0 8 ۱۷۸۷ ت۷1٤٥۲۰-01-8511168.11‎ ۷۸۷۷۱180-531 711 7 5٥0۹ا83‏ ]۲۱ج2ا -جھاای۷٣ص‏ ۰ ۵۰٥۶(۶ ۵۵۷۵3۱۷۵16184۴61‏ اہ ×ودژادہماادء ناندع عڑالارار نتعق۶۵۶) ” ناوت الائظم ححرت تا عبدالقادر جیلال: