← Volver a la ficha del texto0 ا ا
اف
مس
١
ان
راہ
دانع کو شا ر۲
س 2 1
محضرتبخ عبدالقاورجیاا لد
مگ با
7 ۰ ك٠۰ْ
مل رہ ہك ٥مم رر
0 لے اردوپازارلاہور
بای ادارہ
نز ین 2005 1یو
ا تھا یآ پ پراپنی دکسیں :ازل اۓ۔آ من
نین نے و نر
لا ہورےے شال کی
ندازپرننگ نی ۔لا ہور
۸۷۶ 1 :5۹۱0۸1 ۸۷۰۷07007
042-69 0۸۶۰ا52.] 3۲د ۲۵نا 40/۸
77 1217001501ء ۱۷۱۷۱۷
صن .9۱17+65017٤ہ) 1ز
نزل*٭
نزل٭
رں٭
خزں٭
غزل
نزل٭
ززل٭
خزل٭
خزل٭
نزل+
نزل٭
خزل٭
نزل٭
نزل٭
خزلہ
خزل٭
نزل٭
ورای نس
ٹیا
تزارف :جن عبرالقادر جیلا یب
رری۔الف
بے تھا بانددراز درکاشاشہ ما :
اےشیل شور ید دبوا تل باا؟
ان رئش تو زاںجزشتکاردل م۱
گرنودرےآ٦رزوۓے گل جانال جال مرا
ادن ساوت ند
رریگف:۔پا
من نپچو ںآ زراز بروں بت گ۱7 ٹم روز وشب
بند٢گر بتک خ رو دشراب
از جھال ا بزالی برندار یگ رقاب
رریؤ تا
گرا شماۓ جمال فن مباشددرکہشت
کی صدروشخصتنظرراعہ بنرہ ماست
نات ظارویت نےآب ان وت
یل من ہ گرا از چا ا ارت
مگ ہکردی بکوکردیم اے دوست
پیر وگ خشیطان بر دریک بارہکندج بے روصت
آ و دردآاودہش یآ جان چانہارا وشت
نے ای مرا ست ہرگر بنگ نیست
پا دل ورک ۓ عشقت جا بزانو درگلہتی
غزل٭
خزل٭
خزل٭
غزل٭
خزل٭
نزل٭
خزل٭
غزل٭
ززل٭
غزل٭
غزل٭
خزلں٭
فزل٭
غزل٭
خزل٭
27
خزں٭
زل٭
ہ:
خزلں٭
27
فزلںھ
گا
گنت کی ,الم کئیں امت
مخ رک عاقت جاۓ آ ضد جڑت ست
ےسا طلب جانا نکردرد ےت لگرال خوارست
پرچازگین دنے برجان ما آیدخل ست
آ کش امگنرددنق جانا ن مضت
ردی۔دال
ار بآں ساح تکشکق از یاردیاد
جاابد ارب زت ٠ن لطف بادارم امیر
زس رتا پات نم نگر ہمہانددہ وم باشر
تالی الچ صفت ای ںکہ ول رت براندازد
سس ےکو بارخوددارد پا بر ولہرے بد
م نگ یگوی مک جوددوزگا رگارم ٹ یکشد
روز نے جمز ٹم تی ورس را تن مباد
اگل ازنا ہگج ہمہ یاد یا مکی دہ
ھی داغ مک راوتا کے پنےا زارٹواپرٹر
اچم وگوئی خاک ال برہاد بایوکرد
د نا شمادکن شا دکہروز ے شادیا ںگردو
فو ید مکی رسد ہرد مک ای سار لآبد
وقت تی بلبلا ںآم
ردل۔ر
اےتصررسمالت از مممور
ود جملکا تا تگوینر
گرنفواہی بوداندر نت پل یار
دوس ٹ اگوی کیا خاش اکر دارگی چو
خزل٭
زل٭
خرن
نزل٭
ززل٭
نزل٭
زل٭
فزلں٭
نزل٭
نزل٭
نزل٭
خزل*
2
نزں٭
نزل٭
نزلں٭
خزل٭
۵
یبای دورد پماشدیار غار
بل تام کو تآں 2٤ صوز
اےڑکر2ادردل ہرم از بنا
ا ےکہئی ٹک زدوراں ور یا گر
ہرک درییل فو برناک مالدرضار
رریف۔-ڑ
شب ہمہ شب باف یگویم راز
نمیو بنرۂ اززحعت نامگ
ردیف ۔ں
قویز تل را زکارڈار مال
ردیف۔ل
در چا امروز ہے پروامبائل
دادمراچا نل پادہ داداز چان گل
گرمرا چان در رن تد بد نگو ہم مال
ررف۔ںق
از نما ںآوارو ام ازدست ہش ازرستضق
اوت کات
اے نہارخا کلومت مم نیک
کت
میم بارست اندرنگ نات ۓےگو رگ
نامددارم سیر تر ازشب تار یگ رنگ
رریف۔ل
تیراو پوسندی خواہ مک ہآ یدرس ۓ دل
کے بود یمک عمائی جتمال ہاکمال
"۹
٢۲ئ
۲۳
2
۲٢۱
۲۲۸
۲۳
۲۳۴
اگ
۲۳
خزل٭
ززل٭
خزلں٭
ززل٭
غزل*
خزل٭
خزل٭
زلں٭
زل٭
نزل٭
نزل٭
نزل٭
نزل٭
نزل٭
ززلں٭
زرل
یل
زرل
ززل ٭
لک
2
رریف-۔عم
لام عمش رسول وسعادائم
اشک سرع درو زرد نگواہ است ا ےک رح
چوں قائی ع رگ کرد ات ہ کریم
بے تماشاۓ جمالت روضہراہ مو نم
گردل ددی بمادہ عاش یک انم
انت از برا ۓکاردنگ ری روم
پازشملفگکروتا بلک مدرم
زاںل بے وفاۓ سنک دل چجورو چا ماہایمم
خ لآ ں نمو اکن خودرابہ پل ۓ نمی دیدم
ہرگ ماد کہ ہش تآرزونم
دنم از یں خواہ مک در رضاراوڈم
بقو اب مرک وا ہم شدین اے بت ہام -
یراز سا یا درکو یت سج ےج نکی یا م
۱ ردیف۔ن
نچ ای گنگار مکی شر آل نواں دارن
اےکانے بر شرسفال ددیدۃگریان مال
مجالے کے بود بات حر یٹ خویشت نکفن
م نک سخ زندہ دوراز ور ہاۓ خویشتن
ردیٹ۔و
گرت ا دای بیداری ٹہ اگو؟
ندارمگر چآں دید کشم در جال 2
اض شا یو اہم خاک پاۓ یارگو؟
۲۲
۲۸
۳۰۵
اا۳
۳۰۵
۳۹
۳۲
۳۲۰۸
ۃ٣۳
۳۳۵
۳۳
۳٣
مک۳۴۴
۳۲۴۰
۵
۳۸۰
ٹیس
لن
٣۳
۳۴۸
نزل٭
نزل٭
خزلں٭
خزلں٭
خزلہ
غزل٭
ے
ردیگکی۔ء
می کم رسوانے شپردخاشکی داوان
ردیف۔ی
گوگی ایں و یعھی نصکشد جورو فا جا کے؟
۱ بی دل پٛدردہا ای سنا نے ذا یت
بے وفا بارے چییس جا کے فا کا کیاکی
ائ یکم ریرش ود بردار ور ےکا گے
بروںشمسوا ر٣ نتحلل پیٹ ازی جا کے؟
نظ
۲۸
۵
۸۸
اھ
۳۰۰۴
ے۳۲
دنیاۓ اسلام می سمگیارہو میں صدربی میسوی نول کے خخرورح گی عمدی قراردگی جال
ہے اس دور ٹیل اکابرصسو فی نے اسسلا ہیف ن نوف او رتخلیم تو فک مل ضر بواکر
متمردائم ھ مکنا ہی اکھیں۔ اس دور کے ما۳ سج ابوالقا ری حفرت راتا کل -7-
عبدالر انارک اورسلطان ابوسعد ادا دی رہ زیادواہم اورقا یی کر ہیں۔
سی پ ما صوفیانہ دور یں حضرت تن عبرالقادر جال گا (ےے۱۰ء ۔ ۱۱۷۷ء) ورود
ہوا اس انا سےگیا وی ور باہو صدی یسوی ک ےکی در بین ام تکوجضرت
ع اتد دح ھم خصراو رآ یکی صدنوں ے رگن عظام قراردیا جا کا ے۔ ان
پزرکوں میں امام غرزالی کیاکی فرید الین عطار جن کبیراحد رفا گیا خوا ہشن الد بن جس
اورمسودسعد لا ہوری ا اوت پر سک می لکی حثیت رکت ئیں۔ ایا دور مل فرتے
اما عیلیہ کے پر جو اور انا شمم کے داعی نع صباحع نےبھی امران اورمص رک عرونخ
حاصم لکر رکھا تھا۔ دنر نام تہاد رای اورفرقہ وارانہ تدش یی ںبھی ان دور یں سسا تق ساتھ
پل ریتیں۔
اپنی مت کن الا راتصنیف فی ااطالجان' ی ٹا دافا رر جا ےک نز
گرراوفرتے قراردیا ہے۔اس کے علادہ اھوں نے اسلام شی پیرا ہو جانے وا ل نتر فرقوں
اورگروہوں کا شفیل جیا نکیا ہے۔ ان سب گر دو ںکی ناد ئل ے ین دین ٹل ےگردوگیں۔
ان کے بارے یل بقایا گیا ےک می دق یتنترفر تے ہیں اج نکی جناب رسالت ما ب ٹا
نے نجردےدکھی ہے۔ النگردہوں یس پہلاگر دو ال نت کا ہے۔ ائ ںگروو کے اندراورکوئی
فرقہ موجوزنٹیں ہے۔ اىیگردہکو ہی بھی قراد دبا گیا ہے ۔گویا ان سب فرقوں یں غجات
پانے والاف رق صرف ائل سنت ذ بقاعت یت
6
۹
رت شی دا مان کے یلان مل پیا ہوئے یلان بفاد ترما
جی سال رز زتاغ ہے۔آپ کے والد ما جدرسیدابوصاح موک اوروالدہماجدہ ام اشر فا
یں آپ کے ان سیدعبدا تی ایک بر گکال تھے۔ جناب ابوصار وکیا ایگ پارعا
اورصاح بگٹف ہرک شار ہوۓے جے۔آ آ پک پچھ یھی ترمدام سیدہ عائش گی پا پاکپاڑ اور
صا نات .اس طرح حفرت جناب جن عبدالقادر جیلالی وق کا او
ستمارو ںھرۓ٦ و
ە !7
حطرت چ عمبدالنقادر جیلالیٰ کے وال دترم حظرت وٹ الاصضل مکی زندگی کے اوانل
برسوں بی بس انتا لکر گے تے اس لے جلد بی آپ کے انا سید عبدائشدصتی نے اپے
فا ےکی مرپتقی نبال تھی اس دور میں والدہماجدوجئی آپ پر خی قوج دق ردی
یہدہ دو ےہ جب ایان میس وی سلطان من ال بن الو لک شا حکھران تھا۔
امرالی معومت بد ی پر شوہ اورشان وشوکت وا ی تی ای دور یں بفداد کا حاکم اترگ
اھر بدعات کے شد ید خلاف تھا سنت نبو یکورا کر نے ک ےن میں دوب رغلوو سکزششیں
رر پا تھاں
و اد
صطرت تم بلق در جش یک کنیٹ الو یا نے اوال ری بی ق رآ ن می حذ اکرلیا
اور اچے نا نا حتزم سے فار کی چنداہم در یکتب پڑعی۔ اس کے ساتحھ ساتھانھوں نے
دک زا6 علوم می ںکھی زا دی لی اورتعرضرور یکن کا مطال کیا ۔ فصبہ جیلان ایک
چون تق تھا لین ق رآن ممید حف کر نے کے بعر حطرت بی نے ع لی زان ودب می سگھی
غای زی بڑھا لی راس دور یس پفداد ایک بای مرکز تھی اس لے شوقی عم اور ذوتی
گی سےہ ہیں جان ےکا ۶ز مک ریا ھا جو ےق اوڑھی پیا لک سیرالی کے لیے پک
والدہماجدہ نے بھی آنئیں وی جیلان سے بفداد چان ےکی اجازت دے دی یتھی۔ اس کے
ا
ساتساتھ والمدہ ماجدہ نے نشیس راس تگوگی پرقائم رہ ےک نیعم تک یھی
.ٹا
جناب عبدالقادر جیلا نی ۲۸۸ ہجریی جس ایک قالےے کے ساتھ بفداد یچ اس وت '
ا کے شناوروں اور صا کا ایک زندہ مرک تھا ۔یہاں ت گپرالقادر ےپ
خو بعلم حاص لکیا ملا کی محبتوں اور نصا کن مان کات کن سن سے علوم
ای کے اسرا رک جانا۔ جا جانا ےکآ پ ن ےی لملم خقہابوالوفا کی ینیل شی الاب
فی لی اون مھ بن قش واوس سس اھر وی رکاش کی
مارک بن می اھ وی ےی کی اوک اوک لم بن ورۃ الد ہاش اود الوزکریا بن كْٗ
وی التر بی ےلم وادب سیھا۔ اس کے ساقھ ساتیعلم حدبیٹ میں خحخرت عبدالقادر
جیلای نے مو بن اصسن پا ای 'ابوسعیرر بین عبدانک ری اوالغنغشم بین یی ین میمون الفری'
اک راج بن ملف ابو قتفر بن احرین این القادری' ابوا لھا مکی نگ بن بنان انکر او
طالب عبدالقادر بن مہ اوسن عبدالانن ین ات الوالہ کات ہد الہ بن السبارک ااواتص بین
نا ابونھ رج ابو الب“ ابوئسن ال سارک بین الطیو ری اور ابمنصورعبدائیین انقر ار وخیرے
ای ولا
اوسعید ال ہار ک آز ری کا بفداد کے ایل علّہ باب لان میں ایک در تا دی
آپ کے استمادحتز مبھی تے۔ اھوں نے اپے رکالم وف جم مہرالقادر جال ے
ردکر دیا تھا۔آپ نے علامہ ال زکر یا ریز گیا کے مددسہ جامعہ نظامیہ می بھی آ تھھ سال لک
لیم اص٥ لکی۔ اس کے بعد ہچ عبدالقادر جلای نے خو1یھی وخ دشششعت اود دی وت رش
کیا سلسل سنا ل لیا تھا۔
فقہ می حطرت تن ہاور بای دوسرکی درس رکی صدیی بجی کے جرگ ماما
کی ا ۔ ۸۵۵ء) کے مقللد تے۔ اور اپ مواعظ یس اکر ھی کے جوانے دیا
نے تھا
عبداقادر جیلانی نے بنیادی طور پر انا پیندصوفی منصور علاج اور متزلہ کے
1
درمیالی عہد یش زندگی ا رکی ۔متزل ہک سپ رق پرشگدہ خطافت عما بج یکر نی رہ تی۔
مز عق تد وتلیں ا نکومتف لکی رشن میس رجنزائی مس پکنے پرزوردتے تجے۔
مزلہعقاد کے خلاف امام اج بل نعل ایک بہت بڑی ڈھال بے ر سے تھے ۔ جن عبدالقادر
جلا لی بھی اتی قلیمات میں امام اج ب ن بل کے پیردکار اد ری کےمش نکو؟ کے بڑہانے
دالے تھ اس دور پر آشوب می ںسکہ جب قراصمطبوں نے بھی اسلائی ہرکز بیس ایک پطنی
ترک سےنت ای پچلا رک یی عقامات مقد کی سان کییا جانے گا تھ' اپذا ہے
ابی شوشی بھی با طور پر حضرت جن عبداقادد جیلائی کے سا ھی اپوں نے زی اور
قرآی بر کی ررش میں لیت یق کے خلاف ک واز اٹھائگی۔ الھخوں نے شرلعت اور
یقت (ششنی روعاخیت ) کے بایان ایک اص فان پیداکھر نک یکیش لکی۔ اس طرح
سے اموں نے فرما اکنل جذات خود نا کاٹی اورخورخرض ہولی جے اس یی ضروریی ہوتا سے
کیتق لکووگی کے جائع رکھاجاۓے۔
اس انار ۓ حطرت جم عبدالقادر یل نے چوک اجتمادی کا مکیا اور یں انھوں
نے د بین نکوائیک جحذظ اورقو تچنٹی اور ال افکار و خیالا کیپ کئی کی اس لے ھی ںی
الد ین کا لق ب گج دیاگیا_
صخرت تن عبدالقادر جیلا ٹ کوحقرت علامہ این تمسق لی نے فو اشقلین قرار
دی ۔آپ بہت بڑ ےہ زاہد اود عابد تھے ۔آپ کے دست تی پہ لاتعدادلوگوں نے لوہ
کاب تھے ہے مت ا ان و و جج یا را
ان سا رش ات اور وو وت او و کا رن :
آپ اپے دنہ خالیہ میں ہر وتنگل یل مکی دوات لات ر ہے۔ اپن مالس میں
آپ اک ٹر ن یمک دید کے ۔ ایا جانا ہےک ہآ پکا ماس ٹس عاظ ری نکیا
تقدادست رای برارٹک ہواکر نی تی خاش دعامآپ سے فو د برکات حاص٦ لکرنے ھے۔
آ پ “تاب الدکوات تھے ۔اس لپ سب لوکوں کے بارے میں دعا فر میمرت تھے۔
7
خضرت فو ااکنم!محبوب انی قطب ر بانی اوروٹ اشن کے القابات سےگگیا.
مھور ہیں آ پکوامام الاولیا مکا تقا مچگی دیا جات ہے۔آپ کے مواعظا صنہ نے لوگوں مل
ایک نی روب پچ وک دی پ ات طر ےآ پ نے اہیائے دن کے یےکراں نات
ےکھی نل در اکونوازا ہے ۔ ان تصائیف می تع الغیباخعۃ اطان اور 002 آپگا
عر لی تصانف ہیں ان مم سے مع الغی بک فاری تر جم شاوعبدالئن دہلدکی نےکیا۔ جم
یہ انی نک فا ری تر جم مولا ا عبداکگیم سککوٹی ن ےکیا۔ پھر ال بای کا ھی فاری تر جمہ
ہوا۔
حضرت وت ااؾنم سے فارکی ز بان کا ایک دیدان و ٹ الانشعم ( می لین ) کی
موب ہے۔ بہفاریککا مکادوان ردایف دار۸ خزلیات مشتلِ ہے۔اس دلوان کے چند
ایک ارد تر ایم ہو ے ہیں۔ ذی کی کا ب بھی اس دبوا نکی شر کا ایک ادی یکوشل
ے۔
لگا
شی عبدالقادر جیل فی گی الین اپنے دور یں انی ھی اد لی حثیت می بھی بے دی
اورتر تھے آپ کےالن ا وصاف دمحاسن کے1 پ کے ہم عص رش را اوردانٹوربھی متترف تے
بھی وع ےکہ جنا ب گی لین پچ گل می س بھی زوا ہی نین اور صاحب الب پا نین کے
اللقاب بھی مشہور تے۔
گی لد بن ش عبدالقادر یلا فی ذادی طود گی ال تاس لے ای مھاعلم و
ادب اورلماجیات پگ دی ری مار وین ماصل تی پ علوم صرف نو اور
پورے فاری ادبیات پ بھی عبور رک تھے ۔ خاری شاعربی اور امو غرز لکی خزاکتوں اور
را ت کے نے فاری غمز لکی جو نان اورمتاز رش تی اس اد دھار ےکی جھ
اس سک گی الد بن شماعرانہاورتحسوفاتطور برا کے اجنزاۓ تر یکو کے تھے۔ فاری غزل
می جومفسا می نکی رگا گی اور خیال آ فرش عبداقادر یل لی ( گی لن )نے اسے
خوب خو جو ظا رکھا۔ با انموں ن بھی اکٹ رصوفیا کی طرع اپنے خیالات د افکار کے انظہار
ً۳
کے لیے شماعر یکوچھی ایک ذد مج ابلاغ بنایا۔ طرت بی ک ےق قصائ ایک باضابطتصیرہ
و شیہاود ایک دیوا نگھ ی1 پچ ےن وپ سی
ٹا
دوان ٹوٹ نشم مروف پرد وا نگی الد بین بای ور پآ پ کے مواعظا حسنہ دی
کا منظلوم جموصہ بے اس دیوان میس شائل تما غزلیا تگویا ایک رح سے نفدیت الطالان ہی
کے لی مضای۴ نکی وضاح تکری ہیں ۔ اس طرح سے حر گی لن غوث ان مکی
شا ری مرا نوف اور وعدی کی شر پل با ن کا کاماو رش بو نے ا پا
پر سز اود شی یں ہیں انس فاری شماع کی جس پور فاری شاعرکی کی دوایتی ڈانایاں اور
رعنا ئا ںبھی ھا طور پرموجود ہیں ۔نضر گی ال ی نکا کلام اور پیم ای علادت اور ان ہت
دوجو لکوٹگیا پرکیف اورشی یی بنادیتا ے۔
اپٹی شاع رک اورامیات کے بارے می خودضحضرتحوٹ ا لحم نے ول فر مایا ےک :
نا خامت گی غاد خاند ایں ابیات را
غلق عالم ہم پہ پائے مک نا روند مم پاھدار َ
یی مبہرے ان اشعارکوت تیم تہخلقی دا ھی ہیرے ہی طر اھت رہ ےگا۔ یش
نے اپنے اشعار جس جوتی کی راہیں حلقی عال مکوسوجھائی ہیں لوک ان راہوں پر ا1 سای تل
یں ے۔
اك
انی شا عرکی کے بارے یں جحفرت فوٹ الا می لد بن یو ںی فرماتے می کہ یہ
شاعرانہ افکار و خیالات ہوا شور و ادراک الہا ہی ہیں ان یس دجدائی کیفیات اور الہائی
افش ہیں۔ اے لوگوا یہ چان لوک ہاگ می ری یراع الہائ ینیل ہن جھگض قافیہ پلاّی اور
تن طرا زی کا ہرک کوئی شوق نہیں ہے۔
فحفرت چ گی لد بن وث الپنعم کے شاعرانہاڈکار و خیالات دواصل مقر رآ یات
رآ لی کیا شرع ہیں' اوران کے علاوہ تل اشعار می صلرائوں کے عام عقائ دکوبھی اپے
ال
مائسس و لنشین انداز بی شاعرانہ چیراۓے میس با نکیا گیا ہے۔ حضرت با نے اپ الن
انیم کے اکا یش اپن یر پورقرآ لی بیرت اور اعاد یٹ ند یکویی میا ہے۔
۱ ا دبا نکی شا ری بھی رت وٹ الع مکی در تصانی فک طر اپ رو سے
اعتپار سے ایک طرح کینلیفی اور شئی خدما ت بھی انام دب ہے ۔آ پک شا عرک شش
بنیرے اور الشر کے ررش کو بوال مق ابی بھی بی دضاحت کے ساتھ جیا نکیا ہے۔ ال
شا عریی میس بیکھی تایاگیا ےکہ اتارک وتھالی ہرجوالے سے اپتی تقو کے داسک کو پر
نون کے لیے بپھیلا نے ہو نے ے۔آ پکی شاعرکی اور افگار عالیہ شش ایک بڑا تی دا
رجائی رک بھی موجود ےرم
حضرت وٹ الع می لی نکی شھاعرکی اوران کے ایض نی اود ہدش رکی ہی
نیس بلہ اس شاعرییکی حیشیت اود مقا متش رح دن اور تج ارکان دن ہے۔ انھوں نے
شماعرکیکوصزف ایک ذر یج اور وسیلہ بنایا سے لوں ان کے سارے اڑکا رن تروع دی اور
مواعظط ضنہ بی ہیں۔ جنا بگی الد بیغ نے نال دی افکارکواپٹی شاعری میں سوک رخ ز لکو
مان نو سےسجموراورم کیا ہے ایوں:انھوں نے صد یو بیشتر غرزلی شا عر یکو ونعت
کی سی تریس ونگریم سے ہمکنا رکرایا سے ۔ انھوں نے اتی خزلی شاعرکی می ای سوا نہ اکر
وواردا تکوھو نے کے لیے خویش ؟ تندقرینو نکواپنایا سے۔ ای صورت میں دو خودفرماتے ہیں
کہصدوں کے بعد کے پڑ من والے لو کبھی ہوارے لیے رن الشرعلی می ان تھالی ال پہ
رحعت نماد ۓکہہیں گے ایک صوثی اور شاعر کے لیے ایک بہت بڑااعزاز اورخراع عقیرت
:×تاٰے۔
صوفیا ظا مکی شا عر یک تث رع دو شع اور تراج ما جوسلسلہ جناب نذ سان چیشرز
زم سز لا ہور نے رو کیا ہے۔ ال یں ان کار خی ر کے لیے جزاۓ خر ےداز ے اور
احفقامت تش۔
۳۰۶۴م
272
لااو
جؤ 3ل
بجی قایاوں دنا ای ہر اہ جا
کو نے معن گر اوت ا رو خاف: تا
اھر ےک کے ورداز سےا بن ےپ اف نیا فان ا لو کین
لا ےکیونکہ ال جار ےگ می ستمہارے درد کے سوااو ہیں ےناد
پت جب چا یں میر ےگھ ریس اخ ری تلف ادرجاب کےآ می نکیوکہ بیکاشادل
حر فآپ یک طلب اور چاو کے درد سےبھرا ہوا ہے ۔ اے مر ےحیوب میں نے ال ںگھم
کوصرف اور صرف تی کی عی محبت اور چاہت سے مرا ہوا ہے۔ اس می رف تیرا بی درد
یمرن اما ئگ دایان بر دزن ران ض٤ کڑاے۔
بی افرقوع :مجر آپ شا ا دا
(اگ رآپ ہماری ومیان 7 , بت پر آئمیں آپ دگھیں کک جاراگھ رون گر ے
پل فتجاتھار
آپ مار ےگھ کہ جو زنرگی ہی ٹس وعیان تب تک ناظ ہےتشریف لامیں تو خود
دم بی ےلزلز اونگ ب کے با حث ب مس عال مس نہیں ا ںگھ رک جوجاای
اد ودک ذو کی ولیہ پان ےکر کی رق ہد ے ماق رط
5
موب می ںکوئی گشکوونہی ںکرہا پک اس صورت یکو میس پہن دکرتاہو ںکیونکہ بھی می
صصورت پند ہے۔
رس
ہی یز مو ما میں فا
تاب ز وی 0لا ا
(اپی خرنہووں میں بی ہوئی زلفو ںکوکھو لک رکوکئی نیا نہ ن ہکن اکر میں۔ ہمارا داوانہ
ول ا بی زی رک بی کا لایس ہے )۔
آپ اپ سیاہ کا یا اوور مکبار زلفو ںکوکیو ںکھو کے ٹیں۔ان سن 2ھ
ہنگاے اور نم ا ھکییٹزے ہہوں گے۔ چک ادھردل دبواغدا بلسی زنر یس بجکڑے جان ےکا
جا بی لاسکنا ہے بوں پل رفتو لکا مال پیر ہد جا ۓگا۔
اے میرےمحبوب موی زی خوش بووں سے معطزاورمجر ہیں۔ ان ے پہدگا
کات میس خوش وی ںکچیی رہی ہیں۔ ہرتے ان سے معطرہو ری ہے۔ یں فو یی قید
یش ہوں اورجگڑا ہوا ہوں۔ اس سے اب چھ ےکی اور زنج یا لا لکی ضرور ت نیش ہے نہ
تو و بے بی مقید ہیں اور اب ہم خودیھی اس قید نی کنا جات ۔
ر"
ہو ور ہر ہہ
1 کا اوت ما شر 1ک رات ا
(ہم اس چہاں تہ وخراب می بارغ لکوت کے پرند ے ہیں اور ہار دانددٹا فو رغدا
کیاقلیاں ہیں )۔
جم عالم اروا با لالہ کے با کے برندو ںکی رع ہیں ۴یس اس عالم نا پا یوار اور
اس خرا ب کاردا ےکی سردکار یں فو سداانوار ال کی تجلیاں حاصل ہیں۔ اٹھی سے ہہارکا
ام ایاجات لور ہوثی ہیں ابو ہماری نذا ھی وی بین ہی ہیں۔ اے لوگ ہم پہ
پروررگا رکا ہے نل وکرم ہے ہمز ام لوت کے رین وانے ہم . ہف شنقوں کے سساتھ
ےا
ہیں۔ داں سداانوارالہ کی جلیاں اورجلداے ہیں۔ اس لیے اس کے بعدشیی کسی دوصر ےکی
پرداویں ہے۔ ہماراجومقام ومرجبہ ہے دہ کبت بلند و الا ے۔
2
٢ اعد درلر ٦گ 2 بک کی یٹ
لا ا ںا
(ہم تک تیر می جس ذات بای تال س ےکک کہ اے میرے ال یہاں پہ ٹش
صر فآپ بک جات ہو بآپ کے علادومیرے لے سب بھ بیگانہ ے۔ )
و فکی دنا می اعد الم باری تی کے لے استعا لکرتے ہیں اورک و
تاد یک قجربٹل اس اعد سے بڑ ھکر اورکون دوست ہوسا کے دہ دوست جوکوالہ اعد ہے وہ
گویا لے دالا اوہ ہرحال مس مالک اورکار ساز ہوتا ے بکری ای
ری تک اود پھیاج ک تی الل جح نکادلی (لشنی دوست ) ہوگا۔ ا ےی اورکو جات ےک کیا
ضرورت اور ہہ ببت بڑکی تقیقت ہ ےکم رج ںکادالی دہ اللہ بن جاتا ہے دہ دنا چہاں سے بے
از اور لا ماع ہو جانا ہے۔ نگ وتا ر یک قب ری اس کے لیے مکی ہک نیس رنتی۔
لغ
ا لیست. ؟
گویم ہس 2 رس ان ل دوانہ ا
(اگر(ھعر اور )گی رق میں کر جھ سے پوٹچٹیں مےکہ بت تار ر بکون ہے؟ تو
یی ئن پا کا اگاگز را رب دا جھجہرے دلیانے ول کو نے جانا
ہے کٹ
جب قی ریس مکل اورکگیرسوال جوا بکرنے وف ٹج کرک ( من تہارارب
کون )سوا لک یی گے .او م فو رک طودپ بی جواب دو ںگاکہبھ ےکی ھت ہوک
سا تن رع ری کا ایر
عات اوکیفیت سے داقف ہے۔ کہ برکیفیت ادرعالت ایا نے بنائی ہے۔ ددمجرے ہر
٢۸
ءال ےٹول واقف ہے۔میبرارب دی ہے جو ہجھ سے مییرا داواضددل لے ی٥ا
جا تا سے ۔ضو فی دیاش ”ول“ سے عرادم شی منشا او رط بھی ہوئی ے اور بے انما یکا
اشن بھی ہوتا کے جو اس پان پہ ال دادد ہے دج میرا رب ہے۔ دب بندے پہ ہر
جوانے سے 'ادروطا اب ہوتا ہے۔ دو سب پل ےکرتا سے اورسب چجھ چانتا تاد
2
۱ مگر 7 اگ۷گ؟ بسن ریہ و
ناس یں ہم روہ یں
(ہار ےأھر ےکا انگا رک نے دا اکہاں کے یٹس نے بے وی اورفتنہ سای ےکام
نےکر بیصورت پیداگی۔اسے ہلا تاکہدہجشرمتک ہمارانرۃ متا سختارے )-
اس شع میں مگر اکا کر نے والا بھی کے ساوت شع رکی مہدت کی رکا دوسا اتی مگر
فرش بھی ے جکیر کے سیے یئ سوا لکوبخورسختزا ہے اس تا ظر میں مر کےسنی او بھی ود
ہو جاتے ہیں۔ ای جوانے س کہا گیا ےکم اگ رر نے جواراجواب نیل سنا ا بآ ے با ا
جواب جوتر) متانہ ےش رکا شور ول برا ہونے کک بدستور سار ہ ےکہ ہعادا ر ب کون
کت ماشتوں اورفترا کا رم متا ان ت ے ببت گی دوات ہوتا سے اک ں کا ظاہری
اود اطنی مطلب اوراشر ہوتا سے ا لک یکو سےکفرٹو غا ہے اور ضا میں صدائؤں سے بھر چان
ئیا۔
رگ
شک ا کی ہشکر پک وٹ
آفریں پا ہیں مت عرات ا
ززپشر کے دم جواں مرد ہیں اورا دوس تک کک گئے۔ ہھارگی ہمت مردانہ
رآفرین)۔
نت ووالوں ا و کر نے وا لن ےکوی رد کہا جاتا ہے اس اختبار ے جم
جواں بمت اود مماہ رمرد ہیں ۔ اک لیے ہم جا طود پر اپٹی اس انال جمت بن دج ر ریگ اور
٢۹
شاباش کے سشن ہیں ۔ اکر چراللد دانے اور اللہ کے عاش کسی ستائش اورحوصلہ افزائی کے
فا نت گاریش ہوا تے دو راف ای ےشن وت ریگ تل ہااتے بن
رق
گی بح مجاے ای سفت
دوست ئی گفت زے مت مرات ا
(گی الد بین !اس کے ہما لکیتجاو کی ہجار با اور دوسعت احباب بمت مردانہ
کن کے رلک
گیا ال بن اس کےسن و جھالی اود پانی' عنایت اورشفقت کے جلوؤ ںکی شی صن
پر وخ ہوا رہا اور دوست میرے جل کی ا سںبیفی کو دہ دی ہکر داد وشن ڈیگرے
زا نکی ان التب الو ا ری ان ال انتک رات
تی جس کیٹ می میرادل جا ہے لیکن میں اس حالت یس سکون اورراح سو ںکرتا
ہوں۔
ل42
ك٥
نے بل شورپرہ روانہ ۳ ار ؤ۔؟
ات رن ۶ات اوؤرد ول
(اے شور یرہ عراور پ یٹان عال ٹٹبل تا کہم مل سے داوا کون ہے و اٹ
توب کے چر ےکا طل گا رڑے یا ش٦ش )۔
یل ایک خوب صورت اورداگانے دای چیا ہے۔ دہ ڈالی ڈالی اورگکستان درگتانی
کن اور آداز مم ایک انس بے :لی کے ساتھگائی رای ہے۔صوف یں اس پ
تال کے باعث اسے روح ک مال تار دیاجاتا ہے اود دو جو مکی قید ٹس ہے ڈدیھی سدا
اپنے خالقی سے ہممنار ہونے کے لیے بٹےقراراور بے جاب درأقی ہے۔ خالقی سے ہمکنار ہونا
٢
اس کے ےروب کے پچ رہ سی نکی طلب دجو ہے۔ اس لیے دو کا اس مجر کے اندر
بے تا یکی حاات میس بل ہلا نا اور بے عال ہونا ایک فطرکی امرہوتا ہے ا کی ایل طلب اور
منزل الشدی ہوتاے۔
۰2
عاضن گلزاری' مین ا دبدارم ۳۲
ل ا ران اوت ماق ۳ ا ا؟ [
ول وگگزارکا طل ب گار ہے کہم فو اپےحبو بی کے دیدارکا اشن ہو ال (
اتیاز کے بعد اب و تا کیحیوب کے اس فراق اور جدا یکو مرداشہوار پرداش تگر رپا ے یا
۴۔
تصرف مادی بان پا چلوارئی او وو ںکا لب گار ہے جج اس کے بس ہمت
اس خال میق کے دیدار کے فراقی یں پڑے ہیں۔ ہمارا مدعادفظا خاش کا دیدار ہے۔ جس
کے پارے می خودارشاد باری تھالیٰ ےک : کی ات ےی وو مان
رسلا مکہا جا ےگا اوران کے اعمال صا لی کے سبب سے (ائڈدتھاٹی نے )ان کے لیے باععزت
اج مہ یکررکھا ہے'۔ (۴۴:۳۳) اور الد تھال کیا جاب سے ان کابا بھی تھذت رک وتجنیت
سلاع *کوئی معموی متقام ومرحب کا حائلکیں ہے۔ دیدارالہی سے بڑ کر اورک یاششی لمت اور
تمہ ہوسکنا ہے۔ اق تذ ا یکی اطر اس زندگی یش بھی سب سے پیل جا نکی باز لگا
دتتے ہیں اود بل رطلب فراواں بی ر ہے گگتے ہی۔
رف2
یا دو ات یا 2ا و راہ غاوویت ١ہو اک پیا
کے یش یع ا مب دو و ا
(ت جرے کےاندرمقید او رگوش تھائی دن اف ردکی میس اکیلا اورتہا ہے۔ اےتائی
کے رسا! با کرمست اورد بوائلڑ ے یا بم)-
یہاں پرھی مھا زی طور برعخاطب چب بی سے ہے ۔ نین چجر یں بل ی
٢
طرف اارہکیا ےکہدہ قالب انسالی رد کے لے ایک چجرہ سے اور جب رو ںکو ال
پر سےآزادیی کے بعد لقاے من اور ہمکنازیی خالق ہوا ے وارتی ق ٹف س کول حیثیت
اورسعی یں صتی۔ اس شع ریس مبدالی زندگی اورحیات اسان یکو حوالہ روح بھی دیکھ گیا سے
اوراس رو کے عدام ارتائی سف ری جان بب اشار ہکیاگیا ے۔
|2
ور حمل و عان نے
رونم ر- لور ےکا گال كی-ا؟
(بہار کے موم میس اس کےمسن و مال کےشقی می مستو ںکی طرح مست ہوک بلند
آواز بیس ببتا لی کے عا لم مس تو فریادکرر پا ہے باہم )۔
ین جوالوں سے مویم بہا رک ہنس میں شادالی رو اورس ینرک ہ٭وثی ہے اس سے
ہراوحفر تآرم نانها کےنر سے پیل کا عہ بھی شر ہوتا سے ںگو یا اس سے اس لیم الست با
عہرالس تکی جانب اشارہ موجود ہ ےکہ جب عا لم ار داع بی روحوں ے پوروگا رى قگفتو
وی اددروتول سے خالقی انسان نے ددیاف تکیاکیتہاراار بکون ہے۔پے ال پان تام
روتوں نے ملا انا کیا کہ ھی ہمادا پانے والا ہے۔ دوحول سے مکال ےکا ےحرصیکس فقرر
پردواقی اورشادالی والا ہوک ی٘۲ سکوعاشتوں کے لکل بہارقرار دیاگیا ےپ
۵و
تشق و بھا ٹیل ! اعد رک وپ رف
آں پاره کو ؟ آں ىا چان لی یا ا؟
(اےپبل! اس کا عش ہمارے رگ و پے شس سرایت سے ہوئے ہے۔ دہ ے وہ
شراب نا بکہاں ہے۔ جو س راعش ہے؟ اورااس کے لیے پا نیتم ہو با جم )۔
اسے نادان اورفھرہ زٹ یکر نے والی تاہلی کے جار ۓصش یک یمیا خی ام ں کا عشق و
ہثار ےئم وجان می کی ور برل ساس اور ردومیں روو سی یس سای ہواہے۔ اس صورت عال
فو ہی با کہ اس شراب مض کے کے جام با پیا ہک ہیثی تک لک ہوک ےتیک یا
۲٢۳
میرری۔ اے بل ا سںکاعشقی ہمار ےاندد باہز ہارے نا ہر پان اودرگ در پیٹ اورخون اور
سمانسوں می بھی سایا ہوا ہے ۔ی”شق جار ے اندراودہ مکش کے اندد تی ہیں ۔
رلغ
گیل )جز اڑا و نکی لم 2
رز خی عو ات تق ا
پل کے سوائی اور کو اور ہم ا یوب کے علاد سی اور ےکوی کھت تو (
بی بنا اس دوست عجیب کے سواسب سےلو میا نہ ہے یا جم )۔
کل کےمعی مھازیی طور برمضنوق اورعبیب کےبھی ہوتے ہیں اوراسی طرح توف
میں اس کےممی میں حا لم اھرمطامگ ہکی پاکیزگ کی جا بجی اشارہ ہوتا ہے اور ردتوں کے
جہان عا لم اروا ں کی طر ف بھی لان بی جوعجیب ہوتا ہے دو سراصر پیادا' محہوب اورمعنوتی
عدام کے درب پر جتا ہے اس لے ج سک نظرحبیب پر ہوثی ہے اسے نز یھ اور دکھائی کی
نیس دبتا یوب پرفریفہ ہون عاش کا الین شیدہ شی ہے اس سے دہاپنا فرش تھا نا سے
اورا سے دہ مین تقاضاۓ فطر تنا ے اور پیش ا کین بی لگار بنا ے۔
2
ر۲ م خوری اڑ خار ما را بکشینر پررار
یں کی اد تی جیا کے
ذذ صرف کاٹ بی سے زی ہوجاجا سے جی یں ف دار ہیا لک اور چھیلایا جا تا (
جۓے اس اخقبار سے بیقة بنا کنل کا زبان تی راافسانہ ہے یا ہمارا)-
یہاں پربھی خحاطب اورتقائل ڈبل ہی سے ہے دو ٹیل جھ ای کاٹ سے ڑکیا ہوچاتا
ہے۔اس کے متا بے مٹس عاشی فذ دار پر لڑکاۓ جاتے ہیں ۔ اس نفاظر می لوکو ںکیا زان پہ
خاش ای کی خر کی ےک رک و بے ون تین لی یکا رک ےکن کے کو کن
عشا کی جار مازقبانا کو ننییس جادا۔ جس قر بای سے عام دنا دار یچ اود ھی ہیں
اس کے دومتلائی ہوتے ہیں ۔ بلڑی سے بیقر بالی دینا بھی ان کے لے اولیا کام ہوتا ہے۔
ا
رگ
عوشق - ائشق مم ول و عاضر پاش
ورنہ ۔. کدا امو درغانہ ۳ نا" ہاتے۔؟
(ارے کیل !تق بی مانن ہے اود مکی عاشن ہیں' امش رہ اورموجودرہ ادص رو
سکون سےکام لے۔ ودنہ ندا آج ا ںگھرٹش بات رہ گیا ہم )۔
ا شر بھی یل عی کے حالے سے با تک کی سے ادریٹمل چک ایک پچاروالا
اورشورکر نے دالا پرندہ ہے اس لیے اس مھا گیا ےک منازل شی می سرد و“ دادیا
کرن اورنرہ ز یکوئی مز نہیں رکھتے۔ ان کے ہجاۓ صبراور حاضر بای سےکام لیا جائ تذ
نما موی عبرے ؛مکنار ہوک ایک اور ہی حصورت ٹپ یک ری ہے۔ عاشی واو یلا اور پا ری لکرتا-
صرف رات ںکودوتا گے و کو جلاتا ہے اورنقور ہی بی اپنے حیوب سے بات ںکرتا سے اور
سکون وص لکرچڑاے۔
زل(گغ
ای کی سے کی آئد اوع پر کی مر
از برض رید وا یں
(کھاجاتا سےکہ پرسرمست مجزوب و ماش بے خود کے ول کے اندد ایک بہت ڑا
خزانہ ہوا پا اکا نی زان حاص لکرنے کے لق دلوانہ ہے یا ہم )۔
رسفا اددمرشاری و بذات خود ایک بہت ب ڑکا کان اورمعرن ہولی ہے اس کے اندر
کی خمزائن ہوتے ہیں' ین اگ رکوئی انی آدد پک داد یلا اود در ای ط رر کے ناعبریی دانے
اعما لکتا رےگا تق وہ اس سرت کی دارگی مل ہرگ قرار وق نہیں رک ک ےگا اور ہے ایل
حیتے ج کہ جو یی لد پا خودی اود مسق سے اس بیس فو حوبی تک ایک ہے پٹاہ
دوات موچورہوئی ےے۔ یردوثیت ہو ےک جو جام و بنا اورشراپ لئے ہن کا -02
ہی الیکا تی ہووت زوش ہوفی تتے ای نکا سلعلہای سک داردکر نے ذانے کے ضاتھ
تا وت ہےگویا چم ردبواگ بھی اوددی طر کی ہوتی ہے۔
سا
رت
تیر نین پر اوس لت
کے ٹیل فدہ جاننہ لزئی .ا ۔؟
(ئحی الدب مگکتتان گیا اور اس نے نا ل ےکر نے والی' شور یرہ سر دا یلا چا
والی ٹل سے پو ھا اے رونے دھونے وای ٹل !رق جا ہجوب د دلبراور پازا تو نو
ام)۔
اس مع میس ایک ہارب یا لکی بے رای ' ا کی آو ودارکی اور نا ل ےکر نکیا
عادت خاش کے جوانلے سے با تک کے اسے مایا رونے والی اورشو رکر نے والی فریاد اور
شکای تکر نے والی ایک بے بی نمفلوق قرار دہیے کے بعد اس سے ددیاف کیا ےک کراپا
فریاد اورشگایت کے مقا لے میں ساس رعب رد احتتقای بن ےگبو لی وی نکا ہکا بس
عاض کا صبرداستنقامت دی لی ہوتا ہے دہ موسالل اورصدیو ںکوکوئی اہمی ت نیس درتا۔ ا کی
گا نکی اچ بی اس کے لے باعت سکون وص بین جائی ہے۔ دو لوکگوں کے سام واو یر
سے اشک رگ ار یگی ںکرتا۔
خزل ھا
42
بز عم عشتی و زان جذزشت کر ول ۶
اک وا کی جود اپ ارذ کا
(تیرےمشقی کے ٹم کی وجہ سے میرے د لک عالت اولاس کے معاملات وروی
ہو نے ہی سک ترک دذا ےیک دم میرے د یکا و گی پکا اور وکا )۔
7 ار نع و طلالل سے میرے دل پر اپنے اش سے ہج
ہڑامے اورکارہاے خائص سیے ہیں ان کے باعث میرا دل اب پیل این دہ بکہ اک کے
احوال جم برلن نگ ہیں" تیرکی دنا سے بب میرے دل کے ما ہے
کی
ہو گے ہیں۔ بی عاش نک خوش لتق ہہولی ےک دوکم وانددہ بڑ ھن کے باوجوداھی ای الم دیاں
بی سےسکون حاصص لکرتا ہے۔اورال می۲ بھی دو خوش رتا ہے
2ك
لام رای کت لنشین .رک کم رقی: ضس زان
اف زین رگوفہ گل از.. فارغار. ول کا
(یٹ با کی سیرراورچچەل کی ے فارغ ہے چاہوں کیوکلہ ہردقت اور ہر زور مین
نکی ان دلی بے ای ای اکا ےکانلزوں پلو کلت ہیں
ےا بگلستان نا با اد کچلواڑ کی سیروسیاحت اورک لکش تکی نبشرورت رئی ے
7 7 و
در و گیا اس طرع اب تو بیرے ان ھی با دبہار پیدا ہو گے
ہیں ۔ اس لیے یس می رن میس اپنا وت ضا لی کیو ںکروں. پھولوں برا چان قے مرے اندر
خودموجود ہے یر شس نے میرے دل کے ایک ای ککا نے سے سوسوط رع کے ول
لا نۓے یں ین لق واشق کے د لکوج از و بہار بناتا ےا سکی جو رونتقیں ہہولی ہیں جو
بہال یی او مرو بپہاراں اس سےمیس رآ ا ہے دوصصرف عاشتی بی جات ہیں-۔
ج
74 :2 پادری حوالت 2 2 انروو خر
یں ّاں بکرزنی آکڑوگی یکنا ول مر
اے دوست! اپ تام کم وانددوکومہرے دل کے جوا لےکردوچوکہتم نے بے ہیزرد
او مگ مار بادیا یۓے اس لیے اس نم خواری کے علادہ کے اورک یکنا چان -)
تہاری عبات کے پا عو غکمل خود پت مار رڈ وش انم خوارین پا
ہوں اس لیے اب ضردر نہیں ہےکیتم اپ ٹم اٹھاۓ بر ڈ بل میرک بی دزخواست ےکم
ھی اپ سار ےم اون دہ ذطال سب میرےسپردکرزو یتم فو اس تق سے یواتف
وک ممسمادد یکی زوا ٹم وانزدہ کے علاوہ او رکیا ہیی ہے بی سمادکی متا میہرے پان
لن
بیائح ہوۓے دو
رف۵
پا جر نار اظخڑز زیامہچژن را
م چناں پاغشر بلا وور از کنار دل ما
(ج ری خود ت یکنارے پ۰ جاپڑے ا لک حعاات کےکیا نے اسی رع میرے دل
سے جب ددد و بلادور ہو جال ہے نچ رچدا ہوکر دہ درد و بلاج بے ہنی کاشکار ہو جاتے
یں)۔
دہ جھ عاشتقا نی ہوتے ہیں' تو فکی دنا حوادث وآفات' آز یں اور پے ہے
ہے امتفیاجات او رحنت و مشقت اور درد وآلام ان کے د لکی ببہت بڑی دوات ہوتے ٹیں۔
سذ دردو بلا ھی میں خڑٹی اوراح سو ہولی ہے۔ اس لیے بلانمیں ان کے لی سے دو ہو
جا وہ ال جدا یکو پرلز پپن رن کرتے۔ دردد الم اور بلاد الا اش کی راحت چا نک
دادیاں ہوثی ہوثی ہیں ۔ ان اد یو ںکی سیاحت عاش کیلئ تن سے نیاجہاں پید اکر لی ے۔
۵و
آئمہ روزم شد ساہ اشد زبے مرلی ول
رو 7 ول راغ رہزگار رل م۱
(د لکی بے صبرکی کے باعث مرا د یجھی سیاہ جیا ہوگیاہے۔ ا ےکا اب میرے
ول می بھی سیاہی اور تار بکی کا دور دورہ ہو جائے۔۔ اس ط رح کیا “ہرک سے مرا د نبگی
رشن رپنے کے ہجاۓ سیاہ ہیا ہے )۔
بے ری فے افطراب ہے۔ اس میس بے پیی ہوتی ہے۔ اس یں سکون اورآرا کا
ا ہوتا۔ تمول جن اور وادگی مرفت .شیپ ا ہے صہرب یکو ای ک نف یل تو رکیا
جانا ہے ۔لین اس بےیعبریی می د لکا ین اودہیقرارکی عردع پ رہق ہے ای لیے سا لان
راومحفت بیضبر یکو یھی ا سا نکی نظ ےنیس د یھت ۔ بک وو دابرب یک یی نکرتے
ہی ںکی نک ص رکر نے والو ں کا الد کے نز دیک بہت بڑا منقامم وھریتبہ ے۔ اور' اللہ تھالی عہر
2
کر نے والوں کے ساتھ ہے (۲۴۹:۴)
زلغ
پاز آیڑ روڑ مچہراں نالہ کن ا حر نع
نا سی لایر جات ماں ل ہما
( وگ بی ذارئ کر دکہ ہجرد فراقی کے دن پر لوٹ ؟نٌیں ۔کیوکیہ جب تم نہیں ہوتے
اس وت فراقی بارہی مہرے د ل کا سہاراہن جا تاے )-
یہن پر اجروفراقی کے ہوانے سے با تک گنی ہے دصالل کے ما بے میس بج روفراتی
ایک بہت بڑئانقعت ہے۔ فراق جدائی ئی کے باعث ین اورطلب کے زور پہ پاٹ
حیات جم ہے۔ اس لیے ایک مدآ ہک وب سے جدائی کا ددد پٹ ؟ے۔ مج رکے اندرچھ
ایک مل ارتقاہ جار رجا ہے دو دصال پرآاکرمکسررک جات ہے۔ ججراورفراقی اس صورے
یں دو کی ذندگ کا باعث بدتے ہیں اورا نکی موجودی می لکا سہاراپنے رج ہیں۔
صورؤں صوفیاء نے اس بر ادرفرا قکومو گی قراردیا ہ ےکیوکمہ جب جا ن تشم
سے جداہولی اذ دہ ایک نا اورانوکھا جج ہوتاہے اود راس فراتی کے بعد وصال اق ہے۔
2
کی ہیں نو ول ور رو انار
مضتم وں ' عاے مر انگار :ول نا
) کم بک کگا الد ین کادل تک راہ انار یش پا رہ ےگا ۔ک ب کک انظا رکچ گا۔
دل کے انھار نے ے تورے رات یں سا ےکی رع جلاکررکودیا ہے )۔
کیفیات انارک ڑے بی رمع انداز شس جیا نکیا کیا ےکا تار کے اس عال مکی
ول تک ب شحم ہوگی اور انس میں پھ یکوئی شک دشینجیں ےک انظار بمیشہ ایک لن کے
ساتھ ق یکیا جانا ہے۔ اس اتظارکیخنظرریوں یٹنیس ککھتا کہ بیکوئی ممو یکل ہے لقن ز
ہوا ےکن دہ ایا نک بگسم صورت ایا رکرتا ہے ا کی خی ہوئی ای لے انار
موت سےگگی شدی ہوتا ہے۔ اتظا رک ایک متاز وصف بھی ہوا ےکہ یرہ رلڑنی تار
۲
کرنے وا کوک کر رکھ لیا ہے اس کے قمام حواس و اما تکو ہنا اضنظار ہہ بنائے
رکتاے۔
راس انظا رکا ایک ام تل قمحہوب کےآ نے کے جوالے سے راہ اورداتتے ےگگی
ہوتا سے اور ال میں بھ یکوگئی کیک دش یں ہوتا کہ راہ بہرصورت لی ضرور ہولیٰ کے اتا
لیے راہ پر سوض تہ گر را اوزی ی نکر بچھ جانا ھا یکیفیت کیفی تکو ایک نیا بعد بخشا ے راہ اور
رات یس سوضشۃ جو سپا تار سے ال تر ورای تر ے۔
کر .راو :کی جا اا7
زمددکی مو شی ہے او تم اچجران :خر
(گ رحب کے چس لکی ہرز خیزی زندگی یط لزنم ججران کے یر یں پگ زنرگی
بی ڈرکرسکتا اکم ہی نے میری زنک مال ت۔-)
وب سے ملاتجات اوراس سے مل ےکی اگ رطلب اورامیروآرزد تہ ہوثی و اے رگا
جانا میرکاز رگ زگ غبن پلّ اس وگل جانا لک چا ہت کے باعث جو جدا اور
جج رکاخم اورآئروہ یں ا نے تو میرے اندد زخدہ رٹ ےکی تنگ اور حوصلہ پی اک ررکھا یت
گویا می ایک ہت ہڈا جیے کا سہارا سے جس کے ساتھد می با آسانی جے جارہا ہول یل
یز سے اور ول تو منرل نون وقرارکا نام ہوتا سے جک ہآرڑوۓ اپ لک جھ
وادکیغ جراں ہی مج پردان پڑھتی جے اس میں بدا ایک ارام اتی رناسے ہیں
زندگی رذاں ذوال ران ے۔
2
رون شی رر الک ا مذرں
نز .مگ زپاغیان گیزاشت“ :وربتان - مزا
ھ۸
مرا م دجان" تر رک خوئی اشُوں سےلت پت ہے۔ دو خودآلودہ اورسرٹی میں
متھرا ڑا ہے۔ مرا ال حالت یل گر با غبان شھے بارش نہ جانے دے نو میں اس طلب
سے بے نیاز ہوں )۔ ا
مد جا نکہ ین کو سرد“ کہاگیا ار 1 ایک سدا یہام کا سیدھا' ہا اوراونچا
ددشت ہوتا ہے۔ ہرم وک میں دہ سال ایک بی سار بتاے۔ اب اس مر شسحم د جا نکی حاات
سی ہ ےکدد ہک تگر یہ سے خوانع کےآنسو رود وکراہدرنگ مغ ہو چکاہے۔ دی اب مہرے
لگ کو ںکلاب بن کا ہے ۔ ال لے ا گلا بک موجودگی میں بھ پولو کی طلب میں
کا بای چان ےکیکوکی ضرورت اورآرز ون ے۔
ز2
عالا مین چوں پچ رکنتاں شمرکنوں چوں بے
اگ آعر کل لے از دہ ین مر
(میری حالت پچ رکنعاں (حضرت تقوب مل )کی ہوجگی ےکہراب میں سے
مس طرح سے دک سکوں۔ میری دونے والی آنگھو لک بیائی و اشگکوں کےسیلاب می بہہ
بھی ے)۔
رکنعاں حخرت لتقوب ناذا اپنے پیارے بے ہضرت اوسف ما کی ججدائی بش
گ یکرت رہ تھے۔ اکس عو لکیہ ڈادئا کے جاحٹ ا نک بنائی جائی تی قرکن
ا نکی اس عاات کے لے لفظ تن کر آیاہے۔ اب میری حال تبھی الی ہی ہوگی
کے کہ نمو ںکی ردائی یس میرک ساری بینائی بہ تی ے اوراب لو چوس وجھائ یں دیتا۔
مر"
لی جال چاک غُد رو واد ئن و بتوز
ہر طرف ش غاز حم ہگرشت ور" وااں مرا
(واری عق نے ے عدمری جن کا اگل طور پر چاک بؤ چاہے۔ ان
مم دبا ہو ںک ابی مت کبینکزو کان ہرطرف میرے دالن یش وت ہیں )۔
7
وادئی مشقی نے اپ ونور کے مطا اق می کیا جان کا لبااس جار جا کر دیاہے۔ تا تار
07 زا اب پگوگھ ینیل با ہوا اگوی اگ وا ا
غیں ہے۔ اس بریدہ اورجار جار صورت عال گ بادجودگھی میرے دامان لشکی رن کے
ما والے دان بی گڑوں راد ںیم ےکا نے چے ہوتے ہیں ۔
حم کےا نکانوں میس رر و ملا لک میں ہیں۔ رن کے پچکورے سے ہیں ۔گویا
ان کائوں کے درداورلی فکو امہ جاں اک ہونے کے بعد ایک اور تی چان سوزشظ مکی
نیف داصکن جان پرواردہوری ے۔
۵
م چوں معن ار بک کر دگی بے تھیہب از ول یاد
ےک وی مرا یی ا مت انان ا
(امے یرے پروردگارا کیا نے میرے علاوبھ کسی ماش نکودصال یار ےرم
رکھا ہوا ہے اوراپ ےو کی عحبت سے الگ رکھا ہواہے )اک
شعرممی اللہ توالی کے لیے الل کا اسرب استعا لکیامگیا ہے ۔ رب د بو بی تکرنے
دالا ہوا ہے اور للا یک ایک خیادیعفت ہے جس می اس نے س بک رو تکرا
اپ ادرف لکررکھاہے دص ار سے ٹاش کا دوز چوک لب وآ زاوج قرا کی
لزنوں سےمعمور ہوتا ہے اس لیے اس دورکی نما سوا ٹیس انارک نے وا ل ےکوایک اور ی
طر کی زندگی عطائکرنی ہیں ۔ اس صورت میں عاشق جن باعتضما رکرتا ےک کیا ان نختوں
سے انل کے علاد ہگ یکوئی اورائس جچہاں ٹیس فی نیاب ہی ںکیٹجیں ۔ پانکہ تی صرف جھے
تی فی ہوئی ہیں۔
رن
ائگہ.. بامرم عادرائی 4+ اڑج یس آت
ورند کے پواہ بد از قول بلگویاں م۱
( یہ جو یی دوسرےلوگوں کے ساتھ حدارات کے ساتج شی ںآ تا ول بین صرف تیرے
۳۱
لیے بی ای اکرتا ہوں۔ و نے مج مہرب او رم دب بنایا ہوا ہے۔ درشہ ان بدڈ ہاں لوگو ںگی
بات ںکی می لکول داد ں/۳)۔
لوگو ںکا اور عا مخ کا وتیرہ مک کی ےکدہمموئی طور پر بدگواور بدز پان ہوتے ہیں ۔ان
کا صرف بات کنا ہی ایک طرح پت لے۔ لن لے ای کناچا کی
جائۓ دہ ال لکی فی کرت ۔ کان لوگو کی اس روش کے باوجود بش نو صرف تیرکی چاہ
یس سب لوگوں کے ساتجھ نو شع اور برارات کے ساتجھ ہیں ٦ یں ۔ جج ان لوگوں گے
بر ےدو می ےک یکوئی پروائیش و نے و میوریا بعادت ای بنادی ے۔
2
غیت فرق درمیان شس من باسای ام
72 جار
(ئیش سا کی رح ہوں اود اب صورت ہہ ہو چگی ےک سماۓ می اور جھ می سکوئی
فر یس رہ ہے۔ اس پر متزادمیرے بے ہوئۓ دل نے نو بج ےآنگ بی یں ڈال رکھا
انت
انمان کا اپنے وجود کے ہجاۓ سابیہ ہو جانا ایک نخہایت دہ کیفیت اور عالت ہولیٴ
ہے۔ ال ورنت بس انسان اپ وجہودک یکافوں سے پاک ہک رگ یا ایک وجو واطیف من
جات ہے اور بچمراں وجوداطیف پر الطاف ہوتے ہیں ا نکاکوئی شا ریس ہوتا۔ جب وجوداور
"ھ۷ میں و اس بیس انسان ایک اور مضنزل میں ہوتا ہے سا یک ایک اختبار سے
ات بکرنے ولا بھ کہا جانا نے جب تس بکو یش مکی خرای با ہنی کال نہیں
دیق وہ تھا ق بک نے کے بجاۓ ہم آ ہگ اود کیک جائن ویک قااب من جا ہے۔ اس
کیفی تککہ اما بک یعکوار او پر نہر سے تو صاحبپ دل لووں کے پت ریت اورگی
ع پان ددع جن انی ہے یوں اس سے ان کا ول سوشنت سارے وجو دک و نک میں لے رکتا
ہتے۔
0
یئ
۸م"
ھن وشن ین و فرش من از ار است
ععکہ چوں گی ای بے مد سامان ما
(می ائگنگشن تود با چواہا اورفز وغیبرہ سب ٹھج لک راک بن گے ہیں ال
یے نتر ہوتۓ ہیں تا کیم فی الدب نکو بے سردسادا نکہہکر نہ پکادد۔ دیکھونذ کہ یکنا سمازد
سنامان سوخت ے۔) ۱
توف میں عاشقان تق گی اود ہی شمان ہہولی سے اوراسی طرع دو دنا کی آسمائنوں
اور اسباب زلیس تکواپے معیاروں پرشارکرتے ہیں لئ نیشن اورفرش مکاٹی ر نی انسای
ضرورتیں ہولی ہیں اور بر پبی کی آگ بھانے کے لے چواہا تورم کا نمائندہ ہے۔ سے
سب کم اود چی کی اطقیاجات ہیں ۔ رسب بج لکردراکھ ہوچگی ہیں اور ائصل میس ہہ بے سرد
سامائی عی تو ماشو ںکی ہی ہونی ہے۔ بے سروسامانی کی میکاتتات اس لے منیں حوصل
ہوئی ہے کرد یھن وا ل ےئیل ھی داماں اور بے سردسامالن شہپکاربیی۔
پار 7 7 سعادت ریر
زامے رپ ایب حیت..۔ اون ا ام ا
(لد ایک بار رز ہم پسعادت مندی یکم ہنی ہے۔ ہم کئے خوش عیب ہین اس
وج سے اب مارگ شا مگھی سوبرابن گی ہے )۔
رات شم ہونے پر کا نو رظپور ہوتا ہے کی کک اورسعادت مندئ یکا بات نے
جم پہ ہمارے پردددگار نے رات کے اندعیرون کے برغ کا نوراچالاسا پیا دیا ے۔ردات
کی حالت وداغ ہوچگی ہے۔ اب تو پوس ہہونے لگا ہےکہ ہار شا پھ کو ما بن کی
ہے۔ لیو ںچھ کہا جاسکا ےک اچھا اور ہہت زمانہآچکاہے۔سع دشام کے ہوانے ےآناز
ض۳
عروح اواژوا لگ جا بجی اشار ہت ے۔قوف کے ہوان سایق کا پا ہوا بھی
گویا ال تھے کے فالی اور زوالل پذ سے ہونے پر دلال فکرتا ہے۔ بیو ں جج یکہا جاسکتا ےک
تا رک یع بھی شام بی کیل عکوھی برصسورت شام شی بدلنا ہوتا ہے۔
ر29
بانی۔ رسک ہز ال ار ارتا ختا
ازپ ع شک ری ا ام نا
(داے پا جنگ و ارہ کر نے دا شرابتیأ رات کے ول یی زا تک صرائی
ٹس سے ہمارے جام یس ڈال دگی ہے۔ اب ااں س ےک کا ہلا ت نیس وگ )۔
ای کی شراب اور بکوالہ رات انان کے جام میں انڈیلنا ایک بیوں ہی سا ل نہیں
ہے۔ یہاصں پر شراب تی سے مرادعنایات اورانھامات ای ہیں جو اتارک وتعالیٰ اپ ان
بندوں پرارزال فرماتا ےک جو رات لکواپنے پروددگار کے لیے وف کر دی ہیں۔ بللدے
کی اسی صورت اورحال تکوعلا مہ اقبالی نے1 وع گی او رآ وب رگا جیپ یکہا ہے اور جو جم
٦ ہے اس کی بدوات متا ا
جچ
رتے کمیے ہے ہیں رو یچ
ھپ شور خواجہ 2 انجام ٦
رم نےصصت یکا طراب بہت زیاذہ پیا پی ہے۔ئئیں ا کی پرداہ یی ےک اب
اس سیا رفٹ یکا نج اے خواجر! یں معلوم فی سکیا لت ے )۔
وق شراب وٹ می ہم نے نے شراببمشی بے عدوصاب نو جا نکی ہے۔ ظاہر
سے ا کا اٹ اور شی مستی بے اخقیاری اور والگی سے اس م تک کیا عم اور یت
کیاضصوزت افقیارکرے اے تواہ ال کی ہیں نیس ہے۔ پچ راس شع میس اس سار یکیفیت
کے بارے میں خواجہ سے امتتضا کیا جار ہا ہے۔خواج ہکہ جونمائندہ ےی تکاٴ ا ںکواقتارو
افقیارگھی حاصل ہوا بے اور ا کی سرداریپھی مسلمہ ہونی ہے د ہگویا ایک رع کاحتس بکھی
ك۴
ہوتا ہے ا گیا بظاہ رتا ےکس تک اکیا عا م اورکیفیت ےکا نمجام کےخوف ے
بے نیاز ہوک یل اس سے ہو ہا ہے ایک او رجوالے سے خواچرخود مالک اور ا ہے اورا یکی
یقراب تن ےاورا یکا سارانگ ے۔
ر"
0۳ >0 8م جو
8 جرب رین رہہ یا یا
(خ لق پ نازل ہونے والی ہرمصییبت اور بلا ال وق تگگ واردل ہولی گی رخجپہگک
سرذہرست جمارانام تھا جاۓ . پر بلا اور عیب ت بھی سے روغ ہولی ے۔)
حوقات میں ےکس بھی فرد افش کے نا مکی بلااتلا' یی مکل گی زی اس
وقت ک کن رای جائی کہ ج ب کک ا کا شکار ہونے والوں می اس می سگرفاراوراتلاء ٹش
تل ہونے والوں مٹ سب سے پپیلے اور فہرست ہارانام تھا جائۓ۔ یو بھی ےکنق
کو ان لیا اہ ےکہ پر با آز مال اعقالن' اتل شع نکھٹریی اور ذات وحواد کی ہرشکل
میں ے پیم پل ہے اور را کا رجو لو قکی طرف ہوتاے۔
۵
اع رو لو ےا ور
مم کی دل آرا 6 ٦
(ہماراول جونی سککڑوں می بٹ چگا ہے اس بل سے جہاراحبوب جو ہما ر ےلب و
جان کے لے راحت اورسکون ہے وونذیشحق متا ے۔)
. جماراول ت ککڑ ےگلڑے ہو چائۓے ان ہمارے راحت دل وچا نو پک ادا اور
شان منفرددیکھ وک وہ ا نگگڑوں یں 0 پا کے تراے اور حبہت کے لن ےکن دہ سے گویا
دل تہ ہونے کے بعداو رج یئحبوب بی نیا ہے۔ اس جانب علامہاقبالی نے گی اشمارہفرمایا
ہے۔ رید یی ںگگڑوں ےھ رادق رن مجید کے میں پاد ےگا یں اور پصورت ای وش
ہوثی بے کہ جب ۶ یکن نووق رآن کے مصراقی ہ×تاے۔
۳۵
زلغ
اہ ' الے“ روسف ۱٠۸5 طاؤگ: ره
5 شض ور و در کام ٌ
(اے دوست!ترے دردکی لیذ ت مٹھاس سے جماراعقی اورکام دیہان اب تک شی ری
بے ہیں)۔
در وکو اس شعر میں عحوالہ وک تکلیف ظم و انددہ ایک نے پپیراۓ جل بیا نکیا گیا
سد سی یں بللہ ال در دک چوجو کا دیاہوا سے اسے علاوت گل قرار در ےکر دردکو بڑا
تی زی: جال اوزندگی کے لیے پہندی کہا گیاہے۔ یراس لیے پہندیدہ اور فاب ہ کہ ہے
درد قریت ان فزا ہوئی ہے۔ای طرح ا لکادیاہوادردجی حیات افروز ہے۔ال درد نے
صرف نھگ فی ین و گی ہراس دددھرکی زند یکو اپتی شی را اور اشن سے مو رکر
رکھا ہے ا سکی مٹھاس سداصلقی میں جھسویں ہولی رای ے۔
2
7 وو و جک
زرودر تے ایر نے ریں: اغام- نا
(مم ریاداو رس ت تم ہے ان ہیں ا وجہ ےگل ہم وقت ورد کے انعام و
اکرام لے رن ہی کہم انی کے لاکتی ہیں-) :
م اپ مت مم وارف ہیں مم بے خود او رو ضرق ہیں اور ہمارکی ےکیفیت اپر
سے عدام بی پٹ یآری سر دای نے ہیں مت الست بتا رکھاے۔ ہا رگاس اور
بے خودگی نے یی پش لک رکھا ہے۔ انل مستی کے پاتھوں یس ہ مکخلونا بن بہو ئۓ ہیں اور
ای یی دم ددم اورپ در پے درد کے انعامات لے رج ہیں۔
۳
رگ
اود را وی عض لق ریت
یا ون و ا
(روست ےکی نین میں پڑنے کے شعلوں نے لو ہمارے نا کی اسسلا مکی
جلاک رکددیا ہے۔ اب ال عالت نل نہ جانے ہم پگیاگزرے؟)۔
دوست سے مزاد یہاں پر ذات باریجھی ہے اودراس ذات از کےمشقی نے عاشّ
11 حالت ایی بنادگ ےکددہ اہر اوردیاوگ اظہار کے اسمڈا ھی شعائ کی بھول چاے
پیش یکی ٹیش میس اسلا مکی سارک اہر داری بھی ہل بی نکر راک وی ہے۔صوفیاءر کے
نزدیک ےتا قْ اللکا در ہے۔ بد دہ مقام دمرتبہ ہونا ےکک ہج پر چگکر عاشق صاد قکا
دھیان' ناوعا و فا صرف ذات ال ہوتا ہے اسے اس است را قکی حعالت یں اہر
داری 171 تل خرہوئی ہے اور شددہ گا ہرداریا اکونچھانے کے یل یرتا ےد
زلگغ
و و
ور 2ن مرو کور روز یا
( لوق جہا کی جاب سے نے والی خواری اورمعنو ںکی ہار اور ذات ورسوا یکو
می اس لیے قجو لک لیا ہوں تکاس کے بد لے بیس الد تی بے ارام سے ندازے )۔
عشق ای میس میری جو ا ہری صورت اود میرے ظا ہرکی اعمال دافعا کی کیقیت
بن کی اں پرظاہر بر سنوی مج ےکڑتی 20 لے بے طعد زلی کےنشتزوں سے
کک اگائی راتی ہے۔ وہ بج یل ودسواکر نے می کول یکسرننیس تچوڈرتی ین مس یسب
سچھ ہنی برداش تکر لیا ہوں' کہ میریی اس عالت پر الد لی مشھے اپتی محرفت کے اور
انعابات ےلوازت رے۔
ای جوالے سے ق رن ممید یش موجود سےکہائل ایمان جس سے ائلدکی راہ شش چباد
کرنے والے اپے انل ”نر بی زندگی پہ لام تکرنے وا لو ںکی علام تک یکول پرداہنل
۲
ری گ'۔(۵:٥۵)
رم
پل ا ای ا
اون توب می کے او ا جا
(نی الد یی مر موب نے رک ارک سے دکھا ہے کیا
چھرہمارےکو شھے پر ند لآیا سے )۔ .
محبو بک اک ٹگا ہکو اس ف' در ارک اود اہم جیا نکیا گیا ے* نس طر کس یکی ھت
پ چان دنگ لآیا ہو جچجت بر چان کال لآناگویا :7 - ,ص>, ہے می چان رکید
کی بے پناہ خوشیو ںکی فو ید لاتا ہے نگادحھبوب اود ہلا کی نا ہرکی نب تبھی قائل قجہ ہے۔
یم باز اور پیل دن کا بللی چاند ہپرصورت اص معن اورصوری تین جال کا بھی ال
ے۔
ر2 لگ بل
خرزل
ك٥
من پپگوں آزر از بروں بت ئا 2 روز وشب
وز ائرروں یں تی الد گوگم انا چپ
(دٹ طو پر2 رز رح دا دان بت اش فی مم اکارتاہواا ین نے
تج بکی بات ہےکراندددقی طود بر می خعفر ت یل الک رع باہو )نہ :
ٰ یہاں پا ہراو ان کے خوانے سے با تک گی اور ای گیاہے مین اہر طور
پر2 اگر چ1 زرکی رح ہم وقت بت 7 اخۓے مل ا رتا ہوں ین این کے بنخلاف مش
حضرت ابرائیم لنڈا کی طرح بت تزاشی: کے خلاف با کنا ہون.. گی جا زنکا رن ککا جس
۲
می اصل مق رتقیقتکا بیا نکرنا ہے۔ اس شع می ںآزراورتضرت ابرا میعن اور بت تراشی
اور بر نیک تقاداورلز بیا نکر ے بیدائ کیاگیا سے ےک ددائل خظاہر کے جاۓ زیادہ
اہم دہ اشن ہی ہوتا ہے جو ظاہ رک اندرزندووتابندہ ربا ے_
ر۰۰
درقدہ پا ہیں جاں پا آکلہ سم مم عیں
ور را 2 عیاں 2ران او6) 332 حجپ
(بادجودیکہمٹش ب تکدہ کے اندد بقل کے ساتھ ہم رکاب اورہم سخ رہوں' لیکن اس
کے باوج الد کو رکووا مع اورعیاں د کت ہول' ال بات پر شس دن رات جمرا نگ رہتا
ہولں)۔
بظاہرٹش ہوں کے ساتھ ہوں اور بت خانے کے انور یس ان کے ساتد تی زمدگی
کے سفر پرگازن ہوں لییں ٹس جتوں می کا ہم رکاب اود ہم عیاں ہوں ۔ من اس نظاہری
صورت کے باوجود جھ راڈقاٰ)خل ہےکہ یش اس ےو یق برظری اح اوریسلم :
کھلا د یکا ہوں۔ اس سار صورت عال پر مم خودبھی اللہ تا کیا ان نوازشات اور
مہربانجول پ تمران ہوتار ہت ہوں او شر بچالا تا ہوں۔
ر29
بش ا ہوۓ من تگر نے رک ولوۓ می
نات یک کین مع یا وی ڈیں ورے روز شپ
(اے میرے مدا! اگ مرگ پا ہوکو نے اور میرے رنگ د بوکودیلھے اومیرے ایک
ایک با لکو چ رک ا کا ملا حظرکر ےے اس ملس ےی سای ہوا ہے اور مس دا رات ای می بہت
×٭ن)۔
اب مری ہصورت ہوٹی جہ ےک مرکا بات یت مر ے ام میریی آو و پکا اور
میر ےکم و جائن :ال تی ال مایا ہوا ہے۔ میرےشسم و جان کے رٹک !و یل اور میری
مانوں یکن بھی زی بچایا جہے۔ مہ رےایک ایک ال ایک ایک رہ شی نکوگھی اکر چ کر دیکھا
۳۹
جا نذ اس می بھی ودی ذات تن سائی ہولی ہے۔ اب اس عال می میرااپنا بجھجھی اس
سے خالی یا اس سے جدانیس ہے۔ دہ مر ےکم د جان یں خوب سایا اور رچا پسا ہواے اور
ل شش اس کے اندد بی مس در پا ہہوں ۔اوردہ مرے انور ہا ہوا ے۔
: 2
آل مردپالا یست پول از وصف اولال ست زپال :
درف او داپانہ شر ہم ڑک وا جلاع واعری
(وہ سروف ورظامت ولاو بکون ےک ہج[ سک تھریف وو عی فکر نے ے زبان
از ہے اورااسں کےمشق ین ترک جا بتک اورکرب سب کے سب دلوانے ہیں )۔
جان لین چا پےکہعشح شی ہی سب سے طاقت ودج ہہ ہے اور یو مو بتنقی ہی
سب پرفوقی اود فی ہے۔ودی فو ایا محبوب ہ ےک ہکوگی زبان ا سک مد مد نمی سک رق"
کوئی ا سکیتتربیف وت صیف نی سکرسکنا ہے اور ا سک یتحریف ونذصی ف کات ہی ادانمی کر
گس ہے ٹل نال سےکہ سب مخرب ومشرق اورجنوب دشال والے اں ےر او
رد لوان ہیں۔ ایدو ٘س کے سب عاشن ہیں دہی مال کی ہے۔
۵
ہرلہ کہ سلطان جیہاں خوابد کہ بد روۓے ور
از لیا ممللت آئنہ ی رارر* طلب
(جب سلطان جہاں خودا پان ویک ےکامتنی ہونا ہے فو وہ انی مللت کے ممٹوقوں
ی٤ا آیٌزط بے )۔
خال کا نات اود چہاں کے ما تک الد تال یکو اس دنیایس جب انان می اس دا
انی ان ظز فیاضیوں اور پہ بل رعنائیو ںکد ین کی بھی طلب ہہوتی ہے دو ان صن
کارپن اور مال پاشیو ںکوی اپنے ذر یچ ےکی دبکتا بللہ وو تذاس دنیا کےسن والوں
جک نظرسے سب پچحدد با ہے۔ یو ںبھی ہےکہ الد تل بھی انی ذرلیتوں سے اپ یکا مات
ری نک نظرف ماج ہ ےک جن ذرلیتوں سے ا سک مملککت کے چیدہ لوک د ینا ہا ںکود یت
۲
رن
وق کای فا رر و 7 کو طوز
انور ول ماج سیت اروف پا کر طرت
١ی خر کے وق تکوو طور پر لک یکیفیت طارگی ہوئی اور یں مخت دل پھر ے
اندرکھی طرب اورستی پیدا ہوگئی ۔ بداث تھا جلو وت نک یکیفی تک۷)۔
الد تا ی کا لوم جسرایا ٹوزاوررڈن ہوا ہے۔ ا یع 2 نیک ے تب
حضرت موی لٹا کوکوہ طور پر الد تبارک دتالی کا نورنظ رآیا۔ اس وقت اللہ نے سب پردے
اورتیآبات بٹ اکر اپنا جلدہ ایک ریشن ینک اور نو رای جحل فک صورت ٹل دکھایا ۔گویا جب غدا
کا و رآ شکار ہوا اس کے اٹ سے کو وطو ری کان رد ا۔ نی ال تھا یک گی وہ
ےکہ جو رک ےگمین دل بیس طرب او خوٹی' شارال اور اما طکاوہ نے رون جذہ پیدا
مرو تا سے ہس سے دہ عم اٹھتا ہے ۔کوو لو کی لرزی شکو رن کی ہکرخوب صن پر اکیاگیا
ہے۔ ھکیس بجاو ہت کی عم تک جیا نکیا لیا ےکہ اس" الیکا جمادا تک کبھی برار
ار ہوتاے۔
2
در گفل جے گن ىی رر 22 مر
ے ہادہ زارد رنگ و لا ۓ ام دار دکیف اب
(جنز کی ا ںیگل یش جب بن تی تھے شراب طوو رکا جام دی گے ا شرا بکا
0
قرآن یدن بھی اپ زاس انداز مر ای جن کےمشروپ کا ذکرفبیا ے۔''وہ
ایک دوسر ےکی جانب اس شراب کا جام پڑھار ہے ہوں گے جس مین شا لغویت ہوک اورنہ
ارک اتعلال '(۲۳:۵۲)۔ ”اور نہ ال میں نشے ہوگا زم درد مر (۱۹:۵۷)۔۔''اذر یں
اعتراف خدمت کے مل کےطود پروددگار پک شراب پلا گا (۹ع۴:2٢) نی می وہ
٢
رات طبر ہوکی ھجت مس سے بات کے جوانے کے ران پت ار سا
۰ جا مکا بھی ذکرفر مایا ے۔
ئٌ
می جاشن خود خواند مت نزدیک خو بط نزمت
جڑ فضل بے پایان صن ہیں راندائی تو عبب '
۱ (اے اش زارا مش نے ق جم خوداچا ماش کہا سے اور تھے اپے بیو مل ھا
ہے۔اس داوم اتال کے ہے پیا رفل کے ایرکز معو ہی ںکر ھت ۔
. ال کابندہ جب اجکام خداوند یی معوں ٹس پبردیکرتا ےن بندہ جب اضمان
کرت ہے طہارت ایا رکرتا صبرشگر ےکا م لیت ے تق کی کی زندگ ا رکرتا ےل پکل
کرت ہے اور معاشرے بی انصاف سےکام لیا نذ دہ خدا کا حیوب بن جاتا ہے ۔گویا غدا
ان اوضاف وا لک وکار بنرو ںکو پپند فرماتا سے او ریچھر ان پر اپٹی نتول اورعنایات و
نوازشا تکی ارزاٹی فرماتا ہے۔ الل مارک وتعالٰیٰ کے ان انعامات داگراما ٹگا ہا کا کیا
باعث ہے۔ ا لکی اصل ات و اللد بی جاہضا ےک دہ اس قد بے پایاں الطاف داگرام
0,77
ر|غ ۱
خنزکہ من مت شر بر وارد از مم وو ٠
وز غایت مک برد سرب سوئۓے کو ے طپ
(او کو لا کر کہ وہ اپے ش موس مست اداز یں اٹھا جا ہے اورپ راسی دای
اورستی کے ساتھیزشن ا نے کے گے پھاڑطرف پچلنا رجناہے )۔
اوٹ ہی پگیا مرو سے بل نلوفا تک ہرایک ہو دو گار ہے ۔اس کے اندر
ایت ا سے اسراردورغوز ہی ںکمران پپنفل انسان دنک رہ انی ہے۔ اونف : ٹ یکو اس کے
کے انددٹی اد یرد ظا ال ریب دفر یب اود مصاع ودرا جات یش ہی کہ
چد یت ین ۔ان سبھ یش کت لک رای ہے۔ او کے بیرد نام یں ا لام ا کیکھالی
۲۲۴۳
ای کون اس سے نے ا سکی یں ا سک میں اوراں ک ےگدی نا پاوں سب مو ھ
عیاتبات یف ہیں۔ پچ راس اوٹ کے اندد جذ بہ خدمت موجود ہ ےک دہ منوں بوچھ اٹھاکر
اٌی ھی راہوں پرکگی ایک ستی کےساتھ چا رتا ہے۔ لغاو تن ںکرتا-
رت
او محصیت راااگ۰یم طاعت کر ور رو تو
رعت کر پر عاعین آرشر مزا وار مضپ
زرتڑںاررکٹٹرن والا رب اپ گرم وعنایت سے ضشرکے و گناہ اورعصیا ںکو
بھی برل د ےگا اور اس رح عاصیو ںکوچھی ای رممت سےنواز د ےگاکہ جوغضب اہی کے
تح دارہوں ٤ )۔
اس شعر می ال ارک وتھا یک بے پنہ ہمتوں ا سک بخشٰشوں' ا سکی رھ یکی
ذوں اورا سک خفرالی خظمتوں اور وسمن ل کا رپا رانمداز میس ڈک کیا گیا ہے۔اللد تھا یکا
رم ظم دنا یہاں یں رتمتوں اورانعامات کے بعد بیم نٹ کے جوالے ے تایاگیا و
اس ہشام گج رمۓ اڈماٹوں کےنٹور کے د نکہ جب لیا انا نک کوک رش ا کی کےکاع یں
ۓ گا اور بش ستوصرف اورصرف اپئی یکر داش ن گی ہوگی ۔ اس وق بھی الل تھی تی
گمہگاروں پر اپٹی رکٹیں فرماۓگا۔ دہ بہت بڑا صاحب نغفراان ہے اس دن وہ اپےے ایے
گنا ہگاروں اور عاصیوا ںکوگگی نی د کیہ جو اص فو سزاوار غیظا وخحض بفہرے ہوۓ
یں گے“ لین الہ تھا ی چوک فور اور تی مبھی سےا ے ووسب پردعمت بی فرماۓگا۔اور
س بگناہگارو لکویھی اپنے داکن رہمت اور داما ن خفران سن لے ےا
رك
آں لوسش گنوالں کی ایک درا ازار مر
کیں مات پاذاریاں دارن فریاد و موی
(اکر وہ بیس فکنتعاں' مصر کے ازار یش موجوزنڑیں ہے و پاژار کے وگول جٹل ہے
اقطراب اورٹورشغ بکوں پایا جانا ے )۔
۴۳۴
یس فکنعاں اود بازا رفص کے حوالنے سے ان انقصص میس ے قصہ وف انا کی
جان بلس اشار وکیا گیا ےکیوکلہ جب حخرت ایسف اٹلا کو بازا رم رم فوخ تکی چا ہا
تھا اس وت لوگو ںکا ایک انب کیرش یدارو کی صورت یل موجودتھا اورٹجرٹس ایک ہگا
اود پر شور ماحول تھا۔ اس از دجام کے ہوانے سے ایا گیا ےکہ با ارم ریس لوسف تا
نہیں لیکن لوکو ںکا اجوہ اورشوروشغ بک ہ2 ے۔ یہاں میں لوسف فلا کو مرو
اخمھارت بھی تھا میا ے۔
رف
گیا جا زین ا ا وا از ود برا
کت درییمت چوں ور دل شر فتریل علب
(ا ےگ الد گن ٹور غرا م باعث تیرے دل کے انور تا رش ے الاک بل
کے اندر تن نور انشاں ستار و متن* ۰وب درگ" کے اور ضط بکی دو پے شال تل سے
جج سک ری مال ہوثی ہے) اس جوائے سے بیکگی قایاگیا یا کہ پرطر ےو اور زی
ک خ اشقا ی 7 ذات :ی ے اور ای کا پرطرف ورظہور ےاورسہب کووہی ور اور ری عطا
غرا ٤ے امن مت رآ دی بھی ارشادسةجود ےک ال تھی بی کا کا تکوفورعطا
گے والا ے۔' (35:24) ۔ اور بیگا ہ ےک ال کا ورکوئی مادی ٹورت٠یں مو و
ھت اویم داش اریم وفراس تکی رشن حال ہے اور ا یکا چچاروں طر فظہور ےن
اس مر دڈشنی اہ مادی ہو چا ےکر ویر کی رشن سب ایل توالی یک عطا وا
ںیم
: ۱ 0
727 لیگ خردیٰ ور ات
+2 آم زمتی ے چٌّ
(اے میرے ہندے !گر نے پھنگ پا ہے جا شراب پا ہے بیکوگی یڑ ےگنا ہیں
۳|
ہیں می ریا رحمت بت ب ڑگ ہے۔ اکر قب کر نے کی ےکی تر دداورتال ین یل
دو ںگا)۔ ۱
ا شعریں دو اناو ں کی بات ہے ایک طرف ث6 اور بر ے کے اع مال پر اور
دوسری طرف اللہ اور الٹ گی 9 اور رمت غقرا نکی وت و ےرا تلق اا یی
ایک جانب عبد سے اور دوسرکی جاب مججود با اسیک طرف غالق ہے اور دوسرکی طرف ال ںکا
بند. بند؟ کے ساتقھ کی طرف سے بندہٹواز یال موجود ہیں ۔ بن ےکی السا لی مک کے بعد
سا راہ سے الد ٹاک مع اوززعت ہے لکن ش رماصرف یہ ہ کہ بن ؟ اپتا دا کو بد کر
الد راہ پر2 آجاۓ راد اے سب چو مخاف فربادیتا ہے۔
ر2
1 خلا کروی گ کل ام
ور ھا رائی.. اب
(اگرف کوٹ یکنا کر بیٹھے فو اس کے بارے میں میرے سان ےکہرد ےک بھ س ےگناہ
سرزدہوگیا ےت ا پ می تیر ےتا مگمناوٹ مر کےٹ اب میں بل دو ںگا-)
اتارک وتعالی اپنے بنرے سےفر 2ا کہاگ چھ ےب یکوئی خطا گنا رز ہو
جا فذ میرے سامئے اپٹی زبان سے اکا اقرارکر ل ےکہ بجھ سے میہگناہ بویا ہےے۔ می تا
اق راکنا یگویا ایک ط رع کی تیر جاب سے وہ ہے ۔ برا اس پر مشش ایک فو تمہارے ان
گناو ںکو نی دوںگا اور بج یٹنیس بگ ہگن ہو ںکوئیکیوں میں بل دو ں گا جال میں ا کا
اب لے۔ اس یں منظ یی ذ کر کے ا دکی جائب مراججعتکرن ےکا مطلب بیہ ےک
انما ن کت اور اصلاج کے بعد ایل تھا کی تق ابی تکارفر اہول سے '(۱۹۶:۴)۔ ای طرح
ہیں گن ےک ہاگ رکوئ ینس ”انی سا تکاضنات سے بدل دے فو اس ےگھی توب ہکہا جاتا
ے۔'(۰:۲۸ھ)
۲۵
ظص”
کے صاب ان گار رہت شا
0 ا اھر شاہ ان رپ
(پادشاہ ا یگگداگر ےبھی باز پہی ںی سکرتا مہ جوگدامگرشانی بادر بی خان ے روڈ
کھا چکاادر الپ چا ھ)۔
یہال پر شاہ اود شاقی بادر تی خانہ سے مراد الہ تمارک و تعاٹیٰ اور ا کا نقت خانہ
کا نات ہے او رگد اگر سے مرادانسان ہے۔ اہ رے انسان سدا اپ اد نل
تمیاکے بادر تی نمانے شس ےکھا تا چنا ہے۔ ان لیے گرا بندہ ےکم کوک خللی یاگناہ
سرزد ہو جاۓ ایی صورت یں اش تما ی اسےاپے باوہ یا سے دورکیں جٹا تا۔ اس شعرمیں
ال تا کیا رب می تک شا نج میا نکگئی ے۔
ز۵9
پر 7 .۲ار ٦
لہ رہ 29 مین وچ اچ
(اے مر ےگپر ندال ام بعارے بنلرے ہو اور بی اھر جھارگی ششریعت شش ےک ہر
چند جھ بنلد ہگن ہوں پرق برک لے اس کے نے ہم برصورت قذاب ہیں )۔
اللدتھاٹی سے بناۓ ہوۓ جو غی رمتہرل اصول ستفبل اقدار ہیں وہی اللہ ارک و
تال یک شرییت ہے۔ یے انساوں پر ےق مکرن''انسانو ںکو بلا اتیاز زذق یم پان 'انمانو ںکی
دعاؤ ںکوسمنا اود انسمافوں پر اپے انعابات پھادرکرن' یسب ال کی شریعت ہیں ۔ ای طرح
انان ںکی قو کویھی تقو لکرن بھی شر ال بش سے ہے۔اس لے جوا دک بندہ سے اگر وہ
ق کر ےو اللتھالی ا ے ضر درقجول فرماجا ہے بت رآ نجیر جن تقابات نپ یو ںی تا
گیا ےک اللدتعالیٰ نے قوذ برکرنے والو ںکی طرف لوق ہے ہیی فو کر ےا ودای الا
کر ےت الل تال بے شک اسے ما فکرد یا ے۔''(۳۹:۵)
8
۵
تم رشن ا ڑا شی . یم
رو آواز او رک و لوپ ات
(اے بنرے!) (یمس تیر عم جو تیرے مقائل دالک گی رہوگا اسے روز جش رتیرے
قذاب دانے اعمال دےکرخو شکردو لگا )۔
یھ یگویا الد تما ی کا اون اور لا ہک وو مظلوم مگ کی بھی فریا دک بھی ضرورتتا
ہے۔ قیامت کے دن بندے کے ین ال کا داکن تھے ہوے ہوں ےک جن کے ساتھ
نلم اور زیادتا کت 2 ہےاس ط رع ال تعالی ا روز نال مکی ٹچیاں مظلو مکود ےکر ا ے
وی لکر ذ ےگا۔ اس جوا نے ےکی احادیٹ میں ب یفص رح ہے۔مظلو مکوشعم قرار
دےکرایں کے مقام اور ابی تکوڈیادہ دا کیا اکیاگیا ے۔
رلی
زا شی نی کی وا ہے یڑا
نع ج17 بدانہ لی امام رواش
(ارشاد ہاری تا ےکا نے ّڑے! یس میں مین رات کے وق ت خواب ے پیدار
کرتاہوں اکب اے مخدا ہک مجھے پیارے)۔
اشتعا یٰ یزیر ہر سکودات کے لات کھڑی خی ین نے بیدا رگرتا ےت اکہدہ
اکر چا ہے و اپنے پروددگارکو یا دکرے اوراسں سے دعاکرے ای رح ال اپے 1)
ا ںکیگرای اورقفلت جس ا سے ضرور ایک ہار اصاک دلا دچا 0ب5 اخ ے
. اھ پا ز٦ گرراہ راست پآ ا چاےلو کھولی وہ راہ راس 7 رآ جاے۔ اور جو الل کی طرف
بڑھتا ہے ادا کی طرف بڑھتا ےس گا ا پروردگا رکا قالون اور ارہ تع
كخأ
2
پیں زا سطان گرقت ار . پتاہ
کور ار جا با آ و ات
(جب سلطان نے یں اپٹی پنہ یس لے لیا ہے ےب شی ںی ملک دانقلا بکاکوئی
ٹمس ہنا اے )کک
د کہ جو تل کک بادشاہ ہے۔ اگ رذ ا لک شا اود می کے مطاتی زنگی رکرر ہا سے
دای نے تے کی اہ ا رحظ جس لے رکھا ہےنذ کر گویا ا سکی ڈگاہ ٹس ہے۔ اسے
تمہاز یگ اور پرواہ 2 ۸02
بل نا کا انا ب کا نم دائھ یس ہون اہی ال ق اس صورت می کو اھ نہیں
آ ےگا اور فرش ما لکوئی انا بی صورت پیدا ہوگی تذ ووضرورسنجال لگا۔ یہ بندہ اور خالقی
کیا دہ ددقی ہے جس کے بارے می قرآن ید یش ارشادموجود ےکی اس دوتی میں ان
لوگوں کے لیے (اولیاء کے لیے مکوگی خوف وحزننئیش ہو“ (۷۷۷۲:۱۰)
ٌ۸ ٍ
ان اتک ق۷٠ راگن سیت
ا ا ا ا یا
(م نے سی انا دوست ہنارکھا ہے۔ یراک وق کاشمر ہے ہم ن تھی اپ ےعشی :
دائم تبادد بر بادکررکھا ے )۔
دوست بنا یا دوست بناناکوئی معمو بات نیس ہے لان اس دو کی باہش سے
اورشن سدا تقاضا اکرتا ےق بای کا۔ یہ ایک داد پر غار ہے بیعش یک گیا اساس ہی بجی سے
کرااس یل ابا آ پگنوانا پڑت ے ۔ دا نع ہونے کے لے قرب نںگا ہہ من رذع رہنا ہا
ہے یش کا1 مین یا دذ کی لازدال جار نے۔
“,70۰۰۰۰۳
دوست ہز ۳ك عذاب
(بواو ےی تم میرے عذاب ےک بتک ڈور تے رہو گے !کیا دوست ا روست
کو پھلا بنا ئۓ عزاب رگتا ے؟)۔
جان لیا چابیےکہ تچ واشتوں کے لے دوس تکی دق بی سب بچچھ ہولی ے۔
یس اس وت یک یکو ی بڑ بھی قر انی یا قبت دبٹی پڑے دہ ال لکیابھی پروی سکرتے۔ جھ
چا عاش ہوتا ہے اسے ےکی سے ہٹوک تقر بای دیے کے بعدیی برا اک رہتا ےکا و
یہ ہے ادا نہ ہوا“ اسی میں اس کے لیے سکون اور راحت ہوقی ہے لان اص حالت فو یہ
ےکوی روست7 ا دوست کے لے عزاب انیل اکرتاں۔
رت
عر وضو وا ای ا کو و
ہر نر مں 22 لوا جا
زیر ےن وناز کے زی مکوگ مرن ےکی اط راورخرورق نے کے ےپ می تم پہ
ابناعزاب از لکرتے رتچ یں )۔
سن و مال پر نا خرور اور نان لکرنا بجا یجن یر سب جذ بے باعث جا اور
موجب پر بادگی ہوتے ہیں . اگ رکوئی اس طرع کے جذ ب ےکا شکار ہو جائے فو دو یست و نود
ہوکررہ چاتا ہے رود اورگبر میں ہش میم ہوٹی نے اور نظظا مکا نات 22 ا ا
ہوانے سے خسن میں قرار یا تا۔ میک غیرانسالی رڈ ہے۔ ای لیے الڈدتعالی انسانوں شش
اس ہز نے کوک مکرن ےکی اط ریم یبھار اپ غاب کا راف تار ہت ہے۔
ات
زللگ
لی روا سی ۔ لمکا الں دیزار من
لیے یا ودوا ا مرو ام الں اس
(میرا یراز ترے لیے وت ہے ووصرف تیرے بی لیے ہےگو با مس نے اپنے اس
آفا بکوٹھوزڑے کے ل خوش سک ردکھا ہے )۔
اس شع می سبھی دوا چا ئؤو کا ذکمر ہے ایک انچ خہابیت ال اذہ سے اور دوسری انچا
ای کیم الپغے ستارہ نی آخاب ہے۔ بیگھی اشارہ ےک بلحاظ مظام دمرجبراورحیثیت کے
اظٹپارے بنرے اود اس کے پروردگار خداک یکوئی نہدت ب یی ہی _ بندہ اور ا کا نت
انی بھی انشبار ےکی ضبت می نہیں ے لن ازاراوکرم او دن تے پان سے ال
توالی بن نے نے ف ربا نی ےک ھازا ارتا رنۓ لیے وق نے نا ان ںجنغ بیس ق ران
ارشادموجود س ےک ”موی نکو ان رکا لقاء عیب ہوگا''_ (44:33)۔ بنر ےک ال کا لقاء
نعییب ہونا بھی ذر ےکی فاط رقاب کا وقف ہونا ہے ۔ اس میس ظا ہری طو برکھی انال
حیڈیت اور متقام داوند یکو اہ رکیاگیا ہے ہرصورت پیرسسارکی صورت حال انسان کے لی
ایک نہای تیم الشان مقام ہے۔
یی ا ا کر روزںی ری
02 17 ایت رہ اج افطراب
( دوزغ سے ڈدتا سے اور دوزغ بجھ سے ڈرتا ہے۔ ال لیے تم اس دوزرغ سے
حخطرب ہوکر پرگز نہ ڈراکرو)
پروددگارکی بتائی ہوئی ہر اس کے قانون اورماعرے کے مائع سے اور دہ ذ دہ گھر
نی اور غاد کی مر نیس ہوئی ۔ اسی طرح جضت او جن مبھی اد توالی کے نم اورف مان
ہے ماع میں 0 رتا ہے شابدای لیے دہ کوک کی کے بئرہ توالشد
تعالی ے سرا روڈ ے پیاہ انا رتاے وہ دوزرٔ الله کی رک یں کر بئرہکو
رہ
ایے/ردہدوزخ سے ندڈرے مگہاپے اللد سے ڈر ےگل سےسب رت ہیں۔
رف۵
ور جم گر مر دی من مگویٹل
(اگ رو بش محال دوزرغ میس چلا ھی گیا تو میں سجن مکوعم دو ں گا کہ ذو کے نہ
جلا نے ۔ شددہ گے اندر سے جا ۓ اود تیکبا بک رح باہر سے جلاۓ )۔
ان شع می بھی وبی ف بیا نگیاگیا س ےک جم اپنی تام تز نچ اورددد نا کآن کک
لپٹوں سیت الد کےعم کے بائع ہے۔ چیم چا ےکتنا بھی بڑ او کنا تی بھ یا ککیوں شب
لیکن وو خودبنو دس کون جلا تۓےگا اورۓ,وہ ا سی مضی سے لوگو ںکواپا اجگن انار
گ۔ وہ اللد ےمم کے جائع ہوگا۔ نس طرع نرودکی گج کائی وی آگ الش کے جائ گی ۔
قرآن مید ٹیس ارشادموجد ےکی کافزوں نے (حعفرت )ابر ا کیم وا کوآگ می ڈال دیا۔
یم ن ےآ ککویم دیالکہا ےئگ ابرا میم پہ ےرات (باز )ہو جا اور اس کے لیے لات
من جا۔'(۹:۳۱٦)
“
وق یو و ات سا
میا زی ا وا نام ماب
(الشتعالی انی نر ےت 9ات ےک یی خود جرگ دعاان پآ نکتا ہوںج کہ
یں جورکی دعاؤ ںکوقولیت بنٹوں )۔
بنرےکی اپ پروردگار سے لت استند ما درخواست اووزططلمن کر نکیا ااکو دعا کہا
جانا ہے۔ بندویہمانناعی ال سے ہہ ےکہ جو دعاڈ لکوقو لکن ےکا ججاڑ اور زادار ہے ۔بنخلض
جوالون سے بن ےکا دھا اکنا بھی عبادت ہےب ان یں منظر میں بند ہق جب اللہ ے دعا
اکنا ہے اس بی ال تارک وتعالی خودآمی نکہتا ہے الف جار تما یکا آش نکہنایہ ےکہ
اللہ تھا لی دعاؤ نکوقبول ف راتا ہے لد ےکی دعاؤ نکوقو کرن اللد تھا کی بندے پہ بے
۵۱
انا شخقت اوررچھی ہے اوردع اکر نے کے لکوازلد تی پیندفرماتا ہے۔اسی ےق رن مس
ارشاد بادگا ےگ ہا ےرسول !ان ہےکہدد تچ کراپنے الل سے دع اکرو ۔ ای ہے ال دکہہ
کرد کرو یا رش نکھدکر اس بھی نام ےن (2ا:+۱)
۵
0 با ئا کل ام و مم
3 اٹ روا ور 3 باب
(ئی الدی نکو بیس نے اس وقت سے بل درکھا جک جب ام کا کات کی بجر
بھی موجو زی تی )نز
اللدتبارک وتعالیٰ نے اپنے یک بنعزو کال وقت ہے بش رک :0-29
انان پیا یی ہواتھا۔ نے خاا یرم الس تک جاب اشارہ ےکہ جب سب اروا نے
ال تفای کے اس سوالی کہ ”لمت جنگ ( کیا یش تمہادا ر ب نیش ہوں ) تو ال وقت
روجوضں ےرا اور واگسار ات رارگیا تھا ”نی زی کیوں ہیں و اي مارارب ے)۔
وی دن روڑ اتی پردردگارل الوہیت پل وقرارکا ون گی ہے۔ایا روز الدتما ی ےۓے
اپنے یک بنلدو نکوا نکی دوجو بی کے جوا نے سے پنش دیا تھا
زلم
۵
ان :ٹھاان ۱ لا بزای. ناریا گراب
عاشقان ر لا زاہاپی- ما با .ول باب
(اسنے پرو رزگ گر نے اپے لاب لی تن و جالی پر سے نقاب نہ ایا لا الام
کے تیر ماشقون شک رباکا این )نا
جا کن کے بارے میں بی عاشتقا نف کی سدا آرزواوزطلب ری ےکددہ ظاہ رہو
کھرز ہے ایک عاش نی حضرت موکیا فنلا نے د یراد ال کی جب شرت کے سناتوطلی بکی تو
۵۲۳
ال ارک وتھالی نے ان سےفر مایا تھاکرتخ یجھے پرکزننیں دکھسکو کے لیکن جب اپنی قو مک
ضد پر رت موی فلا کی طلب ع روج پ کی فذ ال تجارک و تی نے ایک ہی دکھائی جس
سے حفرت موی ملا بے ہیل ہو گے اور پہاڑکا پچھحع ہت لگیا اورقوم موی بے ےکئی افراد
بھی اس آگ سے بل مین ۔ اس شع ریس جال لایزالی اور عاشتقان لا ابا ی کی غمالیٰ بت
فا بھی بڑ مجن ٛے۔
2
صرر جک ا ہے و نک یں
مہ ہائے عاشتاں مئی طاب ائ دہ ططاب
(اکر جن تکا صمدر یامیر بے دست ہوک رشھم کےگہرے تر ین لبق می بھی چلا جا تو
جھ پچ ادرصادق عاش ہیں دودان پرجگی طناب اندرطناب اپے شی ےگاڑ د یی گے )۔
جن کا جو مالک ہے یادہ جو جن تکا صدراورمیر ہے یتیک ل ےکم را نے اپنا ھکانا
جم کا وہ طبقہکہ جو بہ تگہرا سے اورجیس میں خہایت شد ید جلا نے دالی آگ تہ بہتہہ ڑگ
ہوگی سے اسے بنا ےو جوصادقی اور معنوں میں عاشن ہیں د ہگ سے ال فں ہوں
2 بن وف مان بھاصلح خی خی اورکما ںکشاں اس ٹم میں بھی نے گاڑکر ا نکی
ای کس دی ے۔ یں اس سے مرڈکازئیس با واش نکی اط ری ںک نگ پا ہم
میں ھک کر نا پٹ دہاے۔
رك
فاصضرات الطرف مجن پاشر جران ہشت
ہرک شد کون نظ رگو سے ایال می خَُابْ
:۰ (حشرییس دولویک کت وط یجن یکم ظرف ہوں کے وو سب چچھ موک راع وسکون
کی نا ط رکفو ظا گا ہوں والی ہورو لک جاشب جانے کے لیے جللد یر سی گے )ن
اکٹ دیکھا گیا ہے اننما نکیا سارک حبادت ایک جاخب دوز رخ سے پنا ہی خاطر اور
دوسرکی جا حول جفت ہی کے لے ہولی ہے۔ اس لیے انسان ےمد رد ہے اوررہقان
۳ن۵
بجی ہیں ج نکی جانب اس شع ریش اشار کیا گیا ہے۔”تقاصرات الطرف جن ت کا سن
رین جوزو ںک نما درگ کرنے والی وہ نویس میں جھ باحااوروظا اہول دالی ہو ںگ
جن کے پارے شی رواش یس اکا سے امک یں کے لے باب ہوں گے
ینیم داوکو ںکا شیبو یں ہوگا لو کواون کم طرف لوگوں 021
ر"
ماشقاں نے ہر خواہنر ے ہشت از ببرآن
قازقت اق رانا شال غافان نز غراب
(وہ ج زراصسل اللہ کے چان والے ہیں انیس نہ جن تکی خوا کش ہوگی اور شرورول
71 رر 029
نٹ اور جن کے اند رک یمگونا ںگوں نتوں جن میس انا نکی مواشت کے لیے
حور بھی ہو ںگی۔ ا نکی طلب وآ رز وصرف مادکی د نیا کے مادہپرست لوگ ہیک کی گے۔
لین ان کے برخلاف دولوک جو اللہ کے ماش ہہوں کے ا نکی نظ بیس جننت اورائں
کے اند رکی سمارکی خوب صورتیال' رعنائیاں اور حودو ںکی دلربا یا ںکوئی مع ادرحثی ت نل
ریھتیں۔ دہ باشقان صدرق ومغا صرف اللہ ی کی طل بکرنے والے ہوں گے۔ ان چچے
عاشقو نکی رر حالت عائیلوگوں کے سا سے خاخال خر اب لوکو کی ہی ہوگی۔
۵
دہ ار ے عاختاں پيقں ات ہج
صربرآرند بادل 4 کی و مم 4 اک
0ئ ہسکرک اتب نز مہ یھر ک7 نی نان ہے
کت عق سکس رون فو لی
الد کے عاشتو ںک یجش ر کے دن یکیفیت ہہوگ یکہدہ جب اپ قجروں میں سے باہر
یں سے نو ںکو یکسی طر کا خف اورخطرونڑیں ہوگا. یں دوزغ کی بھ یلین ہوگی
اورۓ وہ ارم سے پان ہوں گے ودلو چوللہ پے ہی دیدا رق نکی طلب میں سوخت چال
۵۳
4و پچ وں گے۔ ان کے ولوں کے اند ہگ بآ گ وی اورا نک یآہنکھی ںبھ یکویا آگ
سے فی لا وو نگل :
لغ
ادل روح می گرید و می گور کؤا؟
رو وعر؛ٴ ریزار خُر روز صاپ
(امے ؟منفسوا ہم اپے دل روح کے ساتھدروئیں اور یہ پگاد یں گ ےک کہاں سے
0 جس نے ہمارے سات وعد کیا ھکد دہ قامت میں یڑل ابنادیداردےگا)_
عاشفائن جن صا ب کاب کے ون لتقائۓ در( کی تڈپ اود طلنن میں ھی دل کے
ہاتھ ردرے ہوں نو پار پگا رک ےکہہدے ہوں گےکہ ہار ےقلب ونظ رک کون اور
مار لق آرڑوەّلں اورطل کا دنع نظرکیان کر ے2 ہمادے ساتھ اپ دیرا رکاوعرہ
کردرکھا تم نے جس کے انظار می بے پا ہکن ز ما ےگزارے ہیں اب دہ ہم سےاکھی
تک پشیدہکیوں ے؟
2
ہے ماغاشی عاات کی وف روز عفد
نز صف بگانان ایا کور جا
(ئی الد ی! ضر کے روز ناوات اور بیگانو ںکی صف یش ہم تیرے جما کا دیدار
ککرنے می نا کام رہ ےکیاورت می ار بی ےک ان یت تر اب ا ےکا لآرج میس
ھی کا ۷ )۔
اللہ چارگ وتما یٰکاوعرہ ےکدہ انچ کت بنلدو نکواپنے دیدار سے شرف فرماۓ
گا۔ انسائن اس دنیاۓ فالی یش مروف سفر ہے ما نک یوک سے نےکر مو کی خوش کک
مسلسل سفزسفرددسڑاصل منو لکی طرف سفزای من کی طرف سب نے چنا ہے اور سب
کی خوائش اور طلب تق تعالی کا دیدار ہے ۔ لکن اکر رون قامت عاشقان تن اپنے پرود گار
کے ال ےہھرو مر ہے فو دہ یکار یی گ ےکم ےکاشل ھی کے بے ھ
۵۵
قرآن بی میس 'ل یلچن ی کت تر اب جوا ہکفادآیا ےک ”کاخر انی بریملیوں کے
شدیداصساس می ڈو بک کی گا کہ ) ا ےکاش یس (اس روز عذاب د یھ سے پیل ی )
می ہوجاتا۔'(2۸:)۔
ررلفںتا
رںم
٤0
ا ا ا وی کا
برکلند سان حخرت تر را خشت خثت
(اگکر جنت میں عاشقان مس تک جما ل تن نر دکھالی دی و وو ٹشرٹ کےتصوراؤ زحلات
کے درد د لوا رکوامنٹ ابوش کم دک گے )۲ک
اس دنا جہاں مس ارٹھ تھا ی کے جھ پچ عاش ہیں دہ ہر رح کے معداب' مکلات
او روپ سے مال کے صددے اودہہجر وفراقی کے ا الاڈ ائیں دیاری
لزات اورآ۔اکؤں ےکوئی سردکارنٹس ×۶۔ دہ دا س ےکا عہدے یا منص بک مھ یکوئی
آرزداورطل نی ںکرۓ وہ ان سب ے ماورگی ہوک رآ خر تک اننظارکرتے رت ے ہیں اور
اص دی اورایادی زذ اکودہ پکادکی شی ت گنن دہیت۔ ا نکی مرا مآخرت پنظ رہوی
ےک کب قیامت ہواورتاۓ الیکا وعدہ را بہودہ عاشقا نت چو پیل قام تکا انار
کرتے تے۔ قیام تآئی اور انیس الشتبارک وتعالی نے اپ ےنضل وکرم ے پہشت عطا فیا
دیا او کہشت می لقا ےت کا وعدہ سے۔ اس لیے اپ دہ مز یو انار اورلو ن کو برواشت
ھی سکر سیت ۔ اکر یں اود اتنظارکرنا ڑا تق وہ جن تکی ابینٹ سے اینٹ بد سی گےب ران
لوک کی حدم یکی صور تین ہے بکمہ یٹ سرامرا نکیا بپدتال یک یکیفیت ے۔
۵٦
2
مج تقالی ہیں ربز پر بنگاں ہام ظور
کاسہ بتاخم وا آں کاسے دہ خراٹم بہشت
(جب بی تعالی اپنے بندگاان و یکو جام طپور سے فوازبسی کے تو ا دق جام >
جام چڑہھارے ہوں گے سح یں ہم دنن جامو ںکوا جا میں گے )۔
ال جن تکوالڈد ارک وتواٹی نے حشریاب طجورعطا فر مان کاوعدو خر مارکھا ہے اور ال
می کوئی مرک وشبرنئی ںک چھ مع روبات نت ٹین الد تھال یی جاب میس کے دو خوڑل
ذائقہ ون رنگ خونل باس اورلذ یگھی بہوں گے۔ الع سے انسان می ںکیدر پانگون پی ان
ہوگا۔ مومنو کو باور سی جاموں یس اور دتۓے دا ل ےکا سوں میس شراب طور لٹ گی ۔گویا ان
سے انسا نک ہر رح گیا پا یی ےگ اود جمالیانی و نبھی ہلوگ دہ پاک شراب کے ہام
ہوں گے اع سے انا نکوا ےل کرد ہے والاخمارنجیس پیر ہوگا بل ایک خائ اش مکی باہش
مت اوس ست ہوگی سی اس س رسک ہی کا نججہ ہوگا کم عاشقان تیادہ سے زیادہ جا نیش
رن ےکی اط زن نت می بھی اس قز نین ہو اور ادداک ہوگاکہ ذوکنتی می کو
کی گت امیس اس غاکئ کے باعثت زا باریس رآ بکین۔
َ ۳2 :
ہر ورغشت ول امید مل تو کرریم نل
ور:رو :1 ازیی مارا پاشر گشت
زم ضنے اناو کے درخت پر نے وا نکی 1سس امی کش شک رکا ہے مرا
شش ان جیرے ھی وک سے ہے۔ دوفون جہاں جس ان 2 ء07۶
نات
عامطور نأ اش یی دوش جوسئی دزشت کے ےب اس نکی مچھا کاٹ اورکرید
کرکھا جاتا۔ دہ مد کک برقر ارتا ہے اکی لیے الل کا جیا عاش یہنا ےکس نے اپنے دی
ے۵
کے درخت پرامید پ٥ لت کو پت ترانداز می پفش کر رکھا سے اب دہ ایک مت کر بن پگ
ہے۔ ا رم بندہ اس ام سے ایک لفظہ کے لیےبھی خاٹل او ا امنیس ہویکتا کیہ دہ
نک ا کے ورخت می ںگہراگی میک مشش ہو گے ہیں آور پھر دل کا درشت اور سپ
نبا ا لی اورز زگی سی علایس ہیں او ریس امی کی نظ راو رآ سکیف رر سے دمیکھ ا گیا ہے ۔ اود ای
نی ےکہاگیا ےکردلی کے درخت می ںگہرائی پر جوامید کاشش بد سے ہیں تی پوئیس گے
اذراسں کے بعداس سےگیتی بنےگی۔ دوٰوں عالم مین اس کے لیر ہمادی اورک یھی یں
ہے :نی امید کے ئ بد ہد میں دوکھیتی پردان چڑھےگی۔
ر"
کیک صر موۓ نپاشد خالی از وداۓ دوست
ور ھر ایں ۔وداست ارا تاپاہر ہرلوشت
(روسمت کش اورسودا سے ہمار ہے کا ایک با ل بھی خال یں ہے گیا مارگ
سروشت دی می ازل سے یش اورسوداکھا ہوا ہے ب)
دورست کےمشق میں ہم مرتاپا تجکڑے ہد ہیں ۔ ہمارے جم کا ایک ایک بای اور
اک ایک رڈان فی دو نے مور سے خی کے سودا اور دواگی نے برا نہوا سے بش
اورسوزا ہار یقن می کھا ہوا ے. اتی کے سا تن ےلم ےلین ہیں یعفقی لی نے بای
پا اود میں رومیں می سایا ہوا سے۔ اب تو شف ھی ہوا را اوڑضنا اور مچھونا بنا ہوا ے۔یشی
سی لا ان ان لاسرا کی گی رس
شب کی بدوات ہے۔ بیکوگی آ کی اورنی با تین ے بکنہ بیو شردر دن یا سےکاتب
زمر نیدی تھا جس کے باعت ١ھ سداسدا کے اورازل ہی مکش کےسودائی ہیں
اکلہ خد حر رش نت مو ہت
اگیم نت مارا از کدائی کیک و زشت
(ہرایک کے بنت کے پارے مین پیل ای ادن ےکھھا جا کا ےشن برای
۵۸
صورت شی تجران ہو ل کہ ہمارے بت کےےکی یی شی یا برا کان پنلآی ا
یا حوالوں سے یدانم ہوتا ےک اللتبارک وتھالی نے بش کے مقدر اور نظ کو
رو دن ھی سے مقردفرما رکھا ہے اور اش کے ال ےتوا ین ا کا نات یس کارف رما ہی ں کہ
اشیاۓ کانات ال قواین کے مطابَ زنگی ببس رکرنے پ یبور ہیں۔ دہ ان قوانین قررت
کے اندعی ذ ندک کسی طرعکیاخلاف ورزئی کے ایرکز اررجی ہیں ۔گویا انبا نبھی ای قوانن
کے ائدد ہی زمگی رکرتا ے اوریوں ہر سک وا سک مقدد متا ر ہا ہے۔ اس شھرمیس اس
جانب اشاد کیا گیا ےکہانسان اپنے ارادے اور خوائٹل سے پچ کھ ینمی ںکرسکا۔ جچ پھ اس
انان کے ذر یچ مرزد ہوتا رہتا ہے دہ تن نف کے مطا ہوتا ہے۔ پچ رای تصورت میں
مار ے یب کک کا مایا سفیر یا چا یا مان ارک میا ےکی ہے۔ بیسب
ازاوشزظزرے۔
رلغ
تانہ شلم رت را ای اعلہ حم سا
اذ میان: لہ ہا نگ رگ انڈر بشت
(ج بک نت مج مج اپےعحبوب دوس تکوگئیں دیکھوں گا۔ جنت کے رگا رگ
طوسمات ہیں سے رف سیاو رنگ ب یکو نے زکھو لگا رک می مر ےتسب عال ہہگا)۔
جن کی رگینیاں دنگوں اورخوشبووں سےمممور ہو پگ کی دنیاوئی رگ تکو جن تکی
یی ک ماگ قرارین دیا الک ہے۔ جن ت کا ہررنگ اود گی ای شال آپ دی ہوگی۔
اکچ جنت جس برطرف جن تکی نیو ںکیفراوالی اود ہرط رح کارنگ تیارا اود خائ طور پر
متاز ہوگا۔ ین اللر کے ہے عاشقو ںکو جن کی یگیزیوں اوررنگ پاشیوں ےکوی سردکار
یں ہدگا۔ ا ےت ےلب چارو ںکو ج بک ان کےعبدو بکی جحکک یں دکھا لی دے
گی۔ دہ سیاہ ای اود اضردکی یکا رگ افقیار سے رین گے دب بھی سیاء منک پنشیبی
حردی' ہج وفراقٰ ند ونم اور نا خوٹ کی نھاز یکمتا ہے .اس لیے ج بک نعاشقو ںکوان کا
سچاحیو ب گی دکھائی نیس د ےگا۔ دہ اپنے آ پکوی خوٹی کے اکن نی ں بھییں کے تی
یکو اغزیار یے ریس ئے۔ 7
۵۹
2
از کودیۓ عراکافر گو دیانہ ام
دہ می گرم نزأحم کہ کحبہ ست یا کنشت
(ش اپےےحیو بپکوحبدءکرتا ہول' یھ ےکافر نہوم تو د وا ہو میں تو ای داواگی
دای اود بادنتگی کی حالت می سکعبراور بت نخان ےکا نیز ےچگی عارکی ہو کا جو )۔
جن سکوسجدہ کیا جانا ہے وی سب سے ال بدا اور ال عبارت ہوتا ے۔ ایا
جادہا۔ کش کی دارگی یش اپے پیار ےحبوب ہکاحبدہکرد ہاہوی۔ اکر چہ ىہ ایگ
شرکانہادرکافرانیگل ہے ۔ لکن بی میرے بیس می یی ہے تق کی مسق میس ری سب ببجھ
ھول چکا ہوں اور می وجہ ہ ےکہ شھےکعبہ اور بت ان کچھ میٹ اتی نیس رہی۔ لڑنی ایک
مرک زخجلیات۱ - ےاودردھرا مقام مراسرکفروٹر ککا ج ابعاز
جن وو از 2 2 عاشتاں مگوں رووست
زائکہ از لھتفلی مجنوں :ران خوب و زشت
(امےلوگوا ذرا ا ت2 نہی! دہ جوحبو بک شی کا دوانہ سے دہ دوصرے اشتو ںکی نظر
کے سان س ےکی ےگز رر ےگا اے لو ان جنوان کے باعحث ایا با رک یتین
کی :
ج اپ خا ق تقی ٹن اپنے اصمل اور ہے ما تک کا داوانہاور ماش ہو جا ہے دہ پھر
دنا مافیھاسے بے نیاز ہو جات ہے۔ اسے دنادکی عشحاقی کےآ داب وق بانو ںکی ذو خررہق :
ہے ادز دی وی لی یکین ۷ پالد رہتاہے۔ اسے ہر ا سس اھ رکا یا ظفل دہتا گیا
درست ہے اورکیادرستت نین . جات چو کین طر کی ہے :دا جس زنگ کس ط رح سے
رکرٹی سے۔اس پر جنو لککارنگ اوخ٠ ہوتا ہے۔ اس لیے دوجنو کی خالت ینس آ تین
یت وی اد پآدا پکا پابٹرٹل رہتا ہے۔ اہے و اپتی اود ای راہ یبھ یکوگی خم نہیں
بولیئ۔
٦
رق
کے ام ہاں نا ان مطر ىی شر
ماشہ یا رن کس مرفت
(اگر خوشمبوؤ ںبھریی جن یس مر ےو بکی وار با خوشبو تہ ہوئی رہم عاشتو ںکا
دل ودماغعس طرع ے مطرر جج رہرگا)۔
شی کے رکون لن اور نے پناوٹھنون کک نت کے سمائ مات کرت ربتا
ہےب بزال ل گیا ےکہانسان دنگوں اورغوش و ںکاگردیدہ رتا ے ۔ اس ھوانے سے با
گیا ےکہ جنت بی درضنں' چتوں' شہنیوں' بچھولوں ادر چاو ںکی پ رر کی خوشبونیں ہوں
گیا۔ می خوشووئیں بناروںمیلو ں تک بی ہو ںگیا۔ عاش قح نْکہنا ےک اگ ان خوش وئوں میں
0 2 حو ب نیقی کی خوش لہ ہولی تو عاشتقان بن اور ما ان دپرار
خشپوؤں ےم عطوضتعر ہوگیں گے_۔
۵
یی تی ا چارہ چہ ازم چم
دل ببف ور للاۓ شش لٗ ہاں را کہشت
( یی الدی نکتا جوا میں کیا علا گرو گیا چا وکرول' کیاکرروں۔ میراول تو
ال ےش کی بلا مش جا کا ےمان جا نکو ہش تکی طلب ہے )۔
ارچ شردوالو ں کی دنا یش دل اور چان مل ڑا راپل او ہم آکگی ہوئی ےکن
ان پرشسم د ان دل کے تائع نیس ہین اود دوفوں میں ہ مآ تگی اور داہج نیس ہے لت
واد یش میں پرواہکناں ہے اوراے ای وادگی یع سکون اورقرار ہے ۔لجان سم وچان
جھ مادکی طلب کے پروردہ ہیں وہ جن کی مادی خوشٗیوں کےتعبول میس گے ہو ہیں ۔گویا
د لکن اورطلب بش ےاود جا نی او زط بک متلائی ہے۔ ان میں شک وش نی کہ
: روعانی سکوانغ کے لیے روعالی خذا ہوٹی ہے اور ماد کی اشھینا نکی مادی خذا ہوثی ہے ماد ےک
رو اوزرو ں7 ادوسکو نہیں دےکتا۔ مادے کے لیے مادہ ہے اود روج کے جیے روعالی
1
سی صر و شصت فظر راب بنرہ راست
27ء لو اہ ۱ز
(ال تھا ی فر انا ےک میں اپ بندے پر ہرروزجین سوساھ بارنظ رڈ الا ہوں۔ ال
بات سے اندازہ لگا کرمیرا ند ہکہاں کہا لک کہ گیا ے )-
الد ارک و تعالی نے انسا نکو اشرف اخلوقات بنایا سے اور اس پر اپ بے پناہ
داز شات اورعنایات ماد رکی ہیں ۔ ای انسمان بپ دی اد تال نے اپنا کلام نازل فرایا ہے چھ
اس سارک کانیا تکا تین تن ہے۔ انسان پر اللتوالی نے وگ جن کا اتا عکبیضردری قرار
دہا تاکددہ اپے خیوالی جذ با تکاوگی کے مطا استعا لک گے۔ اس انا نکو اللہ تھالی نے
ففضیل بھی چٹ یک اسے ایک ممدا کا لوم بناکرسمارگی دنا کا عائم منادیا۔ الکن نم ق رن
ید می بوں ارشادموجود ےک ہم نے انسا نکو ال کا تیات تی میس بے انا عمزت و
راز ادیپ( )از گر ٹس باز داب ارم وو ہوا ہوقوا ین
خداوندب یکا پابند ہوگا“۔ (۱۳:۴۹)۔ ہی دہی شمان بندگی ہے جن سکی جانب شع رش انار ہکیا
گیا ہے۔ ای لے اس پہ اللہ تارک وتھالی اپانظ رک فرماتاربتاے۔
ر2٤
اہ ال کی و اف و ا وو می
ا و اویل ا ا پا و مات
(فرایا جاد ہا ےکہاے بندے و ہم سے بے وفائی نکر اود جمارے در سے دور ثہ ہو
کیک یں قز تہارے ساتھ ازل سے نےکر ابد ککاتصلقی ما ہے )۔
پروردگارفرماتا ےکہاے میرے ند ے ! یس نے اس پوارکی کا کیا تکوتیرے تام بنا
و
کر رکھا ہے۔ تھے بہت بڑامقام ومرجبردے دیا ہے۔ اس صورت می کے بیز یا نی ہے
کلامم ے بے وفائ یککرے اور ہمارئے 3ر ے دوزرے ۔ الد تال ین بنرےکواتی راہ
پان اوراپٹی اتا کی دگدت دا ہے ۔کیونمہ ند ے کے لیے ال کی دا ہآ سا گی سے اور
مفی بھی ا ین میس قرآن می جس ارشاد ےک ہج اللکی طرف سے دی ہہوگ راہنمائیکا
اہا گر ٹا دوگراہ ہوگا مشقتوں کن پڑ گا۔/ (122:20)اشراور :تر ےکا ںا
اوررشندازل سے اب ک کا ے۔ بندہ ا دور جاسکتا ہیں ہے_
بے"
روۓ ناشتمھ 7 شر از پگ گناو
شا گرم لک آزوشت شوز رت ماست
( وہ تبرا نہ دھلا ہوا تچ ر گنا ہوں کیل ۓ اورھی میلا ہو چا ہے۔ ای لیے اسے
گرم پانی سے جو با جانا ہے۔ بی دراصل جمارکی زرحت اورکلمت ہے )۔
اس میس فی کی سک گناہو ںکامیل انساثی چچہروں کے اس جن وجنال ادراش نو رکو
دہ لیت ہے۔ ایس لیے سےکہ رہ ہی تو انسانی باف۲ نا آئینہدار ہوتا ہے چوکمہ بر حصیال اور
نا ہو ںکی تا بی اوریل بی ےھر ہو ہے اس نی ضردری ےگا سکوگرم ای سے جع
لوک صاف آو دج کیا جات تا کی ورای چر ذاضج ہذاور ٹورک یکشش کا موجن بن
کل
ز۵9
>5 برست 8ْٴ مم ایر لے روز حاپ
تانداند بے دنر کہ ددریی نامہ جات
(ہم روز صاب تیرا امہ اعمالل خرف تیرنے ہی ہاتھ ہی یش دنیں گے جاک ری
دوسر ےکوی ملوم نہ ہوک ےک ہت رے نام اعمال سکیا ھا ہواہے )۔
اتارک وتقالی کا ارشاد ےک انل تھالیٰ ہش کوائ کا نام راغلی اس خی کے اھ
دےگا۔ اس لن من فو لکھی ارشا زم جو ۃ ےک یہ رای کا اعخاٛ نان ال سک یکن یش
7ئ
لگ ر ہا ہے۔ قامت می دوک لکرمان ےآجاتۓگا ۔ اس تکہا جاے گا کہ انا اتھال نام شود
پڑھ اور یل خودآپ ہی کر ۔'(ےا:۱۳۔۵(')۱۴ے:۱۳۔۱۵) اس شع ریس اس جانب اشارہ
کیا گیا ہ ےکد ال تی بش کول کا انال نامہ ال کے اپنے بی ہاتھ یس دےگا۔ ا ںکووہ
خود بن لی اور ا آسالی پڑھ ےگا۔ بیہاں پرکھی ایل تالی الک کو رسوائی سے پا ہاے۔
اس کے ائھالل صرف اس بی ظا رکرداہے۔ تال لی بھی ےک اللدتھالی برصورت مل
ستارگی ےاور پدەداری کڑفوظا رکتا ھت
9۵
کے کی خرید یج پھر ٹور بڑتا
پاز در آشرت آں مفصدو پنتار نزاہت
(فر مان الگا کہ ہم ترک یک می کے بد لے مس دنیائ و شیکیاں دی گے اور
لرخرت یی ان نکیوں کے بد لے بیس کے سات سوسترنیکیاں دی گے )۔
ال ترک وتعا یوعد ہ ےکر دۃ انا نکوا کی نیو لی اما کا صلہاور بدلہراں
دا یس بھ یک گنا نی د گنا داے۔ ال" کا نظام اور وستور ےکددوصنات شی برکت
پد اکر کے میں بہت بڑھاتا رجا ہے۔ اللتھالی صنا ت کا بہت اہ بدلرد ا سے پگ کوالہ
قرآن مجیدجھی'' اللہ کے نز دیک ہر ہی کا بدلہ دو گنا ہے ۔(۱۷۱:۹) اود مر اس دنیادی
بد لے کےعلادہآخرت نیا کی ایک می کے بد لے یش ات سوسترخییاں می ںگی ۔گویا
کی مشال ایک نے ون ےکک ہے جو بڑ نے بڑھتے ایک بڈادرشت بن جا ے۔
رلغ
گزبزی رر و جا ای ہے ہے
ایں یس الف وکح خی رین اے بندکراست
(اگرتم سےکوئی برائی با گناو سرزد ہو جا ۓےگا فذ جس اسے اپ عو وکرم سے معاف
کردو ںگا۔ اے میرے بند ے !ایا للف وکر سی دوسرے س ےکیا ےل سکتا ہے )۔
ال ارک وتھالی مفو وک مکرنے والا ہے اوداس می ںبھ کسی شک وش کیکنک ہیں
۳
ہ ےکہ الد سب سے زیادہ فو وکریھم سے کام لتتا ہے۔ اک جوا نے سے ق ران یر ہی ں بھی
آیا ےکہ' الد تھالی بہت کی بانوں برمخو سے کام لا ہے (۷۷:۹) بوں الل فو قد اپنے
نار ے کےا گناہوں سے درگ کرت رتا سے اوراسےقر مور سے معا فک رتا
رصع ہہ وکرمکرکتاے۔
2
نان وا ےج لوا چا خی ا
اہر و پان ۲ عن ىہ از ور غراہت
(اےمہرے بنرے! ا رہن مقم س ےکی سلو ککر ےگی۔ اس ستمکیوں ڈرتے ہوا
تی را ا ہرادر ان و دونوں خدا کےلور کے م رون منت نات
اے میرے بند سے کے دوزرغ کی نگ اور ا کی الم ناکیوں سے ڈر نے اورک رانے
کی ہرگ زکوئی ضرور نہیں سے شہہیں ا کی بھ یگ اور اخد بیشن ہونا چا ےک دہ آگ
تمہارے سا تی کیا سلو کفکر ے۔ دو نٹ شی ہو جا ۓےگی یا اپ یٹپ کے ساشم برق راد ر ےگیا۔
تے عاشت جوا نا سب چچھھ ھا ہرادد باعن اپنے پروددگار کے سپ ردکر دیئے ہیں فو ان سب پور
تن پچکنا ہے اود یجان لیا ا ےنارچ مکی فو را لی کے سا ٹکوکی حیی تی وین
بت تا کی دائنگی سے بای فور مس بدل اتی ے۔
٠ 2
ہرچہ خوای بطلب و رن و ش دار
7ت اے ب دہ اچابت اور و برا دیاست
(اے میرے بن ے! جھے جو ابی چاہیے دہ بج سے طل بکرو اس طلب میں شرم
ک یکوئی بات نئیں۔ اے مھرے بنرے ! تیرا کا مت تصرف اس دھا مانکنا سے اوز بر اے قول
کرنا میراکام ے)۔
اتارک دتقالیٰ نے انسا نکواپتی افص مربالی ادروجہ کے ساتھ پیا کیا ے اور اللہ
تالی نداح ال نکی اخقیاجبا کا پوزا فرباتاز جا ہے۔ التھالی نے ہوا رش پان ری
۵
سرد اور روزکی سب بنلدے کے لیے اپے ادپ ف رخ فک رگ ہیں اور دہ ا نکی جم رسای سے
بھی اف ل نہیں ہوتا۔ الس ی عالت اگ رکوئی بندہ اپنے پدردگارکوشہپکارے۔ ال ے دعا
نر ےل بین یکفرا ننے ہے۔ ا جوالے سے پروردگارکو برمعالے می یاد رک اورال
سے دعاکرنے می لکوئی عا نہیں ہوٹیٴ جا یے۔ جب بندہ پکارتا ہے نز اللہ تھا ٹی پر پچارنے
وا ےکی دمائکوسٹتا ہے۔ اس لیے بندے پرواچپ وو او ال
فرمانا ال کا کام ے۔
ر|غ
وی ور وہ ہے وی کاو دو پا ایا
نر وی موا از یں مرج اس
(اے مرے بند ے !لپ جھ ے انبدرعانٗ دووں ٹیک اور پان کا خرف دیگ در
اورشٹس ٹ کی طلب ہے ماگک۔ میس تو تیر رزت ددوزئی کا ضاشی ہوں ھے جو چاے
بھی ےط بک ن۔
اتا اک دتھائی اپپ اکم ول بی شزدریا کردا فی ہے اکر روہ
پر وددگار اور ربکا نات س بکو بہت بے طل بھی بی فراوالٰی کےساتھ تا چلا جا ے
من دہ اتا ےہاک ندہ ال تال کے دینے اود ودج تکرنے کے اس ظام یس اچا
رست طلب ورا زکرتا دے :اک ووبند) می ران کی جانب ال ہونے سے پچار ہے اور فور
کا شارت ہو۔ای لے اشقال نے فرمایا اہ کہ کن اتی اد ےاولّ عاجت اورطلب
کے لیے اپنے پردددگا کو ارتا رتا اور یگ ےکہ ند ےکا اڈ سے دعائکرنا بھی عبات
کرای ہوتا راب رو .۰-
مین عطا گردہ ام ابمان' عطا کرد) خولیی
سی متام (لداتے کہ برد حدلہ. رواست
زسں نے یں ایمان عطا کیا ہے ۔کیا گی معمولی دولت ہے! اور بی ایک تقیقت
٦
-) ےک وکیا جیا دا رکودیا ہوا صدقہ والی نیل لیاکرتا۔ جوصدقہ دبا سے دوصدقہ یتال
ال ارک وتعالی نے اپنے بند ےکوایمان یت اوروات ا ار ید
یمان بیس سراس راٹمینان قلب' یقن اور اعختا دی فراوانی ہو کے اس میس انان اعد اور
اطا ح ٹک دوات ےٹیل یاب ہفتا رتا ے۔ اود یی اللقا کا اون وڈاعرہ ےکمدہ
و ٹوس یکوزی ہوگالقت پا ووات وا نل لتا ۔انمان ےی افتاع اورنقی ہے بج
ال توا یی ہے۔ دہ بے نیاز ہے دوس کاعتاج نی اسےگسی ےکوئی حاجت یاغخن لٹ
ہو ای ہے سب ال عایتی ود اکر سد بے پرداہاور بے از ے۔ دوس بک
عطاکرتا ہے اود برا لک شان عطا ےک دلک فخت د ےکراے دای لیا ےد ےک
التھاٹی نے ایا نکی دوات بے بہا سے نواز رکھا ہے۔ اس طرح وہ عط اکر نے والا سے وہ
تانج سے پھوئیس لیت بر دو س بکود بتا چلا جانا ہے۔
راگ
| ق ام "کن ہمہ جا تک 3 از خیطان یست؟
چیں پاہت م اٹ ہاگ کہ صداست
( میس تیرے ساتھ ہوں اے مر ے بندے چو مرا سے میں اس کے سماتھ ہو ۔ اس
یےتہیں شیطان سے ڈرن ےک یکوئی ضرورتننیں ہے۔ جس نے فو نیس اپکی اہ ٹس لے
رکھا ہے۔ اس لیقع شیطا نکوللکارک کبدد دکردوتہارے ساتھ مقاب ہک لے )۔
اکر دیکھا گیا ےکہ بے شار لوک شیطان کے سان بے مس ہو جات ہیں۔ دہ
شیطا نکی خلائی می آکرظلمات می بت پھرۓ ان رتقیقت اپ کہ پسلمہاودانل
ےکہ دو لگ صرف اورصرف اپے ال ھی کے ور ہے ہیں تو یں ال کا پروددگاراپٹی پچاہ
او رطاطت میں لے رکتا ا 07 طاخوتی طاق تھی قالونیں پاتتی۔ اس
صورت حال بی می سکہاگیا ہے نے شیطان سے ڈرنے ے کے بجاے ا کومقا باب چا ہے
لوت ےد وٹشھازا ھکیس پا ان
ا
2ك
گر یں او بن یں با ہوم
ور :الا گر فدائم مہ ہرووفاست
(ا ےگ الد بن! بے دای صرف ترک ہیا جانب ے ہو ے ۔ ورنہہم 2 را
یں ہمارگا جاب سے و دا مبردوفا بی ر ےگ )۔
یراسای فطرت میس ہ ےکددہ اپ الما یکنردریوں کے پارصف ہے وفائی ےکی
کام لیا اور ناش رگزراری کا بھی مریکب ہوتا ہے ۔ لیکن اس کے بس اللہ تبارک وتوالیٰ
تار بے پناہبرد دذار نے والا رہتا ہے۔ اگ الد پرورگارگی بندرے یکی طربح ے۶
جا و بنددڈا لک بیددنا ایک اض کے بھی پل شہ کے اورسب تہدد بالا وکرزہ جاۓے۔
الرتقا ی کے ساتھ پلازم وطزوم ےگوہ بے دفا یکرنے والوں کے ساتح گی مہرحبت اور
اللاف داکرام ہی سے یآ جا ہے ۔ یوں انسان خودی اپ ہے دفالَي پہ نادم اورنالال ہوتا
ر ہنا ہے اورالڈدتھالی کے مبردوفا کے مسا اس پ۰ عدام سامینشن رت ہیں۔
ناب 7را دوبیت نے آبت مرا نے :مت
نے0 کے تن ور رود ریت
(ترامضصا فی ہلان ال کے لے بے سروساماں ہے۔ تیرے پاس پالی بھی
ٹیس ہے اور تیرے پاس پا ٹھینیس جو تیر منہ دع وی ۔ الد کے سوا تر سے پا کو ونس
ہے جو تیر من دنو کے )۔
ے انان را مضرصا فیس ہے ا پک آ اٹ گی ہوئی ہیں ان اظتوں
اورآلائٹو ںکودھونے اورصا کر نے کے لے تذ ای سےتھی محردم ہے اور ق2 اور کوصاف
کرنے کے لیے پاتھوں کا ہونا بھی ضردری ہوتا ےلین تیرے پا ا تحۂجھیننٹس ہیں۔ اس
۸
پر متنزادکوتی دوسرا بھی بیکام مہراغجام دینے کے لککشیس ہے۔ می حاات ہے ذ اب تیرے
58 ے خداکے علاوہکونی ۶م مندعلاکر صا فکردے۔
ر2 ۱
و یں دا ان جا ا و ا
جا مست خرا مرکا 027 رویٰ عرصت
(اگرقم مرد ہو عشق یف کی شراب کا جام و مرداگی ھا اکہتم خدا کے مست ین
رم سو اوران ست کی حالات یں قب می ںبھی چاسکو)۔
رت رن ام ورگ اور پپادرگی کے میدان مس آنا ےو اش کے لج
ضردری ہےکیتم اپنے پروددگار ےش یک شرا بکا جام ہو۔ بیشتی ال کی شرا ب کا جا مت
صرف ددی پٹ ہیں جو ببادراورمردہوتے ہیں ا مضتق ال کی شرا بکا نشراورخھار اود یتم
کا ہواہے۔ اس سے انسائن دنیا و ماٹہا سے بے ن مسق اوس رشارگی کی دادیوں ٹم چلا چاتا
ہے ایےے ماش سرمص تکو می بے خودگی اور شارکی قرو لکک نے جائی ہے اود روہ عاشی
جواں م ردق کے اندرگھی مسق بی یس رجا ہے سی ستی اور بے خودیی بہت بڑکی مت ہولی ہے۔
29
ہر صوق و اق کے إورا اس رات من
یں زرل مرذاض ہا جانا ہمان ہت
(سا اود اصل وف صائی ددی ہوتا ہے جوریاہض تکرتا سے زہراورْس شی او رحنت و
مشقت ےکام لڑڑے۔ اور اس دنا کے وسترخوان سے صرف لو ش ہآخرت ہی چا رکا
جن
صوثی وو ہوتا ہے جو نی راللہ سے اپنے د لک پاک صا ر تا ہے اوراسں کے علاوہ وہ
وج وھ راقہ می لگ گور ہتا ہے۔ دتیا کی آلکٹول اور اعقیاچات سے دل لیکو پا نے ہق اے
دوصوٹی ”صانی''خ ہے ۔ر یاضت اور پرہی زگاری سے دو کام لا ہے۔ااس کے بدا کے
ینوس کٹ یىی منزل تی ہے۔صوفو ںکی ریاعض ت کا می نج برآمد ہوتا ہ ےکددہ ال دنیا
1۹
کوآغر تک کھت ی بے ہوے یہاں سے صرف وش ہآخرت بی حاص٥ لکرتے ہیں دنیا کے وسز
خوا نکی طلب وتول میں وہ اپ یآخرت ےی ا وت
ون
لوہسفت یہ راار را پلٹائلی رزرری
ور لوت نا شور او یں ہیں
(کیوں اورک مصسلحت کے تحت جناب بیسف مایا نے اپنے بھاگی پہ چودگی کا ج
انرام لگایا تا اور بچلرخلوت نیا میس اسے اع زاز کے سا ھکہوں نٹھایا تھا)۔
یریک تارینی وا کی جانب اشارہ ےک حخرت لوسف فان نے اپنے بھائی ان
پ4 چودکی کا الزام لاک اسے اپنے پاش روک لیا تھا۔ پچھر جب دہ نماض اپٹی خلوت میں گۓ و
نہوں نے اپے ای بھائ یکووزت اور دقار کے ساتھ اپ سماتحولشمت دے دی ۔ا ہوں
نے زا رایل اپ پروروگاکی تا ری کے سات رکا ھاں
و '
ریت ور پاشد واب رر اے. ووست
بزےۃ کے اشر کو رومت؟ رو بیصست
(اے ووست! ای طرع ے جان و و ا ای اور چر ے اور''واہے'“ ہوٹا
دوسرکی بات سے دونوں میں با فرقی ہے۔ وایستت اللہ کے ساتھ وانگی ہے اور بر بستۓ اآے
دوست کے ساتھ بنرھنا ے )-
اے میرے دوست! ”بر بس“ ہونا اور“ وا بت ہونا دو جداگانہ چڑ سی ہیں۔ برست
اور متام ہے جہ وابستۃ ایک دوسرا مقام دمرحبہ ہے۔ پر اس ہونابیہ ہوتا ےکہ بنلدہ ان بی
ییے انمانوں کے ساتھ جماعقی انداز ٹس بنڑھا ہوا ہو یا اپے دوہ کے ساتمط بندھا ہواہو_
اس کے بی وا ایک بڑا اود اہم مقام دمرعہ ہے۔ انان جب اپنے پروردگار کے
ساتمھ لو لگا تا ہے گوبادہ اپنے اللہ سے وابستۃ ہو جات ہے۔ اس داٗنگی میں بندے کے لیے
لمت اوررفعت ہولی ہے اوراسی ےتقرب ال حاصل ہوتا ے۔
٭ے
رن
ع عقل مصاب غر پادل تم و خخنتع' و
مم مجت کی ا ا ا تہارست
(جب کک د یکا می اورمصاحب'عفحل“ ہداس وق تک لثم اف اورا مکا سامتا
کراپ تا ہے لکن جب و لکا مشیر اور سآ ی”عشقی ہو اس کے مل نم ہو جات ہیں۔
بہان دوفو لکا اتیازى مقام ادرجہ ے )۔
اس شعریش ایا جادہا ےک گر د لکومخورہ اور رجنمائی راہ مکرنے کے تل
ےکا م لیاجاے نے اکا تج جاور ھی برآر ہوتا سے کت لکی استعداد اود پرواز بڑکی محدود
ہو ہے اورتفل صرف ہوشیاری رکال ان 09 یز بڑی عار ہل اپ
بیشہانسالی افعالی کے لیے جوازجلاشلکرد بت ہے۔اسی لیے جب جذ بات اورایار وقربای گا
کی نعل اورنش کا مقاہلہ ہوتا نے عشت کو پزیشمتقل سے الا اور اع ہی قراردیا جانا ہے۔
عخل نو پر بات کاٹ نان سوچتی سے چزیضق ہرطرع کےنح دنقصان سے پالا اور
اوراہوتا ہے۔ائی لیے جب د لکامشیرنشق ہونا ہف وہ بن ےکوآلام ومصاتب سے بچاۓ
رکتاے۔
2
رتا بظم گی پس انت ات
یں در جمہ عرے اایک روز تد یئرد ہت
(اےگی الد بین! اگر چرائل کےمشتی یس مم صرسے پان ں کک ڈنیا ہوں۔ انس کے
با وجودالل نے سار عمررٹ ایک دن کے لیے جن مہرے پاجح نیس با ند ھھے )۔
ا گی الد بن !مرا سماراشمم سرسے پائوں کک بمشحق ال سے سرشار اور وارفۃ ے۔
ا یی شی زین نے صرف زغم دک الم ونم ا جا ہیں۔ سدا آہ و زاری اور اشگو کی
لامیں ہی پروئی ہیں رعش الپی می می را سارا عم بک می رارداں رواں ادد بای با گی اور
جراحت زدہ ہے۔ اس اپتی صورت حال او رکیفیت بیس نمعلوم ہ مکہا ںکہال او رکہال رے
اے
کہا تک جاتے رہے۔ امیس ق خودیھی انی حال تک خ ریس ہوتی تی گیا ہارا اپ اوھ
بھی انخنیارنیش ہوتا تھا۔ اس کے باوجودھی ای پا کان ھی ان کے کی
میرے ہات ٹیس باند ھےلتنی می شرٹی اعکام اداکر نے سےبھی انل شد۔
خز ل۴9۴
ِ
٠ل ین مہ عاتم خلا آتا رت
چہ مت ہوں مرکا نہ خرا اقات
(اےلوگوا ال میں شک وشینیس ہےک رھ س ےگ ربھرسدا خطا ” 0
ہیں تا ہم کیا 1 ہے چیم را علق داس لاس خدائے رم ےتة)ا۔
عھ رج رھ سے خنطا کی گنا وعی ہوتے رہے ہیں پکیوں اورا ول سے دور
ا ہول میرک تا عرگناہوں یش ضائح ہو ری ینان ین ریخ می ہکا خرت
میں مبرا٭ جن ےپعلق داسذ ہے دواز بداسدا رم کر او اپ یں بن یکر نے دا
اورڈئیل برت دالا ہے۔ اس لے بچھےکو یم داندوڈئیس ہے۔ دوجس سے مرا سروکار ہے
ایپ بن اکر شا نے الاب نے نا خواز گی دا زان کےا
ے۔ وہ الد ” بہت بی مم وال' درز دنر والا اوررة ے۔ “(۳٢ء:١٥)
2 ۰
ایز یا یں دی مر
او من و ایی انا ڑا اف ہت
(اے میرے پروددگادز اش خریب نادار اد ری دست ہہول لان تج ے وصال کا
طل پگازہوں ۔اے دا !دی بنا کیا ےم شک ل کا ای اورکوج ی بھی واسطہ بے )۔
اے میرے پروردگارال خالی اھ ہول' میرے پاس چھٹھینیس ہے خگیوں سے
بھی خالی ہوں۔ میس نے تیرے لال بای اور حاص٥ لبھ ینمی سکیا سے ان و با
۷
یس تچھھ ے وصا لکا امیدروارہوں' چھ سے سے کے نی بےجاب اور بے راز ہوں ۔ چھھ سے
ل ےکی طلب وآ رزوہی یس یس نے سمارگی ذمدگ یگڑ ار دی سے انی نادیم نے
داصن مس پونڑس ہے اور پاتھوبھی خالی ہیں اے مر ےحبوب تی ا کیا اتی و ی مکل اورا اد
ھ سی اورکویھی ڑئی ہے اوراس ن بھی انی جئی طل بکا ھا رکیا ے!
قضم ججت ےھ مم
کہ میان مین و طْٴ دوست پا اف|ارست
( میں ئل آورش رہ ہو ںکہ می قامت کے رو زکیاکہوں گا ا یرے پا کے اور
تانے کے لیے یں ہے۔ حیف صدحیف۔ اے مہرے دوست مہرے اور تی رے درمیان
کیافری ے)۔
وو جوراست پاز سے اور جے اضماس ے وذ خودیھیجحسو ںکرتا ےکہ اس نے جھ
اعمال بیے ہیں وہ اس لاگ نیس می ںک ہنیس نےکر وہ قیامت کے دن اپنے ال کے سا نے
یی ہو یہ ری حالت خہابیت جاسف اور سو ںبھرگی ہے اس پہ یش جیمات اورحیف کے
علاد کیا رسکناہوں۔ اے میرے پروردگار ! یس تیرے مقابلے یں اہپے آ پکوخہای ت تقر
اورکتر پا ا ہوں اور ینس بلگمیرے پا میرے ا ھا کی جو لی ہے اس نز می خودیی
نام اورٹرمترہ ہوں ای ا ا و کا سے ا سوی کاخ
ےک می رااللد بہت ر٘ھم درم اور ربان ے۔-
"
ا انا مگمم جی نود
ہمہ کام ىہ عمر از چ خظا افارہت
( میرک نی پرددگار ےکا لیکرم کے ماد وی اور طرف ٹھتی ہیی ہین
اس کے پاوجودییس ران ہو نکی رگ رجھے سےکیوں خطا یس زدہوی ری یں)۔
اللہ ترک وتھا لی کےکرم کےکمالا تک جھ ناج بر انس در زیادہ ارزالی اورفراوالی
5
٦
٣ے
رب کٹ اپئی داضت می فو ان کے سوا چچھھادر دبکتا نیس تھا۔ یں سسدا الد کے بے پناہ
اکرام دانعابات کے بوچھ کے دہاکسی اورطرف نظ اٹم کر د تا بھی ٹنیس تھا۔ اس سارک
صورت عالل ے باوجودگی شابھ صلی اور دنت ٹس مھ سے ہو ہوتا زربا۔ لال مھ سے
لا تعدادخطائئیں سرزدہوتی ری ہیں ان پ ران اورنادم ہوں۔
۵
ھن لف وک رم کردیی کہ تھا اے روس
گرمرے سی مہ می بمہ جا اارہت
(اے دوست ! تق نے ہجھتھا اور ےس پر اپناللطلف وکرم فرمایا۔ تیر یکرم نواڑگی اور
ترک شش ہیک پرادد برجہہونی رق ہے )۔
اے میرے رجیم دکرم) پر وددگار !ترک عنایات او رم بانیو ںکی ھ پروی نوانل
ےکا نے جج تما اور بے بارد مددگاد بہ اس فلکم فرمارکھواے۔ بہکھی تقیقت ای کہ پہ
کی اورسسلمہ ہج ےکہ تیرب یکر فرمائیاں اورہششٹ نے سب کے لے بای س خفصوس ہیں ان
نوازشات اورعنایات سے سب نہال ہوتے رت ہیں اود ہرایک اپنے اپنے جوانے نے ما
ارتا ےکہ تم اکرم اددرقم صرف ای تھا پر اس قررفراواں اورارزاں ے۔
رلغ
نارے من متایت کہ وریی آنر عمر
س نے ایی بندہ کہ در ئن بلا افاوہت
“(اے ممیرے اود جھ پر حنای تکی ایک نظرفرما ہے۔ میں مشلوں می سگرفزار ہوں۔
اپنیآ ری عمری یہ بندہگئی طر کی بڑئی کی مھیموں میس پڑاہواے )-
بندہ جب انی عم ریش ہوتا سے اس کے تو اۓ جسما یکنردراو زحیف ہو جاتے ہیں۔
ال عم ریش اسے عامسممولی مات وی بھی بی اور زیادہ نین دکھاکی د ےلت ہیں۔
ال کے سساتھوساتھ اکر دہ ذدااحساس اور ذمہ دای کے سات سو نکر ےو اسے اپ ادگ
زنرگی کے سی ےکراۓ ا مال بھی دوکھائی دینے گت ہیں۔ اس لیے ا عم ری اس کا اپے
27
پروردگا رکون رکریم کے لیے پکارنا ام معن اور نمائص جن بات اوراماسمات تاسف س ےگ پور
ہوتاڑے۔
2
بسن ا ای 4 ویزعم
و ا و ہیی موا رما رافاویت
(اے میرے پروددگار! تو بے اپنے خوف ے ضرو رآ گاوفر مٴ لیکن اس کے سساتھ
ساتحد نے اپتی رعت سے ناامید نکر .نے مر ےگمناہو ںکونٹی در ےکیوکلہ بیہگناہگار تر
رقن تکا امیردارے )-
اے غز ے تیم وک ریم اورک ذ فور ا ر! لاجر ے نوف سے دو رین ہو نز بے
اپنے خو فکا امس نددلاتے چلا جا۔ ٹل تیرےخوف سے دو نیس ہوں ۔لجان میرے دنن
و رتیم اللد ! اس خو فک توبات ٹیل مجھے اپٹی رعمعت سے نے نا امیر نہ رکو۔ تب رگا رمعت ے
اامید ہونا نے بن ےکی سرشت ائی یسکیس رکھا ہوا۔ اس لیے میریی التیا اور درخواست سی سے
کاپ دامت بے پایال سے خیرے بے عدوضا بگمناہو ںکو ہنی د ےک می تی رگا رحمت تا
کے احاطراوردائرہ ٹیل ے۔
رك
ور زز اق اہ انز از لان کا
کے گج رویۓے: 7 نراک' :ارس
(ج بت گوش وق رم پڑے ہو گے اس وقت الد تی از را الف وکر تم ےکہیں
جےکہاے میرے جنر ے می تا کہ تی راچ دنا ہکیوں پڑا ہواے )۔
گوشنلید یں ج بکوگی پا ہونا ہے اس دقت دنا والو ںکو ا سک یکوئی خرنھیس ہو
کہ دوس عال جس بے اراس کیا بیت دی ہے۔ اس تھائی اورکسم پیتی کے عالم مج اور
ایک دنا ئٹش الدتخالی اپنے اص الف دوکرم سے اپنے بنلدے سے فر میں مگ ےک رمیرے
بنرے !تم یہاں پڑے ہو ہو بی تا کاس عال می اورااس ان جیرکی قج جس راچ می
۵ے
پرکوں پڑاہواے۔ یا2 دہ ری :کول واپڑاے۔
رگ
امن ےج کت بنشائر آٌے
کے ہووت ون 7 وا افاوہت
(اہچ د لکی ز من پہ رای ککوگی ندکوئی بے بدا ہے ہمارے د لکی زین پر ال تھاٹی
نے اف دفا کان او یا ہوا ہے یقیاا دی اگےگا)-
انان کے د لکی زین بہت زرخز ہولی ہے اس پہ جرپ بہت جلد الا ہے اور پھر
پک وا ہے ۔گویا ہنف انی ایس قلب پکوئی دزز ہی فک ے۔ مارزے
قل بک زی کو فضیلت اود بت کی عاصل ہ ہکرس پراتالی نے ا حبت اوردنا 8
اویا ہوا ے۔
77
زم
0000
سے اار٠ وا ”را ری
(بندا را دل گی الد بی کی نظروں کے ساتحھ ملا اور ڑا ہداہے۔ ای لے تق اے
نقیرو ںکی طلب معحبت اورالشت ے )-
اس مین نوا فک وش برک گنی یس ےکنا ن گی ال ناک پارکر نے و کے یراول
بھی ا سک ننروں کے ساتھ ما ہوا اور ڑا ہوا ہے۔ ای لے تچھمٹش بیفق وحبت سے اور قرا -
کا طالب اورا نکی ق کر نے والا ہے ۔نقراہکی عحب تکوتو کی دنا یس بہت بڑا مقام اور
درجردیا جات ہے ۔کیوکہ ای کے جوانے سے انسافول اور انساحیت سے محبت پیداہولی ے اور
بیگھی تفیقت ہ ےکہانمانوں سے محب تکرنے والا ہی دراص٥ل آپے ال ےعحب کر نے والا
0ت ے۔
نی کی و ککردیم ےہ روصق
نا لف :اف کاو لمران او اوست
(اے بر ے! اکر ھ سےکوئی گناہ رز ہوگیا ےآ تو شرساری اور ملاصت کے
ساتھ بارگا دح یل اا کا اخترا فکر کے نے بک نے کیو گناو کے بعد ہک نا یک انی
بات )نے
زگ کی نج لغ ےکوی خرائی ا گنا تی کی جوا نل مت مد اي از
مز یناہ گناہ سیے جانا ذرست میں ہے۔ جب بن ےکواپنےمگنا ہکا احسائس ہو جا ےو ال
کے بعدوہ اپنے پرددگار کے سام ا گناہ پرشزمندہ ادرنادم ہوتا ہے۔ بہاقر ار اورندااصت بی
اسے بی حوصداود نا عزم د تی ےک دو ینس غلط روش کا شکار ہوگیا اب اس سے منہموڑکر راہ
راصت پآ جاۓگا یا ا کات برکرنا ہے اورگناہ کے بعد رکرنا >ہرصورت ا کش نگل
ہے۔
0
2
یا کریوع نا ہجوز ےی کو لا مت
ونے عفو گاہت مغ مرا خوست
ڈاے بند ے! گنا ءکرنا ری عادت ین گگا ہے اور بھی ای کتقیقت نے
بنرے تیر ےگنا ہوں پرکفو سےکام لدنامیہریی عادت ہے )۔
گنا ہکرنا انما یکی عرشت میں سے اورگویا گناہ تو انمان کے سا چا ہواے۔
انساان سے ہم وش ت گناو سرزدہوتے ہی رتے ہیں۔ ای لی کہا گیا ےک گنا ہکرناانما نکیا
بی عادت بن ہجگی ہے۔ اس کے پکسس بیکھی ایک ال حقیقت ہےکہ اود تال بھی قذاب
ہے۔ دوگگی ہر ہار انان کےگناہ محا فکرنے پ تیاداد آمادہ رجتاے۔ اک ےیے ا رح
2
بھی ارشاد بای ےک ال تال یق رب اور رجیم ہے“ (۳2:۴) اور نی بلہ ابد
ارک وتعا یت برکرنے والو ںکو پندف را ہے۔ ال توب یی بی ےک بندہ اپ غلط اقدام
سے با ائے اود رد بارواھی انی کاراب تٗ بات
ج
وت مرا ہتفای ال اق شال
6 7ق نالپرنت . دارم ا دروہٹ
(اے بنرے! را تکوخماک پ۰ اپناماتھا رک کر دوتار ہے نو ایک اپچھائصل ہے۔ شاید
پل تیر لکل اونشین ہو۔لیکن یھ تیراردنا اے ددست بہت پند ے)۔
پیل ای دب بندوںکاممول ہوا کہ دہ ششیت الی یش رجج ہیں اورسدا
ڈرتے رے ہیں۔اوداس خشبت الیکا ان پہ راڈ ہوتا ےکم چلردہ خمدا کے علادہکسیا اور
کے و 2 ۔ ای جوالے سے ارشاد باریی ہ ےک جو خداسے ڈرتا سے دو دا کسی
سےکیں ڈرتا' (۴۳:۵)۔ اتارک وتھال یکو انمان کا تر کن جزد ناز ے رونا زگونا
بہت ی اچھا گنا ہے۔اس لے فر مایا گیا ےکہ الد ارک دتھالٰیگم بی زار یکر نے والو ںکو
پگ خشت ا ہی ج ےگ یزار یکر نے والو کو بہت پہن دکرتا ے۔
رف۵ ۱
یی کان اک
ہر خشبو تزرست از میک خثبوست
(وولول چرڑ برکرنے والے ہہوتے ہیں ا نکی سانسو کی خوشیو ہوارے لیے مک
ےکھی بڑھ ھکر ہولی ہے )۔
ا والوں کے پارے ٹیش فرمایاچارہا ےت اش قا ی کے نز دیک ان کا بہت
در اوزمقام ہوتا ہے۔ بکوالہفبہ یہ بتایا جانا ہےکہ ج بکوگی بنلدومگنا ہک رگ رتا ے تو وو
امت اور ش من دگی کے ساتھ ال تال کی طرف رج کرت ہے ے بیگھی اللتبارک دتقال یکا
سفنت ہ ےکہ الد تھا ی فو خوو اش بکی عطرف لو فک جاجا ہے (٣:خ۱۳)۔ اور بک الٹ دک
۸ے
ایک سنت سےکہدہ ”فو برکنن گان اور پک شونرگا نکودوست رکتا سے (۲۲۲:۴)ای دوی
میں و وکرنے والو کی انچ کی سمانسو ںکی من ک کی ال تھا یکستوری ےگ زیادہ
پنر ڑے۔
82
ون گن ابی دای باقطات ےب
ےم رززی 1و زت تق' آوو اح
(ائ ا کان بن کراسار ئن ملح لم
7 ای دداوزا ئک لیج موجوز ےق زیرگ ا ہرک گی یی مجر
یا
(بڑھاپے اود پچ کی عمرم کرخیدہہوجالی سے اور اگر نا مییدگ یک یکیفیت ہو ڈکھر
ٹڈٹ تی جال ہے۔ ای تناظھر ٹیل فر مایا جار پا ےک اے میرے بوڑ ھے او رگ ررسیرہ دوست
زین :ےلان ور تہاری مقبوٹی اور پایدارکی کا باعحٹ بنا ہوا ےا ا ےکتنا جھ یکنرور
اور وڑھا ہو پکاہے ۔خواہکرات سے تیر یکردو ہکان وگ ےا کے باوجودرغم نہ
کرت ہماربی طاظت اور پناہ یس ہے۔ اس شعرمیں لفن پشتی اور پھر پشت سےتسن پیا کیاگیا
ے۔
لغ
کے وت کر کپ ھی ون :7
مر ”زالقطو ۹“ درپارہ اوت
(جھ اس جچہاں یش سب سے بدت اود برا ہواوددہ پرائی می نبھی سب سے بڑ کر ہو-
اس کے لیے بھی جمارااندام''اقطو ا موجود ے )۔
اس شع می بھی اللدتارک دتھاٹ یکا بے پایاں رحمت رافت اورریھ یک طرف اشارہ
کیاگیا پا ہن با ای کے بے افنقدق مل از نت از
انم ران کن ھتران تر اروا ار انز
۹ے
بھی اللہ تھالی کا دہ ارشادایک انعا میم ےکہجس میں فر مایا میا ہ ےک اے میرے وہ بندو
جہوں نےعلم دننری یڈ جانوں پھ ے در زیادثی کی ے اش تا یی رج
بایت سے میں نہ ہو جا ' (۵۳:۳۹) یی نی مائو یک یکوئی بات ٹنیس ''الل تھا لی نے
اپ او پر مت داجب تراردےللگی ہے ۔'(۴:۷)
2
ری باآۓے نت پورگ ا
زار "رکال 0:92 شر پست
(اگر تر یکحعال ڈڑیوں کے او پر خلگ ہوچگی سےگوشت ببس تفم ہو چکا ےکن اس
کے با جودیھی تو ایی حاات می ںبھی و جم کیتوں سے اپنے مخ زکی پور کرت چلا چا)-
اس شع میں بھی ایک دوسری شاعرانہکیفیت یس بتایا گیا ےکہاگر فو اس دنیا شش
الوبیوں' ناکامیوں نامرادیوں کے باعث بوڑھا اورکانا ہو چکا ےش مک یکھال پڑڑیوں پہ
نگ ہوکر چیک پچی ہے اس حعالت اورصورت می قے ا کی ان تو پکہ چو جن تک کا
ہیں ان پراپے مف کی پروز شکرتا رہ اورسی بھی لہ مالوکی اور نا امیرکی کا شکار نہ ٦وب( سدا
ایی رجح تکا خنظراورامبیروارر کیو بقول ق رآن یر انل ہے بند ےن سدا دای مت
کے رزومند ہی ر ہچ ہیں“( ا:ے۵)د1بھی نا امیر اور مالوسی سے مفلو بین ہوتے۔
ٌ۹
ہیں رعان بر ڑ لو بت حم یت
گر شطان برستأا] :پا ڑٴ پر ۶ وست
ذاتۓ برا جب بن درجم داز لے مک یکا خاپاں ہز ےکوئ ین نہیں
ہونا چا یے۔ جس بندے کے لیے ال کا پر دددگا راس کے ساتھ ہو۔ اسے او رکیا چا ہیے۔ !ال
لیے اگزشیطان تیرے ددپے سے اود اکوئی برکی بات سے ذ بھ یمفوکی امیر رکھو)_
اںشعریش بنرے کے لیے ال تھال کی صفت دی نکوسا سے لا یا گیا ہےاورریشن تو وہ
ہوتا ہے جس کا رکم بہت بی بڑا ہوتا سے دہ سب سے زیادہ مہ بای اود دی مکمرنے والا' تہایت
۸۸
زیاد شی اودرتم ہوتا ہے دہ رٹ دنن تورنے لے مگ اور پھلائی کا طااب نے اس لے
121 لیم ہون بے اد کوئی داہن بگہاگرقذ یکنا ےک شیطان تر ات یل ے
وھ ےار رای ہونے وا ول ےی صورت ھپ ےتارک داووں
خی نہ جا پیش لک امیدرکوک می یی نکی ری تا قافاے۔
ر|غ
اس راس چھار
لال یت تن ٠ تق مت
( ا ےگی الد ینغ جب کک تیرے دل کے اندر الد تال ی کی ہم تکا شھترا اورشی ری
پل موجزن ہے اس وق کک تیرے د لکی بھی جن ےکی کن
اتارک وتھال کی رہم تکوآب شی یی دسر دکہا گیا ہے ادا طرع کا پالی تباث
671 0 رر و ا
کہ ج بکک انان ای دکی رجحمعت سے ناامی یں ہوتا اس وق کک ا نک راب ۶د ہین
ہوثی ال لیے خنرودی ےک انسان اپ رٹ رن نکا اشت نےبگی بای ل۷ اہمشقت
کی سعت بے پیاں ہے۔قرآ نکر می ا تتال ال حوالے ےقام خطا کاو '
اورزیادتولں برجم تک خ نکی سنا تا ہے۔ یضرف اس لیه ہےکانسان اپٹی خطا ال اور بد
ائمالیوں کے سائوں می بھی مالوسی اور ناامیدکی کا شکار نہ ہ ھکیوکہ ان کی مخت سب پر عادی
ہل ٤ٛے۔
پروی غیطان جات جال لیر کیا ےت
ےس دارن پگاذر کار مد اللہ ہت
(ایک بار شحیطا نکی پیردیکرنانذمگھرائی ہے اس سے فو یں بے راہ روگی ئی حاصل
۸
ہولی ہے۔ لیکن اپھا ون دعولی کے سپ ردکردینا و وق فنن کا کام ہوگا)۔
شیطا نکی متابعت می کس یگراہی با خلکاریکوا خی کرن تذل ایک ہجرداور ایک پا
کا کام ہے۔ اس کے برکسی ڈوم لی کے لیے حیطان از س رف پھر ولا ۓ اور ١ پش
گا۔ لین اس کے میکس اگ رکوئی نٹ اپئی اگ ڈور ہیی نادان اور مھ کے اھ میں
تھادرےگا۔ ذو اپے ارادے اورخشا سے عار ہوگر صاحپ ڈیا عکا فلام ہو جا ۓگا۔ ایت
.اگ ڈود کی دوسرے کے سر دکرنا یا حیطا نگ پکڑا دنا تق بہت بلڑگی بے وقدقی کی بات "
دی
2
مگرچہ غیطان زعفران پیاری دارد ہہ 1
2 2 ۲ج
لاگ چہ شیطان کے پاس بہت سازعفران ہوتا سے لیکن ہی زخفران وہ اہ من سکوت
نی ںاسنا جوتیدا نکی مر مھا پوگزار ہکرت ہو گیا اللددانے ا سک شکازئیں نے )۔
شیطان کے پان اس کے قضے مس بہت ىی تزغیبات خوردوفوش بھی ہولی ہیں۔
ارگوں اورخنپوگؤں کےنزان بھی ہوتے ہیں۔ دہ ان سے لوگو ںکو و لا تا او گرا کرت رہتا
ہے۔ یکن وولوگ جوان تر فیبات کے ملام نی ہوتے دہ شیطان کے یں سےکفوظا رج
ہیں۔ اس یس بھی کنیں س ےکہ انسان ھرفوبات ماوگی کی طرف ضردر مال رہتا ے اور
نیس ھی ول اوقات حیات داو کی تا نی مین ےکنا ہے اور یوں دہ شیطان کے نر
ار ہنا ہے کان دہ جوان پرتوجہ نردیں دوفوظہ ہیں
ت۳ .
در عباں) آں مرد وارد خوردہ پاشر ور 6
ید وا کت ور رھ اہ
(خس طرع مال انی نف اپنی مع کی خوراک میس سے شام کے لیے کپ بچارگتا
ہےائی مر فو تو اپنی نشظا مکی نماز می بھی حاض یں ہوتا)۔
۸۲
دور ا رف اناو ںکا بی شوہ ہنا ےک ووصرف اچ آن یی پر یں رکت بلہ
یں فروا یھی برستورگگررنقی ے۔ا ایطرب جولڑک جج طور 20 ےکام لیت یں
وہ اس ون اکپ معنوں می آخر تک یی ہناتے ہیں اور دنا یش ال یکمائ یکكرتے ہیں جھ
آفخرت می کا مآ گے لین اے میرے بنرے۔ یچ نذ اپ فردا او رآخر تک یکوگ یک یں
سے سم تم کے بد شا مکی نما زم س بھی حاضرنکیں ہوتے۔ ٍ
٠ "7
ہں نکی اندر جالی کٴلعد خنگک از نرور
3
وفت ہچرگا خور خز ف گنی و پش٦ت رویر ہت
(تم دہ ہوکینفرودکی وج ے جھالی کے عالم شتہاراداغ خگ ہو چا ہے۔ تم نے
بے پردائی سےکام لیا ہے خیازی وکھائی لن اب بڑحابے می ںکھو مک ےکی رح طید ہک رہ
2
جوالی کی عمر چونکہعرونج اود امنگو ںکی زندگی ہوثی ہے۔ اس عم ںگموب] اسان خود
الیک شکار ہوک رلسی دوسرےکو ناطر دی میں یں لاتا۔ وہ ہرمعالے میں اپے آپ 7
ورست اورچخ تو رکرتا جےگویادہ انیو ںکا شکار ہوتا ہے دراصل ا کا دانغ نل ہو
اکنا ہے۔ جوالی کےاس دوریی اسے بڑھاپے انی کے :ام ےکی تڑ ہوٹی ہے۔اں
لیے دہ اس بعد کے دور کے بارے میں سوچ بی یں سکی لان وت بہ رصورت بڑھاےکو
طارگی اور وار کر دیتا سے اود پر دای خمرد رکا مارا ہوانشس جب ضیف اور نافوال ہو جاتا ےل
ہیی اوزظید وک کے سات دک وش ےکی رجگ لزا ے۔
۵
کردی ب؛ز عردن فرامشی' سی وائم مناہ
وت مان وہ گرون :وردل و زیت
(اےانمان! تم نے فو مو تکو لا رکھا ہے ھا امہ ال کو چھلا ینا کوتا ھی ہے ۔ او رم
پیش گنا ہر نے پرآمادہ 9ھ 09 ھی خا لتہارےدل ش٢ ۶7
۸۲۳
خودی کچ وکرابھی بہت عم رپڑکی ہے )۔
اے ضائل انمان تم موت سے پاصئل بے خیاز ہویے ہش ہیں ا سک "کر نہیں
ہے ۔ ہیں مو ت کا ڈرخو نویس ر ہاہے۔ اس لیت مگویا ایک طرع سے اند ھے ہویگے ہو۔
ت ای اس بے نیازئی ن "یں سراس گرا وگھ کر رکھا ہے ۔ تی وجہ ہ ےک جب مگ تہارے
اندرت ہک رن کا خی لجھیآتا ہے نے تم اپنے ای اند ھھ بین مس بے شر یکا عدکک خی رذمہ
داراد ا عاقیت اندٰیش ہوگئے ہواورخودکو ہکن دے لت ہدک بھی نذ بڑی عم ری ہے
۔تہارگی می لی تی تہارک بلک تک باعث ہے۔
رن
گفتہ انا ون و مرری تق مد خرا
در رہ ول کرو آررد یت اور مد رب+ست
(ل ہیں جواں مرداور پہلوان کے ہیں یس تا ہوں تم بزدل ہو اود چان لوک
مردخدانڑیں ہو۔ راود ین می دای مردہوتا ہے جو اگ ہا کا مردخائص ہو )۔
لوگ ںکو بی فا ڈٹھی ےک شابیرقم بہت بہادرفذانا اور پہلدان ای طاقت اورقات کے
باعث دوشھایل مردغدائجھ یھت ہیں۔ عا لان مردخدا دہ ہوا ہے جوا دت اراتا ے
ال دنا نی دا یہاں پ دو ماف مکی رح رتاہے انس پر فلہ حاص٥ لک کے دم
دقت شیطان پٍ غااپ رہتا ہے .کی معنوں مس دتی تة طائت ود اور لوان ہے۔ دئی ا
لیے ےش ہآخرت تا دکرتا ہے۔ ا سک نگاومٹس یہ دنیا نیس بک ہآیدہ لڑنی بعدکی مدکی ہولی
ہے۔ دو اس دٹیاکومتاغ الفرو رتا ے۔
2
رون مرو زار ست و ون یی و نار
لق یں گرسنہ میداں کہ عرکہ پاکہ مت
( ری انددوی عالت رونے کے قائل ہے یذ نے اپٹی اہک عال تکوفأٹ و
ار سے سا رکھا ہے ۔اس میں تم فو انی خواہشات کے فلام بن گے ہو .تم خواہشات ٹیش اس
۸۲
قرب کے اور ند بیرے بن کے ہوکش ہیں ف جیوانو ںکی عطر فگھواس پرس کہ ڈا لک رکھلانے
کی ضرورت ہے )۔
اےودف رامش انسالن' برا ظاہراور پان دموکہ دج یکا مو جب بن رہ ےنپا رے
نے اپنی ظاہری شکل وصور کون وزار ا ا بنا رکھا ہے کہ اندرولی طور
پ4 مان تذ سراس ری داماں ہے تیرے پاس بچجویھی ہیں فو اس طرع اپے آ پکویھی وکا
دےۂ) ہے اود دوسرو ںکوھی تیرے نارے میں خی ہے۔ عالائک جرگ حاات لو روویےۓے
کے لاکتی ہ ےک تیرے پاس ذ جچجوکھ نہیں ہے مرا مس نا کن سے کیا وو ےک
کجھفائکدہ پپچتا سے اور نہ اے خودچھی یھ حاصل ہوتا ہے۔ ائی رح فے اس جاور کچھ بدڑ
ہے جن کا علا عکر نے کے لھا پس رک ہڈا لک رکھطایا جا تا ےے۔
رگ
شا رر شرگاہ پاش تلود رکا شماہ
درڑے پاشد وراں ترگاہ نود شارت
: (اگر ہادشاہ بے کے اندر ہوقو ا ےل پادشا ہکا خی کہا جا اے اوراگر جیے کے اندر
گدھا ہو تو ال شب ےکوگمد ھھےکا خی کہا جا تا ہے۔ نی ےکی اصل حثیت اس کےگین سے خی
عقت)
حر فک اٹ یکوئی حیثی ت نہیں ہوتی ہے خرف 9 جس ایک خالی سم اورخول ہوتا
ہے۔ ہرطر فک قددہ قبت ال سے شق ہےکہاس کے اندرکیا ہے ۔ ای طر انسال یٹ مک
حیثی تب یجن ایک خالی خر فک ہے۔ بن مکی اہیت اورحثیت ای سے نا ےئل
حم کے اند رکیا ہے اس شعم میں انسا نکو جاور ےکرایا گیا ےک اصل قرو قمت خاش د
جا نکی نی ہہوئی بہ جو اس کے اندد ہوتا سے اس سے خی ہے۔ وا لی تصوف انسالی سم جب
اپنے پردددگار کے تاب ہو جا تاس و دہ اپنے اخقیارات سے وترداہو جاتا ہے اور دہشم ال
عتابت مل مرایا اق کی شعار ہو جانا سے اور وہ اپنے ا دی شی نکر دہ رہوں پچ لکر میق
اکر لیا ریشم د پان یش ائددوٹی اود یردل :م1 1بی نج سپا ال شرنتگن ہڈ
ہے۔
0
۸۵
زژنغ
مین صادقی پچ از حر پیست ٹی آھ بریں
واں اف پش ا پاز ت ت ات
(چچ اود صادق مو نکی شالی ای ہونی ہ ےةکہ اس کے سرکے اویہ ایک بیکھال
ہوٹی سے وہ بے ریا ادرسا اور مالس ہوتا ہے۔ بج مناف کی ثال پیا نکی ہولی سے جس
کے ہرمیگے کے ین پک رایک ھا ہنا )۔
اس مکی تک وش موک یں ےک ہمان او ا بھی بای وت
ہیں۔(۱۸:۳۲)
می نکا ظاہرادد پان ایک ىی رع کا ہوتا ہے ۔ مز یبھی ری کارنیں ہھکتا۔
(۳۸۰۴) اور یی شک وشیہ می بھی نیس پڑتا۔ اس انقبار سے موی نکی مثال ایک بیکمال
سے دب یگئی ہے لیکن اس کے بنکس منافی قددہ ہوتاہے جو زبان سے اپے آ پکوموی نکتا
ےکن دراصل وو من ہنوتانیں دہ دوسرو کو ۲وک دبا ہے۔ ای لیے اسے پیاز کےتہہ در
تہ ہچیگوں سے مثال دیاگئی ے۔
م۹
ىُُ 7 دو چہاں گرر است کار اخیار
کار درویژاں بدرگاہە خرا خھا ٹر ست
(ئی الد ین !ہشن دنا کوئی شوگ یکا مک رن پن دکرتا ہے ۔لنکن درولیٹوںکا دی
کام ہوا سے جواللتعالی چابتا سے ]نی ووالشددی حطل بکرتے رے ہیں )۔
نی می کر اٹ یھ وھ اور دات کے مطال اپپنے ےھ نہب
کرتاہے اور اسے اپنے لج درصت ور بھی تا ے لن یدالو ںگی اپ اکا رتی
ین وو ہدام ماد اخ میں ا ان کے ای ین دا نگی! ان
کوگی مرش اورخوا ہش نیس ہولی ۔ دہ سب یلج اپنے اللہ ہی تموڑ دینے ہی کہ الد تھا ان
کے لیے جومہت اور مناسب تچ ےکردے۔ بللہ درو لیشو کا کام ے صرف دعاک رن ہی ہوتا سے
۸۲
اوراپے پروردگار کےعلاد کی اورورگی ہیں جرب ی نہیں ہوئی_۔
غزل 5ا
۵
آم, ورر آلورم مّاں چان چانہا را وضشت
سم کرو ہر ون و را را ہوخت
(میری دردآلود ہو نے جاٹو کی اس جا نکوجلا ڈالا ا کی تاشیر سے سب کچھ بل
گیا۔ ایک جرد سدند نے پ نول اود لوان ےکوچلا الا )۔
تا جاتا ےآنش یش دنا جہاں میں اللد کےسواباتی ہر کوج لاک رکود یق ہے ۔گویا
جوا پرورشار کےعشق میں جتڑاہوتا ہے دہ دنا کی ہرطلب داب لکو جلاک رج مکر ویا
ہے۔ ا لککاتیات ٹیش ائلدتارک وتالیٰ کے سوا جو پجھ ہوتا ہے اپ دکا عاش اس سے بے میاز
اور اَاع ہو جانا ہے۔ اللد شل شانہ کے علادہ جو گیا سے پا جوھی خی اللہ ہے ا سکیا ٠
عاشی صادق کے سان پرکاہ بھی حیشیت اوراہبی نیس ہولی ۔ ای تقاظ می سکہا کیا ےکہ
آ و دردآلودہ نے س بکوچجل اکر رکودیا-۔
ف
ا لی ا ا لس با
وین ا گج سزے کہ رلہا راہوشت
(می ری آہ نے میر ےباب شدہ اور کے ہہو ۓ مجر سے وو نگ پل ڑکائ ی کہ اس تر
سواہ ےکی دلو ںکوجلا ڈالا ال نے سب پگ مک کے رکودیا۔)
میرا تشم ال کی ٹیش سے ہج لک رکباب ہو چچکا ہے۔ دہ اس طرحع نے جلا بنا ہوا
ےکہااس ےآ ہوں کے سوا ادر ڈنیل سنائی دبا اس لے مجر سے جآ ہیں کٹل رہی میں"
انہوں نے و اوراووں کے دلو ںکوپھی جلاکر رک دیاہے۔ اس لے نے او کاب شمدہ ری
بے عاشقی زار کے ضحم دجان مب جوایک ا سآ کب ری ہے اس سے دو شود جلیا اور
ے۸2
سوزال رہتا 0 ٔ ٔ"8/
دی ےاور کول ال ںکا 08,8828 ےاورووس بکا تم بن کرس ۓآ رگ
1
یں دی از وت ون2 مرو کی
آگۓ اور لن ارہ دی راہوخت -
۲س نے اپنے مرش سے اپنے سوز د لکا ایک شب رحال بتایا فو اس سے اس کے دی
و جان می دہآنگگ یکرجٹس سے ا لکاسرد اہ لکرجسم ہوگیا)۔
عمش خیق یک یآگ اورنڈپ ہے پناہادر ہے عدوصاب ہو لی ہے۔ ای لیے اضق
کو برداش تک نا ہرایگ کے ای کے بات نیش ہہولی۔ جھ بے اور صادقی ہوتے خں وہ راہ
عشق کے مصاب او رآلام بیکش کاش بے ہیں اور وہ اپٹی ای حالت مل عدام خوش اور
مست د دوش رت ہیں شاع رکتا ےکہ نے اپنے عدری اورملم سے نول ہی اپ
دردوٹ یکی وسوزشل اور دجائشی وجاب وف ف کا ایک موی اورھوڑاءا ذکرکیا ای زگرے
اس کے دی ذجان میں ای سوزش اونگ یک دہ بل پچ نکرھسم ہوکرد وگیا۔
"
پژن یف گر زی روڈڑے گوئی ان ۶ط
ای ہی او کنا زلنا. راشوخت '
(اے۶ز::ا اگ ربھی نیف نذا کے ہاں جانا ہوذ ایس بیجرد یناہ تیر ےحش نکی
آگ نے زی اکوسرسے پا ئوک تک جلاک رکودیاے )۔
عز زمر ملک مع رکا بارشاہ اور ز فا کا شوہ ربھی تا ۔ اس نے ایگ وقت بر رت
لیف نا کوقیرو بند بی بھی رکھا ہوا تھا ۔ ای لی ےکہاگیا ےکہراےزی: اک رکم یتم رت
یف ملف کے پاس چا نٹ براطلاغ ضرورکردینا کہا ےش نکی آنگ نے زی کومز
سے پا تک جلا ڈالا ہے۔ اس سے بیکھی جانا مقصود ےک ہآنن مض ہرشاہ دگمداک و بکماں
جلاک رکو دی ہے۔ ز لا جوزی: مج رکی بیو یی دو حطرت بیسٹف علن بر عاش ہوک ھی ۔
۸۸
جب حفرت اوسف فأنگا نے ا کا کہا نہمانا فذ اس نے ان پت بست لاک نیس قید خانے بس
ڈلوادیا تھا لن اس کے پاوجو دن بش نک نہیں ہوئیتی_
۱ ۵و
وبھاراں اگ رباں' جاب مرا شع
ل7 ی2 مات کوہ و گرا راہ+وخت
(یم ال بہار می آضسو بہا نا ہواصع کی جانب نگ لگیا۔ ج ل کیا نذ اپنے ھب روسون
کے اشن رکیآوگرم سے پاڈوں او راو کا سب زوپ لکریسم ہویا)۔
ایا جار ا ےک ہآنٹیبضت بے باہ ہوی ہے بیصرف دل عاش ہی ہونا ےکہ جو اس
کوس نان اور پرواشت یے رکتتاہے۔ دل وشن کے علاوہ ج۱ او مرگ
سال ج ینمی سکت۔ عاش کی ا نگ کے باعث ا کیگر یہ وزادگ* ا لک ہیں اس کا
شورڈفوغا ط ب لنٹ ماج اورآ تی اث ہو گے ہوتے ہیں میا وجہ ہ ےکہ عاشن صاد کا
آہوں اورگرے وزاری میں بھی سونش انی ہولل تد ان کے اٹ سے یرون دنا اور
مگردوفداع جل جاتا ہے ب ایک عدک شاک را نشی بھی یں
ال
تی نادانبت ڈ ہکا بارآں :اخقلت بی رظ
7 یں ہت مان و ای راہوشت
(نگی الد بن اتیرے دوستتو کو ترک عالا تک خر ہی نہ ہوئی اوزدہ ال ہوکر چل
دیے۔ عالائکت نے خر تج مسواک اورمم۱ یکوھی آپنے مض می جا ڈالا ہے تم تذاوری
ہو گے ہو۔)
صوفیاۓ ای شزدری اشیاء او رد خانے یس صوفیا کا لاس خرقہ جھ پہانا پیلد لگا ہوا
درولیٹول کا لیا ہوتا ہے اس ےگمدڑ یبھی کے ہیں رج وی ا ےے
اکر صاب دوستال ور دل ہوتا ےن ا کے دو حرف دو لککی اورالمینان کے
لے صا کان اود شر سے لیت کے ہوکی سے سوا اک سے ممادرداتوں اورڈبا کا
۸۹
صفائی ہوثی ربق ہے اور اسی رح مکی عباد تک جا اود کہ ہوتاہے اس پرکھٹڑے ہوکر
نما زی بھی ادا کی جانی ہیں اور بی ھکر عبادات اور ذکر اذکا رگ کیا جات ہے۔ دوستوں نے
نا وی می ںی لد ی نکی حالت اورکیفی تکونہ جانا حالائکہ دہشت ال میس اس تر رستفرق
جےکرانہوں نے و صوٹی کےض روریی ھا ہرکیلواز مکوچھنی جک رک دی تھا
رل0
٥
پل ےا ھائتی 1ز را ہی زیت کن جیا شر
زار خی رر ازم جا اندر ول یگ نیت
(ااے عاصی مگمناہگارا تیرے ساتھ می رکا ے سی رکا بن کک صودت پرگز
ٹیس ہے جرف سے اورمچھورئے سے دل کے آئن درم کے سوا او پچ موجو نہیں
یت
اتارک و تھا یگناہگا کو اس ط لی سے کوالہمفوفر مات ہی کہ اے می رٹم
لیب بے ائمیں نے کھے یکول مل سے دک لیا ے۔ ا لصوم اور بے گناہ
ہے۔ ال کے جو سے رہ قلب مج لگن ہہوں اوحصیان پر پر بیٹائیوں اور پٹھائوں کے
علاوہ اور ہیں ہے۔ ا یو اور پکتادابی گرا بھواے۔ ان لیے ا ےمناہوں می
ڈارنے دالے عیاش تیرے ساتھ می ری یم ہے پان ہن ےکی شر در نہیں
ہے اود میرک دحمت اورغفران سے اپنے د لکوتگ شک _
کی ری
ےلت غیت ماان حتاف خی زار وا
ْ 3 ہے کہ رووی زعفرا ی رگ یت
(اے میرے بنرے !تم اپنا رد چرہ ہمارگی جان بک دکیولہااس میس شح ککئیں ے
کی او ہے چر ےکا زردی کے مقا بے میں عارے ساس زعقرا نکی زرری 0 اوک٠
۰
> تھا
فرا نت تعالیٰ ال طرںَے ۶ر ہک ےک ہمارے ڈر تو فک وج ے او رگناہوں 4
شال کک باعث تیرا یرہ خوف ای یں زرن ٭چاے۔ بی تہار ےگناہوں پرتہارا
جاسف اور نرامت ہے ۔ اس صورت ٹیل زعفرا یکا زدردگی ج ڑگ ہی چکا چون ہولی سے ال
1 ماری نظ کول نر وقع ٹنیا ہے ووتہارے چر ےکا زرری کے ماب میں پا
اورگٹیا اورکتر سے اس یتم انا زرد پچرے ہادگی رف ہا یے رکھو۔ وی ےکھی زعفرا نکی
زمفرالی زردئی اس میس ای کنقی صفت ہے چک تمہارے چر ےکی می ادگ رام تار دارد
کرو اور پٹھالیٰ کے مہ ہیں ہے۔ بیخوف ال ےآ لی ے۔ اس لے بی زعفرالی ژررل ے
کر نے
رس
دردلي ش' رن رر ون .- 2ک
بندہ را یی مرا از فوبہ کرون ہل یست
راقو ںکوتھائی کے عالکم می اپ یگمردن می ری ڈا لکر فو بک لے اور اس می کس یاضم
کا شرم باعادکی با یل ہ کہ بندہ اپ ریم وکریم پروردگار کے سا نے فو کر لے )۔
انس شمعرمیس پچ رالشدتبارک وتعاٹی نے بندےکو اپینے سار الشے ب اورغفار او رجات
دہندہ ہون ےکی جانب متوجہکرایا ےکہ وال ہق ران می د''تم اپ گن ہوں او رتصورو ں کی
معاٹی ماک لو (لگرو)وہ ہوا وو رجیم ے۔ دوضرورتمہار ےگناہ معا فک د ےگا (اور
خی ہوکر موا فکر دب ےگا)ں' (اے ے:٭۱)۔ رات کی اگ ی میس ال الاب ے معائی
ےآ مان میس پلراللتالی اپنے بن ےکا پردو دارکوحوظا رک ےکی جا بھی اشار ہکرت ہیں
گہ بندہ اس گنا ول رظن یں شرمندہ نہ ہبہ ال کے با ۓےگہہیں تو اپے پردہ دارحتار
اواب کے سام اپ ےگناہو ں کا اقرارکرتے ہو ۓےکسی طرح کی خرامت اورشرتگانئیں
۱ ہدل ما ے۔
ا۹
ر"
کرو رای وھ کات خودویا وی ا الف کے
مان چوں خبات پر شراب و بنگ یست
(اے میرے بندے! اگ رق نے شراب اور ھن ک گی پا گیا ہےنجان اس کے پاوجود ۱"
ے پرلیان ہون ےکی ضرورت نیس ہے۔اے اس کے با جودجھی اپنے الد سے فو برکر نے۔ الڈد
تال یکا فرمان ےکر اپنے ضدکوشراب اود پھنک سے پاک صا فکرکے جارانام نلے۔)
رکز الم نے بھ مے کے ےآ سانیان اورم را کی دا کک گی ہوک ہیں۔
ای لف مایا جار اہ اگ رن نے شراب اود نک چیی نما لود شیا گی پی ھی ہیں تق پچ ری
ق ایل کی رت اورششٹ ے ناامی نہ ہو پلہاس عالت می لبھی اپنامنہاورخاتٹ سے پاگ
صاکر کے الد سے لو گر نے و لیےبھی انسا نکہ بیز جب نمی د ینا کہ الل ارک وتقا یٰ کا
پک اود طاہرنام ناپاک اور ناصاف مضہ سے نے۔ اس لیے انل دکو یا دکر نے اوزجاب ہونے
کے لی بھی م کا پاک صاف وناضرورى ے۔
۵
اب پدا ہ گول بدل خائیم ساخت
ای سی سی
( ہم تہاری تقام برائیوں او رگن ہو ںکوئیوں یس تبدی لکر دیس گے۔ ج گنا ہگار
بنرے ہوتے ہیں' ہم ان کے ساتھ اس سلوک کے سوا او رکوئی سلو کنمی ںکرتتے )۔
اللہ ارک وتعا یکا قاعدہ قاون ےکددہ جب چاہتا سےگناہگارو ںکی سینا تکو
نات سے بدگی دا ہے۔ائ من مس ارشاد بای وں موجود ےک ہم نے بعداان گی
سی کا جن ٹل ہا فی روا وھ و و
بی سیئات پرق کر لیے ہیں تو پھر دہ ان اعما لکرتے ہیں .تو اللد تھا ی یوں ان ے
گنا ہو ںکوگھی یکہوں میس 7 تجد می لکر رتا ےکیولہ جب بندہخوو* جرائی کدف زین کی ے
کرت سے “(۳۴۴۰) ق ال تھالی اس کےا کل سے ا لک بر ائیو ںکوھی خکیوں میں بدل
۹۲
رتا ہے اور الد تال اپنے جائب ہہونے وانے او رگن ہو سے ر کک شیا کر نے والوں
کے سا ترسدا ای سن سلوک سے بی یج ہے۔
رن
و و گین پ(کارال امیر تا ماستٹ
جاے جہر نے مگمین جزمیان سک میست
(ہرے اور بدکارلوگوں کے پچھرول کے انور ہمار ےنیل وک مکی امیدموجد ہول
ہے۔ برا ےک جوفت تین لین ٹیتی پچھرہوت ہے دوچ کی کے اندد بی نو ہوتا ہے )۔
ان می کی شین وش ہک یکنا کی ںکہ بدکار لووں او رعصیال ژدہ لوگوں کے ول
پچھر ہو گے ہوتے ہیں ۔ لوک محصیت اورعدوان سے ڈلیل ہو جاتے ہیں ۔ ان کے اپتے بی
علم کے ساتعدول پچ رہد جات ہیں۔ یہاں بج زا کگیتی ا رگہرے اھ رکی انب اشار کیا
کیا ےک یہپچھردل لک بھی الب شانہ کنل او رکرم کے نی اود مار ہوتے ہیں"
ال ل ےکیوکمہ عام طور پر لھتی تین جواہرات سحدا خت تر ین پٹھروں بی کے اندر سے مسر
آتے ہیں۔ اس کے ساتحھ سا الڈدتاٹی مخت د گنا گارو نکوٹھیا اپے دامن امید ے دور
نی کنا جات
2
عامیاں دارند نظر برا دا عاعیال
او :تر ایی تن راز عال ہک مر
جب ہگن ہگار اتی الا ری اور پرامی گا ہوں سےئٗیں د مھت ہیں او ہم اپی (ففل
وک مکی ) ٹگاہوں سے آنئیں دیکھے ہیں ۔ اس لیے جب ہمارگ ددقی ہے نے بی رس کو ان سے
کک رن کیاکی مال سے )۔
افر مان بای مرش اورحصیاں کے مار ہو لوگ اپ ےگا ہوں کے اوھ سے
ذبے ہو ۓےگبھی اہی انی لگاہوں سے د بے ہیں اوداس کے جواب یں ہمارگیا اکرام دالطاف
ری ای ں بھی ان پرگگی ہیں ۔گویا مارک فذ گناہگاروں کے ساتح شی عبت اوران
۹۳
ری ددقی ہے۔ان لے ان کے سات یکو جن کفکرن ےک کیا مال ہی ہے۔ ال ارک و
تال یی ایک مخت عالی اذا ببھی ہے اور ج بکوکی بندہ اپ گنا ہوں پر بگر کے اشک
جانب رجو]کرتا ہے اتال اس کے لیکو یا نیک ےکی بائیں پیک خنظ رما ںکی طرح
انارکرتے ہیں اک اسے معا فکرد یں اورجوٹی ےتہال سےکگردیی۔
گ2
بشھ اتا 7ے پار و ان أفارو است
ی رود ان وخیزاں گر چ 0 یت سن
(مناہگار )کی مال ای لنگکڑ ےھ کسی ہوتی ےک ہج کا بو گر اپڑا ہوا سے
کدری او ریف دا ہے۔اس کے باوجودد گر تے پت بدھوای کے سے عالم می س7آ گے
جک طرف پل د ام اگر چردولی تا لے کے گی ہے )۔
اس شع می سگمناہگارو ں کا ا ناس اور امیدکی طرف تج دا یک ےک دہ اپے
مناہوں کے بوچھ نے دہے ہوۓلنگڑ ےھ رکی طرع ڈےگگاتے گر تے پڑت گھبراہٹ
کے عالم می برحواس سے ہوک رآ گے ہیآ م ےکی طرف مد ھت لے جاتے ہیں عا اک انٹیل
بھی معلوم ہونا ےک دہ نہ سی کاردا نکو ث ےکر پل د ہے میں اور ےکوی قافلہ ای ا نکی
رہتمائی ےٹیل باب ہہود ہا ہے۔ الہد اس ناامیدکی اوداغنآں و خیزاں یی رفت می بھی الل
تیم دوکریم پرا نکینظرہوئی ہے۔
ر|گغ
زیر عہدان جہاں گر تک در طاعت زتر
می فلس بر ابر فنل می در چک نیت
(دنا جہاں میں تیک لوگو ںکی بھی خوایش بہوکی ےکہدہزیادہ سے زیادہ طاع ت تن
می خییاں تی ش کر تے لے جا تھی لان افنسو ںکیگی الد بن تے بی داہاں ئ٤ اس کے پان
شکیاںئیں ہیں۔ ا کا صرف تیر ےل وکرم پرجروس ہے )۔
اس دنا بش لوگو ںکی شور یکوشش فو بجی ری ےک ہآخرت کے لیے پگ یہکرتے
۹۳
لے جانمیں اورائلد کے کیک بندے پچ رگ تکیوں کے بے پناونمزانے کر سے ہیں ۔ ئن
ہے اگ الین ل(یہان 7 سے ماد ہر عا مفف بھی ہوسکتا ے) نو تیوں سے خالی
ہے۔ اس کے نیک اعمال ذیاددئیں ہیں ۔ اس کے باوجوددہناامیدررمت نیش ہے۔ اسے ال
7 داٹی ۓْ پاو فگگی پروردگار +]+:2 یفن درم ت- ےک اسے اللد فور
شردداپے دا ران یش نےکرچنی دےگا۔
خزل ا
٤0
اے ولی ور کوۓ عشقت تاپزائو ور گلسےی
7پ ۳ سی و
(اے الا تیر ےکوچیشقی بیس مہرے دل کے پائوں زالو و ںکک نے ہو ۓے اور
میس ات بت ہیں۔ میرے دوستو! یی ہمت کے ساتھ میرک مددکر وکیوکہ بی ایک
میق لکام یس پچنسا ہوا ہوں )۔
تایا جارہا ےک شش کر کوئی آسان اود عام سے کا میں ہے پلگہ ا ںعشقی میں
کیفیت لوں ہو جالئی ےک عاش اس یس پور دل و جان کے ساتھ بپچنتا تی چلا جانا ہے۔
چان ےک فخاطر یو ںچھ یکہامگیا ےکہ میس قے داد عش میں 1ک رکھڈوں بک اس کے سپ
یمن چگا ہوں اورات چت عاات می ہو اے مہرے دوستو! مر دکرو۔ ٹں
واری طلب و ہوا ہویں۔ بے منزل عراد سے بننکنا رکران ےکی مار بی بمت اور
جوانمردکی کے سا تھ مرا ساتھ دو
2
۸ رم یں دل دپانہ رانتصور چچبتے
کو پھیشہ سے سرگردائی من 7 ست
(یجھے ا لک نرنٹیں ےک میرے دیدانے د لکا آخ کیا مقصمد ہے اور وذ بے پمیشہ
۹9۵
پ4 ینا نکرنے می پا ×ھاے)۔-
راوہشقی میں ا بکیفیت یہ ہوچگی ےکہمیراسودائی اورفریۃ دی میرک جان تی کا
تن بنا ہوا ہے۔ بے معلو نی سکہ دہ ای داداگی بیس میرے ساتھ او کیا ھکر نے برا ہوا
ہے ۔ نی معلوم بی مرن د لکی دلواگی میر ےش یکانقت ہے کہ دازگی کا انا کا مجچہ
ہے۔ بہرعالل بی سد میری مرگ ردای'اغنفا کے مھیوں اورجرالی اور تر ددیٹش پرستور اضافہ
تی کے چلا جار پاے۔ ا نآلام ومھنام بکی انچ کہاں ہوگی بھے ا سک بھ کوک ری ہے۔
ر2
گل جھودی فرواند 1 پیر کواپ
ار سی کہ از ورو نٹ مارا نیت است
( شر ذردکاسگھبنن اور چھارگی لو چھ مر ے دل پر اس فدرزیادہآن پڑا ہ ےک گر اس
بو کو سلطا نکمودخرزنوئی کا اتی جو بہت طاقت اورمبو یق خواب می بھی دک نے تو تیک
یدب خجائۓے ات
اے دوست برا دردمیرے لیے ایک بببت ڑا اور تل بو چھ بنا ہوا ہے ۔ بج را ی بل
ے جوا ںین اور بویلل وز نکو ہنی بلکمہاپتی ھی ضردرت کے تحت اٹھاۓ ہوئے ہے۔
دنا جہا ںکوکیا معلو مکہ یہ بو ےکس قد وزنی ادرگین ہے۔ بی بہت وڑ لی بوھ ہے عمودکااگر
کوئی پا کہ جو اپنی ق٤ت اور طاقت میں بہت نمایاں اور بڑا ہی جو گل والا ہوتاے کو
میرے دل کے اس بو چاو خواپ میس بھی دک لنے لود ہزور ہوک رتھلا رورغ ہو چاۓ اور
اپنے آ پکو بوچھ لے دبتا ہوا بھی محسؤ ںکرنے گے ۔ اس بات سے ہہارے د لکی طاقت"
قوت اورمقبوٹ یکا بھی انداز:لگایا جاسکتا ے_
ر
لے دل آوار, آ ر چر یل موی ا
اندروں کاۓ کہ پاے صد بزاراں درٹل ست
(اے مر ےآواری پتررل ابی دای ی سکہا تک شور پچاتا رےگا۔ خاموشل
۹٦
ہوجاشورنہ ہنشت کے ا ںکو پچ میس لاکھوں عراش جس نے ہوئۓ ہیں )۔
اے مر ےمفعرب عال آوارہ ماخ اورسرگردال اور پان دل تی رےشور نوا
اورآرم وزار کاکِثي ارہ اورٹھکا یں سے نک و واد اکر کےگیا ا خاصلیکرنا چاتا ے اور
کب کت دیک١ کی ری کوافتیار سر ےگا اد کیا ا کان بھی ہ ےک تا کیا
انام ہوگا۔کیا مھرے دل دبوانہ نے اس اھ رک یپئی خمر ہ ےکم اس دادیی شی میں تو لاکھوں
ہراروں عشائی موچور ہیں اورووس بکو یش دو جب تک دلدل می سجھٹنوں کیک نے ہوۓ
ہیں۔ جس مم سے نہ دولل کت یں اوران رن ےکی جمت ے۔
رت
یم آمو ست ش ہم ام شا
وقت ٹل و نوجالی و چہ غثل ما عصل ست
(دورغیاب یس آ امیر ہم اور ری ہے اود می راف می می راخ راز ہع۔
دیھا مر ے میٹ اور جوالی کے جب رکا میرے پا کنا ابچھا انل ہے۔ او ریس ےکیسے سی
8ں)۔ : .
دور جوا اور دیع خیا بکا زما نگ یکتناتجن' خوب صورت اور پا وصل ہوا ے۔
اس عہد یس مرش مسا میرئی اتی مور ٹقی میرک آ ہیں جی بن ہوگی ہیں۔ بھلا مر
آہو کی اس دفاف تک اکوئی انداز ؛ک سا ہے !اود ہآ ہیں صرف ہا وا اور اغوں ہی
یں ہیں بہ بی تذ میراسرباینشقی ہیں اسی رح اش مس ”نف پریٹاناں' مصاب
اورمشکلا تکوش نے اپنا ہم راز اور راز دالن بنارکھا ہے ۔ لول یی ری رسے لیے ند پر بای
نے ہیں اود نہ باعث تشویش رے ہیں کہ دونذ مرے کے ہعدرۂ سای واتف' راز می
شراکت دار اور مہرے ید اور راز جاۓ دانے ہو جاتے ہیں اگ رکوئی ڈگانشقی دبحبت سے
دی مر ےش کی یتس میرے لیکعئی مین اویم ہیں۔
ے۹
لگ
خور ور گویم تما یں وک زار زار
ضش راز ٹرییاں ابر اتک سال مت
(یمش زار و ار روتے ہوۓ خودہخوذدی پا تی ںکر ن لکنا ہوں۔ مہرے ہہ یی والے
آنسوتی جھ سے ہر یوں کے ہم راز بے رے ہیں )۔
گی وزارگی اود رد نے دھون ےکی حالت تو بڑگی یآ سودگی پش ہوٹی ہے۔ اس سے
وشن صاد کی وادلوں اوریغیتوں میں لا جا ے۔ یس و اے زاززارروۓے ے
دوران یش اپے آپ سے بہ تگہرکی اور دورگک بای کرت چلا جات ہوں۔ یہ پاٹ اورکام)
بج سے خودہفود ہوتا رہتا ہے۔ میرا اس پر افقتیار دارادوگھ نیس ہوتا اود پھر می فو ب ربج یس یں
ھ۶ ہوں مم سے ری ںکاکون تیشم خواراو رم رازکوئی ہوکتا ہے۔ می وجدے
کہ ہار ےق یراک ددال گیا ہمار ےرم راز اور ہماریی صورتں او رکیغیتو لکو جاتۓ والے
ہیں دعا ےکہاللہ ہار ا نآ ٹوو او اشگو ںکوسدا سلاعمت رکے۔
2
شی وؤ پر زنرگای رن داری 7
راہن رلی لیقیں ھی ریں کہ آکرے پل ست
(ا گی الد ین !اگ رذ انس زندگی بی اس دہم وگمان شین ہ ےک ہب ض نکی راہ رات
پل راہ تق یقہاراخیال مال نیس ہے بکہ بی تو دہ شی حاات ے)۔
اس ۓگ الدین! فو راہ راست پکار بند او رگامزن سے بی ال کی راہ ہے۔ دی
صراطاضن اورصرایرم تم ہے۔اس پ لیت ہوۓے ےکی برض اور شا نی کا کا یں ہونا
جا ہیے۔ جان لاکہ دی راو تق سے ای یش مخیبت ابیز دی سے اود ایا پرگامرژن رے مل
عافیت اورکامیا لی ے اگ رق کیک نیقی اورخلوش کے ساتھھ اس دراو گان ہے و اس راہ
یش تک وی کےساۓ موجو یں ہیں ۔ اس میس ہم وگمان کے الھا بج نیس ہوتے بن
پیصورت ے مرا بحوال اھقین ہی ین لقن بین جائی ہے اور این تن ت نک پپرا را
۹۸
دیکنا سی طرع سے عین الھقین شی کب کی ردیت مل بدل چاتا ہے او رآنگکھو ںکو لقن
کا لئآ جانا ہے اورروق تکائُل پپدا ہو چاتا ے۔
خزل ا
ر٤
گ ی۳7 کی میں می
و وی ا ا
(ئں نے پا چھاککہ ہارے ساتتہاراکیاتھلتی ہے ؟ میس نے انا کہ می تق آ پک
ایک ادلی سا لام ہوں۔میرے اس جواب پہ وومتیب ہوااس نے لہ مچھا شایدقر ستی می ہو
ن ےکہا ہگ ہاں ٹس مست الست ہہوں ! یس آپ ک ےش کا جام عبت پ یکر مصت ہو
چقایں)۔
یا لگا بندہپردددگ اد عنای ت ٹیم ہ ےک اس ذات نے ہم سے پاچ ہی لیا کہ
تہاراہارے سا ھکیا تنک داسطہاور رشتہ ےے۔ اس سوالل کے جواب می ہم نے بڑےقھر
اورمبابات کے ساتھ جواب دی کی رشت ناد معلوم نی الہن:جیس بی سعادت ضرور حاص“ل
ہ ےک ہم آپ کے تھایت ادلی اورکتربن لام ہیں۔ اس کے بعد پھر ہم سے پچ چھامگیا کہ
تمہاری صورت سے س تی کا کیوں انظہاد ہر پاہے۔ ا لک د کیا ہی ؟ او ا8اک
سرددومسق اس لیے ہ ےکہ جس نے آپ دی ک ےش کا جام خائس پ رکھا ہے۔ لویں بش
آپ کی کا غلام ہوں اورپ بی ےشکا جام فو جا نکر کے ستقی می ںآباوواہوں۔
2
مھ پا دری ۴ لحم بر حشق باری
7 ا
گنت کہ عالت پست و و طلامت
(اں نے ددیاف کیا کتہاراپیشہکیا ہے؟ یس نے جواب می سکہاکمشقی بای مرا
پشہ ہے۔ ال نے پھر پچ چھا کہ تمرکی عالل کیا ہے؟ یس نے جوا تا ینم اود مامت میں
۹9۹
ات ت رہا)۔
اس نے ایک فدم اود پڑھ اکم لے پچھاکہاے بند ےت کیاکرتے وکیا پیشہ ر کھت ہو؟
اس پر یش نے بڑے زیم اود بے ٹیازئی کے ساتھ بای کہ ہمارادین یما ن' کاردپاد ادرکا کاب
ضرف اورطر فحشق کر نات ہے۔ یبال ریا یس نے ایک بار نل رایاثحویت اور اپناحیت
کےجلوئوں می چا اک میری ما ری دہافنی عاا تنم 2۸ ے ےکم امو ونم وا کے
سوا یھے پھواور راس بیس ے۔
”
ا یں مر
کی ا نر میان> زعت
(ای نے پو چھاکہتہاداکیا عالل ہے؟ یس نے بتا اہ پرعال یں اس ذا تکاشگر
اداگرتا ہوں۔ ای نے پچ بچھاک کہا بین ہو ہو۔ یں نے ایامک آپ کےعشق میں پچضا
گراوں)-۔
استنسا رکیا گیا کہ اے میرے بند ےن ھکس عال شس ہے؟ اس پر یش نے بڑے
دقار اورتحمکینت کے ساتھ ایا کیہ جن حال یس مرا پرور دگار جھے ر کے بیس فو سدا ای عال
یس اپ ےآ پکوب سے ہر اور باعمز شرف جا ضا ہوں ۔کیوکگہ میراکوئی عال اوریر لکل
حعالت ال سے پشیدونئیں ہے اود می ری یکوئی حالت اورکوئی عال بے سب ببھ ینوی ہے۔ ہر
ورت حا لکودہ مال احوال خوب خوب جاہتا ہے۔ پھر ھ سے لپ پچھا گیا کہ می سکہاں الھا
ہوا ارس تہ بر پھنسا ہوا ہوں.قے اس پ جس نے پھر تا امہ ذ آپ جےکشق کے جال
می ڑا ہوا ہوں۔ اب اس میس سے می لن بھی چا ہوں و میرے لیے یکن یں ہے۔
ر"
گغتاز می چہ خوای کا
گی کک و تلق مجن
( را گے مر مل پرسوال ہو اک تق مککیا جات ہو؟ اس پہ یں ن ےکہاکہ ےآ پکاددد
بے عددرکار ہے ۔کہ تھے اکا درد سےسکون متا ہے۔ بچھ راس نے پچ با یدرد کک چا
ہو یس نے جواب دیاکہقا مم تکک کے لیے )۔
ھھ سے سوا لکیا گیا کہ اے میرے بندے اس حاات شی گے میرک بارگاو کیا
چا ہے یس طلب میں قو اس قررنشن مرائل میں سےگز در ماہے۔ اس پہ بی نے اپنے لے
می آرام وراح تک آرڑو 2 بن می درخواس تک یکہ مکی طلب او رآرزو می ےک
3 آپ کےکشی کا ے عدوصاپ دروٹل جا ای یس میری زگ بجر بارگاہ ایند
سے ارشاد ہو اکم وہ دردک بکک چا ہہواورس دورتک ا سے تچھا سو گے؟ اس پرشیش نے
پھر برلا طط بک یکہ تار ےمش تن کا وہ درو قیام ت ت٠۰ 7ز چال بنائۓ رک کی آرڑو
اورطلب ہے۔
۳
ئگ
۵
گفتا چ 1 7 ؟۶ 4 عال وت
گنا چہ داری ار یر یے نراضت
(ا نے بے سے سوا لیکیا کہ مم شک سک پت کرت ہوں؟ اس ہیس ن کہا تیرے
چرے کےنسن و جا لکیا۔ گر و چھاگیاکمیرے لے ہارے پاس ند دہج ہکیاموجود
ہے؟ تال پٹ نے بقایا جزنداممت میرے پاکی اور کیل ہے )۔
دہ سب بپکجھ جاۓ اون اورعلم رک والا ایک ہار بجر ھ سے لو پچتنا ہ ےہ اے
بنرے نک سک پپوجا اود تن لکرتا ہے؟ کون تیرا معبودہے؟ اس کے جواب میس بش نے
اقمرا کیا کہ اے مہرے ما تک اوز می رے احوا لک اسب سے ہنظر جانۓ والیے میں فو صرف
تیرے چرے کے سن و جھا کا پعت لکرتا ہوں۔ اس کےسوانہ بے پچ دکھائی دبا سے اور
زہ یس پجدد کی سک ہوں۔ اس لیے مر ےمتبودتیرے جما کان فراوال بھی ہے۔ ال
دضاحت کے بعد اش نے ایگ بار رھ سے پو چھاککہ: تورے پائ' میرے لی ےکڑی الیکا
پند یدہ یز ہے جو میرے شایان شمان ہو :شش نے ازداہئیالت بتااکہ شی و سرایا ندامت
میں ڈوہا ہوا ہہوں۔ می رے پا ندامت می نداعت ے۔
۱٭ا
رلی
کت ود کے مھ چوں نم تل
مؾ چہ چز واری ؟ کم ہمہ عزامت
زا نے و چھاکتہارامیرے بخیرکس طرع وقتگز ددم ہے؟ فو یش نے بتا انم
ٹل جاوری طرع تڑپنے اود ٹک ہوے وف تگز ارتا ہوں۔ ال نے لپ چھا اب تہارے
پا کیا چےزموجود سے ؟ میں نے پورے لین سے بایا "نہ بلنلد ہمت اور خمرمزازل عم
)2
سوا کن وا جرح او رک موا یکر کے کو ور ہا ےک یھو سے معن سے
اورق مرے چچھرے کے صن و جا لکی عباد تک۸تا ےلان اس کے باوجودۃ مہرے یرک
عالی ج سک سکیفیت یش بی رہا ہے۔ اس پر یک طور پہ اتا ہو ںک۔ اس طود ب مرا
حعاات نھم ڈ نع شمدہ اس جافو ری کیا ے کہ جوصرف تپ اور نزک سنا ہے۔ یوکوگی عام
معمولی عال یں ہے ۔اس عال کک بنا ہرایک کے ای سار گنیس ہے او ہرایگ اس
حال کو اص لکھ نی سکرسکنا ۔ ای پر اکنا نہکیامگیا نچ رپ چا گیا کتمہارے پا ان عاات
بھ کون سی زاص چزموجود ے؟ می نے پور ے وثق'ایغان کال اورایا نکیىی گی
کے اتی ایک ہمیرے پاس مز میم ہے۔ مرا عزم بالجزم مین کا پدادرسم ہے۔ اس
می شکوئی ول با یکس کے می راع زم وی را حوصلہاورمری دولت بے پنادے۔
گنت جا گرازی ار زیم جہجرت
فا کہ پاکہ سای ۳ تم :ا کین :لات
(اں نے 8پ چا تم اس قد رگدازہکیوں ہو؟ می نے جواب دیا کہ تیر جدائی نے
میری مہ عال کر دئی ہے اور میس جدائی کے وف بی میں کھلے جا ہا ہوں۔ پھر چھاگ یاکنہ
کون سی چزتہار یٹ کے موافی ہے تو جس نے بای یصرف ملامت ہی میرک کے موافی
چ۔)
۲
اس پو پچ والے نے ایک اودم لپ ددیافت فر مایا کیتم اس قز رگداز ہوک رک
کیوں جار ہے ہو۔ ا نرئی او رگدازی اورگھطا ء ک کیا وج ہے؟ نو یش نے مرخ کیا کہ بادالی
مس تذ تیئی ججرت اود جدائی کے خوف او زم سے بی پھلا جا ہا ہوں ۔ اس مس مرا ااکولی
کھال باارادواہیں ہے۔ انس کے بعد بجر یو چھا گیا رکون کی پچ تہارک کے موافن ے اور
می کات رساے؟ اس پر یس پل رمع روش ہوتا سرک ام یک بی لم نے
ماج ای بین موائی ے بے ہرطرف سے ملاتمت ہی ای او ریم گنی ہے_
اگ
رک و رہ ہم را
گنت نیاں چہ داری و ا
(ال نے مھ سے لے پچھا کی الد ی کون ہے او دکیسا کس عال یش ہے؟ میں
ن ےکہاک جیا آل جناب اچ ہیں دیما تی ہے۔ ال نے پہ بچھا تہار نے پا ا لک یکیا
ای ہے۔ میں کہا یدن ات ٣راو )
اس و نے دالے نے بل خر ییسوال دا ذیاکگی لد ی نکیا ہے اور دوکون ہے؟ ال
پش نےکیہ جو اپکی سے پالکلی عارکی ہ ےکہا کہ میس خودۃ بھی نہیں ہوں لہ یت
دای یھ ہول' جو اور جیما نو بے جاتا ے' پٗ نے جو کے نایا سے پا جس طرع کا نو بج خور
دیکنا ا جانا بنا اتا ہے مل دقی ہکھ ٹا ہوا ہولں۔ مرک ا خودسردگی اور سے با
پرلرامتضسار ہو اک ہار ے اہ نل اورال خودپپردکیا ”ہار ے پا کیا نشان یاعلاصت ے
مرا بے فا یی یش سے نی عدا بر کرای کے لیے میرے پا کول علابات
اورنانات موچور ٹیں ۔ اود اے پادری تعال یتو خام شواہر سے وب وائف ہے۔ میرمےسوال
جو اب و میرے لے باعت شرمندگی ہیں
۰_۳٣۳
فزال ا
٥
ٹحم و ور کہ عاقبت جاۓ و صدر جڑی ست
رویۓ دل تو جا ابد صوۓ رضاۓ حخرت ست
(اے ہنرے! نم تک بالآخر تھے جنتہل ہی جا ےگی۔فذ اس جن تکی طل بکر یا
نرکرااس کے باوجودٹة ا کا تن دار ہے ۔کیوکلہاب تک تیراو ل تو الشد ارک ونعا یکی رضا جولی
ٹس لگا ہوا ے )۔
اےانسان کیک اعطوار ےکی طر کےکم دانددہ سے دو انیس ہون چا ےق جس
زی جنت کا متلاٹی ہے دہ شکانہ کے ضروری لک رہےگا۔ بے یویں بی نیس مل سکتا۔ جم
جنت اس لیے لگ کیوک ہت نے اس کے لے انی مقدوربھرکیش شک ہے تیر یکیشش بیٹھی
کت نے پمیشہاپنے پروددگار کی رضا جوئی می اپٹی ز دیز ارد ےق ابدکک ای اللہ یکا
رضا جوئی یں لگا رہا۔ اوراس مم لپھ کوئی شک دشینئیں ےکن جدہ ود کہ جوکوشنل
کرت سے ووضرور حاص لکر اتا کہ
۰9
عم و مورکّہ مر ہجاں چوں زحشت ہی یہ
نرل آیاں او تد صىرثق بت ست
ا 720 کرد کہ جب تہار ےم کے قد انے سےآززاد ہہوکر رو کا
فدہ پروازکر ےگا ف راس کے شیان ےکی منزل اور قعد ےکی تک صدق خیت ب گی )۔
روج ان عم اور جصد بی ایک ہمان پرند وک مامندرنقی ضا ودای روح سے ا تم
کے اندد جاع اور زندگی ہے: جب ہہ پرندہ پروا کر کے ش مکوچھوڑکر چلا جا قو پچ راس
پرند ےکا مسکن اور آنشیا نی اوربی :ہگا اس وت الس کا شیا نہ صدق غیت ہوگ اور وہ ای
زرل صدرق بی تکا مممان ہوگا- :
١٢
رس
جم و و رکہ ای مت پروں ونود رود
(اے بندہ مخدا !اگ اش دالا سے چرم جک رکہ جب تبراضسع لد می ات ےگا تق پھر
تیر ےش مکی اک سدا بک نٹ کک اللدتقال یکی رععت کے پالی ىی مٹش ڈو لی ر گی )۔
ایا جار ہا ےک اے میرے بنرے تیر مموت کے بعد جب مکھے قبر یل اجار دیا
جا ۓگ ف تیر ش(حم جس راص رخ اک ہے دہ ماک یں لک ماک ہو جات گا۔ لین تک ےکی
رع ان مرن ےکا ہرگ زضردر نیس ہے۔ تیر ےش مک فا کک ہم اس قداہم او رقائل
عز ت کے ہی کہ دہ جش تک میرک رععت کے پالی مج ڈو ی ر ےگا اور ای سے وت بت
مکی ما ککودخیاویگناہوں ےآ لود ہیں ٛ رہےگا۔ ریصرف اس لیے ہے اذ نے اپنے ال
ہو نےدیا۔
ر"
:جم کی حور یہی ھا ور ہی میں ور
ای زعال الف اوست : زکال غرمت ست
(میرے بنرےتم خث قسمت ہو مم نکر کہ او ارک وتوالی ن ےت ہیں تا خلق
مس سے جن لیا ہے اورتبراامقاب اود چنا کوئی تمہار کسی خدمت کا انس بل بیس راسرالڈر
کا لف دکرم ہے جوااس کے جما لیا وہ سے ہے )۔
فرناا جار ہا ےکا میرے بندے ! میس نے تھے سار لوق مس سے اپنے لیے
جن لیا ہے۔ اس طرح فو ہمارا تب شدہ برگزیدہ اورحتزم ہوگیا ہے یرامہ چنا اوراستاب
گی عبادتوں' تگیوں اور تابعداریوں کے باعح ث نیس ہوا ہے اس یس فو سراصر ہمارے ہی
للف وکرم اور ہمارکی ہی عنایا تکا تفہ ہے ۔ بر سب ہے ہارے الطاف داکرام کے ما لک
وجڑ سے ہے جوسراپا مت اور ٹمونل و برک ت تن ٹیں ۔ ال تبارک وتھالی کے پا نکولی مقام و
رعبہ بن ےکی عبادات اور طاععت کا مت نس ہوا بکہ اس کا دارو عدار ای نل وم پ
٥۵
2
عم نے مورک روز و شب سی صدوشصت لطف تن
ور فو نظر بھی ند ایں ہمہ از جثت است
ما رن جا کم یرد ۔کیوکلہ ایک دنع رات مل ال تما ٰٰکا الف وکر مجن
سوساٹھبار کے دکتا ہے اود جان لدنا چا ےکہ رسب باھ ای انل دک عبت بی کا نہ سے )۔ ٠.
اتارک دتعالی اپے بنردے سے فرماتے چیا نطو ےم
و ا ای ہے وف سداسدا کا اپنے خالقی و مال کک نظرمش
ے۔ دہ رام تتھ پاپ نظرر بے ہوۓ ے۔ دات دن بیس ود تن سوساغ بار کے دکتا
ہے۔ اوراللد تھا ی کا یہ کے دبکھنا اس کے للطف وکزیم سے نال یکین ہے۔ ا لک برشادش
ایک نی شمان اور یآن ہوی ہے۔ اس لیے ہم وقت ا سک نگاہ' ا کی پناد اور الف گرم
کے عدام سالوں ٹل ے۔
رن
ا کہ ج رکا کہ نکی غدائۓ تس
در رطلب او خور را بندہ گوچر زمعت امت
لاوقا دا ےرم نکر وکیتم چا ں بھی ہو کے تا
خداجھی دہال پر موجود ہے۔اے بندے نے کیوں زحم تکرتا ہے الد تی و خودتورىی طلب
میس ے)۔
الد ارک و تعالی کا اپنے ات فان ےک ہیی ھی طرح کے ے
ڑھال ضہبد- لم اک رکرن ےک ہرز ضردرت یں ہن خدکہاں ہے او کہا نشین ہے
ےا ںکوشھی ق اپنا لہ نہ بناں بن اس یق تکڑنلتی طور یہ جان ن ےک ہت جبا ںجھی ہوگا تیر
ہاں ب ککبھی پرواز ہوگی تا پروردگاد دہاں ضردرموجود ہوگا۔ ىہ ال س ھی ک ےک اے
میرے بنر ےھ فذ تیرے پروردگار ے جوطلپ او رآرزو ہے دہ تی عبدی ضرورت اور
٢ا 5
اعیا نان ان یک میکس اے مرن بد نے نیت تر گیا ےکہ نجھےبھی تورکی طلب
اورغرورت ے۔
2
مم و ورک عشق خور پاگی یم سشت
نی خداۓ لو 2 ے ل غلقت ست
وجےھتے(غ نکر اس ما کا صشقی مور مٹی بی می نمی رکیاہوا 0000
پروردگا رکاش بندے سے جدا ہو ب ینیل سکنا۔ اس رح سے تیر سا تھھتیرے خدا کا ہے
مض خقی ہے جوفرششل سے جاری ہواے )۔
بایا جار ہا ےک اے میرے بن ے“ تو اہ طور بک اورائروو ۓگ ر مثر ۓ ہو
انی سےاپنے لیے عذاب نہ پیداکر۔ تا ا ق3 یرےخزالق دنا لک کے ساتھ از لائشق ےت
از کی2 ن ےکا انیس ہے۔ اصل متقیقت وہ ےک پیش تی اگ یس سای ہواے
ما دوس رےلفٹلوں میں بیو ںبھ ی رشن ای مر ے دجدکی طاک یم ن روز ناس
لیے بش من تھ سے الک ر ہے با عودہ ہو یش بھی عصورت می کن بیننیں ہے۔ یہ لاٹ
اورلابدگی ردےگا۔ :
رگ
حم و ور کہ پا مت ہن ور اخر ڑ
او نہ ہس و نہ اووٹر او غاوی ست
(خموں سے ربا مرد ول انمان ائم رک کی ذو دا تار نے طاتھ ہے۔اگرچروہ
تی رے ساتھ ہکن ا کاو جودتیرے وجود سے چوا اورگقدہ ہے۔ دو نہیں ہے اور گی
کے بھی دوئیں ہے لیکن کے ہی ںکہدوخلوت جس ہے )۔
بندے سے فرمایا جار ہا ےکہاے بن ے تیر پردددگارتیرے ساتھھ ہے اس لیے تھے
می گیا وا مے سے او رپوا زع کےٹ کہ ےک پاک زاس ند زا تالق
د مالک پردردگار ہعمدوفت اورسدرا تی رے سا تھ ہی ہے۔ ۔لیکن الد تال یکا بن ے کے سا تھ ہونا
7
اتی رح سے ہے۔ ا ںکا چوکندوجوڈیں ہے دو نورصسعم ہے۔اس لیے دوتہارے ساتھ
ہوئے کے پاوجودشھی تجھ ے الگ اور جداگانہ ہے ۔کیون لن دہہیں ہے اورووت یں ہےے۔
ان لیے الگ ال٣ ک بھی ہیں اور ساتھ سا تج بھی اور ال ہکا بنرے کے ساتھ ہونا بکوال اوت
ہے ۔کیوکہ ال تارک وتھالی انی صفات عالی: اعد یت ص یتلم بل ولم لہ دلمکن لہکفوا
اعد شش نیرانا لی خی رٹسم اور لیر وولارت سے ااوراے۔
رق
جم حور بل ہے گرا خی“ وقرات گے
حستپان - ر 1 از تا نت ہت
(ا کیک اورٹم نکر کم شراب پے ایی مصت دیدہوش ہوشمر سینستشریوں
ےکپ وکش نے3 جن تک شراب لی گیا ہے )۔
اے میرے بندے !ےا ام کاتم اورکگ نیس ہونا چا ےکہلذ شراب تن کے نے
ھی دہش ہے۔ بے ا لکامگی یں ےکر ن ےکیایاہے یا کیا وکیا ہے الد
دوش مست اورسرشار ہے۔ تھے بیےستا اود رشارئ اکس نے چیٹی ہے۔ ا کا اصل سج بکیا :
: نوا رسب ھکیو ہے۔ جچے ا لک زی ہے۔ ا لے اے مرے بارس ےا
طاشن صخسیوں سے دامع طورپہ تاد ےکرتم نے اللدکی جانب سے جن تک شراب مجور پا
ر ہسے۔
م۹۵
حم و و رکہحخ زا بندہ خویش خوائرہ است
غو وا وو کی ؤانت رای عق
( تفم زرکرو یں ال تھالی نے پان ہکہا ہے ہی ببت بذک سعاد تک بات ے۔
ا ےگ الد بن! ارک بنرة ہو نان تتیرے لیے دوات فا سا اق )ار
برانمان پر اشتارک وتعالیٰ ا ایک یہت کی او تج نت او رت انال 1
بات ہ ےک دہ اسے اپنا بد و قراد دیتا اود انا بندہ ھی اسے پکارتاہے۔ اللہ وعدہ لا ش ری ککی
۴۸
ذات ہے ہما کی جوشمان' عظمت جبروت اور قد وسیت ہے۔ ال کا بندہ ہون' تصرف بئدہ
ہوا لگ اس ر تی لکااسے خوداپنا بن ۂکہنا' بہت بڑ ا شرف او ری تر بن انسالی اعمزاز ہے۔
ای الدین !ےت ا کا اضساس اورادداک بی نی ہوسکتا کہ بل کا بندة ہن فی ڑگ
٠ فضیلت' عفمت اوررفعت وعرجب تکی بات کے ائ ن٥اتی اورضدت ہ یکو بہت بی دولت'
سعادت اور قورانما ی کی علامتتراردیاگیا ے۔
سان طلب جانا ںکہ درد ۓےت گرا ل خوارست
از ساقی نثانی گ کہ ال چامصت بیار ہت
(اے میرے ہم دم ! صاف شراب طل بکرو کیو نٹ ادرتہ شون درد پیے وانے
قذ اب ول ہہو گے ہیں ۔ اس صورت میں تو گئیں اتی کے کان کی تج کرد ےےکہ اس مہ
پر ٹن وانے مستو ںکی تعداد بہت زیادہے)-
ےی ڑے ررکف یرس تن کے نے بانے ج نآ تےللزعاتقری
نات 7ئ
لیے اس نے مین بے درولجنی ہیں او رتیھمٹ طل بکر ن ےکی رورت اور عاجت
نہیں ےکیوکہ دہ ے خورد جووز دن تھے دو بوکحل سرت او رکائل ہو گے یں۔ اس یج
اب تم “میں از راو عنابیت ساتی کا عقام او کان بنا دو۔ بیہ الس ل کہ بیہال پہ پیے والے "
مستو ںکی بہت ہڑی تعدادشع ہو گی ے۔
ر2
ازیں سوداۓ صصتی آخر سرت بریاد خوای داد
رت چوں می رور خواج چہ جاۓ مر ومارست
(اے دوست گرا اس سودا ۓےعشقی سےآخ رکارتم اپنا رتو د بزبادک رو گے۔ اور
اےخواجہ جب ص ری سلامت نہد پا فے پچ ردستارکی تفاط تک یکیاگگرکرتے ہو )۔
قایا جار ےک را لق کےسودادبواگی اور پگ پان سے اے بندرے تی راصربالآ
اود بربادہوکردہ جا ۓگا۔ اس سوداۓعش ٹس تباھی اور بربادٹی کے سوا اور یں ہے۔
نش اتا رکرنے کے بحدسو لدنا چا ےک اس میں تجاپی اورکلست ور بجنت یا ہے۔ ال
!' را ودای سوفاو ںاود تی ہیس کی بای اس یں ایک عام دستور ہوتا ے۔
ای صورت می دستار اور تھا گی ےن ررپتی ہے جب سرب یمفو نیس ر پتا تب رتمامہ اور
تا رکون ہداہکرتا ے۔
ج
ا تا نڑے ہیں گی پاپ آوردن
یں کار آبر از روڑزرے 7 دتے کہ ظرار ست
(ارے ول کےکیسہ سے ری ہکا لے کے لے ھے بے عداحیاط ےکام لین پڑے
گا۔ یکا م چا کیک دست خی زطرار چود دی مر رق سے اخعجام دے کت ہے )۔
دی کے نزانے پا ول کے کسے میس سے نفڈی یکو ٹیالناکوئی آسمان او کل کا نیس
ہوتا ۔ ا کا مکوق ھکوئی ماہ رسک رست" تر رکا الیک دست او آہایت اعقاط دم ےکام
لیے ولا چود ھی سراضجام دے سا ہے۔ ان رن نار صویت عالی ایک علائئی انراز
بھی بیا نکی جانحتی سے ۔کی ہقلب اورمخزن ول سے راد اللہ تارک وتعالی کے بے پناہ
ونیم اوربھی شع ہونے والے رمتول' فو اور برکات وصنات کےخزانے ہیں ۔ ا نکی
توں سے ٹیس باب ہونے کے لیے شب بیداریاں' را ںکی عو اود قیام الیل ہی دہ
خقیراورسرک اتھ ہوتے ہیں جو دو دڈینیں حاصم لکر کھت ہیں-
: 2
ہوں در دکان زمر ۷زاز ضپ مرضن
کہ شب نال مخوخولی ہس پا وزدہم پارست
.(ہرمناد یکر نے والاباخمرررکھھ ولا ہردا تکو ہی منادگ یکرت اورکش تکرتا ےک اے
بطل
وا را تکفلت می شون کیونکہ پاسبا یکر نے دالاخودیھی چو کے ساتھ ملا ہوا ہے )۔
ہر پچہرے دا اور مناوگ یکر نے وا ےکا یکام تا ہ ےک دو طول اورتا ریک راقو کو
لوم پل رکر او رصرا کر سونے والو لکوت /تا رتا ےکسا ہکار پوروں سے ہوشیار اور
اخمردہنا۔ کن اب فذ ہرمناد یکر نے والا رات کو لیوں مناد یکرتا ےک ہوشیار اور چوک
رہن ہرگ ال ہوک نس چان کیونکہ اب فو صورت عال بی ہےکہ پاسبال یکر نے والا' ططاظت
ریشن٠ن رات گھر چکیدرار یکر نے والا تذ خودجھی چو رکا پچھاکی اور دوست بنا ہوا ہے۔ دہ انل کے
ساتھ طاہوا ہے۔ اس لیے فے او بھی پرواہ اور حفاظ ت کی ضرورت ہے۔ اس شر میس جن
لوف کی جانب اشمارہ سےکہ جوسدا انل بی حصیال بی رتا ے۔
۵
پوں سلطاں پار رزرے شر ہثارت رہ ٹڑ راڑ دال را
نددۓے و پاے می برندرے ز ران وۓے وار ست
(جان ینا چا پےکہ جب سلطان خود چورو لکا ار دوست جن جا ۓل ال پل چورول
کو بیفوید ناد یی چا کراب نہ کسی کے بات پا نشیس گے نہذ نا نکی قید ہی اور نہ
داد پٍ ی ک/لگایا جاۓگ۴)-
برصصورت عال بای ت لیف دہ اور اذیت ٹاک ہوثی ےک بادشاہ خردگی پچوروں
ڈاگوؤل'لٹیروں اورراپو لکا مصاحب' وخت ورای بی یں بلچا اور پٴا راز دا نگگی
بن جاۓ ۔ الکی صورت بی نقصا نکاکون او رکسے مھ ار ککیا جاسکنا ہے۔ بگلہ ان احوال مل
و ہدکار سا ہکار اورلوٹ پا نے والوں زم یے خوکری ہوتی ےلم جھ چاہوادر جم طرب
چا وکرتے رہو۔ اب ا عال مم فو نہیں پاتھ پاؤں کٹ کی مزا کا ڈرخوف ہے۔ نقیدو
بن ری صعوبتوںل اور مٹگاا ت گیل کی ضرورت ہی اور عرل اور انصاف کے تتاۓے پپرے
کر نے کے بعد یکوتفت داد رھ نٹ لنکایا جا ۓےگا۔ اس سے پک اورکون یا شارت اور
خث ری میق ے۔
لا
رت
بثارت رار آں سلطان مسر اے - تال
وک رمت ہماں ار ہرکہگار ست
(بیگ جیب بات ہوگنا کہ بادشاہ جہاں نے شیکوں سے مارگ اود خالی لوگو ںو نے
ٹپرک دسے دی ہ ےک اے لوگوا ہوک نہ ڈرو کیوکنہ پوردگارکی رم ت کا خزانہگی طور پہ
مناہگاروں کے لے وقف ہے )۔
سب عاکھوں سے پڑے حاکم اود بادشاہوں کے بادشاہ نے از راہ عنایات قراوال اور
اپے انمانوں پررقم دکرم فر مان ےکی خاطر یرس بکو شارت سنادیی ےک اےتایوں اواخدال
صنات سے مارگ لوگ ! اےکیوں کے لیے ترسساں لوگو! ا ےگناہہوں اورحصیاں یں ڈوے
ہو انسانو! اہی خطاؤل پر اپ ےگناہول پر اپے ا مال بد پہ پر یٹان ند ہدوت رجو۔ اب تم
ال کے نذا دوزخ اورقبر ےی نہ ڈرو لان ول تیم نے اتی ومتوں کےابھی یم ہونے
وا لن زان سب کے س بگناہگاروں ہی کے لیے اوران بک کی نماط رو فکرد ہے ہیں۔
2
شب اندر خودکہ چوں سلطان با سی بھ یگرور
بے وائف شور زی سرکہ او شب کرد عوارریٹ
(رات کے وقت جب پادشاہخود چاسوس ب نکرگش تک نے ےو پچھ راس را زکوصرف
ودیٹ پاسکتا ہے جوخوب واقف ہو راقو ںکوکش کرنے ولا ہوشیار اود پک والا و )۔
لاق کے وقت اندھیاروں یل ' لوگوں سے جچ پکر اود چاو مج اورخ رسای
کر بادشاہ خوددی جا وی کے ران اضجام دی گے اور دوش گج یکرتا ر ہے نے گی بی راز
ذازگی کی جات وو می ہے۔ باب پھوکرانے کے لیے پاوشا کو خودکئی رح ےکھیں بد لۓے
پاتے اورروپ ہروپ انقیارکرنے پڑت ہیں اود برای صورت عالی شی اس بادشاہ کے
راز اورائ ںکی مرگرمیوں اورکارروائو لںکوجا نے کے لے اس بھی بڑے عاقل' ہوشیا مار
فنکار اخ چالاک' وکنا اود مہ زور پر ران کوکش تکر ن ےکی ضرورت ہولی ہے۔ اس شر
1
۲
یل ایک پا رٹنس اورا کی کارددائیو ںکی جانب ہی اش ہکیامیا ےکرڑف سکوگیل ڈا لے
کے ےکس ہوشیاری' عتقل من دی اور جرآت وحوص کی ضرورت ہو لی کے
رگ
سر چیں شوی حاظر گزاہت پور شر عاضر ٴ
حری زاں و اے عاصی خغراوند ستارست
: (اے بند وگناہگاراروزحٹر جب نے ضورت بیس بجی ہوگا اورتر ےگناہبھی یی سے
جانیں گےف اس وفت ا ےگناہوں کے مارے ہوۓ بند ےڈ راورخوف میں با نہ وکیوگلہ
یزاین درم ال گنا ہو کو چھپانے او رٹ والا ے )-
نایا جار ا ےک ہا ےگناہگارلوگو! اے اپ گنا ہوں اور اعمال بداورسخیات پر چان
ہونے وانے انسانو! رو زنشرقیامت میں جب تم اپنے انل کے ساس چا گے اورتہارے
یں کاب ھن ےی کاو نزک وکا نے
گناہگارو ا ہیں اس ناک ادرخت وقت پ ربھ گرا ےکی ضرور نویس ہدگی کون تہارا
پہوردگار تہارا مالک و خالق الل تال تذ اپٹی صفات میں ستار الو ب مأتی میبو ںکی پردہ گی
کرنے اورغفارالزخوب مج یگناہوں بر مخفر تک نے والا ہے۔ اد تھال یک الع صفات اور
رش سی ہش
7ک یی چوں از لیف وکرم آنز
تھا باخیب ہائے 2 خداۓ لو ہزیدار ہت
(ابیڈ تقر میک اورپ یا نول ے۔ اللہ تعالٰ کے طف دکرم نے بے انا
ہیں .۔ تیر ۓےگنا ہوں اور ال یی رقتقو ں ک کیا مقا للہا تیر ےمناہہوں کے پاوہود و دئخل اہ
لیف وکرم سے تبراخ بدارے )-
ا ےگمناہگار ندرے۔ ذ اپ نے گنا ہو لکی وج سے بے عد پربیٹان ہے اود نے تیرے
پروددگار کے سام جانے سے لاج آلّْ ان کے و ھی ہے اور نرامت جل
ى۳
ڈوپاہوا سے ما لاہ ال گر وق دداوغ مکوگرہ پگ یک ہیں ضرورت نہیں ہے۔اللد ارک وتعالیٰ
بتوسپ ےذڈیادہ رم او رہب ے پڑ کرک رم ے۔ اس کے طف 5لم بے پایاںل اود بے
عدوضاب ہیں ۔تہارے قام ت گنا ہوں اور ول او رکوتابیوں کے باوجود وٹ صرف اپ
الطاف داکرام کے سہاتھ تم اکنا ہوں سحمیت خر یداد سے اوج سکا خر یداد خداخود ہو جاے“ ال
کاٹ ی مو قمت مولی ے۔
۰ ۵
چون :خر رلزی رآ ہزرہ “ین آن علطان :-
کہ پردرگاہ خی تی کی 7ا یارہت
(والہ نو بتہالتصو ع اپنے بندے سے الد تبارک وتھالی خودفرماتا ےگا پرے
بن ے! میں طف ور مک نے والا بادشاہ ول اس لیے و ج بگگی جا تب ہوک میرک بارگاہ ش
آ گا فو میں تر ادوست ہوں )۔
الشدشل شا کے الطاف و اگرام ہپ 8 ےٰ عام اور وافر ٹیں۔ وەجلوں بہالوں
سے اپے بندوں پر الف دکرم فر اتاد بتاچے اس کے باو جود الد جل شمانہ وکز ب ہا خوداپے
بنرے سے فرما دبا ےک اے میرے بندے جس ایک الما بادشاہ ہو کیج سے ا کا
للف وکرم ا لک عنایات ال لک رتماضیت اور رنحمیت اس سے چدانٹیں ہوکتی اوراس اخقبار
سے اے میہر ےگناہگار بنر ےو ج بھی اور وق گی اپ گناہوں او ریثات رے
تاب ہوکر مورک بارگاہ سآ ۓگ مجھے الطاف دکرم جع سے پائ ےگا تیرے تاب ہونے
پر میا9 تجیرادوست جن چا لگا اور ارشاد پارئی سج ےکہ الف تھا ی تذاب الرتم ے اور ارتا یٰ
ق کر نے والو ںکو پندفر مات ے۔
ن
۰ چ-۔ سے اس وت
رخ گر زرد نشی واشق جمییاں:اشدد نے رق
لت. َاش مان ؟ رائ گے اذ ببرچہ پارست
(جب ماش کا چرہ زدداور پیلا ہو جانا ہے اکر چراس وقت نہ مرقاان ہو نہ دقی ہونگن
۸”
عاشقو ں کا لبیب و خواب جات ےک ہم ریخ لکش کیل یوار ے )۔
خشق لی می خوف اورخشیت الہ کے باعث الل کے عاشقو کا رنگ روپ زائل ہو
جانا ہے۔ چجر ےک رگکت زرد اور خہامت پیا × جاجاے۔ بی زردگ اور پیلا ہٹ نما نگ
اندروی کیفیا تکی غھاز ہوثی ہے۔ ال سک وجہ جار تھا ی کا خوف اور اس سے سا من اکر ن ےکا
ڈر ہوتاے۔ یں الل کے عاشی زردزد بی ہوتے ہیں۔ یزرد کا ران یا دق یکا بب نو
ٹیس ہولی برا عراسرخشیت ا ہی ےنمودار ہوثی ہے اور اس صورت عا لکوحیوب لان عاشوں
کاطیب غوب جانا کرد پیل چرےوالا ہوارے شک مری ہے ا کا ادگ مانا
یش ے۔
رك
00 رس ری
کہ مر متان رت راز ماری ہے نارہت
(متت کی شراب پفنے والدا شرا بمشق اتی زیادہ وکشھلیں اپنے سرادد پا لکا گی
بیشی ند کے کیوکمہ بارگاورتن میں مستو ںکی ہوشیاری عار ہو ے)
ایا جار ہا ےکہاے الد سےعشح یکر نے والو ! اے شراب مضشقی سے نہال ہونے والو'
تم اس میران م اس فقررزیادہاد رات کے ساتحوشرابپمفتقی ویش جا کر وک ہیں ہش نہ
ر ےی ہا سے راو کیب اکوئیخرہ شراب تق میں ت مل وی ڈوب چے
بای کے پ ھی جار گا دا ری وی یی او وم کی رت
کون ہو کہاں ہو او رکڑھہو۔عشق من میس پارگاہ ایزدی یش ہہوشل وحواس اور ہویشیاری ٹپ
ساس رعارہولی ہے لین سراپاستی ادرسرشاری جی قو ل تن ہولی ے۔
رك
نز چویں مت ہی گرور وہلنٹ از علف بثرر
ال انت جھالی. و جا شس و ار عارتت,
(اوٹ جب مست ہو جانا ہے لے ال کا منہ ار ہکھانے سے بن ہو جاتا ہے۔ اے
"'
بنرے اس سے بی تو لشیعت حاص لک اس لے نے اکر اڈ دکا سیا صت ہے و بر ےکا
کان ےکی میس ذ ہو ںییوں 4" :
اون ٹکی ی,عادت اور جلت س ےکددہ جب چیی فک رک رکھالتا سذ کیمردہ جار ہکھانے
کے لے ہرگز اپ منہکوئی سکھولا دہ گا ۓےکی رع ہرمز اود چارے پر منئی مارتا۔ اور
اس وف کک دوپار ہن لکھا ج بکک اے دوبار ہکھا ن ےکی عاجت اور انررولٰ طلب ٹہ
ہ۔ اون کی اس مثال کے بعد انمان سے خاطب ہوک رف ما گیا ےک ہل کیوں سدا اپ پھیٹ
کوکانوں ےرت چلا جانا ہے اض ل کا لا کر نے سے بیکھی راد ےک اسان مدام دتیا
بج یک میئیے او رگ کر نے 27 رتا ہے۔دنیارئی مال صراصردبال او رکاخڈ ںکی طرح ےے۔
اس کے کر نے میں سکو نہیں سے .کون قے صرف صبراورقباعت یں سے۔
“
ار “تی تر پاکوہاں بھی بک یاہاں را
اکر بشیاری می ترئ یک راہ کہ پر نارہت
(اگرم میق من میں مست ہو بلرشوقی سے نل سکرتے ہے بیاہاخو ںکوٹھی ےکر
لو نے مکی کیا راو می نکوکی رکارت ادہ امت فا نین یتح .'اذز اگوی یس رہوگ ےت
ہیں تک کا راس بھی کانڑں سے پردکھائی دےگا)۔
خمشت ال کی مستی بڑئی ہی بامعی اور پہکیف ہوئی سے اس مت ئشق ربالی مب بندہ
ا جا ے۔ ووغوی اور زوئی کے ساتھ عام رثشاں رتاے۔ وہ ٹس رۓ
ہوتے بئیکوہ ودر یا اور با با فو نکو با آسالی عبورکرنا چلا جانا ہے . مت یکاصستی کے ضا سن ےکوگی
مکل یا رکاوٹ ددکھائی نٹیں ہوئی یعش یک مستی کے سان کوئی مکل یا رکاوٹ دکھائی یں
دبت۔ یوںعشقی دالیم الشان اموربھی سراضام دیے رت ہیں اوراس کے نس دوہ
جو ہش وشرز ےکام ا ۔ چوک پچھ وی کسکر دم رھت ا ہرکا رنے سے پل
وا گی اورنشق کے با برے بھراورنفع نقصا نکا جائکزہ لیے ہیں نذ ایی لوکوں کے لیے
رکھب کا راس جھی پر مار اور ہنراروں مشکلات سے پر دکھالی دا ے۔
٦
را یی نع ود میا نے و و کو یۓغ :مار ا
ارڈ پر وبا کاو ہے لو خا ہی ا یش
(اے ند ے! تیرے لیے سال یں صصرف ایک رن ہوتا ےئن جو عاشق زار ے
اس کے ےو ہمارے یار گی یس ہرلحہ رک ہدتار تا ے )۔
اس می ش نمی ںکراوکوں کے لیے سال صرف ایک باد یر ہوتا ہے اور پھر
کے لیے ایک سال رانا رکرناپڑتا ہے۔ دو ری بھی ایگ ناس مینے میں اور پچ راس کے
خویش وفوں می ب یکیا جا با ہے رگ راس کے بلس واشھتوں اورفر ید لوگوں اورسداسدا کے
دل لے عاشتوں کا نے ہرلح ہکا بارس جانے سے بی ہوتا ربا ہے۔ اس حوالے سے
عاشقو لکی اوران کے رق کی فضیلت او رحظم تک اکون انداز ہک رسکنا ہے اود پچ ران کے
یس موم می یا وفوں اور ا دقا کی بھ یکوئی قیدنکیس ہے۔ بیسب بچھھ واشتوں کےکشق لی
کے لے یں گے۔
الک
طوال کاو ان عائا م۱ گار در کن
مک ار مویہ واؤ وہےں و ارت
(اے ماگ !تم کی ےکا طوا فکرۓ رہ کہ تیرے بن کے لیے می ضمروریی اورفرضل
ہے۔ مین اس کے برگس مجھے میرے پیاد ےک گی مش رہ ے دد۔ عاشن کے لے کو چہ
دلدارکا وا بک نا ھی ال کا اکر ہوتا ے )۔
خائش محرفت اورتفصوف کے رنک میس بتایا گیا ےکہ ا ےکعبہ کے جات ام تو اس
کعہہ یکا کر نے کے لی ےآ ب و او تہا را ا کت ےکا طوا فکرنا بی ہے۔تھہاراکعہ
تہارےسامئے ہے تم اپے امس کی ےکا طوا فکررتے رہد۔ مھےتہارے ا طوا فک یکوئی
پواہ اور طل بنیں ہے۔ میرے بی نے مہرے ولدار ا ریگ ا ںکی تی ا لک شی ادرقرے
میراکعپہ ہے۔ جج میرے یارمیرےحبو بکاگیوں بی بی ر بے دو۔ می رات ابی بش ری ہوتا
ےا
ہے۔ میرے لیے جار باد ارک یگ میس جانا ار اکر ہونا ہے۔ مھ اس بی سعادت سے
محردم زرکرو اپنے کی ےکا رتا رہ مھ می رے با رک گی مل ری اکر نے وے۔
ے
شمیداں رای یر شبیرریں وی
کت انزر مذہپ رال و م عروارسٹ
(شمداءکیش ل کی دیا جا ہے۔ اےگی الد بن تم عام شہی رکا دج حاصل ن کرو
کیوکہ رندوں کے رہب می جو عرگیا دہ مردار ہو چاتا ےنم 21 عاش صاد قکی وت
مف۔ہ) .
شبیرو گی الل تمارک دتقالی کے ہاں بیشان ہنی ےکر انیس ڈ نکر نے سے پل
ام مردو کی رح شسل دی کی ضردرت نی ہہولی ۔ دہ رب شہادت کے بعد بہت مراتب
اور اکزازت و انحامات وا نے ہو جاتے ہیں لان ال تحنوف می سمش والو ںکو بہت ہڈا
عظام اورمرتبردیا جا ہے۔ ای لیے شماعر نے فر مایا ےکا ےگی الدب نت عام شی کا سا رجہ
عاصل ذدکرنا ۔گیونگشرا بش ال ہے دالے رندو ںگا نہب اور ا نکی شرع اود بی ہو
ہے۔ اس میس جوم جاتا ہے اسے مردا رکا ھی درجہ دی جانا ہے لن اصل موت و دہ ہولی سے
جس میں حاشن زارفائی اللہ ہوکر بمیشہ بنیشہ کے لیے بات ادج جاجا ہے۔
خزل ۵
٤
ہر چہ از ین ویعلغ جان ما آد غنل ست
مرو 927 و گرم 7 آیر نل ست
(زمارٹی نانذاں جان پرسنک و لحیو بکی جاخب سے جوکھی سلوک ہو دہ ہمارے لیے
اع مرت ومو جب خی ہے۔ یت ا لکی طرف میس ہجو ملا۔ ا کی طرف سے وقا
ہو باجفاہوگئین خوگی ےقبول وی )۔
۸۸"
ہیارے مک دل اور ال مکو بک جاب ےکی جوکھی سلوک لے وو یں پا
رہے۔ وہ ہعدول پوھد ےکر چلا جائے یا اعفارکی موت ےکی خی افو میس ہین
ہز انی زنویی اور وت سے مکنا رکرتا رے اس کا ہ رسلوک اور چردوپ اود ا ںکی ہرادا
ہلارے لے خی یکن ہوگی یحیوب اگرہمیں پچ زف رق سے دو چار رکوکرخول چا مارے
لے اس نی وو یکا ہدکی دو خی سے بیاری جولگی خات او کیٹ بومیں
قول ہے وب ہمارے ساتھ و اکرے پا اپٹی تا کار یو ںکا شک رکرتا ر ہے۔ ال کی ہرادا
اوہ پررو یکل پنر ے_
2
وم ۲اچ بوۓے یی نباد تدم
آ ہے و بادا صا صا آ بل ہیں صن
(یی سک کی ہوا ےک ب کک ہو ۓگ لک بشارت سو گا۔ وی اور بشارت پر زندہ
رہنا سوک پر گنر ہنا ہے۔ اگ چو لک خوشمبو بادصبا کے سا ہی آجائی تو کی ائھی بات
کیا
2 ہوامیں غٹوؤں ے لد پھندری ہوکی ہیں اور پر ان بہواوںل ہی ے بے
اصاس ہوتاہ ےک ہیں پھول کل ہوئۓ ہیں ج نکی معراورمتنر خوشبولو ںکو ہواۓ صسجدم
اپنے ساتق د ساتھ لی نچمرری ہے ۔ لوں نی لو ےک ل کا احساس بز ری شوشٹواور اوساطت
ہوا سکدم ہور پاہے ۔لین ریصور تک یھی اود باعت اغساط داچنراز ہو گر پھو لکی
خوشبوج یک سوبرے پردا کے سا بی آ اتی ۔
ر29
راحم از ہر چہ نی آھ بدردعشل ز2
ا برجان من دوک و ا آ بر یحو
(ترے دوش مس بھ پرجنس قد ربھ ینکفیں اورمصصا بآ کی دہ ٹیش بوئی رشاد
رغبت سے سی لوں گا اور اگر دنا گی مارگ گی سماری عمیتیں اور پلامیں میرئی خی جان 4
۹
جا میں نو بیاجھی بات ے)۔
عاش صادق یو ںکہہد ہا ےک اے میرےگجوب' میری جان کے ن مھ نے ور
عشق میس مرن لے دردزگم اورمصسائب ومشکات بی ہیں ۔اے میرےکبوب ! تھی جاب
سے چھیہشھی زیادہ یا جس قےرزیادہ الم ناک مشکلات او یھی می ںکی میں انیس بی خوٹی
سے اپ رضا کے ساتھ اورخشل دی سے قبو لکرلوںگا۔ میرے لیے وو س بآلام ومصاب
ھیظقت وش نکی سوا ت ہوں گے بی و ہا ںجکبج یکتا ہو ںکاگردیاچچال کے ور
رکا ماب شقتتیں اور بلانمیں' آفات اور انی بھی پآ جا میں برمیرے لیے بک خوگی
کی بات ہوگی۔ اس شعرمس ول عاش نکی وسحت اور برداش تکخجربھیملقی ہے۔
ر"
روز امرے ال یں داری لو خر ود راز
گریچاۓ قطرا سک از ہوا آیھ خونٹل ست
(اے عاشی !برمات کے دن میں اپنے سرک با کے قطروں سے بچانے کے لیے
وب ڈہھانٹپ لیا ہے۔ عالائکہ میرے یاری طرف سے اگر بارش کے قطردں کے ہجچائے ہوا
میس ے پچ بھی 7آ تی فیس انی بھی اپنی خی نت کجھوںگا)۔
عاش زارخود ہی خودکلا ھی کے سے اندانر یس ول دہا ےک اے نادان !ات پان کے
وق تکہ ج بآ سان سے نضھے نے خی لکن قطرےبھی پڑتے ہیں ذ تو اپنے س ران ےگا
چان ےکی فاط رک یکئی جن نکرتا ہے۔ مرکو ڈڑھان بک رمحفوظ اور نگ رک ےک کوشت کرتا
رای ول لوان !تی دوں تی اورک ظرفی اور نا طات کیا بات ہے ۔ عالاککہ اش
اد و ایا ہونا ےک ہاگ رآ سان سے بارش کے قطرات کے ہججائے بھارکی نر ہیں فو دہ
اف را کیو کیا کے ات ار ون ا یکو کے
ماش من جانبمحبوب عق بجی نورکرتے ہیں۔
7
ممھی. ز یا کی ٹماہ.گا:.. یل:. داگی. ضست
کر دک میں ا ا0 و ا
(ا ےگ ال نا عق ایک الی یقت ہے جو ہرای وی ملین جم یش سکیھی سی
صلی ہھ جاسے ضعرف ئیکو سے زیب دبا سے رلکان اکر ہو نت ےگ گی باد یا کے ماش ہی
آجائے تکس فد رخ لکن جات مے )۔
ایا جا ا ےکہ ا ےگی الد ینمض ایک نت لازدال ہے یہ ہ رای ککونعیی بنیں
ہوٹی اود ہرایگ اس اعمزاز اود وا رکا خوائش من ھٹیس ہوتا اور داد شی یس 1ن ہرایگ
کے ہس می ںبھ نہیں ہے۔ یہ کی دی بر خطراود جا نکی قیمت ماگنے والی راہ ے۔ بہرصورت
یج گی ہو جاۓ ای کے لیے یر مارک اورسعید ہوا ہے عشق صرف ہے واشتوں *
یکوزیب دن اہے۔ اہم اکر بو ےگل صحدم بادصا اوھ واکے ساٹھ ہی پک یآ ےو ای
اور بات اورمتظر پاز ہوکی آو رع بھی اورولی خوش کن ہی ا۔
خزل 9ن
٥
آھ نکی اک وت مکی پا مان طس
واللہ می سوزو ازازں سؤزٹل ہیں چان خی
(ج امک مج پآ کبھڑکا ا ہے دی میرا جان جاں ہے۔ وبی س بآگ سےکھیل
کھلنا ہے۔ اس کےمش کا بی دسقور ہے۔ اود رج یز ا کی آگ کی نس اورسوزش سے
بل چالی ہے دو ھی ہوں)۔
عاشی صادتی با٢ ہ ےک مر ےکحزو کا صن و جال انا ےگمدال سے فو اس پور ی
خلق کا نات می کو با ایگآ کک بجھزک اٹھتی سے نکی 00
0م 0 ایی ہوٹی ہ ےکہ یدص بگوعلائی کی ۔ یجان
۳
ہے و صعرف ہماگی دی جا نکاجلالٰ ہے ۔گویامحرو ب کان و مال گر چہ پر یکاتحات مل
ح نکی صاحقہ جار یوں سے ہرس اود ہجام بآ گبھڑکاکر رود تا ہے لئ ا نگ مل
صرف حاشقوں ہی کا دل و جان جلتا ہے۔ یو بھ کہا جاسکتا ےک اس آن کفکی نیش یس
رف عاشنی لوگ هی بے ہیں۔
٤2ر
می شم ران م ' قصر شے وپائر اسُی
کاسے ٹُزوزۃ از شاہ:' ان ملت
(میرا پیش نو داواگی ہے۔ می دوائہہوں دہواگی کا کارو رکا ہوں ۔ اور پادشا نگل
ایک ومرانہ ہے۔ اود با دشا کا فیروزئی کا سر می رائل ے )۔
عاشٰ زار بتا رپا ےکہ می نو دا سدا کا پواشہاورمجنوانع ہہوں' میرک دیواگی دی ھرا
اوڑھنا ھن نی وگ ہے۔ چوکلہ میرا شعار اور پش دواگی سودا اور جن ہے اس لے اب
سارئی خدائی بس میرے لی ےکوئی جکیننیں ہیے۔ میری دلواگی اود دواشہ پان کے لے صرف
دشا کائی ھی ہے اور وئی مہرے لے ومیان کا در رکا ے۔ می ط رع سے پادشاہکا
جوسب سے نیقی فیروزاں ولا کا سہ ہے خی می رائل بنا ہوا ے۔ یا اس شع کو وا ہتقمو بھی
ھا جاۓ ا عاشنی صادقی جو ہے شف ال ٹس داوانہ ہے اور یوں اس د لواث ےکوشا اگل
بھی ومرا:معلوم ہونا ہے۔ اس لیے ا کائل بادشاہ کا فیروزیی جام جیا ال کا کائہ بنا ہا
ےے۔
ز2
نی فور نخان لے دا مگ کپ ان
0 90
(اگمر چرس نےعشق نو بڑۓ ہی خظیانداز یس اپنایا تھا یکول کی نم رنہ ہو نے دگی۔
لن واۓ افو میری ز پان ہرس یس می رے پپہاںبمشت یکو طشت ابا مکرد یی ہے )۔
ٹس نے فو اپی پر اعفیاط اورکنششس کے ساتھد جوعشقی ایا رکیا سے وہ خہامت
۳
پیشیدہ اتکی طوز کیا نے لن میری زبان جو ہے ودی ہرکفل اورگاس میں میرے اس خفیہ
معن نکو ظا رکز بی جال ہے۔ عاشی لڑکو ںکی ىہ نکی سادگ اََسائ دل ہل ےک دہ
یت ہیں کہا نکاعشق یرہ اور خی ی رےگا اوروہ دام بی تھے مھا رتا ےک یکا
اس کےعش خ یں بلوگی۔ حا اککصورت حال اس مفرو نے کے پاپئل ہنکس ہہولی سی
ایک ایال اور جذ بہ ےکہ جو عاش کی دوں“ "حم و جان اورروئیں دومیں مل سا چاتا ے۔
جس مم مکش قگ کر لیتا سے وو شسم بی اور ہو جاجا ہے جرف عاش کا اپنے حواس اوراعخمال و
افعال پرگھ کوئی اخقیارنئیں رہتا۔ عاشق نو عق یش اتی رضا اور اراروے گی عارگی و
جاتے۔ ای صورت میں عاش کو پھدسوچھائ ینوی دبتا صر توق دا اسے دجھتی ہے۔ اس
صور تکو اس شعرمی وں جیا نکیامگیا ےکہذبان ہرگاسں اورتفل می بڑ ےتھ رب انداز شش
یق بر ہام لان چی ای ہے ۔ لن ا سماری صورت عا لکی عاش قکوکوئی خج نہیں
ہوی۔
مر"
گز - لین ' خواپیک٠ ما2 خان تزع خراب
مشش مر ا ا کارم گان ک-
(اگرفیک لوگوں کےگھرد ںکوتباہ دبربادکر نے کا خواہاں کے دہ خدائئیں تا ہکرنا
چا بتاے۔ذ اس ہوک لیف ہرگز نرکرے۔ بیکا مت یرامش مگ ہاں ہی با آسال یریک
سا
قررت اگ رس بھی وجہ سے لوکوں کے اعمال بد کے نینج ٹس با اپ تقاندن وقاعرے
11 7 ۓ لوگوں 7ص 7 کے ٹک نوں اور بیپرو کو ٹیست و نا لود اورتچاہ و پرپاد
رن کی خواہاں ہے و اس مقصد کے لیے اسے اپٹی ما کاردوائی با کا مکی ضرور تل
ہے۔تہد یم ذف جب کا یکا مرن ےکی اسے ذحم تکر ن ےکی ضردر تگڑیں ۔ می تباجی دب بادی تو
میری روئی ہوئی میں ہی ٹڑکی آسالی اد رولت کے ساتحدسراضام دےعتی ٹیں۔ اس اھر
کیا جاب اشادہکیا گیا ےک لوگواں کے یں اور آرا مکیدو ںکو نے عاشی لویل اپے
اشگوں ہی سے بہار تاور کت ہیں۔
۲۳
۵
ور م ہرد باعلز: می یں و ا
داتچے پاہا نے راز زور ران نف
(یل حی بک راتا ایک د مخ ہدجائی اشن ا کے متا بے مس دای
ادن اتتاطو یل ہو جا تا ےکشحم ہونے جی می نہیں7 )۔
اس شعرمی دوکیفیات ت کے ھوالے سے بقایاگیا ےکر شب دص عجیی بکیوں ایک دم
پھر میںفم ہو جاتی ہے چک جج وفرا کا ایک دن انی طوالت میس جش رٹک پچھیلا ہوانحسوں ہوتا
ہے۔ پچ ران دوفو ںکیفیا تک ” مک اور ”روز“ کے التزام کے سا تج بھی دک ھا گیا 1
طور پر دیھا گیا ہے خی سرت انبساط اور شاد می کاوقت چا ےکتا بھی ہو دہ بڑئی جلدق
شم ہوکرر جات سے لی نٹ رن الم اورکرب کے سے اود ما بھی اتا طو لکینے ہی ںکددہ
ینم میٹ وجب ی بھی کاناتی رجقان اد راج یو بھی ہ ےکہاس جم الم اور
ددم بات اورتا در ہیں۔
لی
یب یں کی یا اش
چم گی ورے اود اورائی ربا منضی
(گی ال بن م کا ہے دہ زندر ویش ہے اس پہ مات مکرتے رہداوداسی لیے دہ سیاہ لوٹ
انار سے ہوئۓے ہے۔ اود چہا ںپھ یکو یج ےکیا ہواورقی موجود سے دہ نے مہرے ہی د زوا نکا
کول ورق ے)۔
ایا جاتا ہے جناب غوث الامش عم گی الدین اکٹ سیاہ رگ کالمباسں زجب ت نکرتے
ھت لوک کی نی ہین ڈیا شت فر بے عطرت لاح اکر این خاعن انداز مل
فر بای کرک اورک زی نوم ا ای ات ین ےی شر ا لے
سیاہولباس بن رکھا ہے ۔ینس شمارششان نے اس شع رکو زنس نوف کے ساتیدد یھاکہ جناب
گی الد ین تذ اس مقام پہ ہیں۔ جے' ول ا ن توق" کا قام شی مقام سے کین جوائی کی
م۴"
بی عم میں مو تکوقبو کر کے مرجانا ہے۔صففیا کے لیے می ایک اسان مقام دعریبہ ہوتا سے
اوروہ نشی ام ول کو ما کر لیت ہیں 7 ۳ئ/)
ہوکر الیل دکی ذات می بائی پالد ہو جانا ہے۔ اود بی دہ مقامم سے جو ہر ای ککولی کیل ہوتا۔
ای مظان کا پہلا پا ران قیاغو تآ نے سے یگ کی مو تکوا انا ہوتا ہے۔
پ۲
ردیی :دال
خزل ا
فِ
. بارب آں ساعت کہ شی اذا بھادر ي یا
راع کر کی رین ا لی یم"
(ارب ہمارے تد ججب لوک میں نا دک سی یا ہار ےکن ینس دھا کر سی تو ہمارے
رب بی فیا عم تکک اپٹی رعمت سے لو از تے (ہنا)۔
ئل شع میس پروردگار سے بد ھا یا گی ہ ےک اے ہما نے رب جنب اس ذنائٹش
سے جانے کے بعدلوکوں بیس جھاری بادآ ۓ اورخکقی دا میں ہار ے اعمالی کے مطالقی یاد
کےا اے ہار ے رب درجم ہمارگی می درخواصست ےک ہف پھم پر قیامم ت کک اپٹی امت
بھی سے لواز تے رہنا ۔ اس شعرمیس جو لوم تماؤ کا ذکمر ہے۔ اس سے مرا یہ ہکوہ دن
جب تم ایک دوسرےکو چلا چلاک عدد کے لیے پکارو گے_ )۳۲:٣۰(
2۵
امم یاں غدہ ھپ طاعت ۷ا ہوں مم
الا:د)+۶+اہراں> کو..+رار( > ہز " مزا
(یمش اس یقت سے ڈرتا ہو ںکہ کیک لوگوں کے امہ اغمال بس نو خیکیاں هی شیاں
ہو ںگی لیکن می نکیار و لگا می رے نا ے میں تو سیاتیا کے سوا ہی نہیں پان
|۵
وواوں؟رچنوں نے نکیا ںای ہوئی ٹیش اور چجھ دنا بل سرا صنات یکو ابناتۓے
ری نے ان کے اغمالٛ ا سے نکیوں سے بھرے ہوتے ہوں گے۔ اس اعتبار سے میں
صا بکتاب سے پ یشان ہون ےکی چنداں ضردر نی ہوگی کہ انیس اللہ تی ا نکی
یں کی ان١ن ڑاریں گے لیکن دوستو! مصیییت او رمشکل و ہادے میے دی وہ
ہارے نامہاعمال می مگناہوں اور بدا مالیو کی سای کے سوا چکھینئیں ہے۔
ر29
ای ہیں کالاۓ پر بی کےگردد روۓے یاست
گرورے روز [92 یڑے) ہز ہار
(ہمارا سادا مال نز پان اود پ عیب ہے۔ دٹیا کے لوکوں میں ا سکیا کچھ نہیں
ہے۔ اور اگمر روز قالمت ال زار یس تتیرکی مہ بای اود رہمت نہ ہوگی تر ہار ےا
ما لکوکوں ٹر یڑ ےگا)۔
قاا جار ا ےک ہم نے فے فو شہآغرت کےطور پہ جج نی بنایا ہوا اور مار ے پا
جوھی مال متا ہے دوسراس پاش برا خراب اورتییوں سےبھرا ہوا ہے۔ قیامت کے روز چھ
پازارٹ رہوگ اس می صرف ادرصرف چا ور ہت دمعیاری ال سی لاکن ہوگا ہا ہ
یپ داز اور ال ما لک خر بذ وف ر وق کی غے کان ہوگی اور ام کول لی ۔اں
لیے اکر ہم پر ہمارارشن و رتیم پروردگا رہہ بای نیس فرما ۓگ نو ہمار یکوئی حثیت نہ ہوگیا۔
ال شم میس مال سے مراداعیال وافا لک ذ نرہ ہے۔
ر"
عیر شر عیرںل بمت اے خراوو چھاں
ور آ ری از کہ چوی'ر بنلگان 8 ماد
(اے چیاوں کے پروزدگار! ترٗارمت نےک بھیں جعیدر سے دن خی سأ ےی اد
اگرمیں نے عید نیس د ےگا فو تیرے بندگا نکو بر مرا دکہان سے عاصل ہوگی )۔
عیدخوفی' سرت اورکیوں کے لے کا مبارک دن ہوتا ہے۔ بتایا جار ہا ہ ےکہ ال
اع
چہاں سے جانے کے بعد جو قیامت بیس حش رہوگا اس می بھی لوگو ںکو ان کے اعما لی جا
زادگ جا ۓےگی ۔گو یا دو لوک جنہوں نے کیک ائمالل سیے ہوں کے ان کے لیے روز قیامت
طورروزعید اور روز سعید ہوگا۔ انیل ا نکی نو ںکی جزاۓ خر گی یجان دو لیک جونی
دامال ہیں گے انی يکون خیری دےگا اب اے پہوردگار بھ کسی صا بکتاب کے لاکن
یں ہیں جار نظ صرف اورصرف تترکی رعمت پہ ےکوی پییس اس روز جنزاۓے خر یا
عیدی ےٹواز ےگا-
تع
زان از لے ا9ا" پان ٭* پاذاز الت
2۳4 ماق "وین کروی راد
(اے مادے بربان الْر! کریں و ا درواز ے سے رد دک ناپ جے لو یں
وعرے کے لوم الست ہار ےگا ہوں کے باو جود باھرا کیا تھا۔ ا بگجگیا ہما ری لان دنا )
لوم الست یا سے شاعر نے بازار الس کہا ہے اس مج الد ارک وتھالی نےئل روتول
سے بہ شاقی لیا تھا کہ ٹیش ای تہارا رب ہو ۔ اس وفت اللہ ارک دتالی نے لوگوں کے
مناہوں اورا نک گنا ہگ ربیجتوں کے باوجوداپٹی ہمت فرمائ تھی ۔فے اس لیے اے جہارے
رب یم اور رب دنن ورتیم جب قیامت ہو اک بازاد اللست ب یکی رح سے پیل سرشرو
فرمانا اور شئیں رقتوں کے سایوں مل رکھنا۔
رلغ
شب رین ور گرون اثرازم گرگ زار زار
کی ا یا را یں
( جب تھائی یں اپنے اما لکا محاس کرت ہوں اور مم را تکوا پٹ یگردن یں ری ڈالتا
ہوں اورزاروتظارروتا ہو کہ ٹل نے فو اپٹی مارک رت زی تباددب بادد یک ردنگی و
اے میرے نا لک و اق ! اے واوں کے بجید جا نۓ وانے ! نے میرے احوال سے
کول وائف ہے۔لین اس کے باوجود میں خودراتو ںکوسچچھپ اپنیگردن شس ری ڈال لیا
۳
ہوں اورخود ی ای آپ سے ملا تا تکرتاہولں۔ ججے سب یاد ہے اوزمیرے سار ے ا مال
ھی میہرے سا سے ہیں اب میس صرف راو ںکو اتا رتا ہو لک اے میرے خدا! مر
تاریخ رخزی: الع اورتاو ہوئی اس صصورت یں اے مرے ممدا خر سوا یچ کون سہارا
دی دالا ے۔ می ری نظ راتا صرف تیر رمت پر ے۔
2
ایی :و گن ا ین کے او زئزگا یج لم
وقت مردن جان نے داشم ہوؤوں خرائم دار
( نے و اپٹی زنک یکو یوں ہی سے ب ےکارکاموں می سگز ارد یاہے ۔ کچھ تی ٠ل
بجھ ےنیس ہو کا ۔اس لیے بے اب بھی معلو می ںکہموت کے وقت بیس اپٹی جا نا
کور اہول )۔
نایا جاد ہا ےکراللہتبارک وتھا لی نے انما نکوجنس مقصمد کے لیے پیر ایا تھا انسان
نے ا شرف انساغی تکو اخقیار نہکیا' ال کے جیا دوصرف اورصرف دنا ی سے ٹھمیلوں
یش الھک روگیا۔دہ اسان ب ےکار اور فو لشمم کےکاموں میس پنسا رہا۔ یوں ہی ا کی
ہار زنگی بی ت کی مین نیو سے انس کا داکن نا ی رہا۔ انا نکا ےکار اور نے سو دکا
مو ںکی وجہ سے اپنے پر وردگا رک بھی پان نہ ہوگی۔ اس لیے موت تنک صورت حال ىیہھ
بھی کیا کرام ےک کی ریس گی کہ اسے اپپا جال نس کے سردکر ہیے۔ انا آ0
صورت عال ثمیایت افنسول ناک ے۔
0
آ٭ ازاں نماعت کہ ۶ززائنل قصر چان کر
جانی شی رسس را بای داد و لب خزاں کشار
٠ (افسویں' د1مکیسا وت ہہوگا کہ جب ۶ز رائل فیا مریی جان لی کا قصدکر کےآ میں
گے۔ اس وقت بے اپقی جان ۶ء بلاجیل دججت اس کے سپ ردکرنا ہگ ۔
اس تقیقت یس ذرہ برابربھی ششک وشبہادر لی کی ےک ہز رائیل وپ ان مقررہ
۲۸
ارت ضز ر۴7 اوروہ پیاری' شیرس اود عمز یتین جا نکا نے چاکر در ےگا پایو ہے
کوئی بھی نہیں ےگ فزدائل فی کے سان ےکوی می طر کی عزاحت پا حیل و جحت
ھی سکرسکنا۔ ا کا آنا اود جا ن کا جانا اتا تی ال ےکہ بنا کا پیر ہونا' موت و ولارت
کے ساتحھ لک ہوثی ہے۔ بکنہ یو یب کہا جانا ہ ےکی کی کا پدا ہنا ھی ا کیا مو کی
دل ہوٹی ہے۔ اس صورت می ںکوگی ذئی روج بی جناب عز ران نا کے سا نے ل بکخائی
نہیں کرد
تام کا رس خواپر مز پان أ" ا"
ایے اموہان رت کت لد حا ںا تر نزار
(زرمعلوم وو فرش ال وق تآ خر جا نک یکی نما طر ہمارے سما تج ےکیا سلو فک ےگا۔
دہکتما ٹل بت ہ ےک ج٘ سکوا سک ماں نے پیدا یی سکیا)۔
دوفرشن جوعزرائگل لٹا ہے ا کے بادے بتایا جانا ےک دہ لف طریقوں اور
نل فش مکی مالیف اوراذتوں کے ساتھ انما نکی جن ثاتًا ے۔ مل جہ ےک جا نکی کا
: ذقت ہکس رط اشن ارک اوت ہے اس نپا نکی اوت گیا با الیک ط رب کےعذا بکا
رتے ہے۔ انیس ہمارے ساتھ ىہ نذا کا وق تکس رح ٹا ہے ۔ اس کے نے ور ہی سے
رو کانپ ری ہے۔ برصورت جو پیداہواہے اسے اس مرلہ ےپ یگ رنا ےگا لین
سب ہے ہو صت دہ ےگ جن کو ائ ںکی ماں نے جنا ی نہد .کچھ پیرای ثہوآہو۔
۵
نام می ار ور بی گختد کرا] )تین
در مم مھر ای لہ پا 7ف پار
( مج بی اقراد ےکہ ی لمناہگار ہو" بے ما بے صروسا مان ۔کراپا کا تین فرش
میرے اعمال ناےکو پڑت ہو پکارتے رہیں مک برنخسش نے تو اپ تھا مر می بھی
اپ الک بادد ین ںکیا)۔
۹
انان کے ہرطرع کے اعما لکوقم ندکرنے وانے فرش کرا] کا تین پت جوالوں
ہے وم لحساب اپے ککھی ہو ۓےکوشوارو کو بوقت ضرورت پڑ ےک ربھی سنا میں گے۔ اور
انان ان یش سے اپن بج گل ما کام پایانی کر ےگا انسان ت انا گواہ بی ایک
رع سے خوددی ہوگا۔ جم بکرا کا تین میرے نامد اما لکو پڑ ےکر ناممیں گے معلوم ہگ
ہر ےکھاے بسن کوئی بھی ایال با کام نین سے جک اکا م کا بد۔ اس پر دوک فرخت
بھ یں م ےکداسں بندے نے و انا مارگ ز گی مج بھی اپ ما لک خی اوراللالقاد کو
می لکیا تھا۔ یہ بے چاروقو مت اورگروم ے۔
ك٤
یی حابم منادی کن گوایں بندہ ' است
ا پ0۷
( جا جادہا ےک : میہرے تابوت کے سسائے موں مزاد یکرنا کہ : اے پاراللہ ال بندہ
نے بہ گناہ بیے ہیں بیدا کا اکنا ہار ہے۔اس کے باوجود ات ترک ذات پہ بہت اع دھ)۔
و کہا گیا ہے جب میرے تابویت میں مر لاش لکوت جس اجارنے سے پھے رکھا
جائے۔ ال وق ممیرے بارے بس لوگوں میس ہہ اعلائن ضرو کر دیا جا ۓکہ ال می ںکوئی
شک وشبیں ہےکہ ا نٹ نے عمرگھرلا تحدا گناہ سے ہیں اس س ےگناہوں کاکوئی عدد
صماب تی ہے۔ بیس عم بج رگناہوں دیس اھر پاہے ۔ دا ہ دیو کا شکاررہاہے۔
یٹ گنا وکھاتا رہ ہے۔ اور ال تقیقت یس کیم مک شون بین ےکہائ لفن کو اے الا
تی ذات ہار اورٹفورورجّم پ پپرا را روس اورا تما تھا کن ضمرورمعاف فر ماد ےگا۔ ہے
فدہ نا گی رمخت سے و بھی نا امی دیس ہوا تھا
رف۵
یآ نایا ھردیی لن می ا و
روں ہارا اور ا یم 90 گاہ یاد
(اے ھرے رب ئل !مر مرنے کے بعد جن می رو عکیگییرالل اہر کے
: ۲۳
سماتھھ یا کر ے۔ نا میزے لیے د اکر ے۔ اے الد اتی مت سے ا لکوٹھی ہش دینا)-
یں دعاک یگئی ےکراےر بکاتحات ترک رتو کی دسعت ونظمت بے ناو بے۔
تیرے الطاف د اگرام فراوال ہیں گناہگارو ںکوہنش کی خاط رتیر یک ریحمت گل رکی رای اور
شا ہراتمیں ہیں .نت سد ماصو ںکوہنٹے کے موا تع چا ےگا۔ لوگو ںکو ماف فر مال ےکی کیا
کی متلویں اورطل بی ہوں ےئن لیے اے مر رب رجیم دنن مکی درخواست ےہ
ویش ہواری موت کے بععد ہمارکی رو ںکو ایصال و اب کے لے فاجہ پڑ گے فو اپکی رشمیت
اور رماحیت کے سسالیوں یس ا ےگھی ہش دینا۔
ئ۵
گر ناکم گگزری ا گرم ا کش
ایں دعا فی لغ کی ا ز ہگوز او :ور پاد
(اگر بھی میرے مرنے کے بعد میرک تر ہے اوزیا ین بھی سے ادن و ایں
لنزمیرے پارے مین بد اکر کا پ وردگا را نت کی قرکوفر سے مورکردے )۔
درخواسس کی ای ےک اکر بھی میری بادآ یا بھی میرک قی رپ آنےکاموت
لو تیری بہت مب ربالی اد جھے پرعنایت ہوگی ۔ میس ہہ رصور تگمناہگار ہوں' میرک قی پک
مر ےگناہو ںکی معائی اور میربی بش کی د اکر اورنورمضقی ادڈرفورلسمدات والا رش شک
پارگاہ یش ب بھی دعاکر اک اللد ارک وتھالی انی خائص ہب ربا ادرعنایت سے میرک قب رکو اپ
ور ےگھز ور اورمورفر بادے۔ ال شا پ بی زیمت ف رما گا۔
"
م واپر 28 ا خواپر آمرزیغم
روۓ زرر خر وں برخاک ظط خوایم نہاد
(جھے امید سے اود میرک آرزو سےکہ جب اپنا پا رد چچر دق کی بر رکھو گا
میری اس حال تکو دج کر اتارک وتعاٹی بھ برضردد انام دکرمف رما ۓگا)۔
اس شعریش ایا جار ہا ےکہ جب جھے می رک قبر کے اندراجارا جا ۓےگاٗ ای ےقکر کے
٣
ای بستز پرلٹایا جات ۓگا۔ اس وقت مبرازدد پیلا اور بے جان رہ اک ید پر پڑا ہوگا۔ مرا
ال وق تکوگی یار دوست پا رشن داربھی میرے پا ل نیس ہوگا میرے اوپہ یچ اور چاروی
طرف قب رکی خاک بی ہوگی ۔کوگی میرارستان عال نہ ہوگا۔اس وقت میرا رد چچرہ سی مر
مس پر کک اور بے یادو مددگارہون ےکی غماز یکر د باہوگا۔ اس حالت می یجھے امیر وائن
ےک می را ارتم الرائشن الل بے پر ضردداپنا رت فرما ۓےگااور یج پش یک نقت سے ٹیش یاب
: ران
رت
یم نع وی کا رو بغار ے 1
لات ی دارد ھاں رر تن ییاں اخّاد
( فی الد بن ن ےگ چہ بے شر بدائاں اود بدیا کا ہیں ۔گناہولں سے ا کا دفتز سیاہ
ہے۔ ورس کے پا کوئی بھی یمیس بے ال کے باو یھی اس ےتیل وکا اوکوں کے پارے
یش جن ددلی ل ےگل اعتاد نے )۔
تایا جاہہا ےک مانا گی اللد بن بڑا گنا ہار ہے اس کےکھاتے مھ یکنا ہوں اور پر
امالیوں کے سوااوز جج ینوی ہے۔اس نے ای کبھی مک یہی سکمائی کو یا خکیوں سے ا کا
ان خخالی کے اس کے تاب یں صر فمگناہ بی گناہ ہیں ۔لجان اس سماری صورت اعوال
کے باوجودگھی دہ ڑا ھی پر امیدرہا ے اسے اپ الڈد گی پورا ادا اعماداو روس ر ہا ے۔
ا کےعلاوہ نیک لوگوں پرجھی سدااعقادرپا بتا۔ یت وکارلوگوں پر اعقماداورگھروسر ال ت۵
ےک یکئی حوالوں سے معلوم وتا ےک ال تبارک وتالی کیک لوگوں ےکی ل بھ سنا ہگاروں
اور عاصو ں کی مخفرت فرمائے گا ۔گویا لوگو ںکو محا فکر نے اود یٹ س ےکی تیارے اور
انو کے طرینے ہیں دو گناہگارو ںکوتلوں بہاوں سے بخظا رگا گو یا می بھی بنشا ہی
چا لگا
۳٢
ا ابر پارپ ! ز من للف پا دارم ار
از ق_ گرامید بم از گا دم ار
(میرےر بکرم !یس ا بتک تیرے الطاف داکراعم ہہ بانیوں اورخنایا تک امیر
رکا ہوں' ایک نے عی نے ہے ننس سے امیدرمیں وابس کی جاسحتی ہیں۔ اے میرے پر وردگاراگر
ٹیس تھے نکر ند کو نت وکس سے امیر رکھوں نا
ینارپ جلی ری انی تے آْ َشتے ادرگر: ىا قے 2نا ذات ادگ
صفات سے یہ امید لگا ری ےک دنو ابد ے از کک اطف وکرم او رع بانیاں دیافرمائے والا
ہے۔ تھ سے تیرے الطاف واکرامانعاماٹ' نوازشات' عنایات' رہائیال اور بندہ پہوریال
جدا اور الک ہو بین میں تی ذات عالی شان کے مین شایان شاں ےک اپے
بنروں پراپائئم دکرمف رباج رہے۔ ای 1 ےک مھ
پرچھی تیرائم وکرم اورلطلف ونم ضرور ہوگا ۔ اس کے علادہ اے میرے دیشکن ورتھم رب ! ھت
جک ا کی و مد دیو ےک ا وا زرل
اور تی موجود تی یں ہے شس ے بن ہکوئی امیر رک گے۔
2
نشم عرے بے ہیں شنں رشن یر
ے وفائی روہ ام! از ق دنا دارم ایر
(س نے فذ ای سارک عحرآپ سے بیگاندادد بے پرواہ در ہک رگ اردئی ہے نان اے
میرے دا ےم بیزل جھ سے بیکانہ نہ ہونا۔ ٹس برااور بے وفا کی آپ سے نے دای
کی امیدے)۔
اس شعر می لگویا بندہ ایک طرح سے اپئی بشریی اود بد یکتردریوں' نمامیوں اور
س_ست
کوتا ویوں میس پڑار جا ے اور بے سےمستاضیاں اور بے وفایال ہل ؤں' دہ ان س بکو ہچ
ور کی کیہ راو وج وو ور مو
ہیں۔ ال کے باوجوداسے اپنے پروددگار پر پورا ین جروس اوراختادگی ےک دو تل بەدے
سے بگاشہ اور بے پرواہ ہوگا اور شہ وہ ال بنرسۓے گی یکوکی اب غان ذی کا لزان
ات تیکرکتا جے۔ بر ےکا پا شی انسلی معیار ہے چیکے ال بل شانہ دز پان کے اپنے
پانے اور اپ غمدالی معیاد ہیں۔ انل لیے ان غیرے اش آپ سے اورآ پک
ان ےکی ان وک ان
ر29
مر مق می خرعم رم ر واز زار
بک پت زاں رت رار اشفا دارم امیر
(اے میرم فمالقی و ما لک الد ! می فنقی ہو یس خریب ہوں' بلس دا کا بھار اور
نقاہت زدہ ہوں۔ اس عالت می لآپ کے دارالشفا یش سے ایک جا مک امیدرکتا ہول )-
اس شعریس بندۃ دا بچلراپنا بے پایاں جھزد اککسار ظا رکرتا ہے۔ دہ جتاتا ہ ےکر اے الد
انی بیس تذ ایک بے ناراد ادلی ما بے سردساما نفقرہوں۔ میرے دا ایخ بھی ہے۔ یں تو
مج مکا ےکس خربت اور افلا سک بارا ہوا ہوں۔ ال کے ساتھ یا ساتھھ ٹیس ب ےک بے
ارد دگار تھاتا او نی داماں ہہوں۔ بج یی بہ می فو دائم اکرش ہوںل' بای م۲ نیف ونذار
اورکٹرڈ نا فا اور لاغمر ہو کا ہوں۔ تما دارالشفا دانی ےا کی شفاابیاں عدام اپے بندول پ
ارزاں ہہولی رپتقی ہیں۔ اس لیے مم سآپ سے الد الشائی سے ایک جام اپٹی بیارییں کے فی
کے لیے عطل بکرتا ہوں اور بے امیر ہے می راب وردگر بے اس ےتحروم نیل رج ےگا۔
ر"
اامیرم از خر واز مملہ ۰ ہاں
از -اجے-اومہع :ایا نان جلوئ) رام
(یش ت اپنے آپ سے اورساری خلت جہاں سے نامید ہو چک ہوں۔ ےکی طرف
۳۴
کوئی امی رک یکرن دکھائ ی نیس دیتی۔ اکر امیر ہے نے مھ صرف اپنے اللہ تا سے ےک اکا
او امیرواب تک جاگق ے )۔
یں تا جار ہا سے اس پودکی کاتحات مس ائڈد تھا یکا جو یھی کے یس اس ےکی
طور پ ناامید ہو چکا وی بل مھ تذ اپنے آپ سےگھ یکوگی امینٹیں ہے ۔کیوکہجھھ یس میرا
سے کیارپ کوک مکی جا گا متحقرآ کہ ٹیش ہر ماسواالڈد سے بے امید ہولں۔
رف مجھے میرے الد ہی سے امید ہے اور اع دکائل ہے۔
9۵
سنجاۓ پار ٴٴ دائم کہ آمنژن ہت
زاں کہ من .ازرعت ے چا دارم ایر
(صرف میرا خدا یآ مر زگار کے وت یگناہگارو کو بن گا ای نے کی اب
اور دڑے۔ اپ لیے اے مہرے نفار وستار رب تی سے بے اما امیر رکتا ہو ںکل
ضروراپٹی رجمت فرماۓگا)۔
اےنفور ال تیم اورخغار روستار رب الرتیم !نے جی نے والا ہے معاف فرمائے والا
ےن بی مفووورکزر ےکام لے والا ہے۔اورآھرزش' مگ ہو ںکی مان ' شش اورمخفرت
[مرنتھی ای ا ہے۔ تی رے واکوئی دوسرا ان اوصاف دحنا کا عائل اور زاوار تی
ون تاپ ضر میس شا رک کی سے ا کی طف رکون پایرے
موی میرے مالک وخالی میں فذ صر فآپ اک بے پایاں اور بے عدہ صاب رم تکا
امیردارہوں۔ تیر رتحیت اد رچرگ رحانیت ہق مر نظرے۔
لغ
گے ام :رر از مرا فا
ات مز شک لو عم می
(ہرایک ناد نف اور بندہ اپے غمدا کے علادہ سب سے امیدرکتا ے نین مر
مرن ای میں شون کی یس رف تی کےا رکتاہوں)-_
۳۵
بکھی اسان فطرت اور ا لکی سرشت اکی فطرت ےک دہ اپنے خال ق گی اور
مالک واحد و ینا کو چو کر دمرقیام ماسوا الد سے خوب امیر بیس لگاۓ درکتا ہے۔ عا لالہ ال
ند ہکی ماع گا وصرف اورصرف اللہ کی ذات جار ہے ۔ لان ڈنیا کے طالب لوگ اپے
ر بکرم وھ مکوچچھوڑکر ماسوا اش تی سے اپٹی امید بس لگا ٹیش ہیں۔ اے میرے الد
می امییرد کا ھ رز و مدارتوری ذات قد بی سے اورہوال توف میں اے می رے شرا
ھ سے تیرکی ای امیزرکتاہوں۔
2
تھم تق دیدکی مین چا گرم 3 پڈری زللف
ھم می دائی کہ از تر من پھادالم ایر
( یس نے جو بہت زیادوگناہ ٹیہ ہیں' یس ال تعالی د کور ا ہے اور اپ لطلف وک رم
سے ایس چھیا داہے۔ اے میرے اللد کے خر ےک میس تھ سکیا کیا اید رکتا
یںں)۔
اے میرے الیلد! فو بہت ہڈا غفار ےآ فور سے اورق بی مغفرر کر نے والا نت
اش کے مرخلاف میرے الد ! مور یکوئی حیثی تال سے۔ می و گنا ہوں گناہ سے جارہا
ہوں اورنے بے اورمی ر ۓےگناہہو ںکوخوب کر ہا ہے۔ میں تو مل تیریی گاو یس ہوں۔ مرا
کو یکل اورٹمل تھھ سے شید ہیں ہے۔ ہیں پرحتوراور یرا مگناہ کے چلا جادا زں گن
اے میرے اللہ !نے متمارالتو ب ہے عیبوں اور برائیوں پر پردہ ڈالے والا کے تو پردہ گی
فرباجا ہے بسب تیرے طف وکرم سے ہے تیرا لطلف وکرم من رج میر ےمناہو ںکو
پا جار ہا ہے ای طر فو چولگ 'خفار الین ب بھی ہے مر ےگنااہو کو محا فگھی ف ربا
دےگا۔اے می رےفپورو ریم ائڈ یش بندہ ہوں۔ اي ےی ترکارحعت ےن زار ا :گیا
کیا امیر یل لگاۓ ہہوئے ہوں۔
فقتزل
رگ
ذرہه ذرهہ یں خغا گردام 7 7
بر ہر روز ت حخل سا رم ایر
(قر کے اندر جب اللہ مھ ذزہ ذد ہکر کے نماک کے سا تھ ما کر د ےگا فو اس
وقت میرک ا ککا ایک ایک ڈرو اپنے اللہ کنل وکر مکا ام ردازہوگا)۔
بعد ازھرگ قب ر کے اند ری کے سات دی نون ےکی عال تکو شا عر نے ایک فئۓ اور
خوب صورت برا میس کیا ہے اور بقایا ےک تر کے اندد جب می را ایج مپھی می
کے ساتھ ذدہ ذرہ ہوکرمل جا ےگا ۔ اس وق تھی میرری شرت طلب اور ری امیر ھرے
ماد ہوگی . رشحم د نٹ گل ناک تھا جن اب یہہ لاھوں جراروں ڈرے بن ہچ
ہیں۔ یذ ۓےگھی اپنی قردثی حاات شش اپنے ادلدالرتیم دالرشکن یلیل فراواں اورکرم ہے
انا کےططل ب گار اور امیدردارہوں گے۔ اس رح میرکی آرزواورطل بککئی چند ہوکر سم ۓ
آنےگا۔
رگ
م ب0 پر گفت ۶ پرمائدہ م پاگردار م
پاوبید ایی خظاا کن عطا دارم امیر
(ل نے ہزفظداود ہرسماعت بدگیبا بیس مدام برائی یشالت بت دبا یش دا
برے کی کا مکرتاد ہا۔ ان قام خطائوں کے باوجودگھی یس تھ سے ععظا وش نکی امیر رکتا
یں)۔
اللہ تبارک وتھالی کا قاندن وقاعدہ ےک کوئی بندہ جن بھی پھکی با برکی راہکواختیار
کرتا ہے اس کے لیے اللدآ ساخیاں پید کرد تاہے۔ نایا جاد ا ےرا برال کی راہ یہ پڑانے
کے بعد بنرے سے تد کوگی ایچھا کام ہوتا اور نہ ھی بات دوک رسکتا ہے۔ ذہ برای ٹن سدا
قعرمزلت ہی می لگرتا چلا جانا ہے۔ ائ کا سادگی دنا کی برائیوں سےجھرجالی ہے من اس
سار صورت اموال او رکیفیت کے پا جودجھی دہ بندہ اپنے الد سے عطا اورششن او رقواور
۳
معالی کی امیررگتاے۔
م۹۷
رشن نم من از گر یم شر اے جیب !
ای زاں از اک گوخت تا دارم ایر
زان مر وو ! سیدا نے نے سے یھو نکی رڈ یم ہوائی سے۔
اب بے عم رہوں ۔ اس عالت می تریک کی خزاک سے تھا یا کی امید ے )۔
اے میرے عیب اے میرے پیارے دوصت ! یں اس فن رگ ہز اریکرتارباہوں
کہ جس سے میری گھمو ں کی رشن اور بیتائی بھی جبائی رع ہے۔ اب میریی عالت
کور نمو ں گی ہے۔ اب اس اند ھے پان کے دودر اور وت بیس میرے لیے تیر ےکو ےکی
کسی ناک تو ا اڈ ہوگی' ا کا ضر ہآگھوں میں لانے سے میریی ہمکھو ںکورشنی مل جا ۓے
لگ
گی می گوبد کہ خون من عیب من بر یجنت
و یں ای ا ا ا
( گی لہ بن فرماتے ہی ںکہ مرا خون تو میرے عیب ای نے بھایا ہے اس خون یے
اڈ ہو نے کے بعداب میس ای سے اس کے الطاف واکرا مکی امیر رگتا ہوں )۔
تایاجارہا کہ یس نے میراخون بھایا ہے اورجشں نے بے جان سے مار ڈالا ہے۔
یں اس کے پاتھوں زج ہو پکاہہؤں۔ می زم عق ہوں۔ اس لیے جس نے بجھی کیا ہے
اب اس کے پاتھو نی ہونے کے بھی اک سے زی ےا کے الطاف واگرام اوزہرہاوں
کی امیدرککتا ہون۔ اس شع ریس چہاداودقبال ٹ کنل اش دکی جا بکھی اشارہ متا ےک ٹس
کے پارے میں ق ران میرمیش بیوں وضاحت موجود ےک :تق لین فی سیل ادشدکی بی شان
ہوئی ےک انیس مرد نی ںکہا جاجا۔“(۱۵۳:۴)۔ بلہ انی نے مرنے کے بعد م یی ارتائی
مناز کی جان بھی رہمائی لی ہے-(2٤:٦)
٢
خز ل۵
كِ
نر تا پا تی من گرہمہ انددہ و ٹم پاشد
نوز از ایں چئی وروکہ دارم از و کم پاشر
(اگر یراشم رت پااندد وم بن جائے۔ مر ےجحم و ان مس وکداو رم کے موا اور
دنہ ہو۔ پل رچھی تیرے دی ہوئے دردو ال مکو می سکم یھت ہوں )۔
تا جار ہے سار ےت نان کا جو دددوظم بن جانا اگ کوٹ ملمول بات نیس ہے۔ _
ین اس کے پاوجود نے جو یی انب سے انددہ وم لا ہوا ہے دہ بل یھی مہرے ا وردو
الم ےتھوڑا اور عی ہوا یش ق اٹم اش کون س بھی تر راوج بھی مقدار بیس لے ال پہ
واش صبرنئی سکرت' عاش کے لے یحو بکی جاب سے ہرد ےکا اود ہرعیا رکادردن کم از
کال ا ہوا ہے۔ پچ عاش بح ینم دالم سےبھی سی راب میں ہوتے ہدوت من مز ید
کی آرزوکرتے رت ہیں۔
2
کی میں اک و ا ای دو و
بجر جاپا گی سر تا زے قمم شر
(اے میارے پروددگارالل دق صرف فلک پر و یکیونل مت نیس رو سنا اپے انچائی
درب ےکی رقعت دز تکا حائل ہ ےکہ جہا نلیا انا پاؤوں رکتا ے اس کے ینچے ری سر
ہو تھے یں)۔
اے میرے خالقی د نا لک الل اکچ عرش پیم سے می مس اود تو کبیا یکا
کوئی اھاط نی سکرسکتا_ تیکی بڈائی کاکوئی سو یھ ینہی سک رککتا۔ اس انار سے رھ لی کان د
زان قید با پان کیا جاسکتا۔ اے سب کےقبوب خدال فو گر اپے جلالی اورشمت کے
اھ جہا بھی دم رکددے۔ اس کے ین سار حلوقات کے مس رہوں گے۔ روں کے او بر
۳
تیر قز مک ہون با ط تم بڈنئیس یذ تاپ یکب اک اوظمت سے بڑا ہے ۔ تیر بای اور
کب ہالی کےساتے سب پچ ہیں۔
زی
فیرے واں حور ررو مغ نے رم روراں را
وا نے خی چدانے و مت اعم پاٹ
(اےمیرے رل! درد وٹ مکی تضور یکو غزم بے یہی بہت ہگ یقت ےپ
کیوکہ فی زماضہدنائیش دنا موجوونئیں ہے۔عالات ایگ سے یل ہیں اس لیے موجودہ ز مانے
ب یکشیمت چان رکھو)
اے میرے دل! نو بڑاہی خوش بت سےکہ سے تضودری عاصل ہے۔ اس لیے تا
یدرد مکی تضوریی ہی تیرے لے بہت ہئی نت اورظمت ہےن یدرد و مکی تضوریی جب
کک برقراراورقائم ر ےکی ا یکوتے خلیم تبجھھ ل ےکہتیرے لیے اس سے پا اور ہم متقام و
ھرحبراوراعزاز اورکولی یں ہوکا۔
۱ ر"
خیش است از 2 مم گاے وا ئن
و یی رو ار قنور وا پاش
(صسینان خوب رو نکی طرف سےکگ 7 وی وا یی ہے ان رت
کا ہتقا ضا ےک میرک طرف سے سز ادف ہواورت ری طرف ےلم دم دواد ہیں )۔
ىقذ حیوں اورخوب صورت معنوقو ںکی ازی اورفطرکی ادانئیں ہو ہی یکر ددڑھی ونا
کرت ہیں اورمگی جا ا نکی بیروفا اور بنا بی اصل میں ا نکا پیش مت نان در با ہوتا سے اور
وہ جو چے عاشق نیٹ کے پردانو ںکی ماعط ہوتے می ایس بھی تھ اگ اور جن کی
طلب جولی ے۔معٹو ق سی نکی ان ی اواو ںکوعشاق ال ےق اش رارق ت بت ہیں۔
اش صاد قکوحدامی جاے رج ہی ںکہدہ اپ طود پروفا تی وقاکرتے رہیں لان اس
کے بس مو قکی جب سے الن پ ردام جفا میں ہولی رہی نکی عاش کی جان ہولیّ
۳۴
تع
رغ: ای ان مال مل کو پار ٹن
مرا غمشتر پور زاں یادہ کاں ور چام جم پاشد
( مر ےش کی وارگی یہ ےکک چہ اد کت کے وشن می پالی یا میرے لے
جام تشد میں شراب پٹنے بھی بھلالگتا ے )-
اتی می لک چہ یا کو ہغمت اور برتر کی دکی جال ہے اہ کی مثال دنا کیم وارب
یں بھی شکل لی ہے۔ ہے عاشن نہکوئے جاناں کےطوا فکواپے نے ر اکر ےبھی
أفل اورمہتر جات ہیں۔ ای جال سے ام شع می یو ںکہا کیا ہےکہ یادک گی بس عام
پا اوددہجھی کے کے ےنس اودادلی جانور کے برتن میس پا عاشی کے لے امن کے
شاہظاہ شید کے پیالہ خائص می شراب پیٹے سےبھی زیادہ اچچھا خوش تر اورچھلا معلوم نہوتا
٠ ً
رلگغ
خلاصی گر ز مق پایوت انی شوہ تی
کت اول گام و تا پا ردیال ٢ر پاشد
(ا ےگی الد بن اگرتم اپنی تی سے چھڈکارہ عاص٥ لکرن جا جج ہونے عاشن بین جا
کیڑک وا دک کش می ٹوا ن سیا کا پہلا نم بی عرع ہوتا ہے۔ دوموت سے پھلے مو تکو
تقو لک ر یت ہں۔) ۱
اےگی الد بین ام اس دنا یش اپنی صستی سے کک پبواود یس تتھئیں عذاب تکھالی
دبچی ہے اورااس جوانے سے تم اس سےضیات حاص لک نا جات ہو اس کا سان سا لہ سے
ےک رعش نکر کے عاشن ہو جاؤ۔ رعش کے :را لے اصول ہیں .اس می سے خوب رواور
پکی دش موق ں کا پہلا قدم ی عم ہوا ہے ۔گویا اس وادی عمش مج دال بی دہ ہوکتنا ے
جھ پیلے دم پر سی مو تکوقبو لکر نے اور بحوالہتصوف دومموت سے پیل بی مو کو وی
٢٢
پندکر کے''مووا یل ان موا کے مقظا مکوحاص لکر نے۔
رات
كِ
تمالی الد چر صفت اب کہ چوں مرن اندازد
اکر باشد دل از ہن کہ یں مم بگدازد
(واو! ان الا کنا پیا ران ہے میرےگبو بکا کہ دہ جب پردمسے سے باہ رتا
قذا کو د کر لوہ کل بھی مو مکی طرح زم ہوک پل جانا نات
ایا جاد ا ےگ۔داہ! بجان اللہ ۔ ال شس نکیا بات او رکیا شا نین ہے۔ دوش ن کت
کٹا جرد اورکتنا کال ہے۔ دو بین و جال بے عد پیادا اود دنا ہا ںکوسخ رکر لے والا
ہے۔ پ کا بی خاصا اود ا زاز ہوا ےکمد دہ اکر پردے کے اندد یا رتا ہے اود ال سک یھ کی
ہیں ا ےا ا کک سے خخت
دی زی بھی خم دنا زک ہو جائی ہیں۔ ایا کہا گیا ےک ہاگ ال نسن بے پر دہکولو ا جھ
ےش سے
دل بھی مو ہی کی طرف نز مگداز ہوکرپ٥ل جاۓ۔
ں
ہی لان بس خوماق می از و دجاو می
چنال باشمد بل تن اورویۓ وب می نازد
(اے لگا یو ںکوقے اپنے سن و ہمال پہ از ہوا ہے۔ کن دہ جو مجنا ب جن
ہے۔ اتا وب صورت ہ ےکن د جال خوداس ال کے چرے پ نا زکرتا سے )۔
مینوں کے پاس نا زنر اورکشوہ دش رکر نے کے لے ا ن کان و جھال ہوتا ہے۔ ودی
اپنے ای کن د جال ہی سے ہرطرف تی دب بادئی بچھیلاتے ر بے ہیں ۔گو با صینوں کے
ساتھ ا نکاتسن د مال ایک لا زی ام ہوتا ہے ۔لیان اےلوگوا میرامحیوب جو میرے لے مرا
۲
سب بپھ کے ا کان د مال اورز یب وز یت سب سے الگ اور زیادہ ہے۔ می رائجوب
الد سےگگی ین اور در ا ہے۔ ال ںکا سن و جال اس انار سےبھی سب سے متاز اور
ہمایاں ہےک صن و جعمال خوداس کے خوب صورت چچرے پہ ہون ےکی وجہ ے ناڑال
ز29
اودر رم پیا ىییاں کہ ہا دیاؤاں از
شیم وبباند یں مر خھ باصن می نزد
(اک پرکی رونین موق ںکی ىہ عادت ہولی ےکمددہ اپنے دبوائوں کے ساتھ ناڑ و
اداھی ے یی یآ تے ہیں لکن می رای نیحبوب نو بڑا مرخ ہے دہ بے ناز دادانڑی دکھا ا
می تو کچ ربھی ا یکا داوانہدہوں )-
با ما گیا ےکہ يہ دسقورشق ہوتا ےک ہ رھ ہر ری وش اور ہر ن وجمال دالا
معٹوق باز دادائؤو ں کا مرکز ہوتا ے اور بوقت ضرورت اپنے دیوانوں تی عاشقول پر از اور
اداُمیں ہی ھا رکرتا ہے یہنا اودادانشیں بی اصل میں غعخاق کے لیے ان کےضح نی کاانعام
اورشم ر نان ہوکی ہیں ۔ شاع بتاد ہا ےکہ اس کا مٹوق سن بڑابی نا لم ہے۔ بہت تنرخھ
ہے۔ترش ددخت راع ہے۔ وہ اورو ںکی رع ناز اوراداؤل او روہ ناز یو ںکی دول ٹل
لا اور بے اپنے نازنخروں ےبھی محروم رکا سے لکن اس کے با جود یس فے صرف ای ہی
کا دیوانہاور ماش زار ہوں اورمش کرت لے جانا مرا فرٹ اود می ری شر ہے۔ یل ا
یں بک را
رف۵
یں ا گی مز ا کا دا و ار
کہ می ور بجر می ساژم وشن دی می
(ا ےش !اکر میں اپنے یارکی جدائی مگ می زار یکرتا ہوں ف ییکاگی میراخی بل
ہے۔ تج قو اس کے جج روفراتی سےکبھی نا کرد ہا ہُوں' لج نکیاکروں یراد می رے اس مل
ہے۔
0
۳
اوراخیار می یں ے)۔
نے بالات پھر ای موقر ان مت رت ہیں
خبن1ودزارگیگر تے ہیں ۔اس میس فخا اود نا ل بھی ہوتے ہیں بک بی عاش نک بیچا نکا
ذریجہ نے والاگل ہے۔ اس لیے یں جورورپاہول بیککی میراعیب اود بے مبرینیل ے۔
یآ وفریاداو گر زاری ہی سے اکر چہ عاشقو ںکوسکون اور راحت میس رآلی ے۔ ال
ری نوز نال نین انھیو پچ زی کےمماتداکھ پ وشن و راک یس تو گل ز
ھی تباہ سیے جار ہوں لین یں اس ول نا معبو رکا کیاککروں دہ جج وفراقی سے بے تاب
ہے۔اس پر می اکوگ اخقیار واراد ہیں ہے-
۵و
کی 7 کو 7 پ8 ذرعام اور : وارے
چتاںل مشنول یا رست اف پاخود جم نہ داز
(ھی الد ی یکو اس اع رک یکوئی پروائنئی سکہ دنا میمش قکی وجہ سے بدنائی وگ کیوکلہ
اپ پا ریش میں ذ اس قرکھو یا ہوا ہوں یھ اپکی پرداہ او وش جینیش ہے )۔
گی الد ین !یں ا جات س ےی ڈراہ اس عالم رٹک وب یس میرم ےش کی
و ے میری بدنائی ہوثی لوگ جھے برا بھلا کی ہیں ۔ مھ ان نک بھی پرداوییس ہ ےک لیک
ےکس طرغ کا عاش کے ہیں اورمی رےمش کو دہکیا نام دنیے ہیں۔ اع جا ںکی زن بے
خم ہے اور نہ یل ا نکی پرداکرتاہوں۔ میرا کا م2 اپنے عیب ےصرف اورصرف شش قک:ا
ے میا یش قکرنے سے باٹیں روستا۔اوکوںکی او دسر نک راے لواچ دای
یرہ سے چھےگوئی م ہار یٹنیں ےکیوکعشق می قذان امورکی جاحب توجر دی ےکیکنلنل
یں ہولی۔
کس
رل۵
4
کے کو ا ور دارد چا برولہرے بر
عرائشح جا کی لی ا ا ا
(زی٘ س کا انا موب ہو دوکسی اود داب رکی جان بکیوں دیھے۔ یی نین شی یش روائی
نہیں ہے۔ اس رع کے عاشق پرہعضت نکر عرام ہے جھ اپنے معثوقی کے علا دی او رگ
۔
سا اور پچ عاشق فو دتی ہوتا ہے جوصرف ابنا مض نجھاجا ہے۔ مرا نشی میس ہر
عاشتی کے لیے مرف اورصرف اک کا ابا ولبرادرحیوب ہی سب سے ذیادہ پادا اور ۶یز ہوتا
ہے۔ عاش کا اپ ة ہی جیب چا د ہکیسا ہی ہو سب ےل ما دع وانی اور مب سے
رادم مب الیم اور حریح الال ہوتا ہے۔ اس لیے شاعر نے جیا نکیا ےکہ جو عاش اپنے
یو بکومچھو ک کی اورکود تا سے و ای کھوڑا اورک ظرف ہوت یں وش
عشن سے دور بی رکھٹا چا بے جو اپ ےگہوب کے فلا و کی اورک و کےا سے اکا بی ہیں
جاکتا۔
رق
اڑیی لی مہ وارم ز شوقی ۳و جیب ور
07ص9 یر 0
(ئش کی جوآگ میرے دل می گی ہہوگی ہے دہ بک شدیہ ہے تج ب ہی ںکہ جب
می رائحھوب میرکی جج رگیر یکو ے' جب میرےم رہن ےآآئے ذ اس وت اسے میرکی راکو تی
دای دے)۔
مر ےعبوب نے آپن شی ٹس می رس ول میس ایک بہت بڈئی آنگ بھڑکا ری
ہے۔ اہ نآگ می کہ برلعہ میں لا اورسڑتار بت ہوں مض یک ینگ می مجلنا اورم بی اصل
۵
یں نو عاشقی زارکی زمگی ہوئی ہے۔ بے عاشقی ا سمش کی آنگ میس بڑےشوق اور چاہت
کے ساتھ لے رب ہیں۔ ہماریکیفیت ایی ہےکہدل میں گنک ہہوئی نگ سے ہم جے
جار ہے ہیں۔ اس صورت یکن و وفت مار لبرجالی ہار ار داری
اوخ مگیب ری ے یے ہمارمے سرہانے رن و لے ہمارے ہجاۓے ہعاریی راکو اور ناک ہی
ندکھائی دے۔ عاش نکی ربصور تگھ مض می سکو با فقاہ ہو جان ےک ہل ہے۔
پ
یں ا وہ و ہے
کہ ہر ازرگک می سوزد کہ از خود کہترے بین
ن (ایک مدت سے مر ےآ قب تاہا ںکی ٹیش سے سادا جہاں چل اٹھاہے۔ بہال کا
گنی صس نع ما عالل ہے۔اس پر دنیا کا ور ر شک سے رود ہا ہ ےک اس نے اپ ےکھی
کہت سور خکو دک لیا سے )۔
اس شع ریس ہہ ایا گیا ےکور کی مہ تاخراورعدت ہولی ےک دہ چچزو ںکوجلا
کررکودیتا ہے صن د مال می لبھی جابانی چک اورئش موجودہوئی ہے جس طرح سور
دنیاکوجلا ا ہے اىی رح سو نمحبو ب بھی اپنے ص نکی نپس سے دخیاکوجلاتا ہے بتایا جار با ے
کہ میرےمحبوب کے من و جا لل کا سورع فے اپٹی ٹچ اور تاباننوں سے ایک مت ہولی
پودے جہا ںکوجلا کا ہے۔ بیصورت حال دک کر ا ںآ سا ن کا صلی او ری سور رش ککا
شکار ہوگیا سےکہاس دنائیش اس کے علادہگھ کوک سورنع موجود ہے جوا سے رکھی سے
اوزیادہجاب وٹ کا انگ ے۔
۰ ش۵
اکر وشن زدل ہالد زکری نت ول
مار نے رخ رین تو لیے بیر
(عاشن کا دل اکر زالہ وفریادکرنا ہے و اس کے رونے عون ےکی پردا ہنی ہے سے
رونا جھون ھی ا سک یقت میس ہے۔اس کے علادہخواء شحم پہ ہر با لچھی نشتز بن جا ے2 بھی
اغا
ہیں )۔
آ ود ا ری وال ردنا گنا اماک رش می ہا ہے۔ ماش کے
شب ورو گر ہی وزارگی اورددنے یی یس بس رہوتے ہیں۔ عاشن ان کے خی مام وی میں
زندہو رہ تی نی ستا۔ اس لے بتایا جار ہا ےک عاشی کے نلمہ دشیو نک یکوئی پرواہ نک یل
گوباعاشن کے ساتھ لا زم وطزوم بہوتے یں۔ان کے رواش نکی زندگی بے روط اور ے
کیف دی بولی ہے۔ لین عاشن ان اذیت نا ک؟ہوں نالوں اورگر یہ مندگی کے پاوجودیی
کیرکیں ہوتا۔ ال کے مکا ایک ایک با لبھی اکر یزنشت مب بدل جائے و عاشأ کی اس سے
بھی سیرکینٹیس ہوگی۔ دو ان سب میالی فکواپنےمحبو بک جانب س ےک ہی بچھتاے۔
. 9۵
نر کرر آں پاکلیاں کہ رۓے وی دائم
علیہ بجی موق ین دی کر موی نع اوت و
(اےلوگوا ان نے وھ یکسی مسلران کے سات رکم دلی سےکا نیس لیا۔ یھ برنجر
کے 0 ےدل کی سو نی شکوکوکئی کافرکھی ۱ء کہ لے اکا د بھی ضرورزم ہو جاۓ )-
پگئش یکا ود ہوا کرس مکی دن درم ی مب مات وگ مل رٹل یں
ہوا ۔یصش کا ابا بی رہب ہوتا ہے جو اسے افخفقیا رکرتا ہے وی مشرف بد نرہ بمشق ہو جاتا
رج ےجو بک ادا اور عادت ےکرال نے ل بھی سی مسلمانالن وسلامئی وا ن ےک
بات اور ا کا ان کی اون ٹین نے ک٤ کی اض کی
ا سک ججھائوں اور وکر ہا ادائؤں اور٥شوہ از یوں سے مبرادل نا شادائں ق رج ل بن چچکا ےکہ
اے اگ رکوئی کاف بھی دکھہ نے نو ا ںکا دل بھی ضرو ربج جاۓ اور ات مھ سے ہمدردگی ×۶
جاۓ۔گر میا وب تو بڑا ھی بے نیاز اور بے پرداہ ہے اسے مبر یی آہ وزاری ےکوی
سردکاریں۔
ئ١
رن
خیش آں ساعت کہ د رکوئی تال گیا رود سرخنل
وج ا و یج: ضاعوزتے بی
(و ہکا خوش لکن وقت ہوگا جی گی الد ی کو چہ تاں ہیں اس حال میں خونٹل خوش جار پا
کااس کے ایک پاتھ یل صبراگی ہواور دوسرے مل ے ےب راساغ ہو )۔
ماشتوں ان ۴ یی فی اارسر تک ای کآ دوسا عتکگی عاملوگو ںی صدلوں گے
ٹر اور ال ہولی ہے۔ ای لیے ایک عاش صاد قکی ا ںآرزداورخواپ کواس رح سے
یا نکیا گیا ہے۔ ا کے لے اس سے ؟ ہاور انل ساعح تکوئی او یں کت ک جم لح دو
ایک اھ میس عورش بینااوردوسرے پاتھ بیس شراب سےگھمرا ہوا جام لیے دنا دماٹیماے
بے برداہ اور ے مرخ خوٹل جار ہو وا توف اس شعر میں قرب دمحرفت ا یکا
جازب اشارہ ہےکیگی الد بن دوگھٹ یئ ی مارک اورخو لکن ہوگی جب میں مترفت ال کے
خ اضق یس ہو لگا ادردہال پر شٹل یناۓ نر وی میں سےمحرفت کے جام پیا دہامو ںگا۔
وولشراورووسماعت میرے ل لف ی بی اورک ز ماوں اور رخوں پہ پھارگی ہوگی!
خزل 2
۵
ںو یرک ور روزگارم بی شر
عو باہو ہے ری نار دی کشر
( می مین نج ںکتاکہز مانے کے جورم جھے بلا فکر تےکر تج ہیں۔ بللہ جھےنو بد
خواد اور کچجولوگوں کے شعن اوراپے یا رگا بے دی اور بے رٹی مار ڈالی نہا۔ ۱
اشتوں کے لے اس دنا می سی بھی طرف ےکی بھی با تک امیدادرت تع نیل
ہوئی_ عاشتو ںکونز عام مریہمعائرل قردروں کی تجیدیم خیب کے باعحث سدا موردالفزام ہی
ریا جانا ہے۔ اس پر ترادنا مع اورواعظ ای برا چھلا اور خ روش کےفلسفوں میں الچ اکر
۸۰۸
رکددینے بی۔ اس لیے ز مانہ عاشقول کے لیے اود عاش زمانے کے لی ےگوہا ہوتے بی نہیں
ہیں ۔ دنا اورز مان عاشقو ںکوواج بی اور دارسنگ ز لی بی قرار د نے رے ہیں۔ ال
کے باوجود یہ سارک کارردائیالں او تح زیرات وغی رکا نفاذ جے عاشمو ں کا یں پکاڑ کت
ان سے عاشقی مرتےبھ یکہیں' عاشن پذ صرف بدخواہ اور بر گال لوکوں کےطعنوں نے اور گر
سب سے بڑ ےک یا رکا بے ری ا لک بے رٹ جورم اور جردنم دسف اکا سے بلاک ہوتے
ہیں۔
ر2
دور از وے طائق پاش کہ روڑ چنر پار
نت و ررڑے ة دا اظارم می کشر
( ارگ دوری کے سبب میرک بے طاضی اس ققدر بڑھ جا سےکہ ٹیس مشقت فراقی اور
انتظار کے دارغ اور درددالم سے دن می سک بارمرتا رہتا ہوں )۔
محہوب سے دوریی اور فرا ق یکوئی مممولی سوا تی ںنییں ہیں ۔عشاق کے بی بی مرو
فراق ی2, بہت بڑئیننتیں ہولی ہیں ۔قربانی اورجان دینا شیدہ عاشقی ہوتا ہے۔ بے عاشق
اس شوہ اش اور کین عاشفا نکوخوب خوپ نجائے لے جاتے یا وا
کی گنو تین جرساس می مرتے پت رتے یں۔ برردز دو انار یی ہوتے ہیں اوز
دل مب انار کے ریشن دارغ لیے ہو دو ہترارو ںکھنگڑوں بارمرتے ریت ہیں ۔
رك
0 0 ورزعم الو آں تر و
اڑ ب(رالۓ یرت غلق آالم یی کشر
( می و اس سے اپناعشحن خفیراور پوشیدہ بی رکتا ہوں' لیکن می راحبوب بی فصہ ور ے
دہ دوسرو لکی عبر تآموز یک خاظر برعلا یھ بلا گکرتا ہے )۔
عاشتی لیگ اپ ٹیم دادراک اور حواس داحساش کے ناتقوں ےت الامکان اپے
مت قکوخیہ اور پشیدہ بی رک ےک یکیش لکرتے ہیں لان ان قمام شور شش ول اور پردہ
اکنا
دارلوں پاوود عاشتوں ہی کے ول و چان اور ا مال وائمال ۓے بیعش ظاہرہوی جانا
ہے۔ اس شحع ری عاش کی انم پہ تایا جار ہا ےکہ دو اپنے عش یکو اپ یکٰششوں سے
مات پردول یل چچھپاۓ ہوئے ہے۔لکان ا کا حبوب بی با ال قصہ دراو رتن رھ ہے ال
کے مزا یں شوٹی اورتنلرکی کے دہ دوسرے او ںکی عہر تک میزییکی خاطر مھ تخت رش بناتا
اورسب لگن کے سا نت مع مکھطا بلا ککرتاہے۔ ٘
۰ ب"
22 رم ہر کوچ“ بازذ یہ طفلاں ت
نشم میشے گر زم ىی مد
(اگر مس اپی اس عالت کے ات گ یکچہ می نگل جائؤں یس بچوں کاکھیل بن
چا ادراگر مم لکوششین ہو چا تہ تیرکآگزاورجرنم نیف دنز ارکر کے اراتا ات
ماش امراداے احوال کے پارے میں با ہ ےک ہد ہکیا کر ے او رھ رچاۓے-
می 0 نے حدججرور اور رنچور ہوٗ پچکاہے۔ ا لک یکیفیت ہی بی عبرت اگیز ہے۔ دہ جایا
ہ ےک اگوہ اپتا اض تی کے احوال انم 07 775 م نل جائے تو وولزگوں کاکھیل من
جا ۔لڑ کے اس ےکی کیا القاب اود خطاب دی ارہ جاہیں و دلوانہ چا نگ پٹظرول ہے
ار یرد کرد یں اوردوسری صورت یں اکر دہ عاشن ش( نکوکشیں ہوک رجچ پک یٹ جات
سے پھر ہے معٹوقکانم اور رکھان ےکنا ہے معٹوق کا ردقم وع و او بان! 7
بونا ہے۔ دہ عاش کون الی' زار اورنخی فک کے مارکر ہی تچھوڑتا ہے۔
: ر07
شن گزارم در خیالت روزگارم پوں غور
07 مو اھ ور وا او
یں تیرے نا خالوں :3 را تگُزارتا یں اود میرے اوا تک طر ہے
شا یں ۔ال پ مرا عالت شا ر ےکر دنگگر ٹم ناویا ران ںکو نا نے ے
میا
۵۰ا
ےم روپ می کن عالوں ٹس زند یکر پاہوں اور جو 4کیا ھ بیٹتا رہتا ۱
ہے۔اس سے بیکانہ اود بے نی یں ہے۔ مھ یہ بتان ےک ہرگز ضرور ت نہیں ےہ شس
صرف اورصرف تیرے بی خیالو ںکی دمیاؤں سکم ہنوں ۔ رات دانع برای خیال رہتاے۔
مراوقت تیرے بی خیال وخواب شل بٹا ہوا ےنم مبربی حجالت او رکیذ رکیفیت دک گر خودی
اندازہ لگا یھت بہوکہ می لکول ہزنہ ہول' پک بھی ہو ںک او ھی اہ را گر
زاری اورآود ہکا ی۲ گز ری ہیں ۔ مھ میرے شب وروز ہی مارے ڈالے ہیں۔
لی
شوقی ویدارت مرائی تشت و یی وئوں
آرزوۓ پوس امیدر گنارم یغ آشد
(اے میرے پیارے! چھے بہت تیرے دیدا رکا شو فی کر دا اوراب تیرے
صول اوسداو رگم7 خوش ہوئنے یآ نول ری ات
ماش کی صورت عال جائی جائی ری ہے دہ ہرحال اود ہرعبد اور پردور جس مرتا ہی
رجتاہے۔اس کے لے وفا بھی جا اور جفا بھی جغا ہی ہہوٹی ہے۔ اس کے لے وادیتشقی ہر
دور یش اور ہرعال یش وادک مو تگھی بی رنق ہے خاشل کیا زبان عال سے بتایا جار اے
کیشردغ می بش تھے د یھن اورتیر ےن د جھا کی جھلک پانے کےشوق اورامیدر یئل
ہوا رہا۔ میراشوق ہی مھے بار بای کےگھاٹ اتارتا رہا۔ اوراب دوسرک یمیا پرکہ جب شش
اپنےمشقی کے صدمات اور ہجردفراقی کےنھموں سے پخعد دش ہو چک ہوں ولس وگ کی
خر جا کو می آرزداو مآ خیش جاناں ہون ےکی طلب وتمنا مواتز اور تال
کرددی ہے ۔گویامیرے لیے پرعبد رای ہونا یکا ہے۔
2
بی کشد زمت طیے خائل است از ای کہ او
چو گی سنل بان نام ى٢ سد
( جیپ یوں ہی میرک خاطرزحت پرداش تکرتا ہے۔ دو ط رح رح ک ےج نکرتا
۵۱
ہے۔ و ال بات سے خائل ہ ےک میر نی جا نکی سوش گی لد بی نکی رح ا ےگ مار
ڈالےگی)۔
میرا مرف نف قکا عرش ہے ا سک ت کسی محاغع ا بی بکوخب نکی ہہوٹی اور یرم
نی ضلل مم ا علاع ہے۔ اس لے میرے علاع معا ےکی خاط رطلبیب بے ارہ خواتی
اہی زحمت پرداش تکرتا ہے۔ ا طوییب مع غکواس ام کی خمر ہیل ہ ےک می را یھ
نی او نیف وااغخرجان ہے یراشم جنگ پڈڑیوں یکا ایک چج رد وکیا ہے ائ سم د جا نکو
سو شی ہی نے جلاک راس حول ت کا بک پٹاا ہے اورای کے علاوہ ما اس بات ےی
یلم س ےک مر علا کرت ےکرتے اس ےبھی مر مض کی سوزش او جک ن ہی بلا کک کے
رکورےگا۔
غزںھ
290
بڑتے و 7 تل ذریکراج٤ تی ماد
۳ دا صرت او ور م روزن ماد
(اےکاش لک مر ےش مکی سرائۓ میں خی راس کے تیر کے زم ک ےکوی سود اش ہد
اوردل ےے ائز رش نکی ضرت کے واکوگی اورکھ کی یرگ ضاد۔د)
میرے مك ہکا مکان ے بہاگر چنا ہر طور پمر ےئن دداصل کی
راۓ مر یی ہے : ال ںگھ رکا ال ما لک فو مرا عیب ایا ہے اود اس کے اندر ج ھ ہے
ال کے جو درو دایوار ہیں سب می رر ےگحبو بکی مقدیس اباضتیں ہیں۔ می اگ ہکہو کہ مرا
یت اان اماغوں کے ای نکی سے ھا کا بھی بارانی ا ہے۔ میرک نے رببصرت او رآرزو
ےک میرک انس سراے جم میں اگ رکوئی سوداغ روڈ رون اکھٹکی ہو ددچھی تیرے لگاۓے
ہونۓ تن کے زم ب کی اور سی رح تی ری حر تکیآآرزداورارمان کے سواکوئ یکھٹرکایا
روزن ئ۶۔
|۳
2ك
عاشن روے باں باب ھہادا اق :
,2 اش شور بارایں تان نی ماد ۲
(یارب اکولی رر جو بکا عاشن مہب ہی ہت بڑاعطراب بوتا ہے او راگ رکوئی ہی نو
دہ ہرک خی رےجوت کے ر٣ ۷اماڈن زہولں)
اے میرے پروددگارا قے بے عدرجیم اورکر یم ےو اپنے انسافوں پہ پمیشہہہرباخیاں ی
فرمات ہے۔ میرک فو یہ درخواست ےک خدا نکر ےکوئی بھی لف نکی مو کے یئ اور
پش چرےکاعاشتی مہ ہو ۔کوئی عاشق حسن و بمال پرف ریف نہ ہو لن یکن نہیں سے۔
ری اگ رک یکوشت ہو جاے'کوئی عاشن ام راد اس تشم کے مین م سبجٹس جائے و دہ
اگ میرے موق نیس کے چرےکا ماق نز ہو- :
ز2
کم از يّ طا رظ پے ہرم
01 0 دو چاک در ردان ماد
(مرے زشن جاں نے فو جفا یگواز سے میرے دل میں زن مکرر کے ہین ذو سر کا
تم فشعار ہے۔ حالاکہایے موق کات ہکوئی ددم رشن اپ دامن می کا بھی برداشت نہ
پیک نا
می را حجیب' مور جا نکاشن ہنا ہوا ال کے جودہ جفابے ایا ہیں۔ دہ مدا لم پہ
شعلم سے چلا جانا ہے۔ میرے ساتھنذ ہلاو زنط تنداور یز اورترش بی زویروارکتا ے۔
وہ پرآن میرے دل می اپی جفا لم اور بے ری و بے اعقنائیکینکوار سے نم بر لگا جار تا
کن ما گا بینیادل گی ۓے 7ذ ہاں انی ہے۔ ودنہ ڑ مان ےکا ان الیاے کن ہمالرے
علادہکوگئی اور دوسر! تذ الس طرع کے نام اود جب بر مان یحو ب کا صممولی انا بھی اپنے دن
یں برداشت شر جے۔
۵۳
رف۵
جنت اشن چوں پاشد بعد مردن کے یار
مرغ جن م را جز ہیں وبیارو درسلن ماد
(چوکہ ماش کے لے مرنے کے بعد ارک گی ہی جنت ہوتی ہے اس لیے میرک می
آرزد ہے میرک جان کے پرنر کان اکی بارک گیا کے درودیوار پر ؛و)۔
اش اپ اع اورا یلب میس سب سے اوھ ہوا ے۔ زٹدگی جرد اپ ارک
یک خوا فکرتاز ہے پا ےآ کوچ میا الاجا رن دہ گاج او دنگ
اکا یرتا ہے۔ دو یریم جرب یں جاتاہ ےکک ا ہے دود ال گی ار جار اے۔
چے عاشی پ مرنے کے بعدکوۓے با رکو جنت ےبھی اچچھا اور پچ رتقصو رکرتے ہیں ا
صادق فو کان گر موت: کے بعدا نک پان کے پع سے لج زوح کانگف رورس بھی
کو چہ ار کے دروذیوارہی یں .جاک دودموٹ کے بعدگج یکو ئے بار سے دور تر ہے۔
۵
رم ُ۔ 7 ٦
برقا رازل وی ناویا مرلوں ارا ×احت
نع رخت م با پرومہ رون ماد
(اۓ می رےگحبو بن ! سور اور چان کو جیرے ہی رضمار کے پر ےا
ہے۔کنفاعی اپچھا موک سور اود چان کے جوا تیرے رر منورکی رشن کے بی ہرگزفروزاں
ذدالں)۔
کوٹ کے سن و چمال کا ڈکرکیا چار ا ےک اے مر ےمحیوب یی اور جیپ
پعال ورك اور چاھ جوا در تابئرہ اورڈروژال یں وو لو تو ورصل < تیرے چرے اور
رخنازں کے کے پاٹ یمور یں ۔اگران پہیرے رضمارکا رق ہتس بر
نورہی جائیں ۔ میرک دا ے×عا ےک اے ادگ کاتجات کے ما تک و خالقی سورع اور
چان کے تھا تیرے رکم رشن کے بی رتاہاں اورفروزاں بی نہ ہوں۔
ارک
زلیغ
آرڑو دارم کہ ورعشقتے ز7ت پیار من
ای از افقاں وزارک' ار از خیون ماد
رن بھی آرزو رکناہو ں کہ خر ےگشق مل مرا برض عرکسی وق بھ بھی روۓے
عون آ و وزاریی اور نالہروشمون سے خالی شہ)۔
1 عاض صادثی گی می اپ جیب ک ےگ لگزارکرد پا ےکہاگر چہ یراشم
میرے جج روفراقی اورگر بب زار کے باع ثکاننا ہو کا ہے جا نل سک ےگ جم سداسدا کا ار
رہتاے۔ می راج ا بکلبہاتزاں بن کا ہے ال سار کاصورت عالل کے باوجودجھی مر
بی آرزو ےک ہا ںححیف وثزاراو رکیل و بیارشمم میں بھی یراع قگھ سے رمے اور یں
ای بھی رونے دھو نے“ آووزاری' :الہ وفریاداورشوروشییو ںکینمتوں اورو ال
سردم نول ۔
2
جح انی جچوں شود باخاک بلہاں عاقّت
ارہ کک ا و سی
(فانی ہونا جہا ں کا مقدر ے اورسب بپچھھ انی ہے۔ چون تاج شاب یبھی ماک میں ال
کر اک ہو جاتیں گے .نے بچھراس صورت می گی الد بن می چابتا ےک ہآ کک پٹ یکا راک
بجی میرا ام شای ہنیاۓ )۔ :
ہر نز ایی اودادلی فالی ہے۔ سب بل خر فا ہوک رر ہیں گے۔ اس موت کے ساس ےسیا
پادشاہ اشنا ہی اوزا سکی ساطلت وعظمت اوراس کے اقتر ارد اختیا رکیپ یکوئی حیثب تل
ہوئی۔ای ك2 0 وشوکۓ او رطلعیں وتارح وہ گی او مین ےی
سبکو ال خر اک کے سا تو لکر ماک ہو بوتاہے۔ ایی بے تال اود نپا شارت یکی عاللت
می گی الد ی نکی بج یآرزو ےک ہآ کک پیٹ یکا راک یا تو یراداور مالک بی اس کے س رکا
جا اوراعزاز وا شیاز بن جاے۔ با بوالہتقصوف و ہمیق لی یں بل مھ نکر را ےکی مشت
۵
خزل6
22
اح نکی از جا گھن ھن از ا کی "در
920و زان گل رر رشار باام 1 در
( فلا پک شاغ نا زج یھی جھے مہرمے یا رک باد ولا تی ہے اورای رع گلا بک
پچ جھے میرے بار کےگل رخسارکو باددلالّ ے )۔
ال شع بی ایک عاشق اپنے موق کے مرا کو اپنے سے انداز ش بیا نکرتاے
اکر چ عالم نبا ات اور پھولوں می گاب کے پچ و نکواور اس کے ود ےکو ڑا خوب صورت"
شالی اور ن قراردیا جانا ہے۔ اس اخقبار سے عاشقی اپنے معتوقی کے بارے ٹیل بنا تا ہے
کہ جب وشن می تا بک یکو مو با کٹ وا ھی اورستی کے سے ائداز یس
رای ہے تو اسے دک ےکر واش کواپنے معتو ق کا چنا بن اور نازدانداز با آتے ہیں اور ای
طرع گاب کے پچو لک گلالی سرع بت کو دک کرمعٹوق ین ک گلا لی اورتروجاز ول رضمار
بادآتے ہیںں
2
ہیں ریخ دللوہ ٢ ازیاد لا نار غوم
بی خامد یکا زاں رر یام گی دب
03 انح کے لے ا ہوک نک اد ے بح ار
نکوں :و ان وسکو نک کات بی لکن کان ردپ شی پچ وا پا کا
ہوں و پر گے ا ناک پال 17 ادا جال ے)۔
و مو سضر ا
رو موا پان کس سج
ماک من جاۓے۔
٦
کے ل بی اپ نےحبو بک یاد سے فاررغ او رآزاد ہو چاوں ان پہاڑول اور داد لکا ڈ اپنا
ایض وعمال اور رفا رتحکنت ول ہے۔ دہال پہ پرندول اور درخ لگ اور ہی ٹپ
صورت بہاریں ہوثی ہیں ۔کوہتای علاتے میں پور جھ چا ندکا عاش پہندہ ہے دہ اپنی ہی '
چال دکھاتا ہے ۔کیگ ناک خرام جب دہال اتی محورگن جال سے چا ہواگز رتا ےو اس
سے پم رج اپ ےمحبو بک ور با ال اود چنا بر نیا دآ جانا ہے ای رع نل ایک باد چھربے
تاب ہو جانا ہوں۔ پچمرپپہاڑ پر جانا تی ب ےکا رہوکردہ جانا ہے۔
”
ہ رکا مم گل با ار می سوزم کہ آں
جو جات ایا اغیار باام 1 در
(میس جب اور چیا بھی پچھول کے ساتھکانناد بن ہو لاس سے ہل جاتا ہو کیو
کان ے فو میرے بارکا یے نیروں کے سا تھ بیھنا یادآ جانا ہے )۔
انانکہ پچولوں کے ساط ھکا ثٹے ضور ہوتے ہیں اورنل اوقات ا نکی موجودگ یکا
ضردر تکا اصساس اوربھی زیادہ ہوجاتا سےکیوکلہ ا ننماغوں سے پھولو ںکی حفاظت ہو جال
ہے۔ پچلول لوگ ںکی دنت نر داود جاندر کا چارہ بے سے بے رے ہیں ۔لئن یں تو جب
بھی اور ہا ںبھی پھول کے ساھ نما رکود کنا ہوں فے ا سے دک ےکر ٹیس حصد اور شیک سے بل
جن اتا ہو ۔کیوکہ اس جوانے سے مھ میرے اپنے یا رکا غیرد کے سساتھ یھنا اور ان
ں ءہنایادآجاتاے۔
72
چویں رم ورگکتان کز خول آمامم دے
بل کے ا لاف دن و 7
بنگی میس ا کرش سےگلستان بیس جا ہو ںکہمی د مجر کے لیے اپے پک (٠
٠ آرام پہچیاسکوں' لن دہاں ب لکیہ وازی یک نکر مھ اپن گر ییدزارگ یاد ال ے)۔
مجتتان اپتی با د بہار فضاقول سے پچھمولوں اورا نکی خوشمبوئوں' پرندوں کے جچھوں
ے۵
اور پارەں اوریو ںکی خوش اڑانوں کے ر میں نے لے والی جم ہے۔ وہا نکی
7 تی بھی ان فزا اوردل خوش لگن ہو ہے ۔ لان میرے ساتھ اور تی معالہ ہوتا ہے۔
گے دوہاں چاکرسکون ئ دآرام اور مل ٗ آ مو وا ل کین ہولی تی بزرمرنےنون اورآلام یں
ادرگھیا اضافہ ہو جانا ہے۔ ا لک وجہ یہ س ےکہ باغ مج سدا بل کا ہو لئے رہنا ے میرا
اپنارونا دعون اورمطصراب ومشکلات سے شوروفو ما بادآ جانا ہے اور اس طط رح بی بے سو یکئیٴ.
چنہ عالی ے۔
۵
راحتان ٠ مث فرباد کو تی
ار ار ہیدہ ان گار اکا یا و
ایدارک ستو نکی داستانہ نک ھےکننوں سے اپے سے کی داد
اتا ے)۔
فرادکامشتی' اکا ج یہ صادق اور اپنے معٹو یکو خوش لکن ےکی سا یکا رق
کس بر و کن سے وہ نجھوڑا تھوڑ اکر کے
پاڑکو ڑا اکا رہ تھا او رکوہ بے ستون اما ن کا وومشپور پا کیج سکوکھودکرفرہاد ہے
شی لا تا می سماری دامتان بوگی ہی مشش و عاشكی کے میران میں مٹالی اورحوالہ انی
مت ری ہے۔ شا جا ہمیق اسان فراا نکراپے سٹک کان سے گی ہوا
اوران زتمو ںکی میں اود دردکی اہری یادآنی ہیں۔
لغ
رسلمہ ام از جنکنی و 0ک چور روزگار
پا نین ی یں گار ام یا ردب
(یی اس کے جودہ جا سے رس ت گار عاص٥ لک چا تھا' لن زمانے کے صدرتے
دزمان ےکا خون رباوں ہے مھ پمیر ےگحوب کیعلم ذت مکی بادتازہکردئی ٤ے )۔
میری خوش لتق کے با لٹ ی کہ تاپ یی اپنے نال یوب ےم وم اور
۸ً“ە
ور و جن اکو جو لکر ان ے جات پ کا تھا یش می گتا ۷ ھا کاب و ا
کرداول اور نپازن ںکی جینش پڑعو کاپ یرا اشن جال اب میری جا نک
کے در نی ہوگالیکن بیصورت عال یا لی زیادہ د کک برقرار دوگ ین زان
نے نز بجھھ پر ہطرع کیلع زم روا رھے۔ ا طر نم ا ے روزگاری نے ججھے پچ رمرے
ال یو بک یادتازہ ہو جالی ے۔
ان شیریی سوزرم ہیں شعر می وم
20 شی ری آں گفتار یام یں و
(جب می گی الد بن کےشعرسنتا ہوں ق میرک جان شی میں بے جلا ڈ تی ہے ۔کیوللہ
اس کے شی ری کلام سے یھ می رےعبو بک شی بی کلا کی یا دای ہے )۔
می ال نکی شعی روف پونی ید کی شر تل ام
اورشعربڈے ہی پر اث اور پرسطز اورشی ری ہیں _حض گا الد ین کا کلام اور پغام اپٹا
خاوت اور مین دجو خاش خی او وکیف ناد ہے۔اں لے عاش نامرا کتا
ےکا نکا اتا عحرہ ادرعلادت پش کلام اون شی مس میرے لیے پچ رعذراب اورمصییبت من
جا ختے مہ ںکیوکرا نکی شی بی سے چھے میر یحو ب نی سکی شی رم یکفتاری او راو تکلام)
کی یاتازذہ جال ے۔
و سا و یز یں ۵
گنز ای اہو گے آغر از جزاد: وا شود
(می نہیں جانا کرد ہک بکک جھےآزاد پہچ-انے کے در پے .2 گر چہ یں
تا ین ایک رو زآخ رکا روہ یھ ےآزار بات بات بزرازار و جا ےگا ری
۹
۴٢)۔
بے اس میق تک اوراس کے اراد ےکی میس رکوئی خرنڑیس ےک دوک بک او کہا
ک کآزار پیا ن ےکی ایذ ارساٹی یں بتلا رکھتا ہے معلوم نیس دہ سکنتے زمانو ںکک ھنگینون
اورمھینوں مج سکرفمارکنا چا ےگا اکر چ وہ ا ان میس پالئل پھوڈڑیس ایا ادرشایدہ ھ تا
کررے دردوال مکوک مکرنا نیس چا پناس مقصد کے لیے دہکوئی زماٹی می کرت کہا
کے آززاد اور ملیف کا سلسل رکب کک چاری رےگا۔ 2 ٹس کھتنا ہو یک ایک روڑ ضرور
آ ےگ اکددہ ےآ زار مچیاتے بنچانت ےنگ باد جا ۓےگا۔
2
بریں و چند روزے گر بھاند از جلاۓ او
مم بہار خوابر کشت و چاں ا ەار خر شر
(اگر و ای طور چند روز اور مھ اپٹی فان ں کا شکارکرتا رہ نذ میراشن بیار ہ جا ۓ گا
او چان گی ہ جا گی )۔
آزار اور لیف پرداش تکر ن ےکی بھی عداورست ہوثی ہے۔ اس کے بعد اور
ہی احوال ہدتے لے جاتے ہیں ۔ می رائحوب جھ پر جو جورم اور جا ککاریاں ردارکتتا ےش
نیس خندہ روئی سے قبو لکر کے اپنے تسم دجاں پیل دہاہوں۔میرے د ل کا معابلہ اور سے
مرحم و جا نکی برداش تکی نت حددداو تین ش مکی ہے۔ اس لیے بیس اس ہنی میں
ہو ںکہاگر مور جان کےدن وو تا تے اج مظالم چتر روز اور چارگ اور روا ر ےلان
مظالم سے می را حم ببارہو جاۓگا اورمی ری جا نج نی اور جرد ہو جات گیا۔
7 انت
باب رک شد یلت من و گویند پارانم
کہ ا فریاد و افقال لکن او یراد غاپر شر
(میرا بت ے مو تک نیندسھ کا ہے ا لک یکوئی خوائن با آرزونہیں ہے اور بے ٠
میرے ودوست از لچ ہی ںکہخوب فریاد و فقا کر کہ ال سے تیر گنت بیرار ہو جاۓ
۸ھ
)۔٢
میرے عبی بک بے یازیوں کک رواگُول اور سرا سعداگی جاؤوں سے بے معلوم
ہوتا ےک ہم محروم یداد تی رہیں گے اس لیے بیکہاجاد با ےکہ ہما ا بحنت او رھب سو
چنا ہے بکرم کا ہے۔ مالیسیاں ادد نامرادیاں اتی بڑھ بجی ہیں اور پرطرف محردمیوں دی کے
سے بین اع اعوال شی خازک ام تکد اکر مار پان اوقانم کے لور نے
دےر ہے ہیں دہ کے ہی ںکررونے دعونے می ببت اث اور طاقت ہو ےو ےدوت
ےکلب درو ک گیا ضل بای یں لگن ادگ بی ودر ای چا یں لیب
بھی کہا از ہا ےک میں بہت زیادۃ تر کے او رکم لک رویا کرو لکمہاس سے بت بیدارہو ٭
جاےگا۔
ر"
کن بہر خدا عزم گمتاں اچس روے
7
گی دائم پاغخہال شرمنرہ از ر خواپر سر
(اے مر ےمحیوب! فو اپنے ال نیس روۓ گن شکو بےکرگنتانٰ میں جائے کا ٠
ارادہ ہک کیوکلہ یل جاہتاہوں تیر ےجسن د مال کے ساتے بارغ با نکواپے ہا کو د ےکر
2 شمندیی ہوگی)۔
اے می رےکحبوب در با اے میرے بارنیس !تی رےتسن دو عمالل کے سان سب پا
اورادٹی ہیں ۔ مانا کہ برغ ببت کت ہونا سے پھولوں اورکلیو ں کا متصوم سن ان کے رگوں
اور تاڑنیو ں کی بہار بی“ ہریالیں پڑروں یں اور درخڑل چڑوں پ گیب بی جو من ہنا
ہے۔ پورا تا نگویا نت بنا ہوتا ہے۔ ا سکی فضامیں اورمتظ خوش میں چانفزا اوررو الْڑا
ہوئی ہیں۔اس نگ سگو یا تا نکا ایک انا ورک ن تن د جمالی اورخو کن سال ہوتاے۔
ین اے میرے سب سے سیل نکحبوب !اگ رآپ نے با میس اپنے پہ جال او رحس چرے
کے ساتجدعز مک رکھا ہے فو بی لقن سےکہتا ہو کہ با کا مایا باغبا نآپ کےجسن وناز
کے مات اپچے ہا کو دج ےکرش من دی مو کر ےگا
ا٦٦
۵
ملْغاں رہت چترے دماح اے نازئین یی
کہ بش اے چان اڑ وست دست اڈگار خواہرشر
(اے میرے از نین ! میرے لیے گی ادانمیں چان لیداہیں۔ وقت سار ناو ادا کے
ساتحداپنے پاتم کو یوں نہ جھطگا اک کہا سے اے جان من ا میریی ہش اوددانش نی ہوگررہ
جال ے)۔
ماش بیز ابنے ناز وادا سےمعمورحیوب و با کی ایک ایک ادااورشسم د جا نکی تکت
اورٹٹیش پربھی پیاراورح ٹک نظ رکا ے۔ وو مم قکی ایک ایک ادایب پیر دنا قربا نکر
2 اذزخا نک وارسکن ہے انا ےک مر ےمشوہ از کے ہم تین سا کئحفل
ج بی و اپ یناز وادا کے ساتھ اپے پت ھکو جن فک رو اپ جذ بات داصاسات
لی فک ا کہا رکرتا ہے فو تمہارے اس باتھھ کے جھکنے کے پرکیف اور پہ ناز انداز سے میرا
عقلی مر یبا میربی دالْش سب شی اورگھائل ہوکر دہ جانی ہے۔ اس کے بعد ئمیں فو اپنیفیجر
یی رختی سب متاغ دلْ٘ش حیسرلٹ بای تا
زلیغ
چہ گوئم رن چوریار و ورد خینل پا مم
ے نون من ما اق بار نار شد
(اےمیرے م۱ میں لوگو ںکک اتفحیل بزاؤ نک میر ےحبوب کے جو روش م سے
ہیں اورمیرے دردکی عالل کیا ہے دو دنیا وارلوگ فو میری ولداری اورسی نکی اط بھےمر
ہیک یق نکر تے ہیں )۔
میں تو ہی مل میں ہوں با نین عم سم جودو جفااتم ہا ےگوناں کی
رویاں اور بے انا تیاں اڑسی ہی ں کہ میس ا نک ینضصیمل اورشرح لوگو یک وکیا او رکہاں تک
تائؤں۔ ان ٹم مانی رویوں کے اندر مر یکیا حاات مے اور بجھھ پر دا کیا شی رق کے اس
بھی می اپے ہھررددوست یارو کو گی بت سک ۔ اکر پھٹھوڑ بت بت تا ہوں یا تانے
رن
کیرش لکرجا ہوں فو سب میرک ہعددد یک باقن اورعبر کے ڈور برضانے لے
ہیں۔ دوسب تھے مل اور بےنواکرد ینا جات ہیں۔
2
زائروہ دل و پان خر جا کے بڑڑای
کہ ابی صشقی ست د ایس ہا ہرزماں بسیار خواہر شد
( گی الله بین اپ دل و ا کے سا تج کب
راز کے یڑ نشی ہے۔ااس میق ہردودیش اندددوکم بڑھت نی جاتے ہیں )۔
امش کی دنا می سرک رگی الدین کے دلی کےپھیی اورانددہ بے عدو اب ہو گے
یی سےا مان یاقوں کم ادرعضدمات مات کے رہے ین 0
اوردردمندر یکویی ایک بھی کون نہیں لی ہے 2 ا ار ا ٹکی بدوات
کچل ہو چکا ہے۔ اس عالت مم لگ یکچھارسو چا ہو ںک ہک بک ٹچھا سکو گیا ہک بک ان
خموں اورمصاج بکا اوھ برداش تکرسکوں گا۔ دل و جا نگرفۃ :یں دو پارہ پارہ و
گے ہیں۔ اکا ایام اور انا کیا اودکہاں ہے۔ لکن برق دادی عضن ے۔ میدران عاشل
ہے۔ اس راہ ش می دلی کےٹم اودجگر کے جاک فو دام بڑ تے دی چے جاتے میں وا کے
نز دی کنھموں او رما کا بڑڑھنا یش کا ارتا اورش کی تز تی ہوکی ے )۔
خزل 0
٥
رزئی وفریند رات زی ہر انز
ع7 ور ور متدریا× ال مہ بیداد پایڑ گرد
(اے میرئ ان کے دش نت نے یجھے مارڈالا سے اوراب ہی کے ہوکہراس خا ککوی
بباد اود ما ککردول ۔ مرگ اآںذزریردمری ارم زی 2ے پاوجودگی 2 ئک
کیوں رواہیں )۔
۳7
عاش زا رگیگز ار ینمی کر لیکن صرف اپ محرو بکی توجہ حاصم لکر ن ےک غاطر با
7 ہ ےکی اے میہرے عجیب ! بے نو نے موت کےگحاٹ اجار رآ ے۔ میں عدا مرتا
رتا ہوں۔ت انس پرگگی خوش نیس ہے۔ ابق بھ سے پگ کہہد ہا کہ اپنےش مک ای
ا کفکوگھی ناک ہی یں مادوں نش٣ٹ یمکومٹی یی مل اکر ہواوں ٹل اڑادون۔ ا سادگا
صورت حال یل م۴ سککتتا ہوں شاید مر دردمندیال' آزروگیال اور ائروہ کیا ںی کام
گنی ہیں ۔کیون و نو جھ پ4 پے بہ پے اود دام اپ نشم تم بڑہاۓ ی چلا چارہاے۔
نلم وجورکا بیس ملرک کک برترادر ےگا ۔کب رینشکل وقتٹشم ہوگا۔
یی ار ا ہی
ھی گوئی ول ایں ۶2 ےا ا0
(میرےحوب !نے نے میرےسوابائی دو ےلوگوں کے دلو ںکوخو لکیا ہواہے۔صرف
یس دی غمزدہ ہوں لین ق یھ بھی نی کتاک راس دل مزی کیج ابھی شاوکرنا چاہے )۔
اس شع یش شا ع پھر انی بی مھردٹی اود صت یکسا لاتا ےکہاس دنا یس ہاش
ی اک انا پت ہوں جس پووں کے پھاڑٹونے ہونے ہی دسر ےلوگ ںکوفی رد ںکو
نے تاپ شیا ا کی یفن من کے اث ہیں سان ری کاو
سلکینیاں صرف بھی پر ددا اور چارگی ہیں۔ ہمارگی عالت اورکیفیت' طلب وآرزواور وارگول
کوک کرکھی نے فی جوارۓے و لکوغاداوڈ خوش نے کے ہار ہے یی س کتا۔
ر29
شم پر ازم تر کز جائی برو یم گرہاں
8 ۳ آزاد پایڑ گرو
:( تنم کے ائدر مین پنڑھا ہو چکا جن" اکر جوائی میس جا دے دب 2 ا سچھا تھا۔
اب و یش بوڑھا ہو کا ہوں اور بھی ےکہ بوڑ ھے بندہملاز مکوے فراخت اور زادگ کنل
دا جال ے)۔
۸
اپ خی ےو کا اورعبیب ما! بے ٹیرے بی خموں نے بوڑ ھا ٹرور اور اظمرو
شی فکردیا ہے اگر بیرے اس می ہوتا فو می جھالی ھی جس اپی چان دے دا" اوراں
بڑھاپے کےآلام وصد مات سے بپچا رجا اود بی ز مال ےگا ایک دو ےک لوڈ ھھ غدمت
گا .کو ا کی طلازمت سے سمدو شکردیا جانا ہے۔ یش جک ترک عناتوں سے اود تیرے
ول کے بویچھ سے پا نال اور پوڑ ھا ہوا ہو اب میں ہیں اور جا ٹیس سب ٹیس نے
جہاں اپٹی جوالی کی تر بالی دی ہے اپنا بڑھاا چھی ای در پہ پگھاو کرو لگا۔
ر"
ایت ہائۓ صن او بخر ای پایو گفت
عدریث خشیوہ ریس برفرباد باب 1
(اے دئ والو! امس ک ےن و با لکی 7 ا یا جاے۔
کیونگ شی بس کے از دانداز اود رنک ڈ نک فربادھی سے سکیل جا ہیں ۔
مور محیو ب تج نس قد ور اکس فدر پہ از جھالی ہے ا کا می نکیا کیا تاننل
ڑھاتا ہے۔ جھے دولعہ ہگ یک" سکس طر سے اپ انیل اداّؤلں سے بادو برہاکتا رتا ۓ
مس اس کے مظالم سے ان کی چذائوں س ےک سکس طور ےگھال اور تاد ہوتا رتا ہوں ۔گویا
اس الم نا زی ںکانن و جعمال بجھ پر جو کرت رجڑاے وہ یل ہی سب سے ڑریادہ اورپ ب
باتاہوں۔اں لچ سی نے یروب کےسن نک یکمائ یہنا ےو زرھرن گیل77
کہاٹی سناۓ او رتخعیبلات بناۓ ۔کیوللہ دستقورخلقی بی ےک شی یں کا تدکرو شی کی کے
ماش فربادہی سے بیا نکرن مبخر ہوا سے اور مچی ح بھی سے ۔ممتٹوق کا تج کرہ اس کے بے
عاشنی ہی سکیا جانا چا بیے۔
چہعمراست ای کہ دد شب پا بود ہرس تو اب خونل
ہراجا روڑ از وس مت ٹیاد پایڑ کرو
(اےلووا مر یبھ یکیا زندگی ےکر ران ںکو ہف سبڑٹھی نین دسونا ےھر ہیں نمچ
رن
ہو ےکک تر ےکنھموں کے پاتھوں نال وفریادتیکرتاربتاہوں)-
ایا جار ا ےکہ ہم عاشقو ںکی زندگی بھی جیب ہی ہہوئی ہے۔ یں سونے جا
افنے نے اورکھانے پٹ کا بھی ہو شنیں ہہوتا سارک دنا راقو نکوحوخواب ہولی ہے۔ پر
مخ سی نید سے سے لوا ہے اورد ناو ماڈبہا سے بے ر۷٣ لن امت یی
سونا آرا مکرن اورخواب شی رم سی کے مرےلوٹزا نیس ہے۔ ہماری صورت و او ھی ہولی ہےکہ
جم غام سے تن تک رم ود کے او رات گجرالدفریدارآدوذاریکرتے رچے
یں ہز لے زان رو نے ول تی کے کی ے۔
لغ
بائۓے زندگی حیف است گا شد ویاں
یں باگر باہرچہ اا2 ھت
2-1 200 یف۸۴
بے ناد کے ساتھکرنا بی ای )۔
الہ تبارک وتھالی کا وعدہ ےک ردۓ زین پر (کانحات ایی میس ) جھ پچھگگی
ہے فا ہے '_(۵۵: وسً*8۷ی-/]
ترر تکا تاعرہ قاون س ےکہ جو چکگ پیا ہوا سے اے ا ہوگرر ہنا ہے اور بقا تق صرف اور
پر کی کک وا اکا کی کے ود وق اپکی اصل بش ہے بیاد
ہے۔ دہ پیرا ہونے کے ساد بی نا کی جااب بد گنی ہے۔ ہرفلی کا انام اورمقد رصرف
فا ہی ہونا ہے۔ اس صصورت شل ا ایک امرکی کام سے ےے شاعر نے ایک تی ک کا قرار دیا
حۓےکہ مکی ککام دنا کی ہر بے اد کے سا تحوضرور ہونا چاہیے۔
2
زن گی بے لاف ا ز گن چتدال کہ چاۓ ست
و شماگردی نوز غرمت اساد باھ و
(ا گی الد گی لاف زی ےکام ؤاپ تریف وذ صی ف کاب دق ت یں ے۔
7۸۸
ابی تھ شاک ری بی میس ہے۔ ابھی تو شھہیں اپے استادکی خدص تک ن ےکی ضرورت ہے )۔
ا گی الدین! تیرے بی شر یا تن طرازیاں پجدگھ نہیں ہی' ان پر ےکی طرح
کے یگ مکا شکار ہون ےکی ضردرت یں ہے۔ اپ کلام اورشن پہ جے لاف زٹ یک نا بھی زیب
ٹیس دیتا اور چان لوک کسی طرع کا ڈیگ مارنے کا نہ موق ہے اور نہ مقام ہے۔ بمہ
خاموٹی ایا کی ضروری ہے اوراٹھی صرف می جان ا وکہتم تو ای نما مار ہو اور شاگردی
بی مج ہواوراٹھی ہیں اپنے استادکی ید دم تکر ن ےکی ضرورت ے۔
فزلں و
كِ
بل ناشاد من شاب کہ روڑے ان رن
ونے مشگل کت آں اہر رت کان کرو
(میرے نا شادد لکولنکن ہ ےی روز خٹی ئل ہی جالے یش اس خوش نی می ہویں۔
راس نامبربا نکاجھ پرمہربان ہو جانا شک بات سے )۔
عاشی زار جانا ہ ےکہ می لکن ہے میرا خالقی و مالک مرے مغموم اور نا خیثل ول
پامزادا وی رو کو میا و ٹائی کے اور کو ات ۓیے ہی بی جھےبھی تع روک نلم تے
لغ موٹتن کی بی جاے۔ رسب جو ہوسا سے۔نکن یی صورت می فک نی ںکہ و جم
نن مک اورسدا کا ناعہربان اورظا م اور چا لکا چلا کے دی ہم پمبربان ہوجاۓ یہام محال
ہے اور ہو یٹنیس سکتا۔ دہ فا جو جذ برقم سے مل ارگ ہے۔ اس لیے اس سے نر یا
مبربالی کی امیدرکناعیٹ ے۔ ۱
رف2
7 و سا و و بن و رش ہا
و و گے مر سے ا بے خانماں رد
(اگر بے ناگاہ اور ا اتک غونگی ئل جاے فذ دہ میرے لے انہولی ہوگی۔ دو ت2 امے
ے٦
ہوگی جی ےکی شم ری سکوئی خر جب مسافرآۓ اور بے ناما و جا )-
خاش زارکوکی جافبن سےبھ یکو خٹی مل ےکی ہز تو قح ہی نیس ہوئی' وو سرا
ای ھی سے بغار رتا ہے۔ اس لے دہ جا ہ ےک ہگ یھ کسی جوانے سے الیک کے
کوئی غوٹی با ساط دنٹاط ا ات کم لب جا ذ ا پا یداد اور س راس عارشی اور بے بات تی
وگ ای ا ا کیونک خوشیاں اور سووگیاں نو ہماریقحمت یس ہیں ہیکیل _
بش پا لکوئی ایض مکی کوئی اتک خوٹی ےکی دوشعل مب لی ہوگی۔ با اس خوٹ یکی
شا الس ال انی گی جولنی شور ان ےکا ذوفو رات از ام راولدچائے۔
ر29
ہیں ۴م 0 و یم
چپ مد ہپ روز ا اف 1ناج مر
(اے دنا والو! آرج میں اس بد و نام کے ہاں جھ بلانھیں اوریجنیس دک رپاہوں'
یں دک رکہا جا مکنا ےک تج ب نیس ےکہ بیرف دآخرز مال جیما ادن نہ )۔
تایاجار ا ےکہ می راحیو ب نین پرروز نے سے نے مم ب پاکرتا ہے اود میرئا جان
کوسدا جلاتار ہا ہے ۔آع دہ ایگ اور نے بی خحے کے سا تج ھآیا ہوا ہے۔ ا کا ىہ جوفتنردجالیا
ہے ا سکو دک با نکیا جاسکتا ےک ہآ خ رکا ز مان ہیا سے اود ال ںکا فنگا بھ پا ہو جاے
گ۔ اوردہ جو فآ خر زہاں کے دو لوگو ںکوسراس گرا کر نے والا ہوگا۔ اس می مگمراھی کے
ساتھ تا ھی اور بر بادیبھی ہوگی اور دہ فتنددچال ہوگا۔
ر"
گر پار دل سی آاں خواپر کہ پردارد
نہ جبد پ گب از جاائے چوک معن ناتواں گردد
(یس بی دٹوئی س ےکپ سنا ہو ںکہ گر میرے دل کا بوجھآسمان اٹھانا چا ہت تو دہ اتی
۸
چیہ سے ہ لکبھی زدسکت اورووکھی میری رع نافوال او رکئزور ہو چات)۔
ال کےمش دحبت کا جو میرے دل پہ بوجھ ہے دہ بے عدوصاب ہے۔ اس بد چک
رف ای میں جو اٹھاۓ ہوے ہیں" اگ ہارے دلی کےا بو کو سا یھی اھ ا ےل
ا جد ال کے ل ےکی بہت دز لی اور بھارکی ہوگا۔ وہ اس پوجےل لکواٹی اکر ل ہیں ۓے
گا۔ اور وہ بمارے دلکا پچھارگی لو بچھ اٹھاۓ تو وو کی ادگ دق رب بے جال الال اور
شحف دوہزار ہوگررہ جا ۓگا۔
اش میق رآن مدکی ا ںآیت مہارکہکی جا ب بھی اشظار+موجود ےکرجس مل
ایا گیا ےک ”ہم نے (کاتا کی لافالی سا تیوں اورصدات ںکی) اما تیم آسانوں
زین اور پہاڑوں کے کپ ردکرنا چا ہی اور ین یک شکی ۔ لیکن انہوں نے یہ پاکراں اٹھانے سے
لوٹ یکی اور ڈر گے ۔گگرانسان ( ضیف الہدیان ) نے ال ماخ گرا مام یکا بو جھ اٹھالیا۔
بے پیک دہ بڈا ا لم ہے۔ بڑانادان ہے“ 2۴۰۳۳ )
2
برآں ہویم کہ دی را مرجم ود خاپر ر
ھ 2 کے جام زا١ بلاۓجغ ناگہاں گر
( می ںاھ یکتا سمادو لو اورخل یکا شکار ہوں۔ میبراوہم مان تھا تیرے دہش
سے میرے نی د کی پہترئی کے لیے مرہم بے گا۔ بے ا کی ذرابھی نہیں کہ اس
ےو اڈ ہناگی جان نامگہال میبت می ٹس جا گی )کک
عاشت ناصبور بنا تا ےکا کا خیال تا یوب سے ا کا عشق اور وا لگ ی اس کے
یھ پاعث زیمت بن ےگ اور سے ا لک رو اور چان کے عوارش جا ریں
ور ا پ کے یت سے اس کے کی و کو رھ یآ پا ےکا .خاش زار نے آپےعشقی
کے ھ الے سے اس قد زیادہ امید بی وابس کرک یں لیا نمی طور بر ر اش میں گل
ای ےی این وا یحو بک امش ٹم لازوالل اور درد وکرپ ب نکر ال یکا جان پہ
تی سوا ہوگیا۔ یوں ران کے لیج پائۓ دنن نہ نجائے ماندان اٹائی نے ا ےک خاق اور
رد ےکی تہ وا صورت عالل بن جات گیا ۔
اھ
لغ
اکر جانے ہہا انل میں وی لزئم
ہاں چاثوں شور درم روم روال سی
(اگر یں توکی شراب سررغ کے ملا کوک اور جام شراب نہوں۔ تھے دالگی کے
یں چاہیے نز ای وقت سر شون بن جائے او رمیرئی خولٰی آنگھوں میس سے خون کے
نرہ ژز بیلیں )۔
اس شت ری جاشن لآ زادکی دفا دا پادرا :ا زع تکواجاگ رکا گیا ہے ۔ ا شممرمیں
بوا تو گی ا اگ ا ے اور اشن بر کزم اور وعد ہکرت ےک ہاسے جینفت لی 5
دز اؤزلقر ٹون کی راب گی ہے دی بے ال سے اود دو سر او لگو ںکھی پوت
ا سکیا مست او رکیف سم سے لعل اور چداگازہ ہے اس لی جولو اس ظراب وعد تک
ایک بارچگھ لیے ہیں پھر وہ ہیں کے کی رہ ۔ اس شراب نیکست او رکیف لا دال مس
ماش اس طرٗ اقرارکرتا ےک ہاگر اس سر شرلی جام کے علادہ می لکوئی اور جام فو جاں
کروں نز میری خون برمائی ہنگھموں میں سے خون کے شیک رواں ہو جائیں ربا عاشنّ
صادق اپ بت اورفاداریکالقن اپ ای ایک جذ بای انداذ ٹل دلااے۔
عم می بخور زں پپیشی کز سوداۓ زلف تو
برآرد سے شیرائی و لے جمیاں مرو
(اے مر ےبحپوب اپ ےی الد ی نک یلگ کر نمی ف وہ نکی زلفو ںکی جھلک سے
داواند متا نراوررسوائۓ ہال × چا ۓگا)۔
اے میرے عبیب' جے اپنےگی الدی کلک یٹنیس ہے۔ دہاز تیر کم اود جذبہ
مشق سے نڈھال ہو پکا ہے۔ شایداسں نے ابی تیر ےن د با لک ایک جھل ک بھی یں
دشھی۔ اگرقونے یں س- 07 کے واویاوں اورآہ وڑار یکو تد یگھا و وہ روز بی
ضرد رآ پگ کہ جب تیکی زلفو ںکا ایک جھلک اسے دا وا پیا سے ب ےگا اور یکر
٭ےا
د گی اود یوں دہ د لوان ہو جا ۓگا۔ ددی رت رے لیے موجب رسوایبھی ہوسکتا ہے ۔ اس
کی دواگی ب وت کن ےنوپ نود ال کے داع زوا نکی سے
ا تا خر میں تھے ا کی خر ضرور نی جاہے۔
خزل و
ك٥
وییم کی سد ہرم کہ ایں مم یر ی آو
ریم از پاگھر ونم کہ او شاری کھ
(ہرلحہ مجھے بھی فوی لق ےک مرا یاد دع رآر ہا ہے ہاں دہ ادھرآن سنا کے گر میں
جانا ہو ںکہاا کا ا طر کفآنارظوارے )۔
ےرم اور را وی ین ہ ےکددہ یا می رکا جانب اوھ رآر ہا مُھے فی
گیا نر ہے اور لک اون سے اما تا کہ دن مکی جان بھی یش ؟ ےگا کک
اس نے پیلک ا ئن ںکی ان وھ پا شررایت اود انی فریائے ا کا ئ
طرف میرے یآ ایک دشواراورنشکل امرہے۔ اور اکر پچ ری بے لقن ہو چاتا کہ میرادہ
حھوب جن س کا یہا ںآ نا دشوار چۓے دہ دای ادعرآء ہا ہ نذ میرک خوٹ یک کوئی انا ہی غدرنقی۔
یش خوٹی سے مرمہ جا اکر اختارہوتا۔ لن صورت احوال ىہ ہ ےکمہ بے اس کے نہآنے کا
لن اوراختبارے_
ر2٤
و ا ای و ا ا ا
و ا ا
(اے مدا! لح گر کے لیے بی لیکو رہا کر دے جاکہ دو بھی ہے تکلف ہوک بھی اپنا
ار ای سنا کے کیونک میرا ول سےگالوں دا لانحبوب با گی جا بآر پاے )-
اے میرے پروردگار ٹ شآپ سے ایگ درخوا تکرنا چاتا ہو کہ نو تھوڑیی دب کے
اےا
لیے بھی لکور اکر نی بے ارگ بحیشہ با یش دادیلاکرلٰ رق ہے۔ ووسداشو رووا
کرنے یس مصروف رہق ہے۔ ا ںک بھ کی صریٹس او رآ رز میں ہو ںگی۔ یچ بج نل
مع شکرنا چا ےکی ۔میراحیو ب نیل بہت دی بہ جمالی ہے اس کے پھولوں تی گلا رضسار
ہیں۔ اس کےجسن و جال سے سب متاث ہویں گے دجی میرا عیب اس بار کا جان بآد ہا
ہے۔صوفا نف زنظر سے ئٹبل شور یدہ سے'روح'' بھی مراد لی جال ے۔
ر29
سر کر دی جدا انی و لن بم چناں پاشد
ففاں از سینہ اک از دیردہخوں پازیل آر
(اے میرے پیار ےحہوب! یہ تیرے عاش کی اناۓمشقی کے 22
میرم مرکو می رےتن سے جداکر دیا سے مک نان کے پاوجودمیرے سے مںش سے فریادنگل
ری ہےاورخوٰی گھموں یں سے اک بہہر ہے ہیں )۔
میرےعبیب ٹیل برحعالت یں اود برصصوت ہیں تھہارے بی لیے ہو ۔ یرزگ حیات
ولما تگگ تی رکا سی ہے۔ انس نی مر مے نز دیک ززمکی یاموت رون ہراب ہی سںکیوکہ زی
ملع ہرنے سے بی رک نا ہت او رحیت می کون کیو وا نہیں یں ہیی ۔رادردھرےدل
ا پا جیا ا کے مالک و نے دھ لیا ےکی ارچ نے
میرے سرک می رےجی سے جداچھ کر دیا سے ۔لان اس کے پاوجودمی ری طلب وآرزداورحہت
دچاہت می سکوئ یی دا نہیں ہوئی۔م کے کے باوجودیجی می١رے نے شس شو رد نون"
فریادادرآو واری لد ہوجی ہے۔ اورمیرکی شون برسانے وا ی ہنگکھوں بس سے بدستورخوان
کےآ نس ہد ہے ہیں۔
۵9
0 و و تخواری. بدہ آں آرزو پا گنی
کہ چوں آآں یاد می آبھ اڑیی جم عاری آھ
(اے مرک جان کے الک اع رت اور خواری) کے دن مر آرزو ود کردیا"
۲ےا
کیونل و وکڑ ادن جب گے پادآا ئن نے ھا میسو ولاک نے
اس شع رکونقصوف کے جانے سے با مھا جاسکتا ےکہ جب انسان اپ اصل سے
کرعلم پاش سے زا نکی دیج آییا دیق با یکیف ہے ۔کویااننان اپ کل
سے جداہونے کے بعد مدام اپے اصمل بی سے لی ےکی طلب او رآ رز وکرتا بتا ہے۔ اس لیے
وو جدائی اور سی دی کاوقت با نین خت اورکڑ ادن تھا ۔انمانغ جب اس سے جدا ہونے کے
خت اورشن د نکو با دکرتا ہے فو دہ ایک خدامت اور عارمھسو ںکرتا جے۔ ای لے فریادکی
چاری اڈ لا خمرہت اور ذات دن میل مہرگی آرز وطرور پور یک دیا دای
سے ی عف ازفا کیاکی کنل کو کا
: ۵
رہہ افْاٹ| اکر چاک ہام ہیر ٹور را
یں و یا ان ۶او ۱ سار او
(اگر می اپے سیک ہک ربھی رو دوں ت بر ےحوب کے مسا مسب پگ
ےی ۶ئ وت ان کے لا اور گن جا رت کے جوم میں پرواش تکرر اہول دہ
ببت گی زیادہ یں )۔
اگمر میں اپنے نلم اورتم شعارحھوبپ کے سام اپے سد دک چ کر رکھودوں اور کے
کاڑنےککڑ ےکر جے پیک و ت1 ےب می ےکیٹ پکوئی این وا ا ںکادل
ہرک نہیں بی ےگا ا لکواپنے عاشتی صادقی بر ذدہ برابربھی رکش لآ ۓ گا ۔ بلہ یسنہ جاک
کراوجگ پادہ پا وکرد یا ای کے سام بہت یکم اد سکیل با 2
ےلو اکر میں ۳( صد مات اورمصیاب برداش کرد اہو ںکہردہ اجۓ ولدوز اور الم ناک
ہی ںکرمیراسدن چا کک رن بھی معمز یگل ہوکررہ جا ۓگا-
رلغ
شم بے طات ازگاسے مم مر بر زا
کہ ا فریاد ٌ0
(م ج ب بھی بے طافت او رکردرد نافواں ہو جانا ہوں نو ٹل مراپنا عراۓ زالوں
تر
پر رکودیاہوں گیوککہ می رنے نی او مجر وع د لک فریاد برآبرکاٹوں یش خائی در ہوئی
)ان
بی یس اجوپ کے دروٹوں ہے ال کی بے وفاتوں ےتھک پار چاتا ہو
ذ اس وت می اپنے حم و جان یل ای ککنردریی اور ا طا تی محسؤ کرنا ہوں جو بک جا
کارہاں مل میری اطات اوہ نذانی یس اضافہ ہکرت چگی جای ہیں۔ ا سگنروری
اورنقا ہت کے دوران یں میں اپنا سرفطریی طور پر اپے الو بر رکید یتاہوں نے اس وق ت گی
میرےکاٹوں یس میرے زنھی او رکال د لک صمدائمیں بدستورلہرو کی صورت میں جے
سنائی دق رٹتی ہیں۔ برگھی بدا طلب و1 رزدکی عالت گان
2
ضصاں رل “!ا رانگہدار یڑ روں 0
کیہ گیا گے : با آئی: ہار جیار یآ
(اے مسلمائو! م بھی می الد ین بی کی طرحع اپ دل اور دی ن کی طفاظت اور
داش تکر و کیو کہا جار ہا ہے دہ عیار اود چا لاک ول بچلراس ان بآر پاے )۔
گی لد بن اپنے مسلمان ھا ئیو ںکون کے سے انداز بس اس صصورت عال سے باشچر
کرد ہے می ںکہاے مسلمان لوگوا ہرحال مم لم اپنے وین اور د لک خی رمنا2۔ ا نکی حطاظت
اورگہدراشت پر ارک تقجدو۔ ایا جار ہا ےک مرا جوحو ب تین ہے دہ بڑ اہی ہوٹی ر چالاگ
ظط ہی رکا رکھروفریب اور عمیار یکا کی وہ اہ رے۔دہ ا کوچ مآ ربا ہے۔ ال لیے دہ
تی یی جله بہانے سے ضرو رگراک ہی لیا ہے ۔ ال ںکیف رج بکار یوں اور چا اکیوں سے
ا آسانی پچنا مکل ہوا ہے۔ اس لیے اے لوگواخم سب ہوشیار اور با٘مر ہو جا ال شعرسے
ایک اشارہ خخیف سا ایس اور شیطا نک جاٗب بھی پیا جانا ہ ےکیوکنہ شیطان اپنی طائ لی
سلطنت کے لے ہرحیلہ اورکروفری بآزماتا ہے اور انسماٹو ںکوراہ رات سے بھلکان ےگا
رپ رگوش لکرتا ہے۔ اس شع رکا زیادہ اور ا اب تا بجی ہے۔ اس کاتھل ائٹس ےکھی جم
ےکیونل مر اواا بی مسلمانو ںکوتقاط بک کے پچ ردبین ود کی طفالظت کے نے باج کیا
گے اور پچ ول رعیا ر“ س ےگگا۔ چالاگ اور مکار شیطان جیا ک اع ما نوجچھائی دے ۶
۷
وت می بلپلاں 21
موا 8 ہ اوتاںلں ا
(بیلو ںیمسق کرت تآ گیا نے گویاگکتان م رفص لک ل7گئی ہے )۔
جب پان نعل بہارآلی کے اھ پا کی ای ای وی اور
خوشیال اور پنوں کے سے اد کا ی یب لوٹ ہی ہیں مزا ںکی لی را کے بح موم
ہا رین لو ہوئی ہے۔غزاں می ںگلستان کے اندد ایک طرح کی ادای اور وا ہو
ہے۔ اس وبا یکولنڑ منڈ بے برگ وہار درخت" صرف بپھوئی وی ٹیو ںکی ماخ پودوں
گی ٹنیاں جع رہ جال یں ۔گن ہاں بپچول اود ہرک ہرک یگھائ ول ہے دو نگ ج
جات نے اور ان پر پھر گۓ اور گی لا مانے رک ےبمیگر جر کے ہوۓے
7ت پچھپکیاں اورز لن ا یں 28 مدت کے بعد
جب با یش پھو لآ نے گگتے ہیں نو اس کےساتھ پرند ےکبھی ول درو لآ نے گگتے ہیں ۔
گو یا بہار پرندو ںکیست یکی اد پہندو ںکیستی لک لک از ہولی ے۔
ں
کت او مم نات 7
0 000 009
ریو خداکے عاشقان مرمص تکیگاں ہے۔ یہاں الد والو ںکا مخ ہے۔ ان مہ پہ
خوشیاں منانے والو ںکیآ نیس ہق )۔
دولوک جوالد دانے ہوتے ہیں جو اپےمحبو ب نیقی کےکشق کے مارے ہو تے ہیں۔
وونو دنا لھا سے بے نر ہوتے ہیں دہ اوراس دتیا کی خوشیوں اور شادمانیوں سے بہت دور
۵ .
ہوۓے ہی مج یننیں وذ دنا یس زنک یکی ہیا مو تک تن اکرتے ہیں۔ا نکی نشانی ے
ہولی ےک ووصرف مو تک تناک تے ہیں ۔ ]شی ال دکی راہ ٹس جان دینے کے تئی زتے
ہیں۔ (6:82)۔ اللہ سے پیارکرنے والے ذے اپے اللد کے تو رگ ڑگڑانے وانے ہوتے
ٹیں۔دان می سکوئی بھی دناکی چا ہت اوردٹیاوگی خوشیوں اور شادمانیوں والا نیش ہوتا۔ ان ال
والو ںک جا میس دنیاوالو ںکی ہرگ نکش نہیں ہوئی_
ر29
ایل بی خو ار عضر بای
ام کپ مو وا ا
(اے بل اس پچہ پر امش ہو جا اور حاربی یہی رہ ور ےک نکہ یہرا ذکہال
ےرات ان
اے ۶ئ لیپ تل ہکتاں دہال و انخقیا رکرنا بی رستور ے اورلؤو ایک شوریدہ
سم دہ ہبے۔رے یے امش د ہنا اورصب رکر نا اکر چ ایگ عحال امر ہے ۔ لین تیرے لیے
اب ازم ےک خاش ر ےمان تر بہاں عاضمراورموجودر ہنا ضرورگی ہے۔ اور بگھی سنو
کہ درمیان یل بیاسرار نی راز او بجی دکی با تح سکہاں ےکچ ری ہیں ۔ تو فک دنا ٹش
یح صورتوں میں رو ںکویھی بل ہی کےم ال کچھ جا تا ہے۔
رف۵
ا ا وی ا ا ا
کی اب و ہیں اھ
(اے یل! وڈ صرف رگ دوک عاش ہے دیگوں پمرنی ہے۔ائیا لیے تر
کر صرف پھوگل کے قرموں ہی می ہولی ہے )۔
کے یی و تا شورونونا سب بیکار ہے۔ تیر پیر او رتا تصرف اورصرف
ظاہری ہے و ظا ہرک رنگ روپ پبمرل ہے۔ کے صرفحن و مال سے با۸ کے
چولوں اورگیوں کے گوں پہ جان چچٹری ہے اود ا ٹچی اہر بانقوں کے ہے بی نکر لا اور
٦ےا
نے الا تی رہتی ہے۔ بے رٹک روپ پھول او رکلیاں تھے دکھائی بی ننیں دتتیں۔ عاش
ضا کتا ہےکہاے ٹیل صعرف ظاہر یش م اورن٦ن و چمال اور رنگ راپ اود ا ںکی
خوشبوؤں سے ہی پیارکرتی ہے۔ ای لیے تیرکی ادلی چا ہت ب کی وجہ سے گے بچھول کے
صرف قزموں بی می لی ے۔ ۱
۵
87 ضر میں صظ اش مم
ا ا کو ا
(ہم چوکہ اولد کے رٹک جس رگے ہو ہیں' ای لیے ہمارا عتقام با لامکاں ٹل
کک
بنرے کے لے اللدتھالی کے رگ ٹیل ر گے جانا بہت بک بات اورفضیل تکا مقام
ہوا ہے۔ ائ ین یں ارشاد ار بھی لیوں موجود ہمدائل این سے ول نر مایا جا پا ےکہ
ہہ دہج ہم نے فو الدتھالی (کے پرای تگردہنظام ذ نی ) کا رنگ افقیارکرلیا ے۔ ہم
نے ا قکیعبودییت ( کے رن ککودل و ان سے ) تو لکرلیا ہے۔'' (۱۳۸:۳)۔ بتایا جار پاے
کہم چونہصبفے الد یش ر کے ہو ئے ہیں اس لیے ہمارامقام عالم خرس یل لا کال ہے
جھ سکی اطراف او رہہ ین یں ے۔
لگ
ار ار گل ینا ےم
جا دبھ رچھھ پچھ !وو
(اے بندہ ہاں ! یر گھھ جہاں کے پچول پ ہو ےکن ہعارادیدہ خالقی جہاں
4نا ے)۔
اس شع میس ایک ار بچلر عام عاشی رنگ د بد اور عاش صادقی کے اتیازکبھایا گیا
ےکہ عام عاشن نو دمیادی صن و جمال کا طلپ گار ہوتا ے۔ دہ اہر دارکی پراپٹ چان
چک ےلین اس کے کس عاش مساد بھی ظلیق یں مرتا۔ اس کے ل یلوا ت کا
ےا
تن معن اور متا میں رکتا ۓے ا کی نظ وقات کے جا خالق رہد ہے۔ ا شع ر
میں یم اوردیدہ اور پلرگل جہاں اور غا لت جہاں کے الا تما لکر کے رک مگ ہھا
کیاگیاے۔
ے"
۷))ًأًٌ٭)۶یسی۶۶) ظ2
جاے پاذالدیال دکالں ا
(ا ےکم خرف انسان تو یہاں سے پیل دئۓ تو ایک بے وقعت ے ہے۔ بازارگا
چو ںکا ما م و صرف دکان گی ”تا ے )۔
اس شع میں پوراطب ٹل سے ہے اوراسے تایا جار ک2 اگ باذاری پندہ
ے سدا شور ڈو ناک رن یا تیرا کامم ہے“ تھے صرف رن وم بی جا س ےکیوکہ تیرا شور
دوس روں کے لیے باعثآ زار ہوا ہے اورا پھ کسی شیک وشہرک یکا نہیں ہےکہ بازارگق
کی حیشیت صرف معمولی ہوئی ہے۔ دہ عام اورسمول یبھی ہوتا ہے۔ باارگی لوگو ںکوسدا یر
مت ھا اور جاناجاتا ہے اور بازارئی کا مقام صرف اورصرف دکان ىی ہوکتا ے۔ پاںا
اذادی اشیاء جس ا نکیا بے جا نک دک اود بناؤٹ تھی نیس بازاگ بای ہے۔ ال شر
می''پازاریی' اور زاری''الفاظ سے ایک اضافی خنائی صس ن بھی پد ایاگ اہ ے۔
0
ا اھ وہ []: نے طخ
تاںں آ غلق اوں- ںی 1ر
(اے ٹل ڈرارک چاؤ۔ ترے نالوں یں شجان سے اور نہ ا آفربی۔ مجھے نالہ
کر نے وو ٹیش اط رع نال کرو ں گا کیا ےک نکر سمارا ہاش ف ربا دکنال ہو جات گا)۔
کا وی یس ری والی بل ! ایک می کے لیے اپ الو کورہ لات
انیس چوک رصاپے نے میں رو کے رکھو فو پسداسدا اتی ہی رأقیا ہے۔ اس سے دوسردں پہ
اث ہو یا نہ ہوداو ےکر نا تیراشعار ہے۔اس لیے اب اگ د مبھرکورک جائۓ اور اپنے نالے
یھ
۸ےا
کواپنۓے نے یں تھا ے رک ےت انس فرصت کے وقت میں نالکروں۔ میں رولوں۔ گے لان
ہےکہ ٹیل ا رح سے روف لگا کہا ےک نکر فریادوفقال یں میرے ساتھ پور یکاننات
شریک ہو جا ۓگا۔ اس لیے تیرے نانے اور میری آو وزاری جس زشن وآ سا نک فرتی
ے۔
رق
مو رن ایا جا سی
اھ کن 4 تہاں 1
(رے یل! ہمارے سائے دم نہ مار۔ اپ نالوں کے شورکو بندکرنے۔ ہم تیرے
ال کی میق تکوخوب جات ہیں بیلے محرف ترک زبان جیا سے کل دباے )۔
رے بل شور بدوا ق مدام شورشرابے میں رہق ہے۔ تیرکی داواگی جھے جنلی بنائے
بھی ہے۔ تک پریٹالی اور جرال یج دنہ ہا تی ہے۔اسی لیے دا ٹی ا لے
میس پنےا چی رہتی ہے۔ ا ےل ناصبورہیں تیرکی ا لآ و وزارکی اور الہ وفغا ںکی نی ٹکا
لم ہے۔ تیرے نانے اور کی زاری صرف ترک ذبان نوک ےکی ہے۔ یود لک
رٹ میں ےق رزگ لکرنہی ں 1نی وہ مھت ہی کرای لیے ی بے اث ور ٹپ یھی
ےت
۵
نا2 اتوے گان بردر ووست
شی ي ازیاںل ال آجے
( ہم چوریووست پر الرزارکرتے ہیں ا ےخور سے سنومعلوم ہوگاکہ نال کیل
اوری ےآ چا۔
عاشن صادق انی ایک نما حالت اورکیفیت میں بل سے مواز نے کے سے انداز
مخاطب ہے اود اس پہ دا .کرد ہا ےک ہم جو اپنے عبیب ال کے تضور نا نےکرتے
ہے ہیں۔ دہکوئی بیوں ہی سےتہاری طرح کے وک نہان ےصرف شور پیداکھرنے والے
۹ء
نین میں .میں ا کا اساسس اورادراک بی نیں ہےکہ ہمارے نا نے کس ےا ر ہے
ہیں د٤کہاں ےآ ہے ہیں۔ ان زالہ زار پوں کے پارے میں بی صرف بیضرورمعلوم ہے
کہ بی لامکاں میں سے جم پ نازل ہوکرعیاں ہوتے ہیں۔
راگ
عاشقال در کر 1 یں
٭
اں تن را مان 7
( اشن کے سانے 7 ا بھی نا کانی ہے۔ عاشق کے لیے بہت با
سلطن کی ضرورت ہولی ے ٹین ا بیل ت اہ رتف سکس طرح ےتیراممان بٹا ہوا
پا
لتق وانے اش صادق قییڑس سے جات . یں قرکر نے کے لیے جہا کا
پجرہ اورقید خانہ پالل ناکانی اورک ہے عاشی حق کس یبھی چچھرے میں سایا نہیں
جاسکنا۔ اے بٰبل ناداں جیرے لے ہی جچھوٹا انس پاچ رہ کے تی مکان بنا ہوا ہے۔ و ای
سک بکک قی رر ےگا۔ وا تو نٹ سے مرادانما نکا جسمالی قالب اور بیو کا ججرہ
بھی ہو ے۔ تپ روں اس کے اندرمقیدرتقی ےوہ بے قرار اور بے اب می اتی لے
ئا ےا فا ےرپ وکر لا الم لا زت ت نی اس پیل ون میں جانا ہوتاے
کہ چہاں ونألیق ہو یتھی۔ اس عالم می یحو فا نہیں ہے۔
82
مق ر۳۲ 7 ست روڑزڑے پَ لد
سخ ا یی چاورال 27
(جرائشق تصرف پول کے ساتوصرف چتدروزہ سے تیم رائشق قش جاددان
اے بٰبل! تق نظاہری پھو لکی عاشق ہے۔ تا بچلول ھی کے رک و بد اور جا گی
پہمرنی ے اود گ4رت! عق عارشی سا معدورے چند دفو ل کا ہوتا ہے۔ اود ای لیے ال سمش
۸۰
سے کے جومیس رآ جاے اس سےکبھی فھ خو بآ گاہ ہے۔لمکن اے مفادعاجلہ پمرنے والے
عر یب ترقع روپ اور٣ن و بمال تام ای اور فا ہک یگھاٹ انز جانے والے یں۔
لن اس کے کس ہہارائشق عشتی چاوداں ہے دہ بمیشہاورحدام قائ رتا ہے۔ اس جاودالیٰ
می ص2 لیے موت مقد نہیں ہے اورائں ک ےجا تککگ بے عدوضاب بل چاودال سی
یں۔
ز۵
ائاں :اس گی و رق
ایں رش راو ازکالں آ3
(اے نادان بل !تو نے فو می اور پالیٰ کےگحپرجی نا کر نا سیک لیا ہے۔ یہ فالی اور
دنیادکی زس ہیں۔ ىہ بے وقعت ہیں ۔ چیہ بے دش و صرف ناڑک ماج لک را١ے )۔
اےبکیل! تو بھی ایک جیب خرق ےو راپ شورفل اورثال وثقال ےمان ان
کے باوجودن فی چیزوں سےعشت کر نے دای ہے۔ ای لیے ذ نے پالی ادیٹی لنی فا یگھرہی
کوسب کرای رانا اپ شون بنا رکھا ہے۔ عالائنہ ٹج ےکیا ٘ رک یر سب
''عوالم ناوت نی دنیاوئی اود عالم اجمام ہیں اس را ہکوٹذ صرف پزدل او رکرو رلک ہی
انیارکرتے ہیں ۔ااس کے برغخلاف دہ جو یچ اور عاش تن ہیں ا نکی ڈگاہ اورطلب ہمہ وقت
عا م لاہوت پل ے۔وہ عا لم براسرلامکاں ے اور بے سمت اور اطراف واکزا کا گی
انیل ہوتا۔
۵۵9
7 آ ار ثذدرت 3 دب
ار و حر و ہیا جا
( گی الدین! ہم نے فو قدرت کن کےآ ار اس وفت سے دک ر کے نی کہ جب
موم بہاراد رم مخمزال ایک کے بعد دوس ا آیا ھ)۔
گی لد بین ! الد واللوں کے اود ہی پا نے اور معیار ہدتے ہیں۔ یں اللر تھا لی اپ
۸
ثدرت سے مہب پگ کرکھا تا رتا ہے۔ ا نت کے طالبان کچھ لیے ال کی جاب ےکوی
پدےادر پشدگیاں وگزٹئیں ہونیں ۔ اللہ تبارک وتھالی اپ مق ری نکو جو چاہتا ے دکھا ٢
سناتا اور عطا فرباجا ہے ابیے الد والوں پر اللہ پل شانہ دم فوالہ دعب ہانہ اپ آ ری
علامات اود نشانیاں اور اضور دکھا جا ز تا ہے۔ بلمہ ائل تحعوف نو یہا ں کک باتے ہی ںکہ چچے
اشتوں اویش میں صدق دصغاوالوں نےنصل بہارنی الم لا ہوت اور مم پخمزاں نت عا مر
ناسو تھی کے بعد در ے دک کے ہیں۔
ررلقگ:ر
قطعِ
خدام 7 قلام 7
یر و کیتباد و فنفور
(ہارسول خی ! رسال ت کا تھ رآ پکی وجہ سےمعمور سے الف وک مکا شور پ تھا
الاب نے شور ہی ہر کیا باد او رففور(ا پان اور جن کےتظلی مان )اسب
پ کے نمادموں کے غلام ہیں )۔ :
پارسول ادا وت ورسالل تکا ونیم انال ے جوحطر تآ دم عاٹلا ل ےکر بھی
آفرالز مان مال لشنی آپ خاا کی ذا ت کک پھیلا ہوا ہے۔ ہبوت اور رسمال تا ایک
علیم الا نکپکشاں ہے۔ امش انی اورزسولو کی ایک بہت بی تعدادموجود ے۔ پے
سب می پٹ رج نکی قددارعرف عام یس ایک لاک چوٹی جزارکھی ای انی ے۔ بیقام
اخیاء اوررسول الله تا یٰ 2 اضر اور پیّام رہال ہإں۔ وہ سب سفادرت ا کرۓے ے
ہیں۔ وین تر انال نف پا اس لگ زاین
ھکار انی رب
رہے۔سب انمیاءاوررسول اللہ ٹا کے پپنام کے مطال مھا نام خداوندی کے مطا نی فلا
۸۲۳
بش معاشرہ تا مک رت رہ ےکرجنس میں اوڈ ری یتوس اورالطاف داکرام سے لوک زیادہ ے
زیادو فیچ یاب ہوتے رہیں۔ با نی اللہ ا !الطاف داکرام اور رتتوں اور برکتوں کے بھ
بھی1 ین اورمضشور ہیں وہ سب آپ ام ہی کے ددم قرم سے ہیں کوٹ یکوگی نین کی
الف وگرم اوررتم اورم بای اور بادشا ہت کا بڑے سے ڑا حم اورحکمران الا نیس جو تیرے
ملاکوں کے نادموں میں سے شہہو۔
صلوری ہُو 2 رین سور
(یا ی اشا کاننا تک تمام نو ہمہ وقت یرام صور پک ےک آپ 0 درودو
صلو تی رےگا)۔
درودفاری زہا نکا لفظ سے جو جہارے ہاں ”'صلوت' کے معنوں یل بولا چاتاے۔
لی اروولفت می ا لف سے جوشحمی کے گئے یں دہ وں ہیں: ورود ”نی صلوےٰ رعت
ہیں ابا اسغْْار مم سام“ دیما" تر ں تچ اور وک جروسلام جو مر ما بے کیا
جاۓ وہ دعا جورسول مقبول غیآم مقبو لکا نام تے بی طلب رممت کے لیے بھی جا ی لیے۔
اس تار میں فر مایا ےک یا السلی ال علیہ لم ا سکا نیا کیک لقلوقآ پسلی اللہ
علیہ دآلہ یلم 4 برام صلوت پڑعتقی ر ےگا اور ورود و لام او رین وت ریگ کا عللہ
صور یھو کے جا ےکک ہمہوفقت جاری دہاری رےگا۔ بی درد وسلام اور نم لکی تا می رد
تین پ فک کے اسو؟ حدکل ودک کے درودوسلام اورصلو کی صورت میم
بھی ہوئی نص
مرا ٍِ بقاب وین
مل پچ راہ بھائرہ دور
(یاعجیب اللہ ال ! آپ غفلم کی ماج ف قرب ال یکی انچا نی قا بتوسمی نیک
تھی ہج مل اشن راو می بہت دورد ہگیا)۔
تایاجار ا ےک مرا اناشیت برتضور نمی اکرم طل اور اللہ ارک وتقالیٰ کا ایگ ایا
قرب ہواکرام سے بل وکراو رو قر لکن یں ہوکتا. رن ید یں ا بارے میں
یں ارشادموجود ےک ان کے مان دوکماوں یا اس سےگھ یک فاصلہروگیا۔''(۹:۵۳)۔
”قا ب وین کے بعد بعر اداد“ کالفط بڑھای گیا سے نی دوکمانوں کے ملانے والوں اتل
بھی بہت شد ید ہوتا ےگ رآحضرت مم کاتعلقی ال تی سے اس سےبھ قریب تھا می
انسالی تعاقات جس ق رقرب ثابت اورظاہرکر سیت ہیں ان سےبھی بڑ ےک رآپ ضألڈ کا اپنے
پرذددگار ےئملق ےد ایس فرب لی کے متقاملہ یٹس جج ربیل فلن ا رات بی مل بہت دور
می تے۔
ز29
م عاو کین توف نت ور فان
ا 7 ا ور
(یارسول اللہ ال ایا خی اللہ !لان آپ تل کے فرماخبردار اون ہیں اور
ود ںبھیآپ ظفظ ک یککتربین خدص تگز ار ہیں )۔
رسول اللہ ظا جنت والو نکی غدمت پر امو رفلان مب آپ شاف ےک اور
پک خی سےعم واژن کے ماع ہیں۔ اود ای رح جن 9و مع و گی آوز لو ۶
والمرجا نت مکی تمام وربیں آپ ظا کی ادلی تین نھایت ج یکم ورجہ اور سب س ےکر
خدص تگمزار ہیں سب جوروظا ںآپ طف کی خلائی اور خدصتگمز ارگ ٹس نازاں اوراچۓے
نت نیم پر رکزاں ہو ںگی۔
۸۲۴
لو کا ا وو 06ر
از کک رہاللت ر۲ مفثور .
(یا عجیب الل خ ایا بی اول وآخر خل ! اد تعاٹی نے آپ ضف کی رسمال تکا
مفشورحفرتآرم ملا کینفلیقی ےبھی پیلد دی تھا)۔
ا ھی اللدا آپ ظفل کی نبوت اوررسال تکا مطشورق اتارک وتعالی نے سب سے
پ لبق فرما لیا تھا۔ اس بارے می لکنا اعاد یٹ شریف مج بھی کور ےک ال تی نے
سب سے تح رتو کرای تر رجفر تج اٹل کا ور دیق فا تھا اور دم رتا عالنے
کی ۔گویا آنفضرت مز کا نور ہی باقی تما لیا کی دج یق بنا۔ ا کے علادہ
حضورہ یکر خلا کے اسماۓ عالی می شآپ ظأفڈہ کا ایک نام او لبھی ہے ۔آپ ضف اپنے
ھرصربوت ورسالت می بھی اول ہیں اور بحوا لی بھی اول ہی ہیں-۔
۵
از بہت یرت و موی
دہار خدا ول رح طور
(اے الد کے رسول خاٹل ا بتقیقت ےک رحرت موی ملفڈا آپ ظافلا کی یر تکی
نفیت سے طور پرد یدارندکر کے )۔
حضرت موی نے ال تفاٹی سے د یدارع نکی درخواس تک یت یک دب ار ٰ''یا اللہ
بے اپنا جلدہ دکھا دے۔ اس کے جواب میں ادشاد بای ہوا تھاک۔' لن تزای! تم بے پرگز
نیس دکھ سکنے۔ بتایا جانا ےکہاس کے باوجودخرت موی با نے اصرا کیا ٹل کے نج
یس ایک ای می یک موی وڈ خود بے شس ہوک رگ گے اود ا گی ےکووطورکھی بمل
گیا ۔ ینف مفس رین یو ں بھی جتاتے ہی ںکرحضرت موی پا حضور مہ یکریم خ کی بی تک
وج سے بد یداد نکر کے ت کیوکہ بد یدارق صرف حطرت ھر ال کے نیس توا۔
رن
وی 2 وتور تر کوہینی
اےں ظ اہر و باطیت ہے اوت
(ہارسول اش ظا ! دینوں ہا ں آپ لم کے وجورمسعود سے رشن یں ۔کیوگلہ
آپ ٹفل تق ظا ہرد باعن فور ہیں )۔
ایس میس کسی شک وش کیگناکن موجوریں ےک کون مکی دونوں جہاں ہرد عالم
دی ددنیا س بآپ الا ھی کے وجودمبارک کے جا عث بی سے دن ہیں ۔ جان لدنا چا ہے
کرو رحرف مادکی رئینیس ہو پ گر ولضیرت 2 ون لکی رشن بھی فور ہیکبلائی ہے
ای اخبار سے اللہ حبارک وتعالی نے تضور ٹ یمکریم ما کو”سراجا مضیر بھی فرمایا ہے۔
گے میرم خل ا تو الد تی ےمم نے لوگکو ںکو اد تھال کی راہ ہرای تک جاب دلات
دہے والا سے اور (آفاتی نظام محرفت اہی کا) سراجع مضیر ہے (۴۷:۴۳) بی سب اس
یے ےک اود تھالی نے ہردد اپرید پاطنی فور کے ور پرآپ مال کومجوث ف مایا ہے۔
ہے ا رو افرا .وین
وے و وا و
(یا عجیپ الله ! آپ پل نہہوں اوررسولوں کے سرداد ہیں ۔اوریسرداری؛آپ اک
یکوز پھااے۔اورکی دپپشیدہاولیاۓکرام کے سرو رج یآپ مال جی ہیں )۔
وہ مو نر٥ ہوتا ہے جو اللہ تمارک د تعا کی طرف نے ذدییہ دیگم
وص لکرتا سے اود پچ را یم مکو ووصرے انسانو کک جیا تا ہے اودای رب رسو لکھی الہ
ارک وتقا یکا پا دوسرے انساو لکک اا7 ہے۔ ہررسو لکابیحنص بگگ ہوتا ےکمدہ
پا ,ھی کے مطا تی ایک موا ش ملا بھی تق لکرہا ہے اورٹنض حوالوں سے ہنی رسول ہوتا
ہے اود پررول نی ہوتا ہے۔ بابک بی تخفمیت کے دومطصب ہو ہیں ۔تضور پاک ظا
یوں اورزسولول کے سردار میں ۔ سب اولیاۓےکرا مکہ جو ای ےآ پکومستور رکھتے ہیں ۔آپ
۸٦
ٹیہ ان سب کےسردار عائم اورامیر ہیں ۔ دہ س بآپ أل کی بادشاہت ہیں۔
ل۹۸
لق رز 3 ا پوا بے
شر ہر در اندر زور
(پھو لکوآپ شاف کے پیین مارک سے خوشبو لی سے اورشہدکیاکھ یکوشہدجھی آپ
لب کی بروات یا آپ خلا کے پییمبارک ےت" رآیاے )۔
ھو) اضمانی پینخوشبو دارنیں ہوت بگہ اضمانی پین کی طر کی الاشنول اور ناگوار
پاسو ںکا موم ہوتا ہے نان اس کے بلس جناب رسالت اب خلا کا پیینخیایبت تو
داراورمتعطرتھا۔ ای لی ےکہا گیا ےکہبپھو لکوآپ مزالم کے ہینے سے معطر وم رخوم بوئیں
می رآئی ہیں۔اورای طرح شہدکیکھی اور زنور جس اگ چز ہی ہوت ہے اورا نکا ڈگ زہر
کا ذریعہ بناہے۔ اس کے باوجود اس ذہر لے عشرہ کے حم کے اندر الد تعالی نے شہد
چو اکرن ےکی صلاحی ت گا ری ہے۔ شاع جات ہ ےکی شہ دک یکویھی بی شجدآپ نٹ ہی
کے یپ نکی بروات ملا ے۔
رق
کر کر ہ بہاں گنام گارست
آشیز ہ شفاعت ر۲ متفور
(پ شفیخ امرزنعین! یا شاف ! ال تھالی آپ ظفل کی ضفاعت قول فرماۓ گا۔ اس
چہاں میں پٹ سکنا گار ہے اور یک پش آپ ظا کی سانش سے ہوگی ۔
اکر احادیٹ شریف می آیا ےک گاہگارو ںکی جنشش حضور ب یکریم ظا ہی کی
سفازش سے ہوگا۔ یو بھی آیا ےک قیامت کے دوزصرف ععیی بکبریا مضرت مھ خی
قیام ام مکی سغار لک میں گے ۔آپ خف یکوسغا ر لکرن ےکا اذن اور حاصل ہوگا اور ار
ارک وتعا لی ج وو رتا سے وہ آپ زور 1 شفاع تکوتجول ترما ۓ گا۔ لإں ہزاردں
ااھو ںگنا ہگ رو ںک ہش ہو جا ۓےگیا۔
6 یی ات موہ ا روو ات لات
از راہ 2 پرار موژور
(ئی الد ین نے ما نی اللد! آپ خ اف کی خلائی کا دکوگ یکیا ہے۔ از راہ للطف وکرم
اے تعزور ق رگتا)۔
گی الد ین' ای انکسماریی کے عالم می بتاتے ہی ںکہ یا رسول اللہ !یس نے لاف
ز یکرت ہوۓ لوگوں میں اس ام کاچ چاکردرکھا ےک یش یا نی الل دآپ ظا کا ظلام
ہوں۔ یش نے یقن کہت بی با تکبددیا ہے۔ می ری ا لاف زرل پہ مجھے مزا ضدد ہج گا۔
میریا یگتائٹی کا نے کچھ وٹ منہ سے ایک بڑ گی با تک دگی ےک مم لآپ اف کا
فلام ہوں۔ یا عیب اللہ خلل! میرک ا لگستاٹی پر مرا مواغذہ نہ مین گا۔ جھے جرطر کا
جوا بگلی اوروضاحت سے مع زور ی رکیےگا اور بے مواف فرماد ہچ گا۔
فزلں گا
0غ
سا ا ا و ا ا و
قمم روز عاشتاں اہر گررنی اخثیار
(اگر جات کے اند ریو بکا وصال يہ ہوا تق پھر اے لوگو! جمارے لیے جنت یا دوزنٔ ۱
کیکوئی شی میس ہوگی اور عاشقا نت دوزغ کیمگہراکی در ہنا بپن مک بی کے )۔
ماش کی برفطرت سے اود ہا لک سرشت مس ےک دہ ناصبور ہونا سے .یجس
صؤرتوں میں گجات پیندکھی ہوتاہے۔ تتایا جار ا ےک دہ جنت جس جانے کے باوجودی مرکا
دا نیس قھام ہا بہ اتی اذیت پیندی اورآہ وزاریکی عادت کے با عو ث لم وس سن ےکی خھ
ہو جانے کےسبب بڑگی تی بے تالیا س ےکہدر ہا ےک ہاگ جنت کے ال تین مقام بھی
جوپ کے وصال سے مور پان وہ بچھراپنے کو شقن مک یمگبرائیوں کے سپ ردکرد ےگا اور
۸۸
اےجنم می ر جج ہوم ۓےبھی۔تکلیف نہ ہوگی۔ عاشتی صاد کیب ناصبوری فطرکی جن ال
کے پاوجودان کے لیے الد تھال یکا وعدہ ےک ارڈ تی مومو ںکواپنے لنقاء سے ٹوا ےگا اور
ا نکا لا رب پر ایمان تا ے۔(۳۷۰۳۶)۔(۲۲۹۶۳)
ر2
ا ا و رازدتعان پانمال
و ا و کی لا سد لی زع از
(موٹی ہگھموں والی جورم مان کہ پاکمال صن د مال دالی میں ۔ بے سب دییادالو ںکی
٠ لب آرزوہو ںگی ان ان کین کاائی جمال قی سے مقاب نی سکیا جا کتا)۔
قرآن می ر میں و رگیں“ک 1ک زآیا ےک دہ خوب صورت جوم بل ہو ںگی۔ ا لکا
تج موی ہگموں والی خزال چم حور ری بھ یک یاگیا ہے۔ ان شی حوروں کے سن و بمال
میں قرآن مجید ہی می تاپ گیا ےک نیش اولتھالی نے ایک ام ط رای ےی نکیا ہے دہ
کنواری ہو گی ہشیش اور ہم عم بھی ہو ںگی ۔''ان میس تقاصرات الطرف حوربیں (باحا"
فو :)ہو ںکی جن ہی ں ٹل ازس نکی انان نگ سکیا ہوگا نہ شن نے“ دوحود ی ںگویادہ
اقوت (سرغ) اور مرجان(سفید) کی طرح خوب صورت ہو ںگ۔'' (۵۹۷:۵۵۔۵۸)۔
اس ق رن وجمال والی حور یں اولدشل شانہکی تی جال کے مقا بل می سکوگی حییت بیکیں
یں یحو بک کا جال نسح سب سے بڑکراورسب سے فاکتی ترے۔
ر۵9
عاہراں نظارہ خڑزاں رون جو رکشت
و اغتاںن صد را در اج ار
(عابرلوک جن کی حورو ںکا نار ہکرنا فرام کروی کے۔ اگ ریحیو ب نیقی اپ
عاشقان صت سے وو باذک کے کیرحت افا ای ر تھے کات
۸۹
محبو بئیقی کے لا کے بارے شس صرف مک راوگ بی اما نہیں رکھتے لین مومطوں
کو یلین ہ ےک آئیں ضروراپنے رب کے ہاں جانا ہے ۔ لان والہفر مان ای لی ال
یمان اپے رب سے لے والے ہیں (ان کے مین عم دعرفان سے رشن ہیں )۔'(۲۹:۱)
گر وولویک جننت یں رتچ ہو ۓکھی لقاء کے انزظار شش اس فنر وارفتۃ اور ناو رکیفیت
مس ریچ ہی کہ امھ سکب لقاۓ رل ببونا ہے۔ اس لقاۓ ر لی کا انار دک ھکر عابدان
پاکباز جن کی حودو ں کا ا ظا رکر ا تچھوڑ دی گے۔
ر"
عام الا خال دردہ اے خما مر طور
انز و ات وے ےہ پاش ۓ صرا و نۓ کات
(اے مدا! یں شراب طپور کے مالا مال جام عطا کر د ینا اور مین تیرے وعرے
کے مطاان ہے ۔کیونکہاس کے ائدر نددہواگی ہے ند دردسراورٹ مار ہی موجود ہے )۔
قرآن ید بس جنت کے سیون بش مشروپا ت کا پور ذکر موجود ہ ےکہ اللہ تمالٰٰ
اپنے مبول بنرگان ای بیو ںبھی مب بانی رما ماک اورآئیس اختراف غدمت کے لہ
یں پروردگار”'ش راپ لپ رامش پاک شراب پلا ےگا (ے ٢۱: )۔ اس شراب کے پارے
می لوں ارشاد ہارگ آیا نے لن مس میں یر لقویے سے ش گناہ کا ام ( تنا زگ اکا س)“
(۴۳:۵۴) اود بد یو ں بھی ارشاد بای ہےکہ ائل جنت اور بن گان ال یکو بارس آپ
خورے اورلہااپ جام نی 0 کا سے نہ یں دددس رہوگا اوريہ(نمارے
پاعٹ )مل می فور لاح ہوگاں' (۱۸:۵۷۔۱۹)۔ م ون لوک اپ نے حروب جن سے الد کے
وعرے کے مطا ای شراب پور کے وجی لہااب جامطل بکرتے ہیں )۔
۵
و و
بگزر گل اۓے رثا نگ در وے صد ہڑاز
(اگ رینم یوب یق کیچ کی ایک اہ ک بھی پدکنی قشم ج بھی را رگ برادوں
۹۰
پھو لگھل جانمیں گے۔ وو جن مکھی جنت سے ؟ہترہوجاتۓےگا)۔
جم جو ایک بہت ہدک اود نار او نشی والی آٗ ا گکی کیہ ہے ۔ اگ رم راید تق ین
کی طرف ایک نظ بھ یکر کے یا مر ےحوب کے ن و جما کی ایک ادلی بھی ہگ اہ
پنگئی یں نس ذ وگ او کا سنزر دوزرغ ھ یگل وگزاز بن جات ےگا ال نک عذت'
شمرت او رآ ککی پیل او رب کت ہو ےش تن راروں رنگ رنکگ کے پەولوں شی پرل
جائی گی۔ وی جلانے اوراذ یت پیا نے والا پیم راحتپنٹ کل وگزار بن جا ۓےگا۔
لی
روۓ زرر غاختاں مگیں اق او وزج
ے زرل بہشت و خانماۓ زرثار
(اےلوگو! اس میق تکوجان لوکہ روز حثر ماشتوں 2 چجر ےکا زردی ہی ے
نی کے لی زی لے انال لوزن ین بنایا جاۓگا)۔
جنت ٹل حلات او رز نے سے کے بے ہے ہیں ھےے ا ای ع رز جلتی
لوگوں کے لیے براۓےمشست جوسونے کے ہر میں تحت ہوں گے ان س بکوعا شنقان حقہ کے
چو ںکی زردیی اود رر دالم اور جج وفر ات یکی پیلاہٹ نا ےآ راست و پیراس گیا جا ےگا۔
اان س بکی زیب وز یش اور پچ دہ بنا ےکی اط راو رگونا ںگوں سن ری بگوں سے آنئیں
عی مرن ےکی اط بھی رو ۓے عخا کی زردی بی کا مآ ۓگی۔ ا شع رم عخاق لگ
چروںکی ژزردی" عم ردگی اور پیلاج فکوکہ ضے دولوگ اپنے ججردفرای کے وور مین معٹوقی
کے جورو جھا کے اکر براورآو وزار یکر ےکماتے ہیں ا سکو بہت اہم متام اورمرج چنشا گیا
ے۔
0
2
سان طولیٰ و جلئ یش کو را بچاست
آں علاوت پا کہ پاشر در وصال کرنگار
( طول سے سایوں می جنت اورحو کو میش دو شی ربٹی اودمٹھاس ہرگ زی سے جھ
1
۱ ال پروردگار کے دیراراورلقا یں موچودے م
طول چڑ یکا ایک دہمشیم الان ورشت سے ہس کا تل نبایت شی ری اور بیٹھاہوتا
ہے۔ ای رع جن کی فا میں اور ہوانی ںبھی راحت وآرام می ںپھی علاوت اور ٹھال اور
چھرسب سے بے ےکر وت لکوثر تو اپی مھا شی بی ذا کے اورلیزت او کین بن مشروب
اورمصفاومب شرب تکی وجہ سے سب پ فاکئی ہے۔ ان سب ہماۓ جن کی شی بی علاوت
اویٹھاس لتقاۓ ری اور دیدار لی کے مقا بے میس پچ اورک ہو ں گی ۔ اس شع میں لفظ
” وصا لے ماد وعرت ٹل تا ہونا کےکھی ہہوئے ہیں گیا ےچ عاشتقوں چے لیے انی
اللہ ہوا بھی ایک علاوت او رون وراد نی درچ اورمقام ے۔
انرروں خلوت کہ 2 رہ ابا ززن
ہیں وو او غاری ایت بای ای ار
(آپ ملفلم کی خلویت میں جہاں جبرائیل این پاپڈا کوجھی جانے کا یارا کیل تا
وہاں حضرت سلمان فاری ڈلافواورحضرت بلا لی ڈلاٹو صھش یکوشرف با یالی حاصل ہوتا ہے۔
بیآپ ال کی خلائیکا انان ے)۔
حظرت بلال ڈاٹٹوموزن رسالت ہو نے کے سماتھ ساط مصاحب عبی بکجریا
ِا بھی تے۔آپ یم اور دوصرے لو گآ پکی ادائی کرات اا نک بہت پندٹرانے
تھے۔ بلال بٹوزکیا رلڑنی عبشہ کےمیشٹی تھے ای طرح امرانی نل ضرت سلمان فاری
ٹلزر اعت کل عبادت' صداقتاماخت' عدرالت اور دنر اوصاف حسثہ میں حضور بی
اکریم سے در اورٹی باب اف تھے۔ بلال اورسامان ری از تھا تن مکی آحضرت خلل
سے تکوئی ظہت تھی اور نہ رشتہ دارگ ا کے باوجودآپ ظظ گی مصاحت مل وہ بلنرمقام
کے عائل تے۔ لان ان کے مقا بے میں حضرت چب یل این خی جو الہ تھا لی کی دتی کے
امانقرار اود رسو لکرئم ظفل بر وتی ما یکر تے تھ انی بھی بارگا و نوک فم مم سآ ن ےکی ایک
مارتی یلان حفرت بلال ٹفواورسلمان فاری ڑٹافاری سدا شرف بار یی سے ٹیل باب
راج ےج
ار
رق
2 ےت اۓ جنت می شود پوردہ 6
ہاں یا ہش از بان پروردگار
(جزی فک نمتوں سےئن بدن پرورش پا تاے اس سے مس مکوآسودگی تی ہے ان
پردردگار کے دیدار سے جا نکو پرداشت و پرورش “رآ ے )۔
ال شریس بتایا بی جار ہا ہے اس دیاش عام اور اکڈرلوگ جوعپارت ال یکر تے ہیں
دہ اول قے طلب دتیا کی بہوں بی می سگرفمار رے ہیں۔ پیل پچ لوک ایی ےکبھی ہوتے ہیں جو
دوخ ےضجات کے طل گا راور جنتں کے تصمول کے امیدردار ہو تے ہیں ۔گویا ان لوگو ںکی
بیسارگ طلب وآرزہجمالٰ وش ہی ]ارت مل کان و ۓ وروں ے
جس کےسبب سےجسمالی زندک بھی ہے دوفو دنیاا لت میس یاان دوٹوں کےکھی حول سے
پہ وش نس الٰ۔ روب گی پر دش صرف اورسرف دپرار پروروگار ہی ے نا اور پاش
حاص٥ لکرکی اود ائ ںکولاۓ رب ای سے ازتقاءاورسکون میس رآ ا ہے۔
م۹۵
کی ماف رما دہ میں تما ا
خلق میں راز تس دہ ور غبار
(اے اللہ بے کی ٹوآزش ہہوگ یک اگر ے ہیں نماک تر سے اٹھا کر اپنا صن و جال
دکھا نا چا ےگا ملین لق تیر بسن و با لکو دوک انی ہمگھو ںکوگردوغبا کہ ل ےکی )۔
اے مر ےحثوب میرے غالقی وما یک اجب فو یں رو جن رقجروں بیس سے اھکر
اپنے و عرے کے مطا بی اپنا سن د ہمال دکھانا چا ےگا ایک برت بڑا ہنکام نی کام ہوگا۔
ہرایک کے اس اورظھر فک با تین ہ ےک دو ون ف کو دی کی جاب لا گے جو چچ اور
وارفے صادقی بوتے ہیں وو اپنےمحہوب اورحبی بکو دک ےک رگ رپ دزارگی او رآو و پکاگھرتۓ
ٹیں۔ا نکادل پاب نک رآکھوں ے روال ہو چاتا ہے۔اس لیے اس روز قیامت ش لآپ
کےسن و وا کی بھنک تام ین ا جز اود ناقذن د بے پچارکی خلقت رو روک اورگر یزار
۳ؤ"
کک کےاپے ذوقی دید می اپ ی مو ںکوگر دو بارکہ ل ےگا۔
٤0
ور دہرار ای 7 روز 1 ۷
بی کر ور مم ' ای زا" خلاان ہمہ دار
(اےورےلا پت میرےدل چان کان پدررگار! م7 صرف اور مہف
تیرےلقا کے طل ب گار ہیں ۔ اگ رق یی وع ءکر نےکر جن مک یمگبرائی میس اپنادیدا کرات ےگا تو
تما مقلوق دوز غ کی سمارئی آ گکواپٹیآمگھوں میں مسر کی طرع سے لگا ےگا ک۔
اےاللد! تو ان یلو ق کا ال و ماتک ہے۔ا کا تیرے ساتھ بہرشتف ضرور ےک
نے ا ےتلی کیا ہے۔ اود بر تیر بھی وعدہ ےک فو اپنی ا توق یکو اپنا لقا اور دیدا تی
کرا ۓگا۔ اس جو یکابھی امان اوراقان ہے۔ ال دعدرے پراگرمیرے الد باشارہ
کرد ےک ہق دوزغ اود نا جن مکی اقھا گب رائی میس اپنا دیدارکرات ےگا ق تیرے چچ بندوں
کے نل بے بہت بی معادٹھہر ےگ یکہ دہ دوخ کی حمارکی جلقی' ری ادرشعلہ ہا رآگ
کویھی اتی نمو ںکا ارک اورمقدیس مرمہ بن اکر لگا رے۔
رك
یی از رتا اذت از عزرعل
داہن عرداں 9 نی ٣ زظ رپس
(ا ےی اللد بین فو اکر اللہ کے دیدار رعمت کا طلب گار ہے تو اس کے لیے برو
احتقام تک طرورت ہے۔ تھے اہ ےک عردا نعض کا دااکن تھام نے اود قیامم کک مہرم
کرتارے )۔
اےگی الد بین !د رارق اورنتاۓ ر یکوئی معممولی اود یوں ھی سا کا مکی ہے ہے
ہرعاش زارکاضن نیس کے اس می الد تارک و تھا کی اپٹی مت اورارادہ ے۔ دیدار
رہم تک طلب دآرزد بہت بلڑگی بات اور چا ہت بدوش خواپشل ہے تو کی دنیا یل مردنہ
نے عورت ہوتا اور نخنث بلمہ دہ مردنقن بونا ہے۔ مم دی می مردکائل بنا ہے ۔مرد جوم ہوتا
"۳
سے ببادری' جرآت' شباععت امتتقامت صبر ایر اورقر 7 کا۔ اس مر پرآدمیت اورانمافیت
0ت ہے۔ائں لیے ا ےگ الد بن پے اکر دیداررحم تکی طلب وو میس سے وچ ر کسی
”مر“ جننکواپنا مرشمد بنانے اور اس کے ساد سام تام ت کک گبراور انار ےکام
بے
غزیل من
٤0
زفحتث بعد ان گے مان ال : واری: ور
او ظراقک رضوالر کی اک ضوز
(بچھے می راو بکپتا ےک اگ رجھ یں عبرر ہے نے بل رذ میرک جدائی یس رونا عون بنرکر
دےاورصور بچھو کل ےتک صبرےکام ےکی لہ اتی صرکر نے والوں کے منا تج کی
می رامحھوب یجھے میرکی بے قرارکی' ججر وفراقی اور جدائی کے بد لے ین اودہ یم کے
فلپنے میں ا می ہس ےت اکا مت فی زی
بادآ زم رکھا ہے۔ اس کے پاوجوددہ چھے یملق نک رہ ےک ہار مہرے ان دعب اورتل و
برداش ت کا مادہ موچجود ہے فو بیس مر بدصب رےکام لت رہوں۔ اور پھر و وص بھی ضصور پھ و کے
کے د کک اتمظارکرتا رہوں-
لت کر
اخرا کا ہی عو کور وا کر
از گر اے ہاب عاشقال پاشد ور
(ہم یس فل می لوق اہن اق و مقام ہھگا۔ دہال پہ
اشنتوں کےبجکرجلیں کے اوران سے فظا می ںکپمی گی )۔
ا نکیا جاتا سے وو سکرس می لو قکو برموٹع نل ےگاکہدہ اپ خالقی و نالگ
ال کا دیدارکرے۔ وہ بہت ہلوگ یگجاس ہوگی۔ جس طرح دیاوی مال وا سکوعردولوہا کا
اط
کی اگروں سے خوشبو بارادرعطر بیز بناا جاتا ہے ا کنل نا خاشتتوں کےکباب
شمد ہر (دل اود جاع ) عودووہا نکی انریلیں ے اوران کے یی ای کان مخز
مر ہوگی۔ عاقی کے سوختد ول و جان بج لکرانمحفلو ںکی فضاؤول اور ہوا کور پیٹر
کزیں گے۔ ریگ یگویاا ای وت داد ہیی دای ی میں ہوں گے۔
ر29
7 از راب ۶ضا ار جازر؟ مم
چیں گہوئی ت م نم یامرز اے خور
(اےھرے بترے! جھ تھے خواب خوش نے پیدادگرتا ے دہ میں بی ہوں' ور
مو تکی خیلد سور ہوتا ہے ۔ راس وقت ہوتا ہے جب ذ اپ ےگنا ہو ںکیہنشش کے لے جے
ر بنفو رک کر پکارتاے )۔
بندہ چپ اب گناہوں کے اضااسں سے اویل ہو جاتا یریب مب ہوکرراہ
راست پرآنا چا سذ ا کا غور و ریم رب ان کا مددک/تا ہے۔ این کول تال فلت
ادرگراد شی چو رہ ہے۔ اس بیدارئی کے بعدجس وقت ون یگناہگار بئرہ
اپےگناہوں پ ناد ہوک کہ کے اپ مکردہ رہپ دباہ گان ہو چا تاپ بھی ال
مو پاٹ خفار ھی اسے اپنے دانع رجمت او رخف ن مس نے لت ے۔
ر"
نواعت و ۶ و راہ لطف ودوسٹ
خی مو ابابند و خابہت راد ۴ا ۶ إلنور
(اے الد کے کیک بند ے! قب رق ای کگبوارہ سے اور بپچہ ہے اور طف دوست تیر
دایہ ے۔ااس لیم خڑھی کے مروں میں سوتے راس نے جھے پیم نشرک کگہرکی نین سلادیا
ے)۔
اتارک وتاٹی اپنے اص بنروں سےفرماتے ہی ںکمر نے کے بعد قب میس گے
جو ہنا ا ںقبرکوا ب تم ای ک جوا اگہوا نمو رکرو اورا سکپوارے می تہارک حیثیت
٦
خواد ےکی ہے۔ لی نہیں ا سک یکوئیگکننیس ہولی چا بے کہ اللہ تھالی خود بے ایک داے
کی مر اپٹی ناد اورجحخظ یش لے ہوئے ہے۔ اس سے بڑ ہکرت ارک خو لپلتی اورکیا ہ وحن
سے یہاں پر الل لے ہیں خوداک ون دار ا سےگھی بڑ کر اپٹ یگہداشت میس لے رکھا
ہے۔اں ےر یم الو رلشنی قیامت کک خوگی سے مرے لےکرسوتے رہواورقیامت
کے روز بر بد الطاف واکرا مک اننظارکرتے رہو۔
رٹ2
ور اہاں ررر دل و رل بارگاہ لور یی
یں !ا گردہر در : ہیل ور الور ور
(اے کیک دل انمان ۔ ری تقیقت جان لن ےک ج بتمہارے ول می فو رایمان ہوگا اورتہارا
دل ہارگاو فور بے گان رد وکنا اچاچ راغ ہوگا جو اس نو راع فو رفضاؤوں بیس چچکےگا)۔
اس شمعر یں اللہ تبارک ونتھاٹی کے نماض بندوں کے مراتب اور مناص بک جابٹن
اشارہکیاگیا ےک الد تعالیٰ چپ ا بتدے ےد نکزنو رن لن ہے ملرد با ےل
راس وقت ودی پورالی دل اللدکی اتی باگا ون بن جا تا ہے۔ اس صورت عال می جوفورالی
راغ رشن ہوا ہے ال ک کیفیت وبا نوع نو رک یی ہہولی ہے۔اس می صرف ورقری
بی چکتنا ہے بی دلو رق ہوتا ہے ج سکا فی حا لکوت اور عالم تجرو بکو پا ے۔
َ ۹
الے گپاراں خارا بلک آمزد خا
بر ا تن کش:. و خیای: و نوز
( ان ےگنپکاروا یتین تمہا راخ دا ماف ف اون ےگا پیٹ کے لی ات ےتمہارے
اہری لاس سےکوئی سردکارننیں ہوگا۔ خواوتم ن کشم باب با مو کی ومن این ری
×ی)۔
عاصوں او رگناہوں میں ڈو بے ہوۓے ازماو کو ای رخورو رم اورغفار وحتارکی
رقتوں اورخفرالی دسجل کا اساس دلایا جادہا ےک ا ےمناہگادو ! تہارے لے فو ید
0
فداوندی ےک رتمارارجم وکر یم خالق و مال کشیمیں ضرورینش دےگا۔ دو تہار ےگا ہو کو
رف محاف فر ماد ےگا پگ ا نکو برستور چا ۓےبھی رک ےگا لیکن ا کے شر ماصصرف می
ےکیتم الد اواب کے سام اعترا فگنا ہکر کے فو برک را ہکیوہ ان کا دان رحمت وخفران
بڑا ہی دی ے۔ اس تمہار گناہ مواف فرماتے ہوۓے اس س ےکوی سردکا ری ہوگا تم
کیش کےنزم الو ںکالاس پیٹ تھ پاسوررشم یا لام لچم زی بت کرتے تجے۔ وو سب کو
ال مان
2
طاؤی ا و ای تل وی
ٰ۷ سرت رخار جور
( مرا چرہ وہ فور ال ی کی محرفت رکتا ہے۔ جنت میں قیامت کے روز اس لیے
تیرے چرس کی زردگی سے جو کے رخسار کے نے سرفی بذائی جات ےگا
تا جار ےکہانشئل جلالہ کے چے عاشقوں کے چہرے زرڈپٹردہ اور پیل ہوتے
ازیو نے اس بےنھائی وق نان ھا ا سیف اذ ون
نی ال کے ٹور سے خائص محرفت ہہولی ہے۔ اس سن لا زوا کی اثرواشیر عاشق ںکوسرا
سوخ ول اورزر ٣ن لاژوا لک اڑوت سان و رق اق ید
اس لے اللے صادق عاشقوں سے بایا جار ہا ےک ہمادرے پچچرد یکا ىہ زددگی چوک الل کے
ور سے متعارف ہے ال لیے اس زددٹ یکو جن کی حورول کے رخمارو کی مرٹی کے طود پہ
ز مخت د ےگ مایا جا ۓےگا۔
رگ
ہو تینک خالع سے ر3 ارت ا
ا و و رجہ ہیں مشاطد گردہ ظرور
(سیین اورموٹی ہھوں والی حور نے رت بلای ٹک سیاہ رگ سے چرے پہ
نل بنایا ہے دیھوسہ یکیشش ےکی ای اور باہش رمشا کا جو ہواہے )۔
۸
حفرت بلال ڈٹٹی کمٹی خلام تھےما نکش رسول اللہ ول کی بدولت انہوں نے
رہ پا اک کچل القدرمحاپ رب بھی ایل سید اک ۔کر پکارتے تھے ۔آپ سروک کے
موڈن نمائ ےا نکی شا نکوفضیلت بش ہوۓ شاعر نے ان کے سیاہ فام ہوٹ کو اس
لیے فبایت ام اوروبخ وممچ ریا ےکہ جن تک موئی او رین ہگھوں والی حورو نکو ءا
ین یی ینان ےکی نما راودا نکی رعنائ کو ار چان لگانے کے لے ان کے رضاروں پ4
جوسیاءل بجایاگیا ے دوجضرت بلال ٹکٹ ی کی سیاہ رگگت سے لیا میا ہے۔ اس انقار سے
ذراغ ذوقی مشا کی مشاگی ملاحظہہ کہ دو سن حورکو دو ال کر ن ےکی خاط کیا کیانظیم
سنگھدار مادے استعا لکرردی ے۔
رق
در 0 الں مرا ام گے خواپر دی
کے برک ن مار خود کرو و روڑتضور
( ہی کے وقت یندا آئ یکرمیرادیدارتۃ صرف وونٹف کرسکنا ےکرجنس نے مر
ماط راگ رکی مت سےتضمور یکا دن بنالیاے )۔
جب اللدتعال کی گی کے وق ت نی انوار ولوں پرمکشف ہو ئے ق اس وقت جنا بت
سے یندا بھی سال د کہ اے لوا مہرے دیدارکا صرف ود یش دار ہ ےکہ جو یرگ
حیبت میں اپٹی سیا راقا نکر کر اورگر ہی وزارگی شی لگز ارتا ہے۔ ای کے لیے ہارالقا سے جھ
راقوں کے براخوں میں اپنے خون مک رکو جلاجا اود یں وہ د نک وبھی حضورکی تن کا ون
نالتا ہے۔آ “اہی ال کےحضور میں بے عدمتبول ہولی ہے۔ اس یےکہتر کو ذات
اک تھالی بعد پنداورمتبول فربالی ے۔
۹
ہیں ہیں آلی ز وی ما ائم 7ا
گویم ےک خی چوں کوٹ ز یں راہ رور
جب تم دنا کی طلب و چاہت ےئگ لآ2 گےقو چم ہار ٹیڈواین چان ںگا۔ ال
۹
وت تہہیں غو لآ بدکہو اقم گی الدبن بہت لس سفرکر ےکس ے اس مہ یچ ھ)۔
دنیا کی محبت اورطلب شی بڑئ کش ہے۔ پیانمان فالی کے مات ایک ین سارہ
کی طرئح پھٹی ہوئی ہے۔ اس يۓیۓ نرک دیا اوراٹل وعیال سے و علق ہوناکوئی معمولیکام
نہیں ے۔ مویشوں کے لے دنا دآخرت ڈول نکی خوشگواریاں یں )۱:٢( لن جب
دنیادگی مفاداور مناداخروک یکا مقاللہ ہوٹڑ ال دقت دنیادى مفاد ي٤ × جاتۓے یں اوروہ 7
اوزادگی دکھاگی دتے ہیں اودال می ںبھ کسی یف وش رک تناک نہیں ےکم تا ریا
تل ہے اورائ لتق کی کے لیے نز بہت امچیقتآخرت ہے( :عے )اس لیے ہیکہا
گی یا ےک جبنم ادا کیطلب یا اح گا نآ و و2 پچ رک تکائی رجنمائی اور مڑوائی
حاصل ہولی ہے اور ای وت پکارا جانا ےک ہا ےگی الد بن !تم بہت لویل سفرکر کے بیہاں
کک بے ہداس لیےتہارال امتتبا لکیاجانا چا یے۔
یو ریو در وت ما ران مان
۲ مر غخَف وار پاشد عاختال را چار یا۸
(عشق بدا ددد اور سی چاروں میرے یارغار ہیں و 5ا ا
اورنظرت مر ال کی ط رح ماش شنتوں کےبھی پپاز ارت ہونے چائل )۔
با جا ا ےکرجس طرع جناب رسالت اب حفرت خلا کے چا ار چار
ایت بی مت دوست اور فی ۔ نفرت ا وبکرصد إی' حطر عم رفا وق حضرت عثا نگ
او رص تل یمک ریم ری ال تال ینم تے۔ ای رع ولا بی ت ہش میں عاشقوں ک بھی ار یار
ہوتے ہین ۔تضور ن یکریم مل کے مہ چاروں یار اچل صا ہکرام تھے۔ چاروں ہی کے بے
اورصادقی دوست تے۔ اگز چصرف جناب الوکرصد لی ٹل کی دہ ار غار تھےکہ جو جزت
کےش روغ میں ین دن کک حطرت نھ یکرمم رسول اکرم ضف کے ساجھ ار بی رب تے۔
لین وی معالی مج حضور پاک ظافلا کے چپاروں پارکو ار ری کا قب دا جانا ہے۔ بہر
٢٢
صورت جس طرع رسول اللہ خلا کے ار یار زا تے۔ائی طرح میدا نشی میش عاشتوں
کے چاریارشق' برنائیٴ دیرارڈز ہونے ے ائین۔ با یچاروں یاراحل ٹ ےس اتی اورراڑدار
اٹم مارہوتے یں۔
٤2
رو سے ار اروا جار می مود ي
ناکد زلبارے 93: رسدلن شی اۓے+چار
(2 اپنے یاریآرذورکتا و ا سکی طلب میں ہے۔ اود یا ری ںکہتا ےآ کہسیاہ
راتوں یل تری دلدار یگرول )۔
ق بھی سب لوگو ںکی رع با ری طلب دآرذد رکتا ہے۔ تیر تھی دل چابتا ےکہ
وصالی یا ہو اور ہج وفرا کی سا را تیشم ہوں ۔ یی اس خوائشل اور رزہ پ پارتھ ےگتا.
ہ ےک ہآ کہ یش تار دلداری کے لیے تیار ہوں ۔ لان اصسل عقیقت نے بھی ےک چے,
عاشقو ںکووصا لکی نیس برام جج وفراقی بیکی طلب وآ رزو ہولی کیم وق
اتی می ہہوتے ہیں ا نک طلپ اورش جو جوان او ہھال ران ہے۔ وصال ق ان کے لے
وت کا پام ہونا ہے۔ لی بھی ہے عاشقو ںکواپنی تا رکیک راس سان ےک ینمی ںآ وک رگاہی
سے راقو ںکوو پل ت کر نے بی میس زن گی اور زندہ رہ ےکی تذانائی تی ہے۔
رف2
ھت می کی او ات یی و
ہیں ا روزے نظر را شصت وے صر برغ
(تم آڑھی رات کے وقت صرف ایک ہار اپی فخم ت سے اپنے دا سے درخواس تکر
کہ جھ پرننظ رہو. پھرقم فریادنیم شی ےکر مے دیموازتم یھو گےک اتال ی رات ون
می ان سوسا ٹھ با ہیں محب تک لاہ سے د بت ہے )۔
تو فک دنیا یس دن رات کےآنٹھ پر ںکوخن سوساھٹائیوں پالنقوں می تیم
کیا جانا ہے (اورسمال کےبھی ین سوساٹھ دن بی ار ہوتے ہیں ) اوراس اعقبار سے جے
1ھ
اشن ایک اہ با ایک لندکھی ا یحبو ب تی کی یاد سے خاُ نجیر ہنا جات ۔ اس جوالے
ہی ے بایا جادہا ےک اے ووست ار راو ںکوگر یہ زار یکرنے الا ہے۔ ا روۓےۓے
بہونے اورگ گڑانے سے شد ریم کے سا توری بی بھی اورہککھیں غم رنقی ہیں تو اس
کیفیت میں اگرفذ ایک باربھی اپے عیب اورحروب حقال یکو پکار ےو اس کے جواب میں دہ
اہن بنرے پر وی گھفٹوں میں ین ہوسا مھ مرح عبت اورشخق تکیناروں سے د تا ہے
اور بنرے سے ددیاف تکرتا ےک تا کیا گھ ے چاہتا ہے۔
ر
پا موی پا ای پاش پا ام ات مم
از یں یارے فرامول دہ 2 یاد دار
(میرے بار کہا تم جہاں بھی ہو تیرے ساتھھ یش ہوں' اور تھے بس یادنگی
کرتاہول اور اے دوست وذ نے اپنے اپے یا ھا رکھا ہے“ کیا بے ان جا تک خمر ہے )
اچ بنرے سے اللہ جو ما تک وخالقی سے دہ بنا با ےک اے میرے دوست ہیں و
سمدا کا ترےس ات ہوں' فو ہا لبھی ہے یا ہا بھی جاتا ہے تی رے سا تد یس بی ہوتا ہوں۔
اشقا ی ند ےک وا ووست کے طور پ4 ارد باے اور الگا ایک عمفت عائی ےک دہ
موی ن کا خدا ہوتا ے دی موش ن کا وٹی سے' اتی ائل ایا ن کا دلی ہے“ (٣:2ے۵٥) سی
نہیں روہ پروردگا رق تو اپ پٹرول اور ووستو ںکو پادکرتا رتا ے۔ الد چارک وتھا یکا
ولی اور دوست ہو چانا بن ے کے لیے ایک یم فضیلت اورشرف انا غیت ہے کی نے
بن ےل نے تو اپے اس دوس تکوکھلا رکھا ہے کیا بی مھارے وق آوز فان کا معپارے
کرقے اس دوس تکو پا نی سکرتا جو ت بھی فرا مو ہی سکرتاں
۵
روں ٴْٴ مرقطلیی کک ڑا یش یا
ےی دا ما نمدرالۓ 7 پاشد قرار
(اے بندرے! تیب ری رو ایک رید ہنی سے جو تیر ےمم میں ایدکی طرف سےآلی
۲۲٢
ہوئی ہے۔ دہ اک کی امات ہے غدا کے اس پر ند ےکو دا کے علاو کسی اور پان سکون
اورق ارس کت ان
انا ضحم کےاندر روم“ ایک الوبیائی تزاہائی ہے ج سکیخمودانسالی ذاتکیاشل
یش ول ہے۔ رو انسای شس مکی موت کے ساتدفا نیس ہو اتی جک یآ گے جتی ہے اس
رو عکوااشد نے ق ران یر ش* 'امرز لس ے چھی قراردیاے۔* کم دج رد ہرے
پروردگار کے فرمان سے رواں ہے اور اے انساو اش یں جو دیا گیا سے دو بہت بی مروداور
یل ۓ '۔(ےا:۸۵) پا وکا تتفل وکا نہ اضمای جم جیکیں ہے۔اس لیے دو اس
شسم می عائنیطود پر رین ہے اکا لیے اس دو ںعکو ایک سای پرندے سے فشاب قراردرے
دیاگیا ہے۔ مافر پرندے لق طور پھر رپ دالے متقاما تکو جاۓ سیون نہیں بگت' یں
زی دای سنا کے اٗص٥لی آبائی مظام عی پر متا ے۔ ای رع دو عکوکھی اجدگی اور امریی
کون اس کے پروروگار کے سواہیں اویل ہی نہیں کتا۔
لغ
ہانا زاں کے و یی مم در آخرت
ھن ۴ ون دنن اما ہکلی جاے ار
( ما قا ا یس شراب کے بارے ٹیس قیامتفکود ہے کاوعدہ ہے۔ دہ وعدو تو بین سے
نکموٹی طلب زیادہ ہوگی ہے اس لے ا کا ایک جام نے اس دنیاش ایین“وزان
ایک جام سے یک نیس ہو جا گی )۔
اس شر میس پیے دالے کے سن طل بکوخوب شاعراندلنک می بتایا گیا ےکک
قیام کو ابی جن تکو جومشرد بات میں گے وو سب قیامت کے بعد کے وعد سے ہیں لن
اےساتی !م۱ س وقت اتامبا اتظارق پوکزنی یم سے ۔کیا یکن میں ہےکہان جاموں
ٹس سے و یں ایک جام اس دنا یج پلا دے اور ہمارے اس ایک جام سے تیرے
میدے می کو نب کی وا ہو جا ۓےگی۔ بکوال توف اس جام سے مراددیدار ال بھی ے
سکی تن عاشقی صادقی اس دا لبج یکر اے۔
۲۰٢۳
2
ایا وب پانایا جلات کااعرا یھی
ایر رمت رایار و قطرہ چندیں یار
(اے الا تتحددکاروان بیاپالٹوں ٹس پیا سک وجہ سے ہلاگ ہو رہے ہیں۔ اے
ہپ وردگار! رمت کے ہادل لے اور چندتطرے برسادے)۔
بتایا جار ا ےک عحراوں اور با بانوں یش گے ماندے لوکوں کے کاردا ن گر یکا
شرت' موم کے مصاب وآ لام گن اورخریب الون کی حعالت یس پیا لک وجہ سے مر
رہ ہیں۔ دو سرالوں یں مارے مارے رت ہیں اور رچنتاٰوں کے طوفا ثول اورگولو کا
شکار ہوکگز موت کےگھاٹ اتر ر ہے ہیں۔ پالی کی اوند بونرکد دو خوداوران کے نڈحال چانور
تر رے ہیں۔امے انساوں اورتام جانداروں پر مکرنے وانے پروردگار عالم! رممت کے
پااوں ٹس سے پیا یجن اود پاں سے مرتے انسافوں کے لے بار کا چد بودمیں
برادے۔ اس سے اے رٹم وگرگج رب! 8 پار چھرزندہ ہو جائمیی اہ
' ریرحت کے شک رز ارہوں کا
ٌ
پاذ وا رز میٹ نے نے طرائقی ہاۓ شاہ
71ع تہ کے تاقوا در ھا سان
(پادشاہ نے شراب کے جامول او رآخیوں پ پارندی لگا رگ ہے لین مت انف
رکا رد اہے۔اس کے پا نچھینیں بند ھ ہو او رما ریگ یکئیس ہے )۔ ٠
بادشاہ وت نے شراب ڑٹی اود اٹول پ پاندگی عا رک ر ری ہے ۔ اس طرح شش
کےبیس جا بلور یں گلا کا دہا ما (ملگتے رہوئۓے جام) سب نا حب گے ہیں اکا
رح مے کے پڑ ےط روف عراجیاں خعراجیو ںگ یلب یگردیں' رخ شرایل کے جیشوں اور
انس بک قلفل بی ٹم ہوئی ہے۔ساتی کی پاز برداریاں' عشود ناٹریاں اور ادا بھی سب
قصہ پاز ین کر وگئی بین یل اس سسارکی صغرت حالی کے باوجودبھی مت شتزآسی طرح
۲۲٠۳
اپنی ضتوں می بڑئی آزادی اور بے نیا زگی کے ساتھ مر ہے ہیں۔۔ ان کے پان بھی
بند ھھ ہو ےکی اور دہ بے مہا ربھی ہیں۔ یہاں اس شعرمی ىہ اشارہبھی موجودہ ےکہ
عاشنقان د لگرف 4 پافدکی اور شن ا ری ےج مصتوفان جہاں س بآزا بے پردہ اور
بے از ہیں۔
ر|گغ
اکے. کم راو خی ہر دا جو
کرفقاوو. بر متان حخرت ایں نماد
(اے مد ےآ مکی ما ککوج سخ کیا تھا۔ اسے وعدہ الس تک پابند نایا تھا ۔آپ
کی درگا: کے مستوں پراچھ یمک ای کا نشہرموجود ہے )۔
انل شع میس ہوم الس تک جائب اشارہ ےکہ جب انسان نذ جمالی طود پر وجود ای
سس نویس ہوا تھا۔ ان اللہ مارک د تعالی نے سب ددتو ںکوجغ کر کے یہ پ چھا تھا کہ
”لمت پرککم ین یکیا یٹ تمہزرا ر بیس ہو ۔ اس پر روحول نے جواب می کہ تھا ا '
ا جن یکیو ںنییس فو ہی ہمارارب ہے ۔گویا اس د نکوروز بیشاق مشنی پر وردگا کی الوہیت پرتول و
قرا کا د نپ کہا جانا ہے۔ اس د نگو یا تمام ردحو ںکودیدار ال ہوا اورس بکی سب سح ہو
کرد ہگ یجھیں اس د نکی قلست ور بجنت ارک یت یک ہآ ن کک ا لکا مشہاورخمار عاشتقال حق
پرم جود ہے۔آ نج کک اک دیداربق کے نشہ مس سب مستا نف سار ہیں' ان کے رگ و
پے می سآ رخ بھی اس ےکی اہریں او اکور ے موجود ہیں ۔
جظا وپ
شاو می گویے مرا کہ عاضر قویل مال
ما نون و تم آہ وست از ئن ہرار
(بارشاہکاگم ےکہ کن لیگ کے پا رہوں" چوککہ یس عاش جنوں اور مس ت بھی
ہو اس لیے اے میرے دا بجھ سے مہ پابنلدگی اٹھا لے )
ا شعریں بادشاہ سے راد سب بادشاہو لک بادشاہ ال تا ٰیٰ ہے اود لی لکوہم دا
۵
سجن سکت یں ۔کیوکل دیا چا چوندگگی اوررنگ دوگ اورنْزل ےکی ری ہوئ یھی ۔
اس میس تمام دنیاوئی سح ن بھی ہے اوررعنا تا بھی ہیں۔ اس کے باوجود اتارک و تی نے
بے اس دنیائیں کیا ہوا ہے۔ ا لف جہاں کے پاس حا رج ہو اودال کی رشن سے
تید ومستی ربھی ورپ ہوں' لن اس کے سات بی تق تکھی اپنی مہ برمسلمہ ہ ےہ شش
جو ںکی ط رع کا م یکر ہواد اہ اور بے شد ح شمکا عاشَ ہہوں۔ مم صرف دلوانہپچجنوں ہی
نی ہہوں پل رمست الس تکبھی ہوک شش بیہاں پرکس وقت کک نا مو اور پان پہاد ےت
رو کا ہویں۔ اے میرے پردردگار قذ نے بے اس امخمان اور آزونیش میں کیوں ڈال
رکھاے۔
0ك
مسر ہر موۓ ہا اں زان مر است
ان ے دبڑڈار لڑ تاپ در 1 ہار
(مشتا فان دب کا ہرس مو ایک زان بن چگا ہے اور زبا نیں بل۔انبان من چاے
اوراب وہ تیرےدیدار ے ےی دن رات ےناب سے)۔
اے مر ےگحبوب من اود مر ےشحم و جان کے ما لک! می تیرے عاش اورمشتا قان
دیدرار و لت اک کک جج روڈراتیق کے بیصد مات برداشتتکرتے رہیں کر اب اورا کا
زروڈرو سب ترک دید کے تپ ےدرم کے ہز پان اوہ رد دنین اک
ایک زبا نکیا حیثیت اختیارک ا ہے۔او ہرز بان تیرے دیدار کے لیے فریاد اور الت اکر ردی
سے بین سو ںکرر اہو ںکہاسی طلب وفریادد دا ہی یل میرک صدیاں با جاریا ہل
ر
ور رل مہا 21 گویم آں دلرار را
یزدریل +وزنیارلل گزکے: ولان” منگ ”از
(ش تاریکراؤں یس دوتا ہوں۔آہ وگر زار یکرت ہوں۔اوراچ دلدار ے؟ہتا
جہوں با جواب میں یی اپنا د بھی دو یا ہاراد بھی دای لکردو)۔
اھ
اس شع بھی عاشق زارکی بتابیان ا عیا نک گنی ہیں۔ عاش بے چارہ دل دے
کرش زندوں مین رجا ہے اود نرمرنا ہی اس کے اس شی ہوتا ہے۔ اپنے عیب کے ساٹ
اسے اپے مصائب وآلام لے چان ےکا بھی ار اورحوص نیس ہہوتا لین اس کے ای میں جھ
کیج ہوتا ہے دو ضردرکرتا ہے۔اس کے ایس صرف ران نکی جار بی می رونا ہوناے۔
ا لیے دەخوب دوتے ہیں اوردور وکر اپ حہوب سےصصرف یہ یادد با یکراتے پیکرگیں
سہ و اکر لکن تو ؟ یبیں جاپ]اپنادل دے دیں۔
رف
کی ۳۲ 0 0 و کی
اکر رن ج2 چارہ ا ژاا ڑا
(ی روز می دوز میقم ا دلکاقصہائی دوزغ ےکہو گا جاک مجھ
نا کات پان ود ناروا لکن کہ )۔
ھاشن زا ری مالت بای گیب ہول تی ے۔ دوسوخنترول اور کی والا تاے۔
ا کی آو وزاری مج بھی آنگ کے شطلے اور حد تک پیش ہو ہیں ۔ ا نکی لی ں بھی
جلانے کا موجب بن ای ہیں۔ دہ سراپا ددد دنم والم اودانتظار شس انگارہ بن چکاہوتا ے۔
اس کے سان ہرآگ پچ ہولی ہے۔ای لے ایک عاشق انی اس حالت می یا روز دوزخ
می خود جاک اپتےمش کا عا لکہنا چا بنا ے ت اک شقن ععبیب جم اس قرجلنا ناک نکر دوزخ
کی و ا جا اوداشزیددلم ا گآ کو د گر دوگ زار رونے
گے۔ یا اس ےج اپٹ یآ گف زیادہ ای سو ہو
“0
٢ قامت گی غاد خاند ایں ایا
غلق عام ہم بہ پائے مین روند ہم پادار
(نگی الد ن٢ با مس رح پا
گے۔ اوزفلق عالم میر ےم ق مم گی اود پتہ ان اودادادے کے سام میرک دا کواغقیار
۲٢
00
شی الد ین وٹ الع خود اپ اشعاراورابیات کے بارے میں بات ہی ںکہ
میرے ان اشعارکوت قا مت ملق خدابھی میرے دی طر عق رہ ےگا۔ مس نے اپ
اشعار یش جوت کی رای خلقی عال مک سو ھائی ہیں لوگ ان راہوں پر با سای یں گے۔
شع ری الدی نکوخودا نکا پڑھنا می ےک لوک ان کے ابیا تک پڑت رہیں کے ج بکک بے
ابیات زندہ ر ہیں گے۔ بکوالہ شاعری او رابیا بھی لد بین زندہ ر ہیں گے او رلک بڑی
چاہت امتنقامت اورخوٹی کے ساتھدان کان قدم پہ چلا با عث نر وعزت جھییں گے۔
خزل“
0
رای دج دی ہج عو یت
کاب ٹور ماس الک و2 لنٹور
(صور پھوکنے وانے فرنشنے نےطل قیامت بادیا ہے اور ہال یہ پل سے جس نے
ہار یق ھی ہے دی لوم قیام تک مالک ہے )۔
اسراشمل فرشنہ جو اللہ ارک دتقالیٰ کےعلم سے صصوز پھوگے پہ مامور ہے۔ اس نے
یت نا کآواز والا ویو ںکو پھاڑ د ہے والا قیا مت کا نقارہ بجچادیا ہے ۔ ائل ط رح اب سب
لوگ ں کا شرنشر ہونے والا ہے۔ دنا میں جس نے جو پچھدکایا ہوگا دہ اس کے نامداعھما لکا
صورت میس اس کے سان ےآ جا ۓےگا۔ اس ےکس یکومف میس ہوگا۔ شاب ایک عاش عفن سے
ج یہکبدد ہا ےکہ می رکف ےگاجنس نےککھا اور بنیا ہے اس ہوم الٰشو رکا دی فو مالک ہے۔
ایس ے میری قزر میں ج کوکش ستیکھاد یی مین عم ورای میں کارب اس نھد
سے ارا فکرنا لکن ھا وتوہ می کے اکن او تار نتھا۔
۲۰۸
٤2
و مم و و وم
شا انی کو جو ای یں ٹا
(نم قم رس سے س رکوڈکا لکراود باہ کر میدرا نکش ربیل خی ہگاڑ دب گے ۔قہر کے اندر
ماس کے دیدار کے اض رک ب کک ض کر )۔
عاش ذات ای ہنا کش رکے جوانے سے بنا تا ےک جب اسراشل دوسرئی پارصور
پھو ےگا تق سب لوگ اللد ک عم کے ساتھ زندہ ہوک اپٹی اپنی قبروں میں سے کل میں
گے و اس وقت ہ بھی قب میں سے س ہکا لے ب میں خی ہگاڑ دی گے۔ یہاں پر گر چہ
سب لوگو ںکوضا بکتاب کے لیے زخد وک یامگیاہگا' مجن عاشنی صاد نکواس ضا ب تا بکا
کوئیگگ لان نیس ہی ۔ بلنہ دو تذ بر ایک امتقامت کے ساتح میدران حش ریس اپنا خی گاڑ
د ےگا اور گی تی بے ھبرکی کے ساتھ اب دوقیر ےلگ لکر بے کے انددا ار پڑ جائۓ
اکا کا عجی بکب اے ابا د دا رکراتا ہے .قب کی رع بہال میدا نشم بھی اتظار
کھیچنا اس کے لیے دوک رہوگا۔
۵29
آاڑ ےر وی و قاط ا جب راج
جازم مم ا مم شور ػں نر
(اے لوگوا یی ںکوئی ڈرخوف اور خدشنیس ہے۔ اس لے ہم بے خطرازصرشوق و
نشاط پل صراط پہ تدم ریس کے تاکہ ار گرم انس لکی عارت سے میدان نت رگرم ہو
نے ۱
نایا جار پا ےک دہ پل صصراط جو دوزغ کے او پہ ہے دہ بای سے( یادہ پا کیک اورنگوار
سے ذیادہ جیز ہے۔ اس پہ سے بروز قیا مت ہ رکیک دبدلوگز نا ہوگا۔ کیک بنلد ےا ہے
گز رکر پہشت بی گے جا ہیں کے اور لوک فکر دوز رغ ینکر چانیں گے اس ہی
صراطا پہ سے ہم بڑےشوق اورغوٹی کے ساتھق ریس گے۔ اکٹرلوک اس لی را کے
۹
توری سے مم جائمیں گے۔ ببرصورت ال پکی پچ بے اس حبیت کے سراتھ پان ین گے
ککہ ہمارکی انس لک عدت اورگرٹی سے مرا نجنش ری شلگرئی پیدا ہو اورشییل جمار ےجوپ
تخت کادیدارجلراڑچلز حا ٣ل ہو_
رر"
اے کہ لزاوگ لو مال“ رز طلپ آن بعالِ
اہ ر۳۲ نشم بنں دبلار ور
(اے زاہروا لب صن و جمال فن کے یتم نے دہ مال خائس میق ول شددیا جس
3مٌء. و نال ےا تھارے لیے مم نے صرف دیدار جور بی رگا :
بٴاے)۔
حور (نصورکی طل بکر نے دانے ای لوگ وت ہیں۔ دوپذ رے زاہرخنگ ہوکر رہ
جاتے ہیں۔غوب پ ہی زگ تھوڑے پر قاع تکرنے والے اور حہاد گار ہذتے ثں ۔ وہ
ماہرکی اہام برق خو بگم لکرتے ہی ںگرحیبت دمضت ال کی قدر و قبت ے ناواتف ہی
رت ڈو کی لے ان اہن کے یه نت اور جش تکی سارک رگیٹیان ہی رگ اگئی ہل
ان کے لیے ذ دیدار حور ی سب ہچ ہوگا۔ گر ووبھی چچے عاشقو ںکی طرع اپئی متام د لیکو
ضورتن میں یگ یکرت فو دوچھ یجن داردیدارقن ہوتے ۔
2
یت فدائیم. ا کے.ے ہد یمم
سائی باچوں غداست ٠ یادہ شراب طور
( ہم و خداکے مست ہیں۔ ہم اپ آپ می سل کی ےآ تیں ؟ ہمادی یمستی ای اود ایی
ہے۔ اس پہ ہمارا کی ہے۔ جار اسایپ خودخدا ہے اور ہمادگیا ےراب پور ہے )-
اے لوا ہم تو اپے پروردگار کے مست اور من الے ہیں۔ ہمارکی مد ہوگی صعمولی اور
ہار بے خودکی عا ینس ہے۔ ہم اپیے نے میں ہہ کہ جار ہو میں آناشنکن بی نہیں
ہے۔ اے دا دارلوگو ! اے زاہراان نک !اس مقیق وم جان ل کہ ہمارا سای فو خود جارا
۲ے
موب خوری ےاوراں 9ئ نے پلائی دشرا بظہورے۔ خدا مساق بنے
اورشراب ظپور بلانے کے جوانے ےت رن مجر یل لو ں آیا س ےک :”اور یں اعتراف
غدمت کےطود پہ پوردگار پک شراب پلا ےگا ' (۷ے:۲۱) وبا ای بد پاکی بش
والامشروپ لگا۔
نو
وفت گی از دل٤ٗ یا بے
او ؤں ایر مال 2 تر از اوست ور
(اے ئک رل بنرے! اپے الد ےکی رلک ذف کے لیے دید بینا اتک لو ںکیوللہ
جب وونن و ہتمال دکھاجا ہے نشم تر کے ایک بی اس وقت بر تکا پور نے ہیں کس
اے بندہ ادا ! ذ اس ال یل جلاعم نوالہ وزب بات کی یکو یھن کے لیے اپے
ال سے الی نشم بنا نک لے جوخی بکا حال چان والی بجودل پ نی افوار کے اککشیا فکو
بدلی دک نے اس می ابقداور خی راللہ بیس انقیا زکر نے کا مادہ اور بصیرت ہو۔ اے :ام رم!
اللہ تال یکواوراس کے لا زوال صن ہما لکو یھن کے لچم تر کے اشک بی نو ایر تکا
کا د ہے ہیں۔ ای اشکوں ہی سے پھر بند وت بتائحیر ایارک سب لود کتاے۔
2
او 2 ما۳ رد ظر رام 0
تو او مو عو یر کا
( جج نواس لیے نہیں۶ ہے( ک ہیی :ا طا تی کے باعث ) خی می تیرے ساتھ
تی لو یک ےی ہکوہ طور کے پچھروں کے سا ت ھکیاتھا)۔
الک فور دنا چا ںکومورکرنے والا ور ے۔ اور الد ایق فور سو ات والارشل
ہیں۔ ال ارک وتقال یکا پورگ پو سکودکھائی نیس دیتا۔ اس فو رکو کیک بی یےکھیکلی
یرت ب یک ضرورت ہولی ہے پل ریو اتارک تی کے جلو و ںکا ا ہار ہوتاپے ال
میں یی انوارعشاقی کے لوں برمکشف ہوتے ہیں۔ ولک جو اود حپارک وتعالی کے نو رکو
ا٢
دیکھے سے عاری. ر :تچ ہیں دہ تی کی جا بن ن لا سکت زی لو ناد و ات
والارت شک فورائی چملک ہو لی بہکالومفب رلازاخدان میس یں ہوتا۔ جولوک اس
تی کے لی ہوتت'ان کے سا الہ تھا یکی گی ددی سلو ککرتی ہے جوکووطورب رجگ ی تن
نے اس پھاڑ کے پچنھروں کے سات ھکیا تھا۔ ]نی انیس ج اکر رکددیا تھا۔
رگ
ری 2 نزدیک اوست روات چاوید یافت
ہرویۓ سعادت ظخ٭ہ اڑو ا ور
(جواس کے نز دیک ہوا اس نے ”'دوات چاو یہ“ پای۔ دہ تر بک دوات بہت بڑگی
رک ہے۔اورجو ا سے وفردہادہسغازت او کی پش کوعہ دک پا)۔
اس شع می تتقرب ال یکا ذکرموجود ہے۔ اس قرب سے مراد ریہ س ےکہاساء وصفات
کے انقہار سے بندوعلم ومحرفت میں مم ہو جاے لیو ںکوئی بھی زاس کےنقصود سے اے
دور نہک رگتی اس اقبار سے بندہو تق کو جوقرب ڑنی منزلی اور مر میس رآ جا ہے دہ ال دک
وت ا یا تر گن را کے لے و خر سی ات چاز ا
اور سدا عائصل رب دای دوالت ہولی ےلین دو لوگ جو تی سے اپنے ال رے
ےون 3و گو یا ہیر کی ہنغاذت خو ںی او کیک ای سے بہت دور رہ جا
ہیں ان کے لیے قرب خداوندیی حاص٥ لکرنا ایک امرعحال ہو جات ہے اور یوں ادباروآلام ہی
سیر لیے ہیں۔
رلگغ
وروی ول و لپن و موم
یں زان وی ا ا
(اگر ہم ید می بھی لبق کی نو بیس کے نے اس خنخری سےقب ر کے انددی مارک
جان اتی ہف صور لے پی ھی زندہ ہو ایی گے )۔
7او سی زلم کرام کپ زا 7
۲۲
جن ذوعرکی با رف نوز ہوگا تاذ ددازہ گی ا ےگا ۔اص٥ل متقیقت ادرصورت نو مچی ہے لین
جے عاشتو ںکا یرکہنا ےک ہاگ قیامت سے پیل بیقر کے اند ھی انی دصصال خداوندئ یکا
و نج ری سنادکی جا فدہ اس ند یدخنل 0 پجّروں کے اندر بی صور اسر ا بپھو کے جانے
سے پل بی زندہد پائندہ ہو جائمیں گے باجوعورہربا لادوٰتھ/ؤ کش
ہوگا۔ ان کے ل کوکی تماعدہ خافون فرش٠ نک موج ب نیس بے گا ۔گو یا کعشاقی حق کا اع زاز و
اقیاز ہوگا۔
4 '
حر ّں و ا روہلوۓ اتد
تم گہرار ازاں روست بواں ور
(جب زیب وز نت والی حور ہمارکی طرف مض کر ےگی۔تذ اس دقت ہم اپنی نگایں
ھی رجیس کی ےکیکڈد زس بای پوپ
عشاقیگرائی سے مہ ایا جار ہا ہے۔ اے دوستوا جب جفت می تمہارے ساٹ جنت
کی رات و پبراست اورز یت وز پپنٹی سےگھ پور اپنی خوش ادائؤں اورسشوہ نازییں کے جلو
یں جودی ہیں ق ال وق بھی ہیں صبرو اتتقامت اور ار کے ادپ اذا بکوٹوٹا رگھٹا
ضروری ہے ان ون تگھی اگ رکرئی عاشی اپنے بای موجودگی مس حوروں ویر ہکو دیج ےگا تو
اس سےیحبو بتفل یکو لاج آن ےکا اشمالی ہ ےکیوکمہ دہ ڑا ہی خیور ہے ۔ اس لی بھی ہایت
اعیاماوط مکی ضردرت ے۔
زگ
ضز وا ثصر شت کررہ پا زیو اڑے
00 و ے تصور
(تیرے مس ت3 کہشت کےتھسورکوزمروزبرگردہیی 1,2 ہر
کیوکلہ با نکامقصذڈئیس ہے۔ اگ ریما کیانڑ ھا چا ا نک تی بیأفصورنکیں ے)۔
رگ اور ماشقان صادتی اور چچ مست لن ہوں گے ا نکی نظر میں ہت ے
۲۳
عالیشان اور سووگی بث تصور اورمولا تک یکوئی وقدت نیس ہی ۔ دہ ججنت یل محلات اور حور و
ضورے لیے یں 7 آۓے ٤ ہیں بلہ ا کا اول وآخر برعا و ہا قو صرف اورصرف دبدارن ری
ہے۔اں لیے وو ان عحلات او رو رکوااسن مدکی راہ ٹیش رکاوٹسو ںکربسی گے۔ اس لیے
7 ا نوزیدز راو سنہ سک کے یم یں گے اگر وم ا نی ںکرتے ےا ں کا مقصیدرے
ہو اکردوعشاق نا مکار ہیں اوروہ یتو رین ںیا
گر 3 تھر بشت کگردہ مر ہشت
1 بَرق :ڑا ی٥٠ زغم آنیا ور
(اے الژلر! اگکرقو نے پہشت کے گلات وقصرا تکوکیرے متط کر رکھا کے لان ےج
نام مشام ےن اس ت٦ ہپ بھی اہن چگرسوخیدکج کرو ان اورگودکی خوشبو کا مال پیدا
رش ہیں
لف اعادیٹ مبارکہ سے معلوم بوت ےل جنتے مل اور متجرو اور ااتیرارنختون
اوررگیٹُوں کے سا تد سا تج ہوا سی اورنفا بھی فنبووں سے مرک ری ہول کے شی
غوش وی ںکھنگھڑوں بٹراروںمیلوں سے اپنی عط نر کا انھارکر نا شرو غکردی گا ای طرر
جنی کے جوخوب صورت زمرداورمروار ید اور ور قہبت موتوں سے بے ہو ئے حلات
ہوں مگ دوگھی اندر اود پاہر سے م٢ن پٹ خشہوؤں رپ ےے ماں و رس
کی ول خوش لکن رات بن جانفزااورخوشیوں اورمسرقوں بش اضافہگر نے دای ہول
گی۔دہاںن پ جاشق لو بھی اپنے کل ہہو ۓل رکوج اک مود ولوپا نکی خونْ+وؤل ے اورمنطر
پا کاسماں پیا مکی گے۔
زئ
یحم می بر رست یوما کے
71 2 ا ا ا و ا ا
(یی اپے دوست کے لیے رہ مات مکرتاہوں ۔اس کم والم سے مال ہو چکا
2۷
ہویں۔ ا ےگیا الد ین ات زس پھلا شور وشخ بکرتاے!)
عاش,کیاصورت عال یہولی ہ دہ اپنے معنوقی اوریحوب کے لے ہرساس پر اور
پرلہ ما متا رتا مامت ہل اورسروسی کو پٹتا رتا بات اپ
7 ےیئل سےصصبروسکون میس رآ جا ہے ۵ ھ0 ماق وی کر
عاض ہرکہداود ہرمرگے پہ مات مکرتے لے جاتے ہیں۔ اس انز وفریاڈ لو حگرتی اورسیگ×
شیون میس فریاد اور داد یلا جھی ہوتا ہے۔ عاشتقان حقہ انی مصردفیات می ججیتے ہیں کے
سب پگوگری وزادگی ا نکی اتیاری اد داردکا ہوئی نی ہہوتی' اس لے آنڑیں ا کی خر ی
نی اسی لے کہا جار ہا ےک ات زدہخ کب شور اور داد پا اکرتا ہے۔ ا کے جائۓ ول
خامشی رپ”اہے لن ہہ مت مکناں رہن عاشقو لک اتیاڑی علامت اوررعف ماش ہے۔
220 ھ0 رم ےا مؤ
ون ا ان سے 97 ہاں و ا
(اے می رےجوب !میرے الڈ! 7 یا ہے اور بے
تیرے بارے مل ناخم رر میم پٹیا تا ہے )۔
اے میرے عیب اے مہرے پروددگار! ٹن جب جب تیرا ذکرکرتا ہوں ال ے
میرے دل پہ نے سے نیا اث ہوتا او مر کیفیات ہا طٰقی رہق ہیں ۔ دک سے انسالی ذات
یش جونقیوتبدل ہوتے ہیں ان کے بارے میں ق رآن مجید رٹ پوں ارشادمو جود ےک ان
کے دل اللہ کے وک سے دا ترکی سے ہریز ہو جاتے ہیں (۳۵:۲۴)۔ اور یو ںبھ یکل
اللر کے کر ے انا کے رل ا صاحپ لال و قجردت ذا کی عظتٰ کے تصورےلرز
اھت ہیں “(۳:۸)۔الل کے اس دک سے بنرے پر اود کے بارے می ںبھی نی سےبئی بات
اعم ہوتا جے کرولگہ دہ خداوندق و ہرآان نی شمان می دوک ہے (۲۹:۵۵) اللجارک
تا کی نین بان اودرشان خالم دوعالی می بھی ہوی ہے اور عا لم رنگ دیو می ھی
۲۵
ف2
از جر لجا وم مل بس
خڑا لقن ور یت وال برع نگ
(اے مرے پوررگار! ملامت کے تیروں سے جہارادل مرو ہے وائ, دآپ کے
لیف وکرم کےسوااورکوئی چارہنیں ے )-
اے ہمارےحبو بس اے دلو ںکوسکون بنشے وا نے پر وردگا رلوکوں اور اج دنا کی
ملامتوںلعنؤں اوریرزنوں کے تیروں سے ماردا ول ھی 23 چاے۔اں ہے ہر(ذکغ
تی زنم ہیں۔ اس درددالم کے زا بکد ہم بڑکی نماموٹی او رص ر کے سساتھ پرداشت کر ہے
ہیں۔ اس صورت عال میس اے ممدا اگ یی تیرے الطاف د اکرامم مہ ربانول اور عنایات
ڈراوا لکا سپارانہ ہو ہارے پائس پجویھ یں ہے۔ تی رےلطف دکمم کی سے ہم مرو دل
کےساتحدزندہ ہیں کہ دنیاوا لے ذ ہی ںٰم نطعن کے تیروں ےگھائ لکرتے رت یہ
١ خ۳“
سلطانی ال نت جا جلوە, ور ٹر را
برساخھ از > یل رت 7
(اے بندہ خدا! تیرا مقام عالی ہے۔ تیرے بمال کے بادشاہ نے اپنا جلدہ دکھانے
کے یآ ئینرد لکی اط رایک مان آ میرک رک تی نکیا ےد
ہرطرع کان د تال اس اللراجھیل کی طرف سے ہے اود وی رن و جما کا
مرگ اورٹ ہے اس اتارک وتال کی ذا تگمرائی صن اور جال جیا ہے ادداس پروردگار
کےتیام اسااورصفات سن وخولی والے ہیں ۔ ال کے سب ا-اء ای اھ سن او رین ت
ہیں کی ”نچ بھی اساۓ سنہ ہیں جن سن کول نام ہیں سب ای اود ھی کے ہیں۔''
(ے:+۱)۔۔ائں لیے شاعر بنا تا ےک ای سلطان بھی نے انا صن و ما دکھان ےکی مار
کئی ذرائع اورصورتیں انارک ری ہیں۔ دہ اپتنے سن و مال کا اظہار براہ راس تگھ یکرت
رتا سے اور ابی وقات اورحیقات کے ڈر ہے ےھ یکرتا رتاے۔ پوں ہرآن ا کا نا
سے یا تن د جمال سان ےآ تا بتا ے۔
ا پہ زا چاو
رر ا وب اظردے ردکارا
(ہئگا ٹر میس عخاقی اس وق تآو و پکا اکر ےگیں ے ج بی اور نظریں ان
کےیجبو بکوویھی ںکی )۔
ہرعاش کی فطرکی خصلت ہولی ہی ںکہدہ اپ حبوب اورمحتو یکو بل شرکت نیرے
صرف اورصرف اتی عی عگیت اوراپنے بی لی نول اتا سے گر د1 حیو بی اورس بک
عیب پذر ارگ ایگ کا خدا نیس ہے دوس ب کا خالق ذا لک ہے لیکن جب نعرکہ
رانک بین کات کا دا کپ
رذابت می لآ ہو پکا اورواو یااکرنا رو کروی تن
۵
آلی سے سس با دادی روڑ الات اے روست
لئ کوینف بنا دہ ہے نے زان
(اے دوست! و نے جو ہے_میس روز الست د یھی از راہ الطاف ای مش ےٹھوڑا
سا ایک جامکییں پچ رخطامردے )۔
روز لت جب روہوں سے وعمروں لیا گیا اس روز الیل جلالہ عم نو الہ وظزبر پانہ
نے روتوں سے براہ راست مکل ہکیا۔ اس وقت ردتو ںکو جو اخمسماطا و اپچنراز عاگل ہولی'
جمال وضو تمحبوب سے انی براہ راست ٹیل باب ہونے کا موق علا۔ اس مات اوز
مکانے اورقیات ال سے روتوں پ ایک خائ مت یک کیفیت طاری ہو کر 4راک
دی اورسرشاری چا گی ۔ عاشتی ارداب کے کے دہ جوے اورتلیاں اپ اثردت خیرم
۱ رتا انان وین ای نے عاشن ز 7 0
راہ ےکہ دی روزالمت داشرا بکا خرف ایک جا اوزعطا ہو جاے ناک ران سے وہ دوپارہ
ے۲٢
دن اورآخر کک دش ومست ہو کے_
رو
و یج ما سد ھا وا
کہ ہے و ور پظہ جاجح سور در
(اگ رو غدمت جن بیس مردانہ دا کر بندگ یکر نے۔ و پچھردہ الد جے ہرفحظہ نیا جار اور
یکھرعطاکرتارےگا)۔
تق نکی ندم تک نے سے مراد ہے اطاعح تل نکر ا او ری کی اط کر نا کچھ درائسل
انان کے اپے ہی مفاد اور ھلائی بیس ہ ےکیوکہ جو اتا خداونک می رجتاہے دی یگراہ
یں ہوتااورمشقتوں سےگھیا چا رپ اہے۔اورا ین میس یو ںچھی ارشاد بای ےکس
نے اطاع تکی دہ گی کا میا یکوہُْ گیا۔'' (۳۳:اءے) لیا فیک خدمت اطاخت داجا]
جم ہی ہے۔ اس لیے جو ار کے اس ںکام میں لیب جاتا ہے ادلد تھا لی اس کے ےآسانیاں
پیداکردیتا ہے۔ بوالہرانمان حرف اطاعت بی مقب ولب تکہلاگی ہے۔ اگ رکوئی خدم ت کی مم
گار ےگیااراسے برستو انمت اور اکا م پش د یتا ے۔
2
وی و ظا ات روژن پا یر کاٹ
بر جان و خابر جات شس ہے نگ
(اے ہندرے اگ رق کی خدم تکپہنے دالا ےق نی کا طل ب گار اور شزاس ے'
تا ری کت ر کے انددکھی تیرے لے فو رت کا نایا نداور نی سوربع ےگ)۔
ان تقیقت بیس ذزہ برابد تک وشنئیں ےک زوجنرے بوکا اف کرنے
ہیں ان کے لیے اللہ کے ہاں بشارت ہے“ (۱2:۳۹)۔ بمہ اللہ ارک و تھا کایو ںی
وعدہ ےک اللہ ارک وتھالی ہے بندوں بر ذہ مھ رگھ یحک کی سکرجا' (۱۸۲:۳)۔ اور ای
رع یو ں بی ارشاد پارکی ےک ہ نہ فذ میرے بندگان برگز دہ میس شائل ہو جا اور میری
جنتت میں داخل ہوجال' (۲۹:۸۹۔٣) اس لیے دہ لوک جو اتا جن مس ہوں کے اور تعالی
۲۲۸
انی نگ وا ری کقبرو ںکوکھی اپ الوار کےشٹس وق ر سے منورر ےگا
رگ
رنج تر مشات جاک از بل لظ رک زماری
پا غدہ چان و رل از رہدرے 7
(اے اللہ تق اس ہشت خراک انان پور زا سن رکم فرماجا ہے ای باعف ہر
کوئی ےگوئی صاح بل ضرور برا ×اے)۔
ائل تبارک داتھالی کی ہہ انمائوں کے ساتھ نماص عحبت اور نما واٹنگی ےک الد
انسانو ںکا بھی بے یارہ مددگارنٹیس مچھوڑت بی نہیں کالہ نے و اس مشت ا کی یآ مکو
ما وقا لمت اوراحتزام نشی رکھا ہے۔ اس کے بعد اللہ تھی نے پرقوم اور ہ یھت کی
طرف رسعول کیچ ہیں۔ ان رسولوں سے با اورکون صاح ب نظ رہ وکنا ہے رسولو ں کا سلسلہ
مع ہونے کے بعدمونین اوراولیاء نٹ دا کے ولی ہو تے ہیں اوزم وین جس قر رصاحپ
نل گر وخرد کے مالک اورنفل ودلش والے ہہوت ہی ا نکا تق دکوئی مقابلنٹی کرسکتا۔ امے
بی مونین کے بارے می ارشاد بارگیٰ ےکہ :”اور جب انی ںآ ات ال کا دریسں موعظت دیا
جاتا ہےنذ ان پہ بہرے اور اند ھھ ہوک نمی ںگر پڑت ( بلک د بھ کی پپوری صلائیتو ںکو
برد ےکا لاک ان پرخورکر تے ہیں۔)''(۳:۲۵ء)
ایک عد یت شریف م آیا ےکی میک نک فراصت سے ڈرو“ ا کا مطلب ہے
ہ ےک اللہ تھا ی اپنے بنرو ںکوصاحب نظ اور اہ کر اصحجاب سے خا ینیل رکتا لہ ہرحظہ نیا
سے خیاصاح ب نظ رپیداکرتاربتاے۔
زنژ|گغ
ران دو ان و ول از نار عت
حثرت خزاں مرو از 0010+) کا
راس کر با تیر ےش یکی راہ اخقیا کر کے می نے مان ددل قر با نکر رکھاے۔
میرے پان می تھا ۔ اس لے اب کیا اوززاہپرشیئی اتی )ت
۲۹
اے میرے عجیب !یس نے صرف تیرے بیعش نکی را کو ڑا اور اہی راہ یش مل
نے اپے دل د جان تھ رق ربا نک دپے ہیں۔ ما تیئی رای میرے لے جادو مضزل بی
ہوئی ہے اس پرگامزن روکر جج و یٹ ومرور ماگل 0ت سے دوہی ادرداہ پر ہرگ زنئیں
ہے۔ ائکی لج ان مرن پروردگار! می تی ری یدراہئشقی بچوڑکر ہیں جا سا ول اور نہ
بے راہ بچھوڑ ن ےکی ضرورت ےکیوکنہ جواطف ومرور او رگ وراحت ال راہ پٍ ے وہ
کہیں اور ہو نہیں“ یں
رت
ور آئَنہ رل دوہ ھا رت" یار ا
نے وو ار ورکنان م0۸ ا ا وا
( فی الین نے آئینہدل میں رخ یاردیگھا تو کھا: اے مر ےکحیوب جیا ڈھرے
دی ٹس پرلہایک نیاسے نااٹڑ پیداکتا ے )۔
یرد کے وانے سے قرآان ید میں ایک مقام پر اس طورآیا ےکہاللتھالی ارہ
اوراں کےققلب کے درمیان عائل جو جانا ہے۔' اور جان لوک اللہ تھایٰ ایک انان اور ال
کے دل کے بایان ال ہو جاتا ہے۔ اس کے کے مقار بات روعالی کے بلند ماما کول ہذ
جاتے ہیں (۲۴:۸) ۔گو یا اس طود انس نکو ای دوعائیٰ تقرزب کے باحث ای با رق کا
چرہ دکھاکی دی لگاہے ۔ واہ' مھرے پورگار! تیرے ذکر نے فو میرے لیے نی سے نمی
دنائیں پداک لی شرو کرد ہیں۔
اے کہ گیا نال ز.دیراں مر ارم گر
اق قران ا فی ران ین گر
(اے پثدہ تاگور! لڑ وورال سے شکو مکرتا ہے ۔تہازا ردنا دونا بیکار اور بے سود ے۔
۲
میرے یاد کے جورم 2127[ .0)0
اے بندر) لو کناں! ت گر دوراں کے پاتھوں کیک کر فیا دکرتا سے اور شوہ
شا تکتا ہے۔ وی نذ صورت حا لآو وشیون او رگلگز ار یکل ےھر زم
اس فقردددد ناک اورا یت پت یں ہیں تم مر ےحبوب کے جود و تم رو د یھو ول پپاڑوں
ےگھی بڑے ہیں ۔ مہرے اقطراب' میرک بے تال ادد ےق رارککودیھواوراس کے مات
ساتھ ذراغمورکردفوجہ کے سماھ میرے عیبر وقرار مرگ برداشت' نما می اور کدپائی کا بھی
اناز کرو پا رت بھی سک صورت حا لکااضماس ہوگا کک سکوزیادگگز ارگی اور نالہ وفریادکی
غرورت ٤ ےے۔
2
جا بن گلشن مرو کاں مت دو رو کے ہیں یت
پہ از الک لالہ گیں دائم نار من گر
(اےلو وارداا جراج ہ جوان ہے۔ جاشبگشن نہ چا ایک دودن اور رجا مر
موداور پہلوکودکیرلو چولا ل گول اشُوں ہے کررے ہو ئے ہیں
اے دوست !میریی درخواست ہ ےکتم با شش نہ جا ۔ با کی بہار یی اور فا یں
شی را نہیں آ نمی گی ۔ می جمے بھی مشورہ دی ہو ںکہ چند روز کت مگلشن میں
ان کے اداد ہے بھی پاز روز ہے زہو یش سن جانے سے بفزک انان اذ جا اتی
اور عاشی زار پیا یق ے۔ اس کا انداز وم میرٹی خوش شکو دک کر بن لی لگا سے ہو۔ مرا
آخیشاہورنگ لالہگو ںآ نسوؤوں ےھر ہوئی ہے۔
ر2
36 نراوم ول انا ہہ
ہے میراں اآردزیتن و 272 مر
(ا ےک ہن جےکتا ےکہفذ ن ےکی عو ب سی سکو د ینمی دیا۔ ذرا میران مم اور
میرے رر کتشمسوارکواکر دکھ )۔
٢٢
اے خاطب ! فو مہ کہا ربتا ےکن بی یک ول لجھانے وا ےگوپ وت
معٹو ق نی سکود لکڑیں ذیا. کسی کا فراوا معثوقی کےگیسوۓ شرارکااسی نہیں ہوا۔ تھے ڑا
زم ےک کوئی عیب خویش ادا تج ےنیس لبھا سکا۔ بیتہاراے سب دگڑے درست اور بچا کک
ین ین ٹا ہو نک آ و زا مدان یش میس لے کر دیکوز اور ہے کے جوا رک گھڑا
اس کے بعد دیکھا جا ۓےگاک و الس ھعثو ق ضسییں کے حر ےکس ط رع قل لکر جانا ہے۔ پھر
دیکھا جا ۓگا نوکس قرمضبوط اورتفوط ہے وہ می رامحبوب نے ترک معنوقی ے۔
"
بی ام پ4 دا گی نی از خی اقثت
کس زان سیک کی ا و با ری گر
(میرا سید داقول ےگلرا ہواوہ دائول کے چرانوں سے رشن ہے۔ اود چرخ نین
آنسووں سےگلا بکاپچول بنا ہوا ہے۔ اس کے سا ےگلستان بی ہیں ۔ لح ہگ رکومرنے پا
رۓ ا رو )ہا رکادخد)ک ١بدا
و بعد دا دا ہو کا ہے۔ میرے دل کے ہے 0 0
دا بیرے لیے رشن راغ ہیں ج ہرم وم اوددور یل لت رت ہیں ۔تم میرے پر ےکو
بھی ے ملا حظ رکرو صدبیوں سے خونیس اشکوں نے مہرے اس چھر ےکوگلاب کے پچھو لکی طرحع
سر اوررشن بنارکھا ے۔ بے چ روس طرح سے سدا چلو لکی طرح سے مکنا ر بنا ہے۔ ایک
بر کے لے میرے پا کر دیھومی رشن جاں برک طرح سے بہارآئی ہولی ہے
کی با رذ ببارحالت ہے۔
جم
پاشدت رتے کر رر رل بای پل ا
ا روہ ا
( شمابرتیرے دل یل رم آجاۓے۔ میبری جاب آ1 مرا 1107َ,0]/
خیف وفز اف سک دبھو)۔
. ۲۲۲
احَئوضڈ2نائٹن میس می ری ۴+ کے تی بان پکیا
کیاگ لکھلاۓ یں انی تم انی نگاہوں سے دلو شاب سے ہمیرک عالت زارد ےکر بھ پہ
مآ جا اورقم ہپ تر سکھانےلگو۔ میا خال کس تر شتہاورخراب ہو کا ہے۔ ی سم و
جان گج یعکٹرور اذ اں اورضعف وز ول ہو چگا ہوں۔ از راو لف وکرم بج پرڑکرگرو۔
۳4 لو راری نی تہاں ٠ دیرہ رت کشا
نے پر سز و تم اک ار من گر
مر حرےرل ہی ںگ وب ے راہ و رم اور دوک کر عبر نکی ہنگھو ںکُوکھواؤ
۳ ے پرسوزسدٹکواور اک پا رآنگھو یکوویھو)_
اے ناذان!اگر ےی ےمحبت سے۔ ھکس یمحروب سے رففبت اور د تی حاصل
ہے اذ اپنے دلل می کسی معتو ق بین کے لیےعبت رکا ہےذ ایی صورت می کے اعقیاطد
عم ےکا لی ےکی ضرورت ےچ۔ ن۰ی نا رت ے مر موزحشق مور
سنےکود ینا چا بے اورمیریی دا کی خون برساتی آنگھو ںکو ےک رعبرت عاص٥ لک لی چاہیے۔
2
یں ریم او او راو لو سار نے میں مت
ہز طھرف :رص بوہ نگم رن زی گے
(ا ۓےگی الد ین ! شک اداکر وک تیرکی راہ یٹس زیادہ کا ٹن ےنیس ہیں۔ تیاراست صاف
اور ےخطر ہیئے۔ یم رکی را گر می ہرطرفٹم کے کتنگڑوں پہاڈ یں)۔
اے دوست اپے ال کاشگراداکرواوراپیقسصت پرصمد رای نی ککرد۔تہارق
خ ضی3 مثالپی ےک تہارے رات مل مشکلات' مصاب اورکاشی نہیں ہیں۔اں راہ
یں کا ن بھی زیادوئیں ہیں و انی خی تق بنا رکرن چا ہے ۔ ادطر ہما حالت دیکھو۔
دای رز وھ وو ےل زاون اوران کٹ اکن پک فلا ایل یں
کے ئیجکڑوں دی بیکل پہاڑ عا٘ل ہیں م والم کے انیم ای پہاڑو ںکوکپورکر کو آسمان
ا
خزل ا
ك۵
ا ونعیں مو ات الد رشخار
و کاو ا اوج
(ہوبھی تیر ےحتضور می مٹی پر اپنے رساررکڑتا ہے کے اے الڈد یکل انسالی بے عد
پند ہے۔اس لے شب ورو تک او رکنیا دوٰوں چہال اس کے سافن خر ہو جات ین )۔
سب سے بای جات تضورضن ین بد ےکی سا ری ور دی ہو ہے۔ بند ےگا
زاور ھا نز گی یک الد کے ہال قرو بت ہے۔ ماد ارک وتعالی کا قاعدہ دقانون ہے
کہ اللہ تھی جمزدتفن کو پندفر ات ہے ۔ ہمہ الد اپنے بندوں برسختیاں' مصاب اور
مشکلات پیدا ہی ای نےکرتاے تاکمرلوگوں میس چگزد غیاز پیر ہو۔ ال ںاشن بی ق رن یر
ا طرع سے ارشاد بای ہ ےکی" اد ہم نے ج بگھ کی قری می ںکوگی نی ھا( دہاں
ر بے والوں اور نہ ما ۓ والو ںکو )نیو اور نتصانات بی بت اکر دیا کان مل چزوٹرع
پزاءؤ“۔(ے:٥٠) '
تٹرغ کا مطلب می مہ ہونا ےکہ اللہ تھالیٰ کے؟آ کے عا ہنیک رکے اس سے طاقت
چاہنا۔ ال دنا یش ال تھا یکا فان عذا بکا اس لیے ےک لوگ ددکھوں اوزنیخوں ٹیس
بتلا ہوکر ھا بنزکی ایارک میں ۔ اس رع جو عا ہز کی ایا رکرتا ہے اس کے لی ےکوئی خر ہو
چا وت
کامئیں ے۔
ر2
ایان ریف ہس۔ کت 9< وھ
او مک شر ہں نہیں وار
(دوسرے لوگ اگر تیر ےکو پچ یس رموں سے یل اخیرخوق اور زوتی کے کے یں
۲۲۳
قش تیر ےکو ہے میں مجنو کی رح وا گی اورشق فراواں یس س رکےل چا ہول )۔
عاشقی عاملوکننیں ہوتے۔ یہ میدن مض بی اترنے سے پیے کی اپکی نگ یکا سودا
ریت ہیں ۔ ای معلوم ہوتا ہے اس وادی یں دا لہ عی مت من ہوتا ےکہ بندو سب سے
پیل پٹ جان کا نذرانہ شی یکر دے اور یوں مموت سے پیل بی مو تک وق لک لے ن اس
نین شی می سکوۓ پا رکاگش کر گویا واشقو ںکی سنت اور دستور ہوتا ہے۔ عام لوک تو
کاۓ بار میں قرموں سے چلتے ہیں ۔ لان بے عاش ف2 س رکے بل می ےک بھی نکی جاتے
ہیں۔
رف
درکغائی کہ تق موب کریم اقار ست
فا و سی ہیں نا رو وا
(اے مر ےگھوپ! ورواز ہکھول تج 2 میرک کپ ہیں۔ یں تو
آپ بردم و کھت رے ہیں۔ اک ذدا می ںبھی دیدارکرنے دہج )۔
اے می روب ! آپ سداسدا ک ےکر وییم ہیں ۔آپ ہت داز شا تکرتے بی
رتے ہیں۔ بیتھوڈڑیی جات ےک ہم سے ادلا آپ سے لو لگا ہوتے ہیں۔ میتی اکوئی
مو یکرم ہ ےکہق ہماراحبوب اورعیب ہے۔ فی ہمارا موق یس ہے۔ ب کچھ تبرابے
حد جو دوکریم ےکر گیل سدادبکمتار بتاہے۔ تبراد یھنا تورکی شان کےمیکن مطا شی ین
ا یوب ہم و ترک دب اور د بدا رکوڑ ۓ رھ ہیں۔اس لے مارگ ورخواست سے کے
ہمارے ولوں کے پردو لک پٹا دے کب مپھی آ پکادیدارکر نے کے لاکنی ہوکیں۔
ر
ف2 ا اھ ا 1ں دہنش ب اد
کا یں اتی و ہیں ہیر دا سار
(طن فو یہ ےک تیرے طال بکو جلاک ال کی راکھ ہوا یس اڑا دگیا جاۓے۔ اے
پروردگار! اکر یر راکوددیائٹشس ڈای جا فذ وہ را ای ددی کی طرح شون ار گی)۔
۲۲۵
تیرے دبوانوں اور چا تۓ والو ںکا تیرے مقابے یس اصسل درج اور متقا فو بی ت
کہ ای نگ جلا دیا جا ۓک د6 ہلند ومرج ذات ےنتک کرانے واننے بین ۔ کی
نیس بہآئیں جلانے کے بعد ا نکی راس وکوکھی ہوائوں می اڑاد ینا چا ہی اکا ٰ کا نام و
نشان ھی باتی ندرے اوددہ ال حالت مل بی ٹرپتے مرتے در ہیں ا نکی یہ ناک اگر ددیا
یس ال دی جا فذ یوں دو راکوشھی دد ہا ٹس ود یا کی طرع جوش اورطانیاں مارک ی رہے
زف9
کاھر سرہمہ از لت خرا مجر ےی
مک موس جرمان پ نار
(لوکوا ماش زار کل ہونے کے بدا س رکا کاسہ بت نمائے کے ددواڑے پر اں
لیے پڑا ہوا ہے اک کافر اتی زنا رکھول دے)۔
ہت غانے کے دردازے پیا عاشنی کے س رکا کاسہ پا ہوا ہے ۔ جس بھی عاش کا
کا سر ہے دو بڑا تی سعید اور زی تھا کیونکمہ اس کےےحبوب نے از راہ لف وکرم ا اسنہ
سرکوقجو لکیا۔ بی دد دی پر پڑا ہے۔ اس لیے جوز نارعیمائی ود اور بجی اپٹی شناخت کے
لیے پلتے ہیں اس سے فو دہ اپنے آ پکومنوانے کے خوائ منعد ہوتے ہیں ۔ ا ذ نار پپگی
یں دوخواہشمات فسالی کی خلائی جس لہ جاتے ہیں۔اس لیے تایا جار ہا سے عاش یکا کاسر
صربت انے کے ددواز ے پراکی لیے پا ہے اکم زنر پش اپتی ز نارکھول دی اوردنھیں
کہ عاشقو ںکاکیامقام دمرتبہہوتا ے۔
رن
جن می بی زد وىی گنت کہ چوں مصت شم
7ت 2 بے ور را گذام ہمشمار
(جیل ےکی زد یس جب عاشی آ ا ہے و ا سکی عالت او رکیفیت اور بی ہو جال
ہے۔ و بچلرد ہنا ےکہ جب ٹیل مست ہو چا لگا ق ری ہصح تکوہوش می نہیں نے
۲۲٢
دو لںگ)۔
جر اش صاوقشقق ٹر شر سس ہے۔ائں یت دہخودی پاتا
ہے۔لینی جب وہ ٹۓےعشق الہی سے جو می ںآ ہے ا کا تو دج دقت ہذ کا ہوتا ے۔
ورام بن قب کچ کاٹ میں 7-0 ہو چا لگا ڈای
وقت مل پر پیک بھی ہم صحب تکو ہوشیار ہونے یا ول ہی ںی ںآ نے دو ںگا۔ ال وقت
میں بی اہو ں گا کہمیر ےسب میس پر یی ری ین پا یب
مکی بی طرح ےمحرت سے رست ہو جانکیی گے۔
مھ یت رور ائرر دِل رعاش زار
پادہ اندر تی ود اۓے می نرارد رثار
(مشق می ہرعاش زار کے دل میس اس سرعت اور برقی روگ یی توزکی کے ساتھ چتا
ےکا ڑکیا کے سا توشر ا بک رگ د پے میں سرای تن لک رکید
حی تال یکم برق رر ہو ہے۔ ا کی وی ادرمرعت کاو مقالہ ام کر
سنا۔ اللہ تعالیکصشقی جب سی عاشن زار کے دل می ںآ سے نے وروش بے حد یز اور
ری سے چان ے۔ شیشق تق ہو جاے ووق ناک خو مت بیس من جا ہے۔
اس ماش معزز میں شی صادق اس زی سے پت ےک انی تیزی کے ساتھذشرا ب بھی
رگ د ہے یش اث ورای تن کرتی ۔ شراب صرف رگ و بے ہی فو کرک اورسائی ہے
ج بیشق الو پڈھوں کک میک یکیىی زی سگزر جانا ے۔
ٌ۹
ور ہہ رہب و مت ے عشقت عثتی علال
زاللہ ے او خزاں ىر خغا با دبھار
( یتور چہاں اور کین انہاں ہ ےکہ ہغمت وت میں تیر ےےمشت کی ے ال
ےکیوکگہ اس کے بغی رد یدار خدا حاصل ب یئل ہوتا)۔د
۲۳
دنا کے قر یا تام نذاہب می شراب فٹی حرام ہے' کوک شراب و انان ک ےئل
جوا پ پردہڈای دج ہے۔اسی لیے ا ع زی ذبان یفخ کیچ ہیں جس کے “می
رکوڈڑھاپ در کے ہوتے ہی کیو شراب پیے کے بعدانسا نکواپن مل دجاس پہ
افنیارٹیس رہتا۔ اس لے ب تام نراہب مو اورترام سے ۔ ان شراب محرفت پٹنے
دانے عاشقان صادقی کچ ہی ںکہبیٹرا بت ہیں خفننڑیںکری بلکہ سے ےعش بوٹیاری
نی ہے اود یجی الل کا دیدارکران ےک موج بن کے
رق
ویک ا کا اہ کی کیو ا کا
ےِ 27 زی وآ ون ہیع :زار
(ا ےگی الد بین جار دم شر نکی خرکاردارگی می جان دنا ایک عو یکام ہو چاتا
ہے۔ا اص میں ےگنا ول اور دار پرلگناہوتا ای
ایا جار ہا ےک اے لوگوا یں ہمارا ساتھ اود ای دق ببت دی گی پڑ ےگ
کیک ہم ن عاش لوک ہیں ۔ اور بیعش نکی محرارج اورمش کامنض فی انام ہوتا ےک اس بیس
ےنا ہلل ہونا ہوا ہے۔ ہے جر نف سکوتختددار پر چڑ ھن پڑتا ہے۔ اس شع می شور خدا
رسیدوصونی تین بن منصورعلا ع کی جاخب اشارہ متا ہے وہ بجوالشقی الب انسان شی اللہ _
نقماٹی کےعول کے ائل تے۔د کے ےکہاے میرے پر وددگارقے میرک رگ و ے میں ول
ددمارغ می اس طر چادی سے جس طر می ری 1گھوں س ےآ نسو جارکی ہیں۔ میرے ول و
دمارغ یش اس رج ہوگیا ہے یسے دو بدن جب ہو ای ہے۔ ال لکیفیت می نصور
نے نحرہ انا لن ڈگاا ود اس پر شرع کا نفا کر کے اسے داد پر چٹ اک برا کیا لاش کو کر
راکوکردیامگیا تھا ۔گو یاال نے اپنےعشق یق نکی اس ط رح سے قبمت ادا کی ۔
میں ھی سک وی ہی ا
و بقفلے پاے ہو٠" کرو'' نا
(اے ال انمان! ہم شب برقم سے را ہکی با لکرتے ر ےکن نپا نے غفلت
دراز کے غفلت ٹل۸۴۳۶ة)۔
بنرے سے ا ںکا پردددگار ایوں فر مات ےک اے میہرے بندسے می سپ تجیرے ساتھ
رات گرا زکی اتی سکرتار پ “لین فو بڑینمفلت کے ساتھ پاوں بچھیلاۓ سوتا پا۔ ال شر
ال' رکا اپنے بنرے س ےکا مکر نے کا ذکہ ہے اور کوال ہق رآان ید انل تال ا بثدول
سے اپنے خائس انداز یل کا مکرتا ہے۔ یی بش رکا نیس ہےکہادتالی ال سے ہجزد
گی با مشافککا مکرے با یں پرد ہشکر ے پاکوئی فرشن زج دے جد اس ک ےمم کے مطا بی
تب فغا الا ہے۔ وہ بی عاومرحبت اور صاح بححکمت سے (۵۱:۴۴)۔ اس شعمرشیں رات
نے ھراؤزندگی او رکلام الیّر سے مرادق رآآن مجیر (۳:٢٤٢)اور دی سے جوالڈتچارک وتعالیٰ 2ڈ
ور ھی اکری صلی ال پرنازل فر مکی ہبرصورت ولا بی تمش نکی اود ہی بات ہو ہیں۔
ر2
را ی0ا را ا نا
عریے جا یں تعت ا
(اے بنرے و نے میں جکسرفرام شکررکھا ہے ھم سے بے نیاز ہو چا ہے سکیا
نے میسو درکھا ےک تہاری مراشحت ہمارگیا ی طرف نیٹ ے )۔
اللہ تبارک وتھالی بندے سے ف مار ہے می ںکہاس دا ٹس اے بنرے ! فو نے بیئیں
۲9
الیل پھلا رکھا ہے۔اددشایتم اس لین یکا شکار ہو مک ہہرضورت ہمارگی بی رف لو کر
آنا ے۔ ا نین میں قرآن مجید یش .میوں مقامات پر الد تھا نے لف انداز جس اور
نف حوالوں سے یاددہا لی 'رائی دہے۔ اور یو بھی فرمایا ےک ہیام نے ہمارے اون
مکاذا کی طر فنیں جانا“ (۲۸:۸۹) اور یی ںگ یک۔'تہارق مراحمت یقینا خدا ت یکا
طرف ے؟'(:۵9)
رت
0 ر۲ اک و گویم راز
(نرم بستراورقواب استزاحت ے ینا مشکل ہوتا ےکن اے موزرے بند ۓ چاگو
اوراٹھے خینزکویچھوڑ تک آڑی را تکو ہم با ہم راز د نا زکی باج لک بل )۔
ا شع میس ایل تھا لی ب یکی جاب سےکنلدایا جار ا ےکراے میہرے پیادے بندے
ااٹھو ۔خواب فلت ےئگ لآ تما زگاان بیرادگ اورپ ٹُڑ یکا بی فائکدہ ہوا کین دناد
اتا سے بے نیز ہوکرمیرے ساتھ راز د نیا دی بای سکرو ے ۔آ دی رات کے بعدتچدکی
نما اداکی جاٹی تی ہے او رتچ دکی مز بہت پرہیزگازاو ری لوگ اداکیاکرتے ہیں ا ودک
فراون کے پارۓ ئیں فرمایا گیا ور ”را تکو بجر پڑھا کہ ید عبادت ےک
(ے2۹:۱ )ای رع ہ رایک ملمان کو کی رات ان اور نماز تچ کی کی بھی تی ہے۔
)۴۰:۵٤( ۔گوبا ال طرع بن ےکوموںع متا ےکروہ اپنے پر وردگار سے ضطو دخضوع کے
سماتحداپٹی مت ردضات یکر گے۔
ر ا ا ا صا ت7
نان اف )ہاو چتری ماز
راےہیرے! مھ سے تتوری طاعات" تیر نما تیرے دوزے سے بے خیاز یںا۔
ان پاقاازنگر)۔
۲٢
اکٹ عباد تگگز ار اور اطاعت بھی مرنۓ وا لے لوگوں شی این خاص ض مک کم سا
آجاجا جےکردہ بڑےعباد تگز اد ہیں ۔ دہ اپ نمازو کی تفاظ تکرتے ہیں اور پابندگ کے
ساتھ پرنماز اداکرتے ہیں اس لیے انیس یہاں کک خل یھی ہو ای ےک دہ اپ ےآ پکواڈد
کے مقر بکیکننہ گت ہیں۔ جب ان نادان لوگو ںکو اپنے بارے یس اود اپٹی عبادات پر ال
2 سے ذیکم ہون گلا ہف ھا نکی خمام عبادا جھل ریاکاریا ہوکررہ 7 ٹیں۔ای
لیے ان کے پارے یس اللہ تھالی فرماتا سے یل تہارک ای عبادتول سے بے ناز ہوں۔
۵
او یازت آور مرا کو ہو۔۔ صت
طاعت.'-+شائچ:' 2:٦: جبت.١. راز
(اۓ مر ےلممگار بنرے!میرے ساسن فے سدا جمرا جمزد میاز تی رہ ےگا کول
تیرگی شما کت عبادت لے ایک م بس راز ے )۔
اس شت میس اللتارک وتعال کی طرف سے عبادات اور طاعا تک جو روج سےا لکا
وکرموجور ےک الد تھالی نا ہیی عبادات کے یا٤ خبیت اورعبادا تگا رو حکود یھت ہیں۔
عبادا تک روج بی ےکہ بنرہ چھزاوراھہاریی کے ساتھ اہ ممب وو 27 کے سان اپپن
عبو بی تکا انا رککرے۔ بند ےکی عبود یت گا ےکددہ اپ عبادات پتخردگبراوربازنہ
ا ا ق ران بیس ارشاد باری ےک وو تام لوک جن ہی ںتقر ب اللی مل
ہے وہ اللدتھال ی کی عبادت سے انپا نکر ےوہ ب یکچ ہیں مشنول یں اورا تا ٰیٰ
بل جلالہ کےتضورحبدہ ریز ربچ ہیں“ (ے:2٣)۔ طااعت شاک تک الل تما ی کی جااب
سےم ربستت رازفرمایاگیا ہے ا کی ق لیت الد پرکچھوڑ دو۔
زلغ 9
1 6 کا کے دی 1 حور
2ئ مام و 7 گا وت از
(ا ےگ ال !تق نے اگ رکوئی تیگ مو سکیا اس کم نکر دکیوکہ جس تہارے
۲٢۱
ساتھ ہوں یں بی تی را کارساز ہہولں)۔
بنرے کے اس میں بی وتا ےک ووصرف اپنے تن اود انی عدکک پیک لک رکا ہے
اسے الہ تھا لی قبول فا جا سے با یلکن پر ل کا دارومدارانسا نکی یت پ وتاہے۔ اوراللہ
تزال یب یک لکی یت بیکود جا ےکہ بنعرے نے اس ےکس طورطاع تق می سکیا ہے۔ اکا
لیے فرما یا گیا ےکر دہ کیک اعما لک کےبھی اکساریی ادد جج ز کے باع ث کی از اش
نہیں ہوتئئ انی کے پارے ٹیل الڈدفرماتا ےکہاے بنرے میں تاج مکا بھی ہون او رکار
بجی ہوں۔ اس نیت ہیں سی ککر نم جس پڑن ےکی ضردرت نیس ہے۔ تج ز کیک جا
اور ہز پی؛ودیت اگ اللگو ند اورچوپ ہے۔ اس لے اب یں اپے ارے می گر مندگا
کیضرورتیں ے۔
ویر و بڑرہ از قت ا ڑ
ریا کی ای او این یت 7 جک
(اےمیرے بن ے! تو ہمارکیا امت سے ہرگ نا امیا نہ ہو جمار ےدرپ ناامیر گناہ
ےپ سیون ہم جات ہی ںکہہمارےسواتہارااورکوئی نی ہے )۔
بتایا جار ےک الڈد تمارک وتعا ی نے عد تم اوررنگی یں اور ال گی رمقت دہ خطیہ
ےکجس می سب یکو یھی دائع نہیں ہوتی کیرحت کیو ںکو ہداکرکی ہے۔ بندے کے
اعمال وعقاب ھکیس ہی ہول اس کے باوجودایتھالی نے اپنے اوپررمت واج ب تقرارد ےرگ
ے۔(۱۴:۷)۔ترآن یر ی یس میا طرح ےکی ارشاد ہار ہے اے ممرے وہ
ہنروا جنہوں ےعلم دتعدی سے الا چاوں ہے در نزیادثی گا ہے اللد تھا یکا رمت
بے نیت سے مالویں نہہو جا (۵۳:۳۹)او ریگ ےکس بکولو ٹک ایا کے پا
ہی جانا ے۔انسا نک اپنے بر وددگار کےا کوئی سے اور تگوگی دوصراا کاو ی سکاے۔
۲٢٢
ر
خوائیم ازیں عام تو پاک شی از مم
زی ا زل رم الو لئے موی ای
(اے انسان! یں چاہتاہول نہیں اک داش قمام جرائم سے پا گکردوں' ای
-) یتم پرا لا اورافا یھت ربتاہوں
تا جار ہا ےکہاس می بھی الد جارک وتقوال یک مصملحت ہ ےک دہبنرے پر ماب
ولا اور مشکلات او رز اش ای دنا ھی می ل نج د ینا ہے۔ اشن میس ق ہکن ری بھی
ارشادمو جود ہ ےگ اے ال ایمان پرآئینہ (زندگ یکی اقر ار عالیہ کے ححذظ سے لیے )تہیں
خوف' گرگی۔ فقصان مال' اعلاف جان' خیاغ رات (وحنت ) ئی (کڑی) آزبائژؤں
یش ڈایس گے۔ اب لتق کی دعب ر کے لے بثارت ہوک دہ قائ المرام ہیں۔'' (:۱۵۵)۔
انساو ںکوال تق تکو جان دنا چا ےک تہارک زگ ول ںکی نی ہے۔اس میں قرم
فدم پر مشکلات اور ما بکا سمامنا ہوگا۔ اس صورت حا لکوق رآنن مجید یں اس طرح سے
با نکیاگیا ہے“ 'اے ائل ایمان !تم یقن( راو تن میں ) اپنے اموال اور لس (جانوں )ے
اتلا یش ڈانے جا گے اورضرور ےکقم ا لکتاب اورمتٹرکوں سے بڑکی ہی د لآ زار ی کی
ایس سفذ گرم اس الا ۓ جسمانی وروعالی یس شیدوصبراخیا رکرداورت کی شعار بن چاو ے
)۱۸۷:۳(' اواوالزم لوگو ںکا ام ہے
: رف2
٦ لن وخ اور ار ور ؤو فراق
ور سوظقت را مم رضا پر
(اےمیرے بنرے !تم اس چہاں بس میرے درد وفراقی میں ئل کے ہو۔ اس لیے
کل قیامت یں کے جرعذاب سے بچاۓ رکھو ںگا)۔
پرودردگار عالم اپ بندوں سے گول ف رما ےکا ا ان ٹروارو تہ+وں
نے اص دا ٹس می ری رضا کی ار اورمیرے لیے ذکددرداور مشکلات ومصاپ اورآلام و
۲٢۳٣
ادبار برداشت سی ہیں اوراس پرانہوں نے عبر شکرس ےکا ملیا۔ تصرف عب روشک رکا داشن
تھاے رکھا بلہ اع امو رکوعن جانب الد جا نے و ئۓ ہبہ ا دی راہ یش استنقامت اور
اداد سےکام لے ر ہو ال لوکوں کے لی ےآخرت میں عزات او لا میں ہیں۔
رف۵
می با ام سے عاشق نز بانی بش
ہروں ناب ووست از روست چدا وٹ
(اۓ مرے ءاش بن ۓ میس ہمہ وقت مر ساتھ ہولں و بھی می رے اھ زوا
تیرےےلمان کے سا تد سا تھ بہوں ۔کی ئل دوصت ے دوست ہرگز جرانڑل ہوتا)۔
جو لوگ اللہ تبارک و تھالی گیا اطاعح تکرنے والے ہیں۔ جھ پچ ہوتے ہیں جھ
صرلان' شی ہیں' جو شہرا ہی" جومنصف ہیں جو صدودائدکی پا داد یکرنے والے یں وہ
سب الد کے دوست ہو تے ہیں الد تعالی جو ددود ہیں فو اس کےبھی می معمی ہوتے ہی ںکہ
اللہ تعاٹی اپنے کیک بندو ںکو دوست رئے دالا ہے۔ اللہ تھاگیٰ جا دالا ہے جوف بائبردار
لیک ہوتے ہیں الد این وط رت ہے اور اتارک وتعال کی بھی صفت ما ٰیٰ ےک دہ
دستوں کے ولوں می یوب ہو جانے وال ہے۔ اس لیے انسان پر لام ہو جات ےک ذہ اپ
انی کک و ا 0۰۶۰ء لد رر وا یں
سکوگ یی دق ہو ۔کوکی نیا بات نہہونے چا ےک جس سے اس دؤقی جس رخنہ پٹ جا ے۔
اے بنرے !کیا تھے اس اھ رکا تو ری سک الل تل کی وذ کوئی مم ول نیس ہے۔
۵
مرا یی ا کرو کا ا متا او رت
رای سے ظد ات1 داز :
(اے انسان! اگ چم نے جمادی جاغب سے اپنا منرموڑ لیا ہے اور لنیچ ررسے ہو
کی ا نے پا زی رھد کے تم نی ار
اے نلد ے و نے ہمارکی اطاععت عحبادت ٹیل بڑکی لاب دای سےکام لیا ہے ۔تم نے
۲٢۴
و مار جاب سے منہ مو ڑکر ایک رع سے جبے راہ وی ایارک ری ہے شاید بیتہادگا
عبری اور انمالیٰ سرشت ہے۔لئکن می قذ رب الشن الم ہویں تہارک ا رڈشی کے
پاوجود ٹل نے نے اپی رھت ئ0 ار گے اپتی رجہسمت ے' مکھی نیس رکھاے
وہ یں تہارا بروردگار ہوں۔ ق رآن مد بیس اس رر ے ارشاد پارا ےک نے
کیاددمہ بارش اور اس یھی رع کی ہو۔ پر وردگا رکال س ےکوی رکا ریس ہتا۔ بک اللہ
بل جلالہ نے ب تھاۓ رہو بی تھی لا محدودآفاقی رتو ںکو اپنے اوبہ لاز مک رکھا ہے“
اور بھی نیس بلگمہ” جب وہ رححت کا ارادہککرے ے ا سکوکوئی رک یں ا۔ ۔)٢۳:١(
(۳۸:۳۹۱)۔
رن ۱
از ورد 'ُرای پا تہ یب چیا روز آری
دلزار 232 ور روز ا شر
(اگرتم اس دنا یش میرے دردوفراقی یں شام سک تک ہلا رد گے تو ای کے
بد نے یس اے میرے بن ے! می ہیں روز لقا اپ دبدار ے' رئیش رکھو ںگا)۔
تی جا ا ےکہ جولوگ ان دنا یں دذدفراق ای میں ہیں ۔اوراک پوررگاررے
زیمت لات ک لی رووا ہا شس الفاعت ای شی رہ اودا کا دود
ایی خاش یت کے ساتھ پادار کرت ہیں ان لوکوں کے لے خی ہے۔ الل تھا
یں روز قامت اپے لقا ےر یں رک ےگا ۔ این میں ق ران مجید می الد چارک و
تال یٰ کا یر وعدہ ےکی جب برلوگ اللہ تھالی سے ماتی ہوں گےٹو ان رسلا مکہا جا ےگا اور
ان کے اعمالی صا مہ کےسبب سے (اللدتھاٹی نے ) ان کے لیے باعزت اج مہ اک ررکھا ہے
(۳۳:٣۰)۔. بج ینہیں بالی'' اس رو زی چچرے ہشاش شا اورتروتازہ ہوں گے اور اپ
پروردگا رکی طرف دورے ہوں گے_'(۵ء:۲۳۲۳)۔
۲۳۵
2
5 ررل تو ار و نے زا
در 27 2 ری نارگم بر و
کرت صرف ایی روڑیی اپ ول میں ادرک گا ہنی ںآگ سےبھرے
ہو دوزغ ش ہیں وین بے
اللدتجارک وتھالی اپنے بن نے سے ہو ں بھی فرمار ہے ہی ںکہ اے میرے ہنلد سے ا
ریا شتھارے نار ان بت دراز ے ال زندگی می تھ پر تی ھی بے شر ذمہ
داریاں ہیں' نے ئل دنا کےجھیلوں می الچھا ہوا سے اورپ راگر بے ا وم
ہے بچلرقم ا نکی دنا کی رگینیوں کھوطاے جوا لیے اے میرے بند ے! اپٹی ان
مصردفیات اور داد مرگریوں یس سےصرف ایک د بھی اکا لکرن غلرںش رل کے ساتھ
ہیں یااکر نے ہم ینا ہیں نل وآ ئن سے ممرے ہو ۓ دوز رخ کے نپ ری ںکری
گے۔ بیس می لان ہوگ کہ ہمادے بندے نے یی ایک بارتذ ضرور با دکیا تھا "اس لیے اے
ارم ےتفوظط و ما مون درکھا جائۓے-۔
رگ
و اوت مو و ورای
ےرت ام 6م ور اابطظ:: جا ہگ
(اے بنرے! ت نے اپ ےگناہو یکودیھا بھی ہے اورذ ان ےآ گاوبھی ہے مھ
س پ گناہ یاد ژإں۔ اور ا ن کا اما لگا ہے کین ہم روڑ ز بڑا ہار ےگناہو ںکرتہازے
مان یں لان گے )۔
نرہ اپے امالل دافعال سے بن لی واقف او رآ گاہ ہوتاتۓے ای لی ےکہا یا ےکہاے
بنرےذ 2 اپ مناہو ںکوخوب جاہتا کے فو ان میں ملوث دہ بھ سے ب گناہ سرزد ہے“
اش لۓ ذ نے ایس دیکھا ہے۔ اہ سارک صورت عالل کے پاوجودروز قیامت چپ لوگوں :
کے اعما لکا صا بکاب ہوگا فو اس وقن بھی ادڈزتعالی بد ے کے سائے اس سک ےگنا ہو کو
۲٢
یں لاکمیں س ےکیوکہ اتی اپٹی صفات شس ستاربھی ہے اس لیے اد تعالی لوکوں کے
مگناہو ںکی پدہ پٹ یکرنے والا او رگناہو ںکوموا کر ے والا غفار الز بگگی ہے۔وں
ال رکا تتار الو ب اور خفار الذنذب ہون انمانوں کے جن بش ہے۔ ہر بندے کےگثاہ
: دہریں پہظاہزنیں ہوں کت
زگ
اے تح ںی متاں ا کہ نہ خاہم بت
کو ن یکو رتا یا و وی شا ون
(ا ےگناہگار ا ےکیکیوں ۓ خال یٹس اہ تہارے لے اپنا دردازہ بن نی کر بین
گے۔ ہم تیر ےمتظرر ہیں گے۔ بللہ ارگ رت کا درواز وتہار نے لگا رز ےگا)-
اس شع ریش ایک پا چرافلیارک تھا یکا بے پناہ رتو ب یک جانب فوخ رد لا یگ
ہے گرا اندا زی کہا گیا ہے ا ےگناہگارانساان' اگ رق نے نیا نی کم امیا ا دمن
نات سے خالی ہے فو اس کے پاوجوداگ رذ نے ہچ ول کے ساقھد اپے ائلالقذاب سے
ات نےگناہو ںکی ف برک پی ہن تمہارے لیے ال کی بے شار اور ائکنت رکتیں ہیں۔ اس کے
علاوہ یو ں بھی اشمارہ موجود ےک اللہ خالٰ ابی اپنے بندے سے مالو نیس ہوا۔ اس نے
ےو ای ات و ےی ےکہدہ تاب ہوک اپنے پر دددگا ری طرف رجو کرے۔
کیوککہ او تھالی نے فے اپنے بندے کے لیے ای رکتو کا درواز وسدا اھ تی رکھا ہے ۔ اب
بی گناہگار بنرے پر ہی موقوف ے/۔دہ اب الک جا بآ۲ ےل لآ 5۔
م۹۵
از 9 برا ون از دروات چاویرال
یی وٹ ات وا نیہ پانا زار
(قرب ای اورمحفنتفقن بہت بڑئی نقت اور دوات چاودالں ہے۔ دوات چاو یھ ے
جداہو جانے کےخوف سےگی الد بن ایک دم کے لی بھی اپنے پر وددگارکی یاد سے خا ل ئل
×اچاتا)۔
: ۲۳٢
تایا جارا ےک ال دک یادانمان کے لے ایک نقت لازدالل ہے اور یادالی نٹڑرے
کے لیے ایک دوات جادید ہے۔ اس دوات کا حاصل دجن انسان کے لے بہت بک خوش تی
ہے۔ بادالی ےعراد پیک ہ ےک بن زندگی کے رش میس اورسفرحیات کے ہہ رموڑ 4ال
تی کے تو انی نکو سان ر کے اوران کے مطای زندگی بس کرت ر ہے۔ صوفا ہکرام کے
یک بادالھی سے مرادذکر ال یبھی ہے۔ ای لیے اکر لوک ز بای دک لیب ھی زیادہ قج
دپے رج ہیں ھن کے دانوں پگ نگ نکرنٹی با بجی ذکرکرتے رت ہیںا۔ بذک کیا ہے
اس سلطلے یس علامہاقبال نے خو بگھ لکر جا کی ہے۔ ای طرع ایک اود ذکرقرآن جی دی
ہے جس کے ہار سے میں فرمایا گیا ہے مال تھال یکا ایک نقت وئنڑان پس متظ ری گی
الد بین الد کے کر ے ری زا لنیں ہہوتا کہ اد کی نت ما دولت چاودا ل کو جا رے وہ
مین ندجائۓے۔
رریف یں
یل"
۵0
لزے عحل را از کار زار ا یں
انی سلطنت را از عال ذاء ا پک
( ہمارےگ لک لزت اورشو یعبودی تکو ہمارےکار زارحیات سے انداز ءکر کے
اورااس او کے تن سلطفح تکو ہار نے ععال زار سے دد یا تکر کے )۔-
انسان اس دنا ش٥ش حیات کےک نگن امور مل غلطال اور جال ے۔انان
مال وتوادث اور احوال و مشکلات ٹل سے کک رع ےگمز درد پاے ال کا اثراڑہ
انان کے اعمال میں ا سکیکن اورضٹوع وخحضوع سے ایا جاسکنا ہے۔ جے شاعرنے لت
ل کیک وا کیا ےکہانمانی اعمال میں اس کے لیے ایک خاص شی اورت ریش موجود
ہے۔اسی لیے دہ زنگی کی دشواریوں اور اذجو ںکوبھی قبول کے جانا ہے۔ وہ رکاوڈول اور
۲۲۸
کیدیوں می بھی زواں :دوالی ز تا ے۔ عزامتو ںکیکھتیا جالی سےکبھی وہ بد لکٹیں ہوتا۔
7 و کے سالپوں بی ھرک زہتا ہے اوراس پر وروگا رکا تن سلطلنت اس طرح سے
کارفرماادرنافْذ ہےکہدہ ہماریکندرحاات کے باوجودچل رپاے۔
ر
ما 1 ھ رای در( فرای مار
رو روآ ال٣ ۔ہعبت از سوگوار ا یں
(اے دنا کی طالب انسان !تم عاش نہیں ہو۔ اس لییےتم دردفرا یک کیا جاند۔ جا
ہارے ال دردک یمکیفیت ال سے پپچھو جو ہارے دیدار یل معحیبت اور سوگوارگی مل رہتا
79 ۱
اے دوست تم پیش سےکویسون زور ہڈا شی مض اورمش یک یگھائیو نکیا
پکزنئیں ہے ۔یعمضت کیک ایانس ہیں اور چاے والوں کے کیاکی سوا یں ہیں ال
کی بھی ہیں خرٹیں سے تم دردفراتی سےبھ یآ شیاکیس ہہ سکیا تا ہے او کہا ہوتا ہے۔
اس جدائی کے ورزیش عاشن کےقلب مجر اور جاں پرکیا کیا عزاب نازل ہوتے یم ت
ان کے پارے میں سوچ بھینہیں کت شی کے بارے میں ارت جھ جانا چا ہے ہو جا
ا يکیفی ت کا تم ان سے پاتچھو جو جمارے دیدار کے لیے تزسساں اور سوگوار ہإں_ وہ ڈو سدا
ن خماروں یی بی رت ے ہیں۔
ینوی ا ہو و مرح عاع نے
ہکان سر اتا ران او ےوران اما کین
(اے جاش زار!عشق فو ہماراباز ے جھ بس فکرتہارگی جان کے پرندمےکو لےگیا
ہے۔ ہمارے اس پر اعرار باز کے پارے یل جانا اج ہوتو اس سے و ہچھو چو جماراشکار ہوا
ان
عشقک با زکہا گیا تےں با ایک بڑا بی باغرت اور پروقار اورآی )دہ تا ے۔
۲9
تو فکی دنا ئیش با زکوزاہرانہاوصاف الا برند ہیی مھا جانا ہے۔ با نکی جوسب سے ڑگ
پان اور شنات ول ہے دہ یہ ہ ےکہ باز ایک فارگ برندہ ہے جم بھی پرندے با جاندا رکا
پاہتا ہے اکا من ہپ فضا تی یس شکارک لیا ہے۔ای لے قایا گا ہےکراے بندے
از شی کاپ انا واکر کےئھازکی ا گے کور ےگ ےگا ےب ہار شی کاو باز
مرا اسرارورموزکا شناور ہے ۔اس لے اگرتم اس باز کے بارے یل چھ جاننا چا ہو
اس بے چارے عاش سے سو جوا کا شکار ہواہے۔
ر"
واشق کہ از خم من کاہیدہ گشت و ہاں دار
اں مرغزار او وا ان2 ضر ران 27
(ان لو وکہج عاش ہار ےم میس لاخ راو رکردر ہ وکیا عف اور نا طا فی کا شکار ہوا
ارچ راس نے اپ جا بھی دے دی۔ جار ےسٹرہ زار بی جوکن در سا پرند ہآیا ہے السی سے
ہمادی چ اگاہ کے بارے میس پگ وک د کیا جاتاے )۔
نایا جاد ا ےکہمعدف ت کا نرہ زا کیا ہے ال تر اگاہ کے دو رکیا ہیں ۔ ہمارگا ال
چراگاہ می دہ جوکرور برندہآتا سے وو رتو لاخ راورد لا چا ہوت چاتا اور ال اپ جا نا
بھی بازی لگ د تا ہے۔ یں شاید دمح نت ابی میں فا فی ال کا ہی مقام حاص٥ لک پاتا ہے۔
اس کے بعد وا لے مرا تب سے دہ بے نج رمحردم رہتا ہے۔ اس لیے میدانپشق ای شش عام
کور پرنرو ںکیکوئی مین ش نیس ہہوئی ۔کیوکنہ ہمارےسبنرہ زار محرت میں دم قدم پہ
ہراب اور مرارن ہیں ےجو ان برستور اپٹی قوت اورارادرے سے بڑھتا رتا سے دہ ہیں
حائ لک/تا چلا جانا ے۔
۵ .
3 صاف دلُ ھچ دا ی' ناپرن رن
آ ین ورر ری از درد عُار ا پکسا
(اے بھلینص !تم صاف ول اورسمادہ لوج ہت ھی ںکیامعلوممکہ نال یع گا یکیا ہوتا
۲٢
ہے۔ ہارے دستور درد بندگی کے بارے می جانا ا ہو ' مرش کے درد مل بتلا ہونا تا
ات
اےنو وازد کن !تم تو پڑے ہی سادہ ول اور صاف لو عم ےلکن ہو می ںکیا
معلو مک را تکیاہولی ے اور ون ہوئی ہے۔ پچ ردان لک یگر یی زاری اورآہ دہ ک ےکی
مع ہوے ہیں ۔شھیں نز ال بح رگاہی او رآ ٥ع گاب کی رددادکا بھی ملمیں۔ بے ہونے
سے پلک گرم زاریاں ہیں۔ ان میس اشکوں کی مالا کول پآہ وزادیاں ہول ٹیں۔ دہ
ساضتمیں عشاقی کے لے ضوع وضو کے ساتھ رون ےکی ہہولی ہیں ۔ انی خانیوں بس پارگاہ
رب العزت می اشنکوں اور ہوں سے ئشرابوردعا نی مقبول ہو ہیں ۔ اے ووست ال دادگی
عق رای بی وستور درد منرگ کیا ہے اود دوک طرح ے افْز اور واررہوتا ے؟اسرفے
جا نے کے یی ےبھی ہماری دی طرع قلب ول رکونمارشق ےچک یکرنا پا ہے۔
رات
دل از ٹم ذو +: یی ا و
آئی بر شی می از لف يد ا پں
(اۓ د للوروول چہاں 2 ے فارغ کرلواسے دنیاو یگھیاون ےآ زاوکر کے
او ری الد بین کے پا اک ہارے ار کےلطف دوکرم کے ہار ے یل پوٹچھو)۔
اے ووست ہار ےگحیو تی اور عجیب تن کے ااطاف واگرام بڈے بے پایاں
ہیں ا نکی ہم پہارڈالی اورفراوانی ہے۔ اگ یں ان کے پارے مس بھ ال ےکی طلب و
آرزو ہے اس کے یی ضروری ےک ہو سب سے پچ لهکونین سے بے خیاز اور بے برداہ ہو
جا۔ ب الم ال اور عالم بالا ]نی دوڈوں ججہاں ان الطاف داکرام کے سان پا ہیں ۔
رر ماں۔> ام9 نے را ہوا مال
وت کرو وا اروا ہت مال
(اےدئا کی ریگینیوں میں مت لوگوا رج اس دنا ٹس بے پرداہ نہ ہو چاو'اورقرداکی
گر ےبھی پالئ لآزادنہہوچا)۔
اے بندے اس دا کی رگیٹیاں اورکار جہاں بہت زیادہ ہیں اس لیے انی نہ ۔
کھویا رو ہہ ابی وت س ےکیئذ ای دنا بی میں روک رآغرت کے لی بھی ےکر نے۔ اس
شف رم اس جانب نوج ولا یگئی ےک انسا نکوصرف دنا ہنی بک آخر تک یبھ یکر
کر کی ضرورت ہے۔ائی اخقبار سے موی نکی اپنے پروردگار سے کی رما بث ےلم
”'اے مارے پروررگا رڈیل دی میں بھی 2 انعام را او رآٹرت میں ھی یی اعام فر)
اوگئیں باردوزخغ کے عزاب ے یا''۔(٢٢۲)۔ لق رآن مجید میں اس ط رح جج یآیا
ےک ہوکوئی د نیش اپے اعما لکی تزاجا ےگا اے چم د اٹ دی گے اور جوآخرت مل
چاےگا اےآخرت میس اج عطا کیا جات ےگا )۱٣٣:۳( اور انل کے ہال تو دنا اورآخرت
دونوں کے لے انعام واج موجود ے۔ )٢۳۴۰۴( ۔ اس لے انا نکواس دنا جس روکر
خر تکیبھی با طورپرگکرکرکی جا ہیے۔
۱ کشیے پا 0 7 بنٹیں رر(
7 ,7,9 و
(اےلوگوا کیک اعما لک ایک مغ شی پناؤ اورااس ٹیل سوار ہو جا اس دنا کے
۲۲۲
ددیا شش نحرق ہو نے سے چا)۔
اےلوگو کیشن کر کے اعمال صالیراورصنات واف رکی اپنے لیے ای ککفو یت مک کش
بنالو۔ بیرد تا تو وق ت کا ایک بہت بڑا اور بے ایال ددیا ہے ۔ بیردال ددال در بتاے۔ال ددیا
می با تفاظت او رخوطہ ماموں رب ےکی ناطرتہارے پاس بڑی مضبوط اوراط مکی شی
ہولی چا بے اور رقیقت ےک ہارے تیگ اعمال 11 کی بی اس متصد کے کی ےکا نے
گی وین یں اس در یا فرق ہونے سے با گن
چ
قب لق اہ تل مس رات رکٹ
ال بز بحال کخویں ماش
(لوگوا تمہاراراتو لکا چاگنا تمہارے پروردگا رک بے عدمرفوب ہے۔ اس لے رانوں
کاگر مہزاریی سے بیگانہ نہ رب اورمظلوموں کے احوال بھی غفلت نہ )۔
اےلوگوا اس تق تکو جان ا دک تہارے پروردگادکورانز لک عادت اور ال وقت
کیہ جب دنا نحوخواب ہوئی تی اس وق تکیگر یزار اورآہو پکار نے عدم خوب مو ےہ
راقؤں کے نالوں اورآ ہو ںکو اوراپنے بند ےکی دعا و ںکو ال ارک دتا لی ان لحات اگ
یں قبولیت بخقا ہے۔ اس لے اپنی راتا نک یں تی انح شکرو۔ ای کے ماخ اھ
مظلوموں کے احوال پربھی نظ رہ رکنواور بیبھی جان لوکہز یادی بے انصائی' قانو نف عدود
فرا می اورسلپ وہب ونٹیروس بعلم ہیں اورسعا شر مماملات شل بے اعفیاشی پرتائھ یلم
کن اس لیے ” مظلو مکو اٹ رافعت کی اجازت ہل ے۔' (۴:۶۳)۔ اپزاتم گی
مظلوموں پروچردیا کرو
ز۵9
ور پے مد "ھی نا گویان یک
77 0ک ا
(اگرتم چا ہوکہاےے بن جا کہ نیک لوک تمہارے لیے دعاکر بی دی سے بد
۳
شکرو۔ او تھا گی 2ر۶)۔
چا ےک دہ ایے ا مال وافعا لککر ےگ جن ے ا ںکا اپنا اور دوسرو کا گی ھلا
ہویں ۔گویا صرف اپنے مفاد کے ہجاے اجا گی مفادکی خاط رز ندگیکزارنی چا ہیے۔ ا طر
محاشرے کے تی رخواہ اور تیگ نہادلو کتہارے اورتمہا رگ مصردفیات میں شمائل ہہوں گے اور
دو ہار کامال کا دعائجگ کر بی گے۔ اس کے علاد سیا سے برای یا دک شدکرد۔ ا رر
تم اک یں رہو ا ا لو ںگگ یکہا جاسکنا ےک تی ک کاموں اور یک راہ بر خود تھا سی
گاھزنع شر ہو۔ ا ہے امور یل دوس ےلوگو ںکویھی اپنے ساتحشائل رکھو اس سے خر کت
عاصل ہہوگی اورزیادہخ خدا نی ےرات سےٹی باب ہوگیا۔
۵
رل کس ورحڑقی ٠< او ا ری یر
کا و 7ح0 الاو مان
(اے دن والو! اپنے د لکی منزل جنت اورآخرت بی نہ بنا رق سب اناو لک
طلب ہوتے ہیں ۔ بللہ جنت الماوگی حاص لکر ن ےکیکوشت کرو )۔
اےلوگو! صرف روز سے جات اور جڑ کا صول یسب چون ہے۔صرف
خر تک خوشیوں ہی پر قاع تنہی سک بای چايی۔ بلہاں کے علاوہ اور ان ےس اور
رشع درجات اور مقابا گی ہیں۔ بتایا جانا سے دوزخو کی تعدادسمات سے جنتو کی تحداد
آٹھ ہے۔ پر جنت درجہ بدرجر انل اور ایی ہوتا ہے۔محللف تام میں آٹھوں جنتوں کے
نام۔ جنت النفر دو جنت عدان جنت الم وگ دارالر دارالسلاع دارالتظامممتین اور جن ت تم
ہیں۔ ان یں سے جنت المادگٰ آرا مک با سے ا می کے ایا
ہے اس سے ہت رکوئی اورکگھ نیس ہوسکنا۔ اس لیے اے لگا ا دکی رجمت بب تہکشادہ ہے۔
بت دن ہے۔اس لیے اکرطلبکرونو جنت الراوگیپچھیل ل کت ہے۔
کار درویٹان و ملین برآر
ا و می مر ہی رٹ
(اےلوو! ورویٹژل او رگیٹوں جج کا مکرو۔ موت کی سرا یادرکھوںعرف دیای
کے شہہوکررہجا3)۔
اےلوگو! وروی او کن لوک اس دنا کی ز یعت ہیں۔ ال ہیں نف د ےن ان
لووں کے ضرو رکا م27۔ ا نکیا مر کرو درولی تٴ اپ ال دی بت ہیں مست رہۓے
دالے ہوتے ہیں۔ ىہمو تی اورنکیوں کے جواہرات ش کر نے دانے خدا رسیدہ بنرے ہہوتے
ہیں۔ ان کے ساتھ بعلا گی اور گی سے ٹیش 1ن اور اسی طرح مصیفو ں کی بھی غرم تکرنا
ضروری ہے۔ د گی با طورتی دار ہوے ہیں ق رآآن ید بیس متعددمقامات پ ال تعالٰ کا
مساکی نکی اعدادکو ان کا قرار دیا ہے۔ ماکین کے ساتھ اسان کیا تاکی دک گی
ہے۔(۳۷۴)۔ اورم ای نکوا نکا عق دپے کے ےگھ گکھاگیا ہے۔(۳۸:۱۳۰) یئوس
گر ساکی نک مال د ہے ہیكواصل می قراردیامگیا ے۔(۲۱۵:۲)۔
۱ 2
کھوئی 03 ؤ۔ وو 29۵2
گن ۴كق یئ
: (لوگواکھائ یکرؤ یک یکر کے کیک نام بنو۔ دنہ ہس یکو اذ یت پا نے میں شرت
ماص ٥ی دکر3)۔
اورلوگوا کیک اعمال بیزندگی کا عاصل ہوتے ہیں۔ بھی اپے آ پکوبھی فادہ دی
سے اور دوسرو ںکویھی۔ لک یکو ال تی بہت مرو برکت تا دی ادا می بھی اور
آخرت می کا مآنی ہے تاس لے انان کے لے لائم ےک دہ تیگ نام رے اورسدا اپنا
دانع صنات سے کرت ر ے۔ بر ےکا موں اور امور سے ابجقا بکرو تلق کے لیے مفید اور
مواون بنو ہک ہلوگوں می اذ ارسانیوں یس بدنام یک2 ۔ انماخی تکی ایذ ارسالی درائل انان
۲۵
کوخود بی تا او یلعا ڑل ہے۔ اس لیے دومروں کے سج پھلای اوراحا کرو ںیگل
”احا نکابدلہاصان کےسوا پچجاور ہو جینہیں کت (۵۵:٦٦)۔
ل0
رار خوای راپوں شی دا دہ
کیو سی نم ا و 1
(جب مک الصاف کے طال بکو دیھوت اے الصاف دو۔ دکالن چاہ ٹل مودے
کے خر رہو)۔ ۱
اس شع می موانشرقی یو ںکی طرف متوکیاگیا ےک اگ سی ا یش سکودیھ وہ
کسی سالے مس انصاف چاٹۓ الا ےپاکسی داد ںکوکوئی مکل ہو ضردری ےک ہا کا 7
کیا جاۓ لت کا ساتھدیا جاے۔ اگراللد ن ےآ پکوکوگی منصب یا عہدہ عطاکررکھا ہے اود
آپ دکان جاہ لشنی اس منصب من ہیں تو اس عہرے اور منص بک بای لور پہ
اداد کرواور جتہارہے فر افخ ل نی ہیں نہیں بخو لی اوران طریے سے نجھاق اک نہیں
فلق اپنرندکرےاورتہار ےگہدہ اور منص کا گی بی نقاضاے۔
الگ
ر”' رو برا کل ز7ا ز5:(یا“ ا فیا0
او ری ریہ رق ا کا
(اےلوگو اگ رت ہی پچ منصب باافقیار حاصل ہوا سذ زمر دستو کو پامای شہکرو۔ نہ
کک یکا مد ہنوادرنہ بلند الا ف رق عی شی میاضددگ انقیارکرو)۔
چان لوک مواشرے کےکزرور جا !ز اقحت اورمظلوم لوگ بہت جیا اہم ہدتے ڑییا۔
اپ اوال می اہیے لوک بے وسیلہ اور بے سادا بھی ہوتے ہیں ۔ نہذ انیٹ پا ما کرد اور تہ
ائیں نباہ ہونے دوں لوگوں مس تہاری ہیی تہ کے چانفرہوکی نہ ہوک وم بہت معمولی ہوتا
ےاورزیادہ و رت کبھینیں رت اورامی ط رح بلند و الا قطب کے پا دالا ستارہفرق گیا نہ
بل کرت لوکوں میس موجودروسکو. اس سے انسالی ذات می نھروانگباربھی پی انیل ہہوتا اور ٠
۲۲
جزدانکسا ریگ برقرارر چنا ہے ۔اورخلی کے درمیان ش رہن بہت بڑی فضیلت ہے۔
ز۵
ای ای و مز مو
کی اھ ری ہہ
فی سیت ات پر ای ا و کے
آسانکام ہے۔ لوگو ںکیخجررکھنا کی ےنس لا پرداہکی پروی نر یا)_
ششیحت ایک عدہ معاشرتی مل ہے تحیحت کے ہفیادک مھا ارہ مازکی اوخ ران یق
کے ہوتے ہیں ج بک یکوائچی رش ایارک نے کے یکپ جائے قزاس یں کی دا ےکا
انامفادکو نی بوتا۔ ا لکا ترک جذ بردوسر ےکی خی رخوائی ہوا ہے۔ اورشمیعت کے مع کسی
کے ساتھوتمس ہونے کےبھیا لیے جاتے ہیں۔ ہرسول نات ہواکرتا تھا۔ اس لے اک
گان دی نگھی اس منصب تجح تکواپناکرلوگو کی تی رخوایکرتے ر ہے ہیں ۔ نت گی
الد ین فوث الائشمم ای انس شاع کی یس ایک رح کی خودکلائ یکرتے ہو کے ہی ںکراے
گی لین تم دوسروں یکونیحت زدکرتے ربنا" کی کرقم ابی نشیحت
پہ تکرتے ہوا کے ساتحدساتھ اپنے ٹل س پگ ہوشیار رہ دوسرو ںکانشح تکر _ت
ہوتے تم خودا نس کے پیر وکار نہ ہو چانا ۔ بقول قرآن یر نس مارہق برائی کت رک
رتا ہی رتا ے'' )۵۳:۱٣( ہا ےا پنقا ھی جاہیے۔
خزل 2
0
داد ما چان ۲ پادہ داد از چان خویش
یھب ارد ای ہو فیا :ون
ری نے مھ اپنا جان اش سے مان دم کمزڑ کی کی بے نوریں ے
نایا ادرمیر ےکفرکواپنے ایما نکاگو برقراردیاے )۔
ری
اس شع رم ںیو بک شی کی عنایات اودمریانیو ںکا ذکر ےک راس ال تھاٹی نے انان
کےاندراپی روع پچ ککراے شرف انسالی کا اعزاز پش رکھاہے۔ اور انان کے اخدر چھ
روح ال کا امر ہے اس روح کے پادے مل اول وضاحت مو ہد ےک جب انسما کو ال
کی انسالی صورت میں درس تک دیا ق اں کےاندر(ال تھا یٰ ے) اپارس چوک ری
گی ال تالی نے انا نکواپٹی جات مج سے ایک نز ندگ کیٹ ی ۔ اس طرع انسا نکاکفر
ھی اشن مک تھے ائان کے جو ہرمیں بد لگیا۔ انسان کے اندر اللتعالی کا اپ در
پچ و نے ے انسا نکو مرتبہ اور اعزاز اورشرف مس رآیا ہے ال برغور ون لکرنا بھی کین
انا یدے۔
2ك
1 در او یم شب گور کہ اے لو یپ
پچ کی ہیر ریہ پاں خول
( ٗی رات کے سے بارگادن سےآوا زآٹی سےکہ بو اجب انسان :تق نے اچھا یا بما
ج ہک یشید طود کیا ہے اتےمظاہر کہ ۔ یا دی برا ہی کرو ںگا)۔
را ںکی عبات اور ران نک اگ زاریی تضورق بہت متبول ہولی ہے۔ موجہ ہے
کہ جب اللہ کے یلک بنلرے راف ںکوعبادا کر تے ہیں ا آو وزار یا ںگرے ہی ںانرے
جواپ یس بروردگا رف راتا ا ا ا تڈے اپ عام زندگ میں جوکھی اگ یا
بدےکام کے ہیں ا سکی لوگو ںکوقے ہرکزخنئیں کے اس لیے انیس لوگوں پ نا ہرشہکرواو رھ
ےا نکا معائی ا نگ لو۔ می انئیں اہ بھ یی سکرو ںگا اورائیں ؛ نضل وکرم مواف
گھیکردو ںگا۔ یا بیگگا ےک یو ران نکو جو شید وعباد تک تا سے ا ےبگیا طا رنہ 7
ج
- ۲ آلورہ 22 مالودہ
کپ
بنرہ نرارد پّاہ بز رر سلطان خویش
(گر چتگناہوں ےآ لودہ ا بثدوز جمارای ے۔بند ہگناہول مت و یی
۲۲۸
۱ رہتا۔اور بنرے کے لیے درسلطاان کے علادہ او رکوگی جا پناونیں ہولی )۔
فدہ چا کیا یکیوں نہ ہو۔ دوس قد بڈ اناگ رکیوں شہہ ا کا دا نگناہوں
ےکتنا ہی لود ہکیوں شہ دہ ہرصورت شی بندو و ملق و ما لک ال کا ہوا ے۔ اور بٹرے
اورال٣ کا یرشتہ واسططہ ال ططرح سے ہے جیسے شاہ اور ا لک رعایا۔ اس طرح بنلدو اپ بادشاہ
کے ورواڑے کے ای ہیں اونٹیں اما اتارک وتفالی نے قرآن یز یں مد پازاور
لف حوالوں سے اپنے بن ےکو پکارا ہے ۔ سورہ الگبوت میں ایک ارشاد اس طرح سے سے
اے میرے ایمان دالے بندوا میرگی ز لن دک ےک اس لیے موی عبددیت اغقیار
و (۵۷:۲۹)۔ اور بر اللد تھا لی کا بیو بھی پہ امید ارشاد ہ ےک ہا میرے بد چو
ط یادلیکرٹٹھ۔اس کے باوجودمیرکی مت ے نا امیرمت ہو۔''(۳۹٣:۵۳)۔
ر"
31 گ وھ اھ او اے عصیاں سے
/لہمت ا مم ۷نا خوش
(اے بنرے اگ رکوئ یی ںکتا ےک ہار ےگناہ بہت زیاد یں ال پ مدگا
رات اق انان سان
فر مایا جاد ا ےک اگر بند کت چھ گنا ہگا رکیوں نہ ہو۔ ال ک ےگمناہو کی مقدا ری
بھی زیادہ ہو۔ اس کے باوجود یجان لونا اب ےکہائلشل جلالۂ عم نوالہ دب پان" کا رشت
پرصورت بندے کےگناہول سے بہت زیادہ ہے ا لک رممت ا محدودادر ٹے انچا ے۔
دہ اپٹی رہمت ھا ورکرتے ہو بندول کے اعمال واوصاف اوران کے متام دکوڑیں دبا دہ
پل اقیاز سب پر اپٹی مت فرماتا رہتا ہے۔' اللہ تجارک وتھالی نے ا اپ مت واچپ
قرارد ےی ے۔'(۵۳۰۷) ان می بج یکوئی ض رش یں از یت کے
لے صاحب رعت ے۔ ارشاد ہار و ں گی ےر او رتہارا پروی شلکنتدہ بے نیاز اور
صاپب رم ت کال ہے 30 :)۔ اور سی نہیں بلہ ”دہ و صاحب خفران و صاحب
امت ے۔''(۱۸ فان نکی ہے اورمت گی /ۃاے۔
۲۰
9
ورشی و وست خود رای ىر یلک : +ہ
7 رم می ا ام از' خاصان: غس
(اے بنرے اگ رتو اپنے ایھے اور بردے چرے پہ برا دعا ات اٹھا تا ہے تو تا
دواکو میں رڑنہو سکرت' گے قجو لکر کے اپنے نما بنرول می شا رک لیا ہوں )۔
اس شعریس بن ےکوبوالددعا با گیا ےکمددہ کیک ہے بابرا ہے اسے ہرعالی ٹل
اپ پروردگار سے دعا رورکرنی چا بے ۔کئی اعاد یٹ نبدئی اڈ بی ہے آ ڑا ےکراپنے ال
سے راک یکو کی اوت رف فی کے او زا پر بھی نے الال اچ وکا
دماؤو لکوقبول بھی فرماتا ہے۔ دعا کی قولی تکیا ہے۔ ما بھی ےکہاللہ تھا کسی کا مکرنے
دانے کے اج کو ضا نع نی سکرتا لع ای ا ان کے پروردگار
نے پا کیا ا نکی او ںکیشرف تولیت ھا اورف بیکش کی کیک کا مکرنے
والے ک ےکا مکوخواہ مرد ہو پاکورت ضائع نی کرت (۱۹۵:۳)۔ اس لیے و ںکھی ارشاد
سےالہ خدا کے وا اورک نہ پارہ _ وونمیں دنع پا سکت ہیں زقصان۔ وو تمہاری مصبت
دوڈٹ کر گے (1:۹ے)۔(ا وی رما ارپ7
تق الموں شی سے ہو جا ۓگا۔
9
و و رو یلا می و
پچئی و رشن خر شط. جبان خل
و کم ات لے بن بی ین 0
ند ہوں ۔ جس تیرے سا نے اپ انیو دای یکر دو ںگا)۔
اس شع میں بھی اللہ تبارک دتھال کی انسان سے بے پناہ شغقت اور رم ت کا ڈگ
موجود ہے .تہ ایک تک دنا رکیک مقام سے - ایا جار ہا ےک ال تعالی بے کے ساتھخیر
ا یت یکر ےکا اتی فی یت اھ و و
٢۲'۳۰
کے اندرمردوں کے پارے یش اس طرح سے اشمارات ق رآآن مجید بی بھی موجور ہی ںک اس
و کی وشنیں اور کہ الله تما لیٰ نت ا لا دوپارہ زند ہ٥کھر ےگا جو1 سودہ یر
۔(۸۲۲) رتا جا کرد مر در ماس بتارم
یی پراپنے انوارواکرا مکی ررمت فر مل ۓگا۔
2
غاه زدان گور 4 ایا ں9 ار
مم مائم ورو روص زضوان ول
(اے بن ے! جب قب رکا قی نخان ہکیٹرو لکوڑوں اورسانوں سےگھرا ہوا ہوگا 20
ڈرائیی کے ےکس ےس چا یی ا را کیا رکا گا
اوران سے پچاؤ لگا)۔
کےا کون موی اور ھن سسا ون کے ا نے من شعاد
ٹس با گیا ہے۔ ایا ت تہ رکونہایت دی بھ ا کک طور پر اورعہرت اندوز انداز یس بنا گیا ے
تاکہانمان اس دیاش اپنے لی ےآ خر تکیکوئی ہت رکائ یکر نے۔ اوراس ز نگ یکوفلاب بی
راہوں میں بب رکرے۔ اس لیں منظر میس بتایا جاد ہا س ےک ہق رکوٹھڑری بھی ایک بہت بڑگا
آز ماش ہے۔ اس می بھی عداب اوراذ ی تک لا تعداشمیں ہیں ۔ لیکن ان س بک موجودگی
می روضن رضسوان لڑنی بہشت کے با اپنے بن ےکو اپٹی رجمعت کے ساتھ اللہ تھا ی ہی
ھا یں ےج
01
سن ووڑرٔ گر روک و ےنپ
مم وہ ید ود
(اگر نا رجخم ری جاب وھ ےکی فو اے مر بر سے تیرے ہھزو انکسار کے
باعث اس وت یی اپناخیمہسا فی ںآ سان پرگاڑ دو ںگا اور گے پناہ دو لگا)۔
ج مکی آاگ ابی نگ ہوگی جو اناو ںکوجلانے والی سے اور پن مکی مل فکیفیات
۲۵
بھی ہیں۔ جولو ککف کے مرکب یں گے۔ اور جوعہد یت خداودگی ھے زی والے کا
مالین اورمشریان ہیں سب جم ہوں 0 7.2 کے علادہ درو لک اپا
پت نہ ہنا لیے ہیں ان کے لی بھی چہم بی ہے۔ اس لے اس لی من میں اگ کوک جم میں
جانا ہے ہے ا لک مزا اورکمائی ےلین اگ رسی اللد کے بن ےکی طر فجن مکی
یقاس بھی بن ےکوا کا پروردگار ھی پناہ دےگا اور با ۓگا۔
ر|غ
مث کے إوالففول نام لوم و ول
فرشم مس ابو بدان خویش
(اے بندزہ نادان فو بہت فو لکا مکرنے والا ہے ای لیے میس نے تیر نام لوم اور
ول رکھا ہوا ہے ت کیہ ج ےکی اور کے پاتھوں نہ یچوں اور نہ مہرے اس خلا مکوکوئی اورش یھ
ہے مرا سی ہے مب رای رےگا)۔
نایا جار ا ے انان بڑا ہی فو لکویشی'بولفضو ل ہے۔ ہہ بہت گے ولا کول
اد فقو ل کا مکرنے والا ہے۔ بچیکایس بلگی' بی انسان بڑا ھی جلد با زگھی ہے (ا:۱) ال
لیے می اپی بھلائی اور برا یمک ٹہ سے ار ہے ای لیے اس انسا نکو ا تال نے لوم و
ججول کچھ یکہا ے۔ بے یک انسان بدا ظلوم ( نام ) اور جمول (چائل ونادان) ے۔“
( 2۴۰۱۴۳ )۔ بیخوداپینٹس پل کرت ہے اون خاقیت انرم کی ہے۔ ای ق لی تاظرمیں
الہ تعالی کا رانا ےکاس رع کے نادان' جاہل سادہ لو اور اپ تر ے بل ک یکر تہ
کرنے وا انما نکو وی صورت تھا نیش مچوڈےگا۔ اسے اپی خلا ئی اوت لی ےکی
اور کے سپ ری کر ےگا کیوککہ بندونذ اپ جاور نادان ہے- :
رف
یا ایام لا کک رو ازو یں او موا
ارتا بی حم می مان خویش
(اے بنددتقنٰ! اما تکا او چھ بہت بھارکی سے اورلو ٹاف ان بندہ ہے۔ اےلو جارے
۳۲
سپ ردکرد ےت پچکرا ۓگیلان کےگی الد بین ! ابو سج ہم اٹھوانکیں کے )۔
امان کا لوہھ ؛ہٹگرال ہے۔ ا ںانین یس انسان کے جوانے سے اس کے فطرکی
مراج اورش کا ق رآن یر یں اگ طرح سے وک رموجورد یت ا نے (کا تنا تک لافالیٰ
چائوں اورصراتژں کی )مات خنلی ہآ سافوں زین اود پہاڑوں کے سپ ردکرن چا ہی اورجنی
گی ۔ نین انہوں نے ىہ بارگیراں اٹھانے سے پچبل دش کی اور ڈر گے بر انان (ضیف
مان نے )اس اماضتگراں ماىیکا او جھاٹھا لیا۔ بے نک دہ بڑا الم ہے۔ بڑا نادان ہے“
( 2۲۰۳۳ )۔ دہ چھارگی لو چھ دا ی اماغ گیا ہے۔ اس بارے میں مفس رین نکیا ےکہالقد
تعالی نے بی آدمکو وہ ابات دک ہے جو ان پہاپتی اطاعت سفن لکیا ہے۔ انسان اماخت
خداوندگی میں خیاع تکرتا ہے۔ شی اپنے اقتیاروارادہکوڈالط اتتعا لکرت ہے ای لیے بد ظا م)
اور جال ےئن دولویک جواماتت میں خیاخ تی ںکرتے ان کے لیے خوش نکی ہہوٹی ہے۔
یکلہ دو لوک جواٹی اماشو لکی حفائظ تر ۓے میں وی ٹوز ولا او رکاما ی سے انار
ہوتے ہیں۔ ای جوانے سے ارشاد پایی یں موجود س ےکہ :”وو لوگ اپئی اال اورگہدہ
ا ںکوفوظ رکھت یںا۔ وہ ہہشتوں شں نبابت مت واگرام سے رافل ہیں یں
)٣۳۵۔۳۳:ے(
گر عرا جاں ورہدن نود بدن گو ہم ماش
کہ ینف میست باصن ' پچرہن گرم ماش
(اگرمیرے بدن می ل(عش نکی ) جان نہ ہو ایا بدن ھکیس جا ہے ہہ بیکارقااب
ہوگا۔ اکر پوسف اپ نہ ہو صرف پیرئ نکی جج ےکوئی ضرورتنیس ہے )-
اگریرےتم وہ نا جا نکہ جوینشق ال یس رب وی ہے۔ نہ ہوگی ق چلر
یے ردان ت :کے ضع ت کی یھ ہرگز طلب اورضررت نیس ہے۔ اس جا نکو کوالہ رورغ جھ
عقام دمرتبہلتا ہے دہ اپ پرڈزگار ےعشت کا تا ض اک رتا ہے۔ اس لکش الی سے خی
۲۵۳
یم و صرف نا ا ک کا چا ہے نین جب دی زپرئٹض ےآراست ہوتا سے دوش مبھی نقائل
تاور جا ن بھی تاب ل نیم ہو جائی سے ۔ ای طرح حفرت لوسف ناڈ کاک رت دکہ ٹس یش
ہو ایسف ہے۔ جناب اوسف ناذا کے ایا کب کوک اہی ت نیس ہے۔
23
گر یرم ااضع من جم چناں زور اگنر
اک شد ہوں جامہ چنم فی گو بم ماش
(گر می مرجائؤول تو مر (اش کو دور پیک دیا۔ نے“ گل رو کا ٘الپ اور
جرہ تھا۔ جب جا ن کا جامہ اک ہ گیا ف ضرف خای بد نکوکف نک کوئی ضرور ت نل
نے اج
رو کے !خی رض مک یکوئی قد رو قبت اور یت نیل ہے۔ ائی لیے اس شع می سکہا گیا
ا کے خی رم رجاتا ہے فو تن لا شہ خاکی ے زیادہکوئی حیثیت
اوروقعد نہیں رکتا۔ اس لیے دود ینک د بنا چا ےکیوکنہ جب جا نکا امہ تارتارہد چکا ہو
ایے(ا نے کے یس یکف نک بھی ہرگ زضردرتینیں ہوتی ۔ اس شع ریس ایک اشارہ مکی پایا
جا ہےکیشق ال ھی کے ایر زشد وش مبھی مردہ ہے۔ اس مم صرف جان ہے جو رو عق
سے عارگی اور خالی ہے۔ اےے جاندارشس مکوزنرگی بی می بھی بےکشن وگود پیک دمیں ت ھکوی
ہر نی ہے۔ ای ےزم مکو ان سحبی تگچگیا چا کفکردب لف درست ہوگا۔
ون پک مت و27 سوز وو آں ہم سوز
چوں پاشد بادین ' سریین گو جم ماش
(اگر چون میں ہرخنک اور تر چزجلقی ہے و اسے جلنے دو سب رطب و یا یش ہیں۔
جب از یش میراحیو بی ہے اذ بے اس کے سروک نک یکیا ضرورت ہے )۔
اس شعرمی پن سے مراددنا بھی ہے اور بی دنامحیو بنقی کے بغار اور غیرضروری
ہے۔ ای طرع اس می نکو انسان کا انا حم و جا بھی قرار دیا چاکتا ہے۔ اود اگ ال یم
"ػ۲|۰۳۳
انی میئشق تق کا جز بر اودر چا ؤننیں س فو یٹلم زندہ یا مرد وی کام او رکاج کانیں۔
ای ے مض ال ھی سے خال یمک چا ہے جلا دبا جاے چاسہے بہا دبا جا ا لک ذرا گج رقددہ
تی نہیں ہے۔ اس طرحع اس مقیق کو جان لین چا ےکیفحف می خر فک یکو وقت اور
ق نہیں ہوئی.اصل میں خر فکی قیت این تع معوں می اس کے اد رکیا ہے۔ لن
سے ہوتا ہے۔ ای تقاظ ری سکہا سکیا ےک ہج بارن مس یا نہ ہوا با کے س رین اود دی
را رنگ اوزشوشمبوئؤں وانے پھو لبھ یکس یکنقی شیا ری نہیں ہوتے۔
ر
ہروں م۱ رای لو ۓے خور ؤراں پاریےرئْپ
از گلتاں گررور ظ بل رشن گو ہم مبال
(جب تم مھ اپ ےکپ سے نال رہے ہو۔ اپنے سے دو رک در ہے ہو بل رمیرے
لت تد کو رکم کی دز اک ےکا با
اے میرے عیب !ھت ای نےکاہپے سے دور با ر ہے ہوا لک مجھے پرداویں ہے
کیونلہ رتو عش کی ممکک تکا اولین مرعلوں یس سے اسیک مرعلہ ہوتا ہے۔ میں اس دورگی اور
فرا یکو منوٹی تو لکرتا ہوں لان بجھھ پر مز ید ینم نہکردکہ جھے در عیب سے دو رکر کے
اپنے یہاں دقی بکوق نہ بلا 5 شماعر نے انس صورت عا لکو ال ط رع ےگ بیا نکیا ےکہ
جب کی گکتان می گانے اور گے دای او ڈالٰ ڈالیکھو نے وا بی ھی خدرہے اور د رکیل
اوراداسینوں اور باہو ںکی دنا ٹس نکی جاقے ذ برا سگشن جس بھھرے اورکا یں انی
کرنے وان ےکوو کو با ن ےک یکوئی ور ٹنیس ہے۔ رقیب روس ہگوگواقر ارد نے یی کی
شی یں
۵
رو الد پھر است از زر گل دور اڑو
گر تہ ینم بار خود ایں زشتن گو ہم مبائشل
(قم بفدا جے ای زندگی سے موت ہر سے نس میں مھ سے دور رہوں۔ بہتھ
۵
سے دوریی میہری وت ہے۔اگر مال ار دکھائی شرددے ای زنفگ یک ےکیا ضرورت
ے)ن
اس شع یش ایک عاشق صادق اپنے محبو بجقی کے بارے می لکہتا ےکہ دہ لی
طول اورٹشھا ی اور غغیوں او رآ سذوگیوں ری ند یں اگمر میں اپ جیب ے رور
رہوں۔اڑی زھگی وج گکہا گیا ےک دہ حیا ت سی سکرجس سس کا ہے
حجی بمشوہ نا ز بی ساسئے ن ہآ اسے ز ندگ کہا چھ یں چاسکنا۔ ارکی ذندگی ہو یا نہ ہو برابر
ا طر کی یار کے بی رز ندگ یک بج ےکوی ضرورت اور چا ہت تاٹل ٤ ے۔
زتی
٦ رر ہو و و ة7
گر باشد می ایں افثار من جم مگوساشش
(اگر میس صدا ےت یکو ایک بال بارگھ کم سنوں فو رگ لی نکپنا ےک میرے
شا عرازدافکار یکم کیل اورا نکیا ہرک کوئی ضردر تریس ہے )۔
اس شعر میں شع رححضرت خوٹ !ان می الد نے بھی دی کی یم اور عالی مب
شع راکی طط رع اپنے افکار عالیہ کے بارے ٹں مہ بقایا ےکہ اکا داشتارہوالشعور واوراک
ہا ئی ہیں ۔ ان یش وجدایٰ کیفیات اور الہائی پاش ہیں۔ ا عرگی الد بین بتاتے ہی ںکاگر
مر ریگ راگ رشاعری اہائی نیس ہے نز جح صرف تافیہ گی اون طرازکی کا ہر کوئی شوق
شا
حعفرت فوٹ الم تن عبدالقادر جیا لی کے بی شا ران اکا و خیالات درامصل شور
آیات قرآلی کی شرع ہیں اور ان یں مسلمانوں کے عام عقائ درکوبھی اپنے اص نشین
شاعراندرنگ جیا نکیا گیا ہے ۔حفرت بی نے اپنے الن ا ہا ئی افکار میس اپن یھر پپرت رآ
بصیرت اوداحاد یٹ نہوئ یکوگھی کم یا ہے۔ اس د لوا نکی شھاع رک ھی اپٹی روح کے اختبار سے
ایک فرع کی میفی او رق شی خدما ت بھی انام دیق ہے ۔آ کیا شا عرکی یں ھڑے اورالھ
کے رش ےکی ہڑکی وضاحت ہو لی ےکہ اتارک وتقالی پر انے سے اپٹی رکتوں کے انی
کو ہر بند نی کے لیے پیا ۓ ہوے ہیں ۔ححضرت بک یکی شا عرکی اور گار علیہ یل ایک ہڈا
۲۲
یرام رجائی رنک موجود ے۔
ردیف:تی
از خالماں آوارہ ام ازوست مشق از وست شش
سرکشیھ ویچارہ ام ازہت ںی از وہت عشن
(می اپے سانش کے ہاتھوں اپ ےگ با رک یکر ےآ زاد ہو چکا ہو ۔ ىہ ایگ
ای حاات ہے اوراکی کے باعحث جل پر یٹان اور لاعلاب ول )-
اےاوگواش اپ عمق اوروای یش سب ہہ ھبمول چک ہوں۔ یں اپ گار سے
آزاداور بے ناز ہو چگاہول' اب اکا لے جھے مر ےگع ری اورک ےی بھی طرع کے
آرام اورون بھی پردادنیں ے۔ سگھ کے اخ رآوارکی کی راہ پہ پڑ چگا ہوں۔اب تھے
مر ےگح دن دنا اورزی: وا ارب س بکویھول اور تال چا ہوں ۔گویااب بج ےکوئ یکگرو
ان لہ لن نیس ہے۔ یک رف و یں سب سے بے نیاز ہکا وں لان اس کے بن
اب ا یصشت کے پاتھوں میں جیران اود پان ادرسرگردان ہو چک ہوں اورمرے لے خی
اورسکو نکی بات ىہ ےک میرا مرش تشق لا دوااور لاعلا ہے اوراسی سے می زنرہ ہوں۔
ات کاشی ارت درم از رت ام
من سوزم از ع رتا قزم از وس صشق از رس ت نشی
(اےکاش میں عدم یس ہو پیداہی نہہوا ہوا اور رش معشق کلم دم سے پچارہتا۔
اب ہیں کش کے ہاتھوں سر قم پل رپا ہوں )۔
عاشنی ناعہور بڑے نا صف کے ساتھ اس اھ رکا انظمارکرتا ہے ۔کائش ٹیل پیدای ہوا
ے۲۵
ہو می اس عالم رٹک د ہو میس ہرگز نآ یا ہوتا اور گر جس پیدا ہو یگیا تھا نذ بے ہش نہ
ہنا ۔کیونکی میرے ا مشق کے جو ر تم اوڑحلم دالم اس ےر زیادہ اور گول می ںکالن ے
یش ہرفحہرم رت اور تار جا ہواں۔ ای لی کہا جار ہا ےکا ےکا یں عدم دی مس رجا کہ
شی سے ازیت نا کلم ونتم کا یھ سامنا ن۔کرن پڑتا۔ اب کی ںآلام ومصراب سے میں
رام سےسرسے پان ل کک بت رتا ہوں۔
و"
درد گروم انماں سرگشی 2 گرد ہاں
گشقم ضیف و خی بم' ازر تمشح از رستئشق
(بی نے اپ ےگ رکودرد سےپھرلیا ےکم مورک رکھا ہے اواب می چہاں
یں سرکشنۃ اورجیران د پر ینان ہوں اورش کے پاتھوں ضیف وختہحال ہو چنا ہوں )۔
میس نےعشق ال ی سے اپ ےگ ربا اور جا سکوان واستراح کو رپ رک لیاہبے۔ پر
مہ پرادر رکا ےکیدر ےکوددرہشقی سے بی معمورکرلیا ہے۔ اس لیے اب میہرے لیے اس
مر ۓگحھ می کوئی نیس بگی۔ ای لیے می اب دیوانو ںکی طرح ب ےگھراور ب ےآسراہوکر
تج ران دب ین رہ ہوں۔ می اکوئی وکا نیس ہے۔ بج ینیل بکلہ ب ےگھ اور بے در ہونے
کے ساتھ ساتی رکش کے پاتعوں میں نے ہے حدنخزیف' فزار یف او رکنرور نانذاں ہو چکاہوں
کرکہیں جابھی ہیں کتا۔
مر رئ
نا ہد ہر ںات
ا و یا ا ا ا
میں آرڑی رات سے کک کآگ کےتنور یس رجتا ہہوں ۔ عدام جلما رتا ہوں ۔ ا
ے اب و شی کے پاتھوں مب را د لبھ یآ کی پھئی جن چچکا ہے )۔
آڑھی را تکا خائص طور پر واد یش میں بہت برکو س ےکیونک عفاق اکٹ رآ دی رات
یکاپ ی آووزاریاں اورگر ےد اکر شر کے ہیں۔ اورپ رآ٥ وفقال اور نالہ وڈریادکا نے
۸
ئل دن چڑ ےکک تائم رتا ہے۔ عاش ک گر یی ایی نے ا لک حعالت بوکر ری ہےکہ
وہ نم شب ےک ج کگو یا آئ کی پٹ میس جلتے بل ہو ےگزارتا ہے۔ اس سے ا کا
شم و جاں نت جلتا تی رہتا ے راب روز روز کے ا تل سے ا کا د بھی آگ کے ایک
کت ہو ےتور با چو ےکی ماغطزہھ چکا ہے۔ اس طرح ان عاشن خقکذاب ان کےکشت کی
آگ اندد اود پاہر سے اسے علائی رق سے اور دہ بے ارہ یدام اس آگ می جلتا بھختا اور
سم ہوتار جتااہے۔ ال کا عالل صرفتشق کے پاتھوں سے ہوا ہے۔
×ڑ :ررزں شہپ :لزا 0تت دانہ
افمانہ گرم رم از وت عشقی از وت شش
(ہرروز وشب می دلواندسا نا ہواگوشہ ویرانی جس پڑا رتا ہوں۔ دہ واگی او رتھائی ۔
یس چھےسکون ہے اور می سگو یا اس تھائی میمش کے پتھوں افسانہ رن مور اہول )۔
ہررات اورون یش میرکی حالت سداد پانے سودائو لک یىی بی رہق ہے اور یوں پھر
پاگل پ ےک یىی حالت یس وارفیشی ہوک ہگوشنۃ بالیس پار تا ہوں۔ ا ںگوشتتھالی
اور او شروعاات میں میریی بے ری اوراداسی بے جولحات پر بیشن فرب مکہ لی جے ان شش
می بی بیگردیدگی اور تی کے ساتھد اپنےعش کی داستان کک یس مروف رتا ہوں۔
موی اٹھی بات ےک جھے جوگوش ای محس رآیا ہے اس میس میریی اپتی عالت اوراحوا ل مض
کس قرد ہم گی اوراز یش مکی انا کگرویدگی موجود ہے ۔ اس طر عم میرئی داستا نکش
کیوں نہ پر تا خی ہوگی !اود پال یسب پش کے پاتھوں ہوا ہے۔
رن
زابیں سو ۓ واں سوئۓ روم سوداۓ خاسے لھا پےم
ات پرنداں لزم از زیت کسی از دت تی
(میس وادیلا اورآہ وزارک یکرت ہوا گا سے اوھ گا سے اوھ جا ہ ہوں' اپنے سودائۓ نما مکو
کرد ہوں۔اوراپے داوں سے ایا کاٹ د باہو یسب ٰشقی کے پاتھوں ہود پا )۔
٥۹
عشق کے پاتھوں اب میرک حالت یہ ہگ ےک ہم بھی اوھ سے اد راو ری افظر
سے ادظر جار اہوں۔ مرگشن ہوں بھے ا ںکی خر دیانیں ہے ۔ لن میس اپنی ا سئی می
سوذاۓ نما مکو نکر ن ےک یکوشت شکمرہا ہوں ھی بر معلوم ےکہ می ںکار بیکار یا غاط خیال
کے ت۔اتب میں ہوں لیکن اس کے پاوجود بے می یپیٹش اور سکون اور وص شش رنتی
ہے اگر چر اکثراپنے یی غام پرجنوی اود اگ کی جال تش۱ نی اشکیا بھی داختزں
سےکاق] رہتا ہوں' اس طرع داوانہ بن کے ساتھ سا جاسف اور تجرالی کی اتھا ہگبرائوں
سبھ یگرت ر ہت ہو کہ میریی بی حالت صر فمشق کے پاتھوں سے ہوگی ہے اور مقام خمائل
تک یجھے مر ےش یا نے مایا ے۔
لے
اے اج مارا چوں ا ۶ ضز گگر پد درکادہ
زیر 27 اشن اڑ ںا
( ا خواجہ!چھ بھی ہپ ب کی طرح صرد ہا کا مو ںکینکرداس نگیڑھی۔ جھ پرخدانے
کر مکیا۔ اور بیس ب پیش کے پاتھوں ہوا اور ںآ زادہوگیا)۔
اے میرےآق' میرے ما الک تواجرا آ پکی سرداری مج جوآپ کےبنڑو ںام
یں میرے بھی میر ےش می صدہ گونامگوں کام تھے یجھےبھی آپ ہج کی طرح ان
کار ا رڈگا رن گکیلکر اور ا نکیا اہمی تکی خی ۔ می بھی ان کا رات ےکر یں اچھا اور
جکڑا ہوا تھا ںان میرےمشقی نے بے متردراٹیں بھائی اور یوں اللدتھالیٰ نے مھ پرگرممکر
کے میری مشکییں ح لکر دیں۔ میرے لے مر ےکالموں یں آسمانیالں پداکد یی ۔ می لبتا
ہوں بیسب پگوش کے پاتھوں نے ہی ہوا ہے درنہ اذ اتی آستی اور یی تکا خوب پچاتھا۔
مٌ
کر یرم الفع؛“ از علق دارم وتح
متانہ رصم دم برم' از وست عشق از رت شی
(س کی ے واق فنہیں ہوں' غلقت سے جے دعشت سے اور میں پر دکشقی جس
۲٢۰
ترما وا رن نر اہوں۔ بیگگیمشق مہ یکا سوطات ہے بیس بٹشقی نےکیا ہے )۔
ےکی سے الفت وا سکیس ئے۔ ندکوئی مھ ے مانوں ے اوردہ چو دنا دارلول
یا ا ےکر و کین ہے دنع وو اس کی کی جس خی
گبراہت اوز بییت ٹل دہتاہوں' مل دنا اور دیا والوں رت اورخو فکھا ہو ر٭
لے؛اب میں اپنی یگل مم مست' سب سے ہبے روا ہوکردیانو ںکی رع کرد اہو :
کی انت سے اتھوں میری عال کیا سکیا ہو گی ہے اور ٹ لکہاں کہا“ کا
ہوں۔
8|0
ھی دا را خرآن و گن ا نف مھ ای متس
سگو تو 0 از یٹ میں داز وت شش
(اۓگی الین خداکوپاوکرداؤزی' کیا سے اچا ٹم ۔ ہال ار کید ےی ے
اپنادردشگم بیان رو ہو فور ہق کے اتھوں حاصل ے)۔
ا ا ا سک کر
ہر میں اورسفرحیات کے پرموڑ پرافے اللہ کےےقوای نےکوسا سے راس کے مطاتی زندگی
ا رکرو۔ ا تام ال یکو ہمہ وقت اب سان رکوہ ذکر ال یک کی صورت ہوک ای حوانے سے
قرآن مد میش ارشاد بارکی ےکہ :”اے لوگوا آعگاہ ہو جا کہ اھ کے وک ای سے ماغبیت
قلب عاصل ہوئی ہے۔' (28:13)۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ان اصول کے طور پہ سے
بھی بتایا چار ےک انم وآلام دصروں سے نہ کے رو کی وہ دوسروں نم کیےکا
فائدمکوکی یں پیم کے یئ +82۳09ھوئء) کے خلاف غلکایت اد رگلہگزاری
ہوئی ہے۔اس لی ضرودی ےک بندہ اپنے دردو ال مک اپ یا تک پشیدہ اور خفیر ےی
زا بھی یق دی نےککھاے ہیں اور پر ت بیشن کے ا تھوں ہوئی ے۔
۲٢٦٢
0
اے غھار می ہت ا
جا یا تی وو ا ری و یت
(ا می اللہ ! آپ ےک کی خا ک نشم فیک کے لیے سرمہ ہے۔ دوفوں جہا ںکا
لآ پکلثاع ہے سب ورای یں ںہ
پارسول ایر ظا ! 7 ب ک ےکک یکو ےکی عظمت اورفضیات بے پناہ ہے۔ جہاں پہ
آپ رے ار ہے یں یں داہون پرآپ یلت نر ۔و ہا کی خا کگھی ہمارے جیے
نیٹ از مز ہے۔ ہم انان ا کیا دہ اک ہدیس و آساوں او رآسانو ں کی
آگھوں کے لیے مرمیزے۔ں یہاں پسمانو ںکیآگھوں سے مرادسورع چا ندمتار ےگگیا ہھ
گے ہیں اورسب اس ا ککو چررسول می کے باعحٹ رشن اورغروڑاں ہیں 2و-
سے زار الو ںکیقلوقات ملا بھی ہو سک ہیں اود زاک ا سب کے لے مز ہکی حییت
ری کر نی شر سیا
س بکوآپ لم اورخوا ہل وطلب متا
ر2
پارعول الد ! ظْ گی کان لاحت بی کال
کی ۴ نے زخحابات: وت امم حاکن
(یارسول اللہ خلا !یا عیی بکبریا نل ! آپ پا کان ہیں ۔آپ ب یکا بدوات
حسیناان دو عال رکا نک لا ہے )ک
بارسول اولہ ظف مآ صفت تی خصالہ ہیں آپ تن و جمالی کےکمالی دعرون پہ
۳
ٹیں۔آپٗ کان طاحت ہں' آپٗ ى”ن د مال اور ز یل وز ونت اور عفات بما لگا
ایک یم الشا نکان' مخزن او رین“ بے بہا ہیں بج ہآ پ رگ روپ جال اورخو بب صورتوں
کاعشؿ مازوالل ہیں۔ ای یپ ہی سے سب ضمان اور سب خوب صورت سن و جال
حعاص٥ کرت ہیں۔د نیا جہا ںکی تام ت رعنائیاں ادرخوبصورا ںآ پا ہی سے اكکصراب فی شکر
کے بھال اور قائم دم ہیں۔ دونوں جیہاں کے بینوں' مہ ینوخ بان خوش اداکوآ پ ہیک
اض تک بدوا ت سن ملا ے۔ -
چ
و آوہ زم ور ران روح رما رت
آت مہارک رہۓۓ ر7 کے درآبر در 1
(جوکوئی آپ کے دددا ےک اک پآ اپنا چرہ ل ےگا تیرے وعرے کے مطاِ
دو مپارک چچرے والائل قیامت یی بلاککت یں نا انی ہوگا)_
ارسول اللہ ظا ا رعت ملعا ین ول ! پتقیقت ےک ہج اس دنیائٹش جو بندہ
غاآپ کے دروازہ رجحعت وداف تک اک پر اپناچرہ لگا دو بہت بی مہارک اورھیہوں
الا ہگ ا ںکا مقدر بڈااریشن ہوگا یکل قیامت کے پر ہگ مع رکے میں اس خیش پیش سکو
کسی طر کی م کلپ بای ا مصیبت کا ما منانش کر پڑےگا۔ دہ اس بہ ہول اور ہولناک
دن یش بلاک ہونے سےگھیا بچار ےگا دہ بے توف وخطرر ےگا
ر"
مام جان الذگا اسریی بتپرہ شر سوار
بای رامواریق بریق 2 انا جو نیا
(یا عجیب الد ظا ! آ پکحو بقن یں ۔آپ شا مک جھائن الف کی اس رگ بعبد !کی
مر کے مطا بای متیز وطرار براقی پرسوار ہوک راہوار ہو ۓ )۔
ما عجیب اللہ ففق ا آپ رات کے وقت چان ال کی اس رک بعبد کے مصداق راع
پگ ۔ ا لے میں ق رآن ید اس رح سے ارشاد بارگی ہ ےک دہ ذات (علوصنات
۲۳
طیغات مادئی سے ) پاک سے جس نے اہ بنرے (سیدہ مم مصشلی خف )کوسود الھرام
000000 نے اکزسیزکزائی( آپ مقا مجرمیش تھ۔ جرتل
اش نآ ۓے آپ براقی پرسوار ہے ملین کے ساتھ بیت امیس می نماز پڑی سا
تک گ٤ے۔ ماع ہوئی۔ نماز گا :ہکا تفہ مع راع خطا ہوا (ے۱:ا) اس شر میں معراح
کی جاب اشارہکیاگیاے۔
رو
در مقام قاب توضیاریں خر و آم۵
رساندی سام تن ہر امت بل ہک
(آپ ظفل کاق بسن کے عقام پرالکی جاب سےسلا کات طا۔ چنا آپ
لہ نے ال کا تہ اپٹی سار ام تک بانچایا)-
قاب تو نین دو مقام عالی سے جس بر تضور نمی اکرم ظفل کووہ متقا قرب الی عیب
ہوا ے ہو ےکراوزکوئی تر بن ہوسکتا تھوا۔ یقرب اللدقالی سے بپہت قرجب تھا تن
انمانی تطاقاف می جس قوقر بکو ظا رکر ھت ہیں اس سےبھی بد ہک رآ پکاتعلقی ہے۔
ق رآن ید ببس اس طرف موں اشار ہکا ےک رد وقر جیب ہا اور بہت مز دکیک ہوا" اوران
کے ماین دوکھانوں سے پا اس سےبھ یکم فاصلہر گیا اور ال تعالی نے اپنے بندے پر نول
و کیا( ۸:۵۳۔۱۰) شع ریس ای جوانے سے بای گیا ےک ال تا لی نے آپ ضف کو
تج سلام عط کیا سے بعد یں تضور نی اکرم ال تو رسمارکی امم ت کک بات رہے۔
رلی
از غدایت مت و از شفاعت روزحڑ
در جات غعاصیان امت ةٌ یت تک
۱ (روز خ رآپ خی ہا شی طرف ے رمت کا اؤل ہوگا اور صب وععدر تن
آپ نپ با عٹ شفاعت عاصیان میں گے اس می لکوئی شک دشبنکیل )-
متحدداحادیٹ سے ثابت ہوا ےک روز قیام تتضور نی اکرم خافل یپ الشد ارک
۲۰۳٢
وا ی ہب سے اور سب ےڑیادہ رقتو ںکا نزول فر) گا۔ بل ہآپ لی سب
سے پیل انی قہرمبارک سے اشھیں کے اوربچلرآپ خافڈ یکو شرف داعزاز عاصل ہگ کہ
آپ عل ماعوں او رمگناہگارو ںکی شفاعت کا ہ جب جں کے اود اللہ ارک وا ی
آحضرت مم کودہ مق مكمودعطا فرماۓ گا جس کا وعد ہکیا گیا ہے۔ موالہ شفاعت آپ
خ در امتو لک بھی سفار لک کے انیس عذراب سے صا دای گے۔
2
یک شر ہے صلوں و از اسی
بت خراق !از مان "انا ”ا مات
(جب لاگ ہآپ ضم 1 ام کا وروووضلوع علخ یں و آ کی امت ے
ممناہو لکی معائی کی سفار کرت ہیں )۔
جب امت ری ڑا کے افراد اپ پیارے اوریوپ رسول پر درود وعلام او ری
لی م کی صلو بچنواتے ہیں اس طرحع سےکویا وو مساران تضور نی اکرم انام ےتور
اپنے جذباتمقیرت داتترام ٹن لکرتے ہیں ۔اوراس کے ساتھد وو تھلیدات نبدکی ال پکار
بن ہوک لی انہا رھ یکر تے ہیں ۔ ایا جا پا ےکہ جب مسلما نآپ پر درد وسلا مکی ہیں
اس وت لالہ ا ےک نکر امت می مل پرکار بند ہوک لی اہ رجج یکر تے ہیں۔ بتایا چا پا
ےک جب ملا نآپ ٹل پر ددودوسلا مکی ہیں' نو اس وقت ملائکہا ےک نکر اممت می
الم س ےگا ہو ںک یکفذابیت اورشش کی دعانی ںکر تے ہیں بلک ہوا ہق کن فرشم بھی و
وی گرم ایا پا تی یت م درددوسلام کے ہیں ۔
رگ
۱“پ ,۸ ۶7 دم ۶٣٣ "سے
00 ا ون وس ا وک
(ہا صاحب لولاک پا صاحب مال !اگ رآپ لم کیا ین اور پرفور چچرہ مارک نہ
ہوتا قھکوئی ولی اورکوئی نی او رس ات وھک پیرائی مہ ہذتے )۔
۵
ول اللہ لہ کپ سن د مال کے مرکز دش ہیں ۔ یر سارک کائحا تآپ بی کے
تح د جا لکی پدولت تائم اوموجود سے اگ رآ پ کا ین وکیل چچرہانوار نہہوتا ذ دنیا بش نہ
کوئی بی م۷ لٹ ر ہوٹا اوز زگ وی اورشوٹغ قطب ہی ہوتا۔ گ یں بللہز ین وآسان
ایی کی (یجس کے پارے می کہا جا ہےکہ یز شن ال لک بے ری ہوئی ہے ) سب
بردوغدمم کی یل ہبوت ۔ اس سماری صورت عالل کے پارے یل ایک حد یٹ قّر ایا موجود
ےکرخ می جا گیا ےکی" ولاک لیا خققت ال فلا نی ا عیب اک رق نیس ہوتا تو
میس کا نیا کو پیرا بی شک رتا۔
بالگ
عرغ چایا را بد پر از صلوٰط از لف تر
بے پر و ہیں چس واں پریون >> لک
(ہارسول اللہ خاڈل !یا عبیب اللر فیپ کے الف وکرم سے طائز جا نکو پگ
جاتے ہیں۔ وہ خیٹی اور جش میں اڑ نےگتی ہے۔ ان پروں کے ایر ھکوگی روآ سافوں پہ
پروازنی ںکرگق)۔د
تاا جار ہا ےک رتضور نی اکرم ال کی ذات پا برکات بر جب صلو 7 وسلام پڑھاجاتا
ے تاس سے لا داد او ئگنت کات و یش عاصل ہونے کے سساتھ ات سی اللر یہ
کے سیل سے جان کے پرند ےکوی طاقت ود اور نوع پیل جاتے ہیں۔ یں پروی کے
سا زندگی گرا سان شیوں اور صنا تک دادیوں ٹل پٍوا زکنال رہتا ہے۔ اور یو کی جایا
جات ےک لوت علا مکی بپرولت عاصل ہو نے ذالے پپہوں بی کی قوت اور یچ ے روج
انال بروازکر کےافلا ککی بلندیوں شی جائی ہیں۔ ا
ام ا عاعیان امت خد ماپہ یں
ہیں یراتا گنہاں |راکننر از جامہ. یک
(یا عجیب اللہ اٹ ! مدان صش میں اپٹی اعمت کے عاصوں کے نام کچھ می ا نکی
۲٦
شفاعت فرماکرالنع ک ےگنا ہو ںکوٹ وک راد ہی )۔
درخوامز نکی چاری ے پارسل الشد خل! آپ رحمۃ للعاین ہیں ۔آپ رتم دکرنم
اورتمبعل بالبا دگھی ہیں' اس لی ےآپ ظفل اپٹی امت ک ےمناہگاروں کے امو ںکی ایک
طول فہرست ملاحطدف رما یں ۔آپ پر چونکہلوکوں کاکسی ای یش پڈ اب گرا ںگز رتا ے آپ
یق بجی خوائش ہوئی ےک رلوگو ںکی بای تی ہواورائل ایمان پآ پک بے پایاں شفقت
اور رت ثراوال بی ر ہے۔ (۱۳۹:۹) اس ل ےپ ٹم سے درخواست اوراتقدعا ےکہ ان
گناہگاروں اور بے سہارا عاصیان اممت ک ےمناہو لکوان کے امہ اعمالل یں سے ا راہ
شفقت درم تگوگرادجچئ ۔اورا نگناہگارو ںکوحفووخفرا نکی ممککت یس پا دہج _
رل٤
می صل ہس شی و ہں ا ی بباز ناں
زاللہ داری و پلیی بیار کی 9ئ
( گی الدب !تم پر لازم ےکرقم تضو فی المرزنین پ ہکقزت سےصلؤ 7 وسلام بڑ ھت
رہق گنا ہگا رہ تار تنا عمال بد بہت زیاداورصرف می گی )ان
صلوۃ وسلام پر بی بر حضرت مھ خفل کی ففضیلت بیا نکر تے ہد ے ایا جار ا ے
کہ ان ےگ الد بن ! تمہارے لیج بک ہرملنا کے زی سی ضردری ےکم دہ تضمور بی
اکرم فا رکٹزت کے ساتدصل وسلام پڑھتا ر سے او رآپ ظفل کے اکا ف اشن خاش
خرین نے نات لکزتار ہے اکن یےبھی ضروریی ےک راےانسان تھے خجرئیں ہے شابد
تیرے تو گناہو ںکی تعراد بہت زیادہ رو لی ےکبھی ضروری ےک لو درود وعلام پڑھتا
ر ہے ۔کیوکہ یلو ۃ وسلام ایک فی یی سے جس بھی صورت میس ضائ نی ہوئی ۔
۲
وت ات
2 پارہت انی یتآ ان جے ور کن
عاشتقاں دو چہاں مبارا مک ست ایں نام وگ
(اےلوگوا اس میں شی کی ںک نیش دو ز خ عش یکی حرارت سے بی لکرجسم ہو جاۓے
گی اگردل لے عاشق ای کل بھی دوزغ می کلم رگ )۔
بتایا جار ےک یگریٹ شح کس قد نیم اورحعدت وعرارت دا ی ہو نت مان
لیگ اور ان کے تقلب خز" بی ہوتے ہیں ۔ ول شش یکوسنیہا نے بہوئے وت ہییں۔
ارچ رون گی اوقرار کوئی معمو ی یں ہوئی' لی ات کے اوداگر ول پ٥
عاشی ایک لن در کے لے بھی دوزغ می سکھہر یئ فا نکی موجودگی سے دوز خغ کی آنگ جھ
الناک اوراذیت ناک ہل کے ددچھی سم ہوکررہ جا ےکی گوا وا 92
کے ماب می نار مکیکرئی قی یں ہے۔
ز2۵
آ وش اور آیا کو 01 طور جافت
رفت از و می زی و پارہ پارہ گکشت 7
(واواوہکون سا ور تھا چوکوہ طور پھ کا اورائں سے مظرت موی خلنڈا ے ہڑس ہو گے
ادرپچھ ر کنا چور ہو گع )-_
داو ئن الہ ! یھ چل جلا کا و وکون سا نو رتھا کہ جوجوہ افروز ہوا اور ا ںکی لا ی و
ورای کیفیت سے بر رح نوز بی فور کیا۔ اس ٹور گی کی جات لہ لات ہوڑے تاپ
موی نا بے ہش ہو گے ۔ اور پچ بھی ٹوٹف بپھوٹ اور بل پگ نکر بزد ریزو ہو نے ا کا
۲۸
ددرت نیک کے بارے یں بھی ایا جا ا ےک جب کووطودبربگی ال کیا ایک بھی یی
ق انس سے حظرت موی خلا ے ہو ہوگے اور پہا ڑکا ایک حص ھی جل اور ا نکی قوم کے
چا فرادیھی ج لکرر اہو گے ۔ یبال کےنورکی ایک ادٹی می جگ یی
ر"
3 دس ی٠ سے اک وا یی ددہا چہ کرو
و او بودر ور بلق یک
(اے نال انسان !یت ہیں خر ےکرحضرت بیس ٹڈ کے سساتحد ریا جس الد نے
پا علو کیا" ناریا کی کے پیٹ می تھا ان کے تھی
گیا آ پکوخفرت لن نایا کے واقہکاعلم اورقجر سے اور بھی خر سے ددیا یں الد
توالی نے ان کے ساق ھکیا سلو ککیا۔ رت لیس ٹٹٹڈا کا واقعہ یوں ےک ہآپ اپن وم نوا
میں چھو زک رکشتی یس سوار ہوکش رسے دور جار ہے تھے ۔ عطوفا نکی حاات میں انیل سحندرٹش
ڈال دنا گیا تھا سمندر ٹا یس نین ای وی تی نےپئلل ادا 22 ےآپ ٹپ لی
2 پویٹں یں کغ علاعت سے ھی کے پیٹں بی یل انمہوں نے تجھزو اخلاص کے ساتھ
اپ پروردگار اور “لی سے ڑا گا اور اتتغظا رکی۔ پر لئیں چتر رثوں کے یں ا ک2
0 ا ۔ ال ساری صورت عال اور واق ہکوق رآن مجیر نے ھی بتایا ے۔
ضرت انس فلنڈا کو ال تالی نے اپٹی ام عمت ےک دعلامت رکھا تھا کو اقال 2
خوداس ہے ساتھ تھے۔
۵1
سن لوسف از گا اووست کو ول تر
از ضکلانان کو مو و لوان ا رت
(ضرت اوسف مان میس اتا نکہاں ےآ مگیا ھ کی شٹس نے شممص ر کےمسبلمانوں
کمافروں آورف کیو ں کا و لٹ لا)۔
تایا جا ا ےکحخرت اف انا کے بارے میں روایات ٹل ایا جانا ےک ہآپ
۲9
0“ ,1و9 گی وجرے بہت
مضپو رھ نشور سے اس میں حعفرت ایسف میا ےس ن و جھا یکاکوئی ای نی تھا ۔یہاں
تک تا جانا ےک ہآپ ا ےن نکو چھپان ےک خاطر چھرے پ نقا بح کاکوکی دہ رکھتے
تھے۔ اس شر اشاردکیا گا پا ےک رت اوسف تنا کا تن فو ال تا ڑل کے لو رکا
1 ق' ور حر کے مسلران اورکافر اور ری دنا کے فرنک ان کےگروبدہ اورف یقت
و راو بے ا ا 3
ہ+ست ان او ورخثت ہوم رر وے صر ڑڑزار
کت طرف آں موہ را چدرہ ام درنن نل
(اےلوگوا اس کے نلتتان بیس ہہراروں رتک کے میوہ دار ورخت مموجود ہیں۔ مل
نے تو ان یش چیدومیوئو ںکو نک کی بویا یب ری ہیں )۔
ا شعرمی ظاہری طور پر دنیادی اد و بہار اور ہا لکی بے صا ب نت لک جاب
اشارءکیاگیا سے اود جا گیا سے اکرکیشن جہاں میں بڑا رو تم کے رٹگارنگ اورل یڑ ول
گت ریغت موہ رشن نے انان اعت بے الہپ اوخ رگ
میوے اہن لیے چون نکر الک اور یح کر کے رھ لیے ہیں ۔ اس سے بیگھی مرادلیا جاسکتا
ےکہ یرد نیا بہرعالی رنگارنگ ہے۔ اس می براروں لاکھوں د لکوچھانےے رو عےکولچانے
ور کو لے والی زی ہیں لن ہی مان ان می ے بت ا کیاکی نز
پنلدکی ہیں جوائھی ہیں ۔۔اس سے بیبھی مطلب لیا جاسکنا ےک میس نے اہٍے اعمال دافعال
پند سے ہیں جوآخرت مم میرےکام سے ہیں۔ اس شر میں سب لوکوں کے لیے بی
زثوت او رت بھی سےکہ و بھی صب فو شی اس دنیای اپچھائیوں او کیو ںکوکا ” نپ
2
ئک عمال 0ت تما لی ازرزوخ زارد گے
و رو امو رل رامان میقل
(اگمرکوئی بندوقن تعالی کے جما لک آرذہکرتا ہے اس د یھنا چاہتا ہے“ اے سپ ےک
٢٢
دہ پیل ا ےآ نہد لکا نک اما رکر ا ےحتق لک نے )۔
اللہ ارک وتا ی ےق 07 جا لکو د یکنا کوئی آسمان اور عا م کا میں ے۔ الد
ارک و تھا کو انسان اپنے مکی ان ما ہر ہنکھوں سے ہرک نہیں دک سکنا۔ ان لا ہری
آگھوں سے و بنلدوصرف مظاہ رفطرت ا یکو ما ہک رسکتا سےکیان ال رجات وتھالی و کے
کے د لک یی کا 1نی ہیں لی نظ رسے مرا سک کاطوتی طور پ سی کال ہے اوربھر
اس کے ساتھ دل کا ارادہ اورخواپشل وطل ببھی ہوی ہے ۔گویا انان کے لیے بھی
رورت ہو ےکہ اصادت کے سا تھ ساتجھ نیرت سےگگی کا م نے اود اس شع رمیں جانا
جار ہا ےکہ منوالمہ انما ن کا آئ رقاب نا صاف او رسدر بللہ وو ن زن گآلود ٭ چگاے۔ اذا
جا تن د یھ کے لیے پیل د لکوصا فکر کے ا سکومیق لکرانا ضردریی ہے۔
رگ
سر تر رر رر رو بدھ
اللہ ا پاٹ صنحت در روز گنک
(اۓ پروددگار! تیرے الطاف داکرام کے بے شارخ یداد ہیں ۔ سب اس کے طلب
ار ہیں ۔ ین تیر ےق کاکوئی طال بن 'کیوکمہ میدان جک می ںآ گے بوحھکرلڑنا رابک
و ا فان
اس شع بیس سرکارحن 82 ی درخواس تگزاری چاری ہ ےک اے رب الم اور الد
کر !اس دنا ٹس سب لوگ ترے رم وکرم اور الطاف واکراام بی کے طل ب گار ہیں ۔آپ
کی رٹھیٹ اوررمانیت سےتحلوق دا رتقوں اور بکتل ب یکی طلب در سے ۔ اس کے ہنکس
تیرے قب اور غیا وف بکی نف انمائنع تاب لا مت الع شش اسے برداہش تک ن ےکی ہمت
اورسکت ہے گوہا جس رح میدا نککار زار یجس آ گے ہہ یکر مو کی ہنگھوں میں ہہنھیں
ڈا لکرکارناے انجام دینا ہ کی کے ا کی با تی ہو ی اس لے اے جار ے رجیم دنن
رب! ٹھ سے ہم ریرقت بی کے طلب گار ہیں تیرےاطف دکرم می پہ ہما نظر ہے۔
22
لغ
کے 7 بت پا ہر ذرہ ور کاتّات
آں ہ رد کیست ہگ انددا نس زن نے چک
( کات کے ہرذزرے می سکوئی اود ہی زار فرما ہے۔ ذرا موچ اورنور ےتم
دبھو۔ پردے می جو ہے اسے عاص٥ لکرن ےک یکوشت لکرو۔
نات لاف نے ڈگ سے ےکر افش ع ناد یھ ان مک پا ین مت
کے اندرکیا یز ےکس کےبلوے ہیں۔ ان س بک روح اور جا نکون ہے؟ ےسب
کےمائع فرمان ہیں ۔کون سے جو ان سب پر بلا شرکت شی رےچھران ہے ۔ق رآآن مجید یل
نفددخقاۓ پیا ہے ہاش دا کت خدا کا ہے۔ ا سا یس سب اس کے لیے
ےاور ناد کی انف انی سای کے اجکی کی یز ۸۰۶۰) ای ساقو
سزاقی میں شع ہیں ۷ئ اع رک فلت و کین ےکہ جا کا کات میں راو رداں ہے ان
کے بارے می ںوروخوش ےکا م لیا جاۓ اور اس کی متالبعت اخختیارکی جاۓ۔
م۷
می زبان تال دارم او زان عال ىا
از ول جروں مۓ بشنو تو نے از ھا و نک
(میس زان عال رکتا ہوں اور وہ ز پان عا لک ماآک ہے تم ری کے دل رو
آوا زسخو ےک ضر یی )۔
اس شع میں صوفانہ اصطلاحات می با تک اگئی ےکہ یں ف صرف نا ہرک انل پہ
نظررکتاہوں اہر اق یکا باہراوران پ با تکرنے والا ہوں جرد ومجذوب ہون ےگا
حالت میں زبان عا یکا ماک ہے ا لق کو کا ىےآواز جو ضرق
کا کال وی و کک کش کن
ق اک روخ اورشی دل ہے ۔گویا ظا ہی عال کے ائۓ عال یش چواحوال تقیقت ہوتی
سے وہ اہم او را بل ذکرے۔
۲۲
لغ
خوردم 7 ے جم حخورم ا و بآر
8 غان ارہ ردازد۔ اد او مگخور ئگ
(بیس نے شراب لی سے اور مر یمخوریھھیں جو ہیں تم انیس دیموشاید اس طر تم
اس مرکو پا کوک شراب ہین والانذ لن می مجر اورمڈور ہوتا ے )-
اۓے و وت ین ےو رات شی نیشن انگ ہے۔اسس سے میر کیفیت
ھی اور ہی ہے۔ اس شرا بک خمارمی ری 1گھموں سے ھا ہرہور ہا ہے ۔ ا دوست !تم مر
آھوں کے اس ا مار اورست یکو دبھو۔ شا یم اس طرح سےصسی یقت کا راز پا مو
اپی اس عالت می یذ سپیڈئیس تا سکت اور نہ کے شی ہی ہے۔ یں نے نو شراب پا گا
سے اس لیے میں نے فردلوث ہوں۔ بیس پچجھانہارکر نے کے نہ اقائل ہوں شداس اظمار پہ
قادر ہول پھ ےکوی افقارعاصل نہیں ہے .تم جوا سے ہے ہو نے ہو ای یگف خی لکن
ہون کی وج نۓ مکی آگون مین سے چھائت ککرزد نوا کسی خی را کو نان کو یا صرف
موس ب یک رس وک میریی حالت او رکیفی تگیا ے!
رفک
رینت ساتی ہجام یادہ ہد دہان چان گی
کم مود مکی یں 8ی از ول اہ پچ نک
(ساتی ن گی الد ی نکی جان کے منہ یس جا شقن ڈال دیا ہے۔اال سے اب ا کا
تی اور رستی سے دوی ورک یں ہوگی)۔ :
اے میرے دوست! از زا کرم والطف اس ساقی حقن نے خودٛہیں ( می الد ین
کو) جا شی پا یا کہ انس نے فذ ہمادی جان کے من ہکوکھول اس مل چام پادرگدیا ڈال دیا
سے۔ اس نے مہ جا خودانڈ لا ہے۔ اس وقت ہم بے بل اور بے ارادہ تے اور اب صورت
حا وی ہج ےکراس جام دعدت سے جوسی اوراریل یس رآ سے ود یپوی
یں رہا۔ بہ اب ذ ہماری خوائشل اورآرزو بچی ےکہ ہہس رخونی اورمستی سدا ہم پر وارد
۲۳٢
رہے۔ یم اں سے ایک لو کے لس بھی عودہ ظ ہون ن. اود اس نش ہنا می کسی بھ یل کی
واع نہ ہو۔ اس کے لغ زمادا ایک پ بھی نہگز رے۔ اور یکوگی جھ ا لے کیا راے اور
طلب نہیں بلمہ ہرعاش صادق سزائشتق ال یکا جام فو جا نکر کے ا کی ستق ہی مس رنے
کاطل گار ہوجاے۔
نامہ دارم یہ ا ارت کا
ایز از ق ئم فی پر ب پگ
لاگ چ میا نامہاعمال سیاہ رات سے بھی زیادہ تاریک ہے۔ اس میس یک ائمال
موو یں ہیں۔ ال کے باوجود یا رب !میس تری رعت ےکی طوریھی ناامی نکیل ہوں )۔
اے میرے پروردگار ! بے عدگناہگارہوں۔ می را اخمال نام گنا ہہوی سے گرا ہوا
ہے۔ میرے برے اعمال بے شمار ہیں ۔ان کے باعث نامہاعما لکالی رات سےمگا ذیادہ
ماب ہو کا سے گنا ہو ںکی اس ق کرت اورذیادی کے باوجوداے میرے ر بکرم مرکا
نظ رت ر ےکفو و ورگز ر4 ہے۔ میں جانا ہو کہ سب سے با خفمار اورخور ال رت بھی ےو
اپ بندوں کےگمنہہوں کے بے کے لیے ڑا وع دامن نان رکتا ہے۔ اس لیے مہرے
پروردگار می مالو ںی ہوں ۔ می ری نظ رآ پکیا بے پایاں دمت پہ ہے ادرآپ کے عدے
پر یکہاےلوگوا عرىرمت ے ناامیرہو۔
کت
وش یں ق کو ہی
رون رد خویش رارم پ اهک نع رگ
(ج بآرڑی رات کے وقت جھگفرمیں اپنی سیاہ روئی کا تصورسما ۓآ ہے میں
اپ زدد چرےکوروروکزخوٹیں اشگوں سے مر کر اہول )-
۲۳
را تک وشّت وا 0 الطر نا لت اورٹ وروش شکا بھی وت ہوا ہے ۔تھائی اور
کیک سولی کے اس عالم می انسان ایک تقیقت پپنرکی کے ساج کام لیا سے اورائس کا خورو
خی اسے 1ک صورت عالل ےآ عوکر ہے۔ اس وقت جب انسان اپ اعمال نظ
کرتا ہے فے اسے اپنے ک کر اۓ کا ا سال ہو ہے۔ شاعم جا ربا ےکہ جب رات کے ال
سے میں ب یتور اتا ہو کہ می لحشر کے میدران بی اپنے مگمناہوں کے سبب روسیاہ ہوکر
جاراہوںں قے ال کے بعد می ندامت اور پچچنتاوے میں خومیں اشکوں سے اپے پڑمردہ
چرےکوسر غکر لیقاہوں۔
ج
9 0 ےرہ
انار رر رل زار خرردہ چ زنک
(میرے پروددگار! آ پکی نظ رکرم اکر میرہے قلب پرگھا پڑ جاۓ فو میکارآد بن
چان اور مرا کام بئ جات اس طرع میرے ذپ خوردہ ول یکا ضف مل یل ات جائے
۷۴)۔
اے میرے پروددگارآ پک عنایات اورنو ازشظات بجی میری نظرہے۔مر حالتع
الیک ناس کے اور بےکار کیاکی ہے۔اس لے اگ رآ پک نظ رکرم ولطف ہو جا ذ میرا
مغموم نا آسودہ اور ول بے قراد پہ پے جا فے ال سے مبراکام بن جائۓ اورمرے و لک
سار کمدوریں اور ڑنگ دورہو جانیں ۔ اے میرے رب ال رجیم میرے زنک خوردوقلب زی
کےکمدداورزنگ اور نیاوی یل پیل اورآلائٹوں ےصرف تریی نظ رکرم ی صاف اود پک
کیک٤ے۔
رف۵
ازاپ 1 ای :زجارااتف:: لن مگیؤں۔۔ چون سم
عم از عد بروں بے طاقت وزارست دنگ
(یارب ! میراما ت کا لو چھ جو جھ پر ڈال ا گیا ہے بہت بھارگی ہے۔ یل اتال ہوں۔
۲۵
ج سکیاکروں. میری سواری یہ در لاخ راو لن بھی )2
انان این پروردگار کےتضور یں مر لکنا ےکا ےم ریے پدرگار! ااغ کا وہ
پوچھ جھآسانو زین اور پہاڑوں نے اٹھانے سے پچہلو نچ ی کی اس بوچ ےکو یس نے پور
انان اٹھا لیا۔ ( ۰۳۳ھ )۔ ہہ او چھ بلاشیہمبرکی ہمت اور واستطاعت سے بہت زیادہ اور
بل ہے گر بے بے کہت ہڑگا مات عظی کی زم داریی ہے۔ مین 5رگا میں
کیاکمروں۔ می رگ سوارگی بہت اورگٹزور بے طافت او ریف ونزارہے۔ بج یں وہ اتا ںی
اونکڑ بھی ہے۔اس عالت یل مرا سہارا او گا رآ پکی رمعت کے سوااورکون وکا ے۔
ہے کضلاواں: یں کی آم ید
بت بستاں از مصلااہاں بھی دارنر تنگ
(اےلوگوا اگر می کل رو زجشراپنے ا سکردار کے سا ظا ہوا تق میرے اس کردار
پت رتو ںکومسلمافوں سے ش رآ گی )۔
اس شع میں مسلمافو ںکی عام رو کی با تک جارئی س ےکر دہ سب لیا ہری ور پر اور
ام کے ران ہیں بی لن ان کے اعمال دافعال اور مگرمیاں سراسربت پہستوں دای
پا لن نسویں اورجرت ہے اگر چسلرانوں نے بو کا پت کر اتا نی کی ہےجن
ال کے پاوجودانہوں نے اپ ےکئی بت اورممبودان ا٠ل بنار کے ہیں۔ اوراں ری لی
اور ات میک لکوحشرکے دن جھ ہماری مسلرافو کی عالت ہہوگی' اس برق بت پرستو ںکو
بھی شر مآ ۓےگی . اس شعررمیں مصنف نے اپ چجز داکسمار سے مسلمانو کی عالت زا رک
خوب بڑھاپچڑھاکراس لیے جیا نکیا ہے تک اصلا کا پہلونل ے-
رن
ہن مم گہہ تیر تد درکاتات
رویۓ ور مالپىم اندر پاے تسا رک
( رجگ یکیاصورت یت یکہ جب ٹل نے کائات یس اپنی وی رکوکارگر ہوتے ہوئے نہ
٢
اپنے چ ر ےکو تا ہوا تر سا اورفرنگ کے پاڈل پڑگیا)۔ اھکید
(اچی دوں تی رش تق کی ون جب مجن پے بہ پے ناکامیوں سے
دوچارہوے لگا“ جب میرے نمو بے اورحمت ددابائی نا کائی اور ےار ون گی یں ای
کت ناگامیوں اورعل کیل پاپ گا ہیں بگملیوں او رگرور پچ لکا جائزولت اورک
راہ سے بھگا آھا۔' انا لوان الیدراجعوانع“ کے اصول کے تحت دوبارہ ال راہ پہآجاتا۔ن پد
تی ہوک ی کی اخیاراورفیرسلسو کی ابو پ اولیا۔ یں نے اپ اادوں کے ض
ہونے کے پاوجودالل تھا یکیا جاب رجو ےک پک تیر غارک شکارہوگیا۔
2
و ج آوردگی کے مات ار 3
٦ ے
روۓ مر آلور خر نام اثرر گور تا
(اگر خدانے پچ پچھاکہمیرے لے دنیا سکیا لات ہو فذ میں نگ وت ر یک قبریں
سے اپاگرد لود چچرہ دکھادو لگا ۔کرمیرے پاش میا سوغات کے ا
اس شع میس ایک با چلرانسا نکی فر دق ھا جز کی اود خسار کی با تک گئی ےک گر
پروددگار عاگم جھ سے بی ددیافت فرمات ےگ اک اے میرے بن ے! نے نے دنا یش ائنی زندگی
گزرارکی' ق اپنیامن بائیوں ے اور اتی خودمتاریوں سے چو تیرے ای می تھا د یکرت رہا۔
لن چوکہ کے الخ میرے ہی پا سن تھا .اس لے اب اڈ اشن دنا می ےلاکن از
مھراے لچ ےکیا نےکر نے وو ان وک ار انا ہیں ۔ مرا دالن تو
تیوں اور لا مو سے ای ہے۔ اس ندامت' بھی اورخمت وخحقت بس مہرے پا ال
کے سوا یں ےک می ق میں سےاپتا اگردوغبار یں اٹ چرہ ہوا گا لکراپنے رب ال نیکو
دکھادوں اوراترارکرلو ںکمیرے پاس ائ ںگردآاودروۓے پرڑ دوکی سوا اور ربھڑیں بط
2گ
یئارب :ین .ائ نہذ اکم پل
پاگمدائۓ عاتزے سلطان کیا گروست گنگ
(اے میرے ر بکرم! میرییا درخواست ےکہ جب می ق رکی اک مل رک دیا
٢ے
چاؤں فو میرے۔ ات کر لین خلمت والا ۓے می عابزد ےکس ہوں۔ پادشاو گرا
گر کے ساتھ جن کی ںک۷ت)۔
اس شع میں بھی انمانی عاجنئی کی ایک ادطرح ے نمی ش یک یکئی ےا انت
مرے رب الم کرت بہت بڑا شا اہب ہام الاکن ہے۔ تیرے سان می رکا عابج کا
از سکیٹ یک یکوئی جا ہیں ہے۔ اس لیے میرک درخواست سےکہ جب میرک مات کے بعد
مرے ووسنت اتاپ اورلواخِن ےترم ڈال جاتویں و اس وت میرنے ر بکرم جھ پہ
انا مکرنا۔ جھے معاف فرباد یا اور میرے ساتھ انی بعت بے پایاں ک ےم لماک لیتا۔
یں ایک ادف عابقزادر نا یز بندہ ہول اورسب سے شہنشاہوں سے بڑااورس بتلمت والے
عاکھوں ے بڑاممران اود عاکم ہے۔ میرا آپ سےکوئی مقابلہاورمواز نہ یی جم ال
لیے ھی کی بادشاہ اپے ال خلام ماگداۓے بے ٹوا اور ب ےآ مرا کے ساقحھ پرگز نک نہیں
کرتا۔ انان ترے سات موازضہ و مقابلہ کیا تیرے سان ےکھڑرا ہونے کےبھی لال نہیں
رلگ
27 2 رن روز
از چتاں نے تی چریں نخواہم ا
(اے الا یہی زجحعت تو ٹمتوں سے بھراہوا ایک با علیم ہے اور ٹیش اس کے
لوا فکرر ا ہوں۔ بی اس با سے ہرگ ای اھ نہ چا لگا)۔
اے ایتم الرائمین! تو رب الم الرتیھم ہے تی رکیں بے عدد ساب ٹییا۔ دو
اب اورشار سے اہ ہیں۔ لوگ یکہا جاسکزا بےکراے پروددگار! تیىی ری ںو انعامات و
اکرابات سے“ممورایک بہت بڑا با ہیں ۔ اس کے اندد جوافعامات ہیں ا نکا کول اندازہ
بھ یی ںکرسنا۔ او اے میرے رب دتیم ! ےہ بیکھی لقن اود میا ایمان ےکہ بیسارگ کا
ساری یں نو نے اپے دو بی کے .لپن یس ھی ہوئی ہیں۔ اس لیے مرے ادا
اس ہار کا سسل طوا فک رر پاہوں۔ میریی درخواست اورآرزواور الا ہے بے ای رکتال
ےگثرؤم ندرکھنا۔ می راچھی دائن انی بے پناہ رگتقدی سےگھمرد ینا۔
۲۸
۰ رت
رکز ببنحھد یں بی خومیم :کر .ازہ رصت
مکی سے او رت تن دای بت در
(میرے رتنم دکریم ادا دولوگ جو بے ترک رعمت سے ناامیدکرتے ہیں دو اند ھے
یا۔ اے میرے دب رج ا جھے بے چارے پ۰ با تا تیر ای رم تفر ا)۔
اے مرے رب الین الریم! وہ لیگ جو ہیں مرا ہکرت ہیں" جو ہہیں تی
رکتول سے دور رک کا باعث نت ہیں ۔ جوئئیں تک رکون کے جا مالوکی سے دو پار
کرت ہیں 7 اے اللہ دہ لوگ فو مراسرائل ھھ اور نلم ہیں۔ دہ ے شود میں کہ دو
جاندروں ےبھی بل ہیں۔ اآئیں کی رت لکی وسں ادرف راوانیو کی خم نہیں ے۔
وونگھموں یں کی ک بھی اند ھھ اور ب مت ہیں ۔اے پروررگار! لڑ سپ ے بڑا
ری کر اورشن ہے۔ تی رتو ںکاکوئی شاریں ہے۔ جھے انی بے اہ دینوں سے فعل
کردے۔ جھ پد سے یر اپئی رتو کی ارز لیف مادے۔ تیرکی دقتوں پہ ھی مر نظرے
اور بیس جیرکی رقتقول بت یکا طل ب گار ہوں_
0
ا دا :از الف خود لن سای :۸
زا مہ جیکاں مریداں را می زنند جرد نگ
(اے غخدا! مرکا دھا ےکہدوزجش تما للطلف وکوم میری ڈھال بن جاے ۔کیونگہ اس
روزئیکلْل بروں پر طعنرزن ہہوں گے اورطعنوں کے دہ تیر چلانمیں گے )-۔
یہاں پ ایک با ہچھراس انسا نکی عالت جیا نک یگئی ہے جس کا دا ن کییوں ے خالی
ہم ۔قیامت کے دن کے نوانے ےب روابات یس یو ںچھ یآ ہے اس روز اراوگ
ایخ نمی پرجرکر یی کے اوراسل کے ساتھ سات ھگناہگاروں پرشن وشن کے تی چلانجیں
ہے۔ ای ار یس اے اللہ ریش فو گناہ گا ہوں۔ میرے پا کیوں کا سرباییں ہے۔
میرے مقدد یس نک میں ہو نگ اس نے میڑے الا رات یش
۲۴
رحصت بی میرے لے میرک سر اورڈڑھال بن جاۓ جو یھ کیک لوگوں کےنعنوں کے پانوں
سےتفوظا ر کے اور بی تیروں سے پیا رہوں۔
رفک
یی چوں ور مو سفیرل ویر گفت آہ و در :
نام دارگ ۔ سیہ رارق ٹن مار کت رگ
(گی ادن نے جب ابینے پالوں می سفیری وھ نز معلوم ہوا چیرکی ھی کے
اس نے بے ولغ کپاکہ اوس میرا نام اعمال تذ جاریک رات سےبھی زیادہ سیاہ ہے لان
میرے پال سفید ہوگئ )۔
بای ک بی ش مک شر ہے۔ اس می ایا جار ہا ےکہانسان اس دنا اپ سم
میس اود انف سکوغ کر نے کی ۓیے زندگی بے جار ہے۔ وہ آخر کیک اور اپ
رب کے سان پیش ہو ےکوکھواا ہوا ہے اسی طرح شب وروزگزر تے بہوئے وہ بوڑھا و
جانا ہے۔ پال سفید ہو جاتے ہیں ۔ شاع رکہتا ہے اے انسان افسوں ہے تھب تی انم النامرظھ
بد پوں اورگناہوں سے ساہ ہو چکا ےن بلگہ دوتذ انرم ری رات سےبھی زیادہتاریک ے۔
لن تیرےس کے پال فی ہیں۔ ے انسان تو نے بھی اتی آخرت او نا مہا عما لک سیا یکا
گر کی لن مو نک یگود یس جانے والا ہے۔ اس لے جھ پرانسویں ےصدانویں ہے۔
رریف۔ل
تر او بن ىی خامم کہ آر ہوۓ درل
یف .می حم شور پیستہ. در پچیاوے ول
(س چاہتا ہو ںکہا کا تیرسیدھا میرے دل یش گے نین خدشہ ےک یی اود
۲
ایعرادھرپہلوۓ دو میں ن لگ جاۓ )-
میرک آرزو اورخوائٹل ہے کہ ور ےتوپ کا تب رسیدعا میرے دل می میں اکر
بجوست ۔ بی تب مر ےجو بک جانب سے ای ک تفہ اود مہرے لیلحت ہوگا۔ دوست
کے ئن ےکوتھ دل و جان ےقجو کیا جانا ہے۔ ا لیذ چپاچتا ہو ںکہ یادکی اس دوات
کو یس دل ہی لہ دوں اور وہ تیرسیدھا مر دل ہی کر گے اور و میں پر یش
ببیشہ کے لیےتفوظ ہوجائے .لین خدش نی ےک اگج میرے لی کے ہائۓے اوھ اوھ
پہلاۓ ول رم ل گ گیا تق کی یار کے ت ےکی ناقددی ہوگی۔ یس ا لگستا خی سے بنا
ابا وں۔ یبال پوپ کے تیر مرادال کی نظ بھی ہے۔
ر2
ول زین یک عفر اکوں روڑگارنے ش دہ مخ
1 کو در پارر گرم 7 نے رل
(میراد لگ ہوگیا ہے۔ نرمعلو مکہای او رکدھر ہے دہ ! عرصہ یت کا ہ ےکہ اے
ای لک نے کے لیکو ےار کے ار دک راو دید رکا ا×ی)۔
ا دنا دالوا مرا بے تاب د لکن لک ہوگیا ہے۔ مل ایک عرصہ سے ا لک خلا
ہوں۔ سرگردال اود مار مار رر ہا ہوں۔ اود اب نو بی الکو ڈھو نے کے لیہو بک
گک کک پکاہوں۔اس لے بی مج سکوئے ار کے اد دگرد رد پاہوں اود در بد دآ دا کی
حالت یل بے وکا نہ کرد یواندوار اپنے د لکوکھورج ر ہا ہوں۔ می راد لعشقی لی یس جک گیا
ہے۔ اس لیے اب شھے ہج ہش نی سک می سکہاں ہول او رمیمراد لکہاں ہے۔
" ر29
1 نخان زا باب ا ٍ وا 1 مظن
کو ہہ ان تام آا ا روۓ مل
( لی رخو کو چا ےکر دہ ٹے سے وفا کا سیق چھی ںکہ دو خر م کک اپنے ول کا
پر اپ حیوب می لکودکھا تا رہتاے )۔
۲۸
صیینوں' مہ جہینوں اورگل رخو ںکو اکر چہ دفا س ےکوئی وکا نیس ہوتا' لن اس کے
پا چوداگیں چا ےک دہشگوفوں اورنچوں ے وفا 2 بب انان ون
اور چھولوں رٹیل سے چھپات ےنیس ہی لکو بدستور دہ اپنا چرہ دکھاتے رت ہیں۔ اس
شع یس شا عر نے بڑےاطیف شا عرانرخیا لکوبمویا ہے ممتوق کے دنا نکڑٹھ ی نیہ کہا جاتا
ری
رف
جرد ا ا اح 7ا سک ا سد
پزؤں دی مع جم وش بود اور گرفت ہورئے رل
(اگ رکا با رکا کنا داوانہہوگیا ہ نے میکوئی تج بک بات نی ہے۔ دنو ہمارا ای
ہے ہمارے سا تر ہا ہے۔ چوک میرادل ا کا م دم ہے۔ ای لے اس نے خی رے ول یکا
عاد تکواپنالیاے )۔ :
اس شع ییش اس خیا لکوکمو با گیا ےک کے یا٢ کنا اکر دیواضہادد پاگل ہہو چکا سے
یرت اوت بپکا با نیل ہے۔ دو سن ککوئۓ ارذ را ایا اود مرا رشقی ہے ددگھی
میرئی قی طر میرے یا دک یگنوں می شآود کرد یکرتا ہے .. اس می پھ کوئی شک نہیں سے
الوب کےنشق میس میرادل داوانہ پالگل اور درف ہو کا ہے اس لی ےکاۓ ار کے کت
نے بھی میرے دل داواتہ' پاگل اور وارفت ہو چنا ے اں یکا باد کے بت ن ےکی
میرے د لک خوۓے دبباگی انا لی ے اور داوانہ × چکا ے۔ بدم اور یار پر دوس تکانگ
چڑھنا اور ال لکی صحب تک اث ہونا ضرورگی ہوتا ہے۔لہاد ہکتا نف میہرے دل دلوانہ کے اٹ سے
رثا ہوا ٛے۔
زط
از عیرت 1 خلوتے سے ا ا
پور آضا رز ورو لو ن2 زاوتۓ ول
(اپے ول کے لو تکیدرے می ار میں تیرے درد کے سو ای او رکو ھائوں تو میں
سڑے
کی
۲
رت کے ساتھ اس خلو گر ہک وآ لگا دو لگا )-
بتای باجاد ےکا مض کب ات ول کےخلوت خانے ہیں صعرف فو یپ
ہے۔ میرییکوٹنشینیوں کا سای یر موا میرا اورکوگ یں ہے۔ تو بی نے میرک تھائیوں
او زلم تتگمز یو ںکوسا رکھا ہے۔ می را خلت خا رف تیرے ہی لیے وقف ہے اورائس مل
ہرے بر لی وٹاے۔ اخ لو ےک برے درد نے رین او رآ راست کر
7 0 و اوزورد ےلاو ول یہاں
براجمان ہوسکنا ہے۔ اب اگ رمیرے دردوالم کے سو اکوگی اور دوسرا ہہوگا ٹذ خر تک وجہ ے
میں اس لو کو ہک وگ ل اکر خ امت کر ڈالو ںگا_۔
رلی
اسے ای رییاں رِل 01 برح ور او
ورہ نا محثر نخواپر کرو گشت یت دل
(اے پریی دش سیوا گی الد ی کا ول وا لہ کر دو۔ ودنہ یش رک اپ د لک یکول
نلوگ کر ےگا۔ ا کا ڈوک نی ںکر ےگا )۔
اے پری جمالی خو بروصینواغم نے میرادل نے رکھا ہے۔ میرادل تمہارے مین و
گیل پاتھوں میں قید ہے۔ اس کے بیر میس وپ دہ ہوں میرا د لتمہارے قضہ یس ہے ال
کے جدا ہونے کے بعد بیس فو صرف ایک خالی قال بکی صصورت یں رومگیاہوں۔ اس لیے
اےسن دجالی کےئسمو! میرادل بے وا لوٹ دو۔ ہیآ پک بہت بڑگ مربالٰ اورفوال
بی اور پان ہیی ےک گرم یراول بے ول لی کرو گےقو ریس اس لان نیش
رہو گان میں زوین بھی اس و لکی با کزشکوں.. ول کے پارے مین وم ای
ہوگررہ چا لگا
۳
خزں"
غِ
پل آتاں مکی ڈلڑائی. :چنا با اع
رتو قسف تا کی ران
(وہکون سا لح ہہوگا لکیہ جب نے اپنا جال پاکمال دکھھا ۓگ اور اس سے فو مرد چھلیال
بھی دیدار کے ٹیٹرے پا سے زم جوا الین
و ہکن سا موم کون سا دنع اورکون سا حہ ہوگا کہ جب تو مین مہ ٹیل اپتا مال ہا
کال پیییں دکھات ےگا ۔ تمرا جمالن باکھال ڑاہ یمج زما ثابت ہہوگا۔ اس سے وبا یوں ہہوگاکہ
تیرے دیدار کے صاف اورشی ری 0 سے مردہ ہو جانے والیمچلیا ںبھی زئدہ انی ںی ٠
تیرے پر جمالل صن کے دیدارکا اتماز ہوگاکراس سے مھردو کی دو بارہ جالن ئل جا ۓگیا۔
مکہ ج عاشق ناصبود ہیں ج حدا مگری ہکناں رے میں اود اپے لا خود اپ مردل پہ
اٹھاۓ نر ہے میں' تیر۔ :سن کے دیدار کے اعماز سے ہ بھی زنروں میں ہو جائمیں گے
اور لوت مردہ می لبھی جا نآ جا ۓےگی ۔ بوالہتقحوف اس شع می للقاۓ رپ کی جان بھی
اشار کیا گیا ہےکراسں سے تے ”اس دن بہت سے چجرے بشاش بثائش ہوں گے اور ا
ر بک طرف دکور ہے ہوں گے_(۵ی:۲۳:۲۲)
ر
ور مم 92 یں اودرن گر گیا ر۳۲
7 معز تی و ہکا وی نف عالن ؟
. (اگ رق جم مس صرف ایک ہار یکم ہم سے پو بچھ نےکہ بح مکس عال میس ہیں تے
ہعارے لییے وہاں چم ۳ کےکا بلکہ باع ث ختی وگ مآسائی ہے دہاں ر یں
ال 1
اے ہار ےو ب شی !فو ہمارے حعالل سے خوب واقف ہے اگر ہم چم می ںبھی
71
۰۲
ہوں گے میں ا سکی پرداہ اورکگنئی ہوگی۔ اس لے اگ نہیں میہقین ہو جا ےیجیل
اس ہار ےم بی شس آکر ہارے احوا لکو کک رصرف چم سے بی لے بچھ لٹ ےکپ سس حا اور
کیفیت مٹ ہیں قو یآ پکی بہت بک مبربالی ہوگی۔آ پک اس احوال پک پا ہم خوٹی
سے پچھو ل ےنیل سا میں مےکہ ہمارے عببیب نے جم سے جمرا حال پو مچھا ہے۔ اس احوال
پیا ےی آپ سے اپ یہد تکا اضاس دادراک ہو جا ۓ گا اور ہوگھی ما رع رہ ےگ
کہآپ ہمارے دوزرغ کے سکن کے احوا لکوخب اث ہیں ۔ ال کے بععدائں دوز رخ شی
رہن ہمارے لی ےل او رآ سان ہو جا ۓگ _نیں دو زع کی آگ اددنی بین کچگا۔
ر29
یز وف را دج“ ور مین
0 لا ا
رواٹ کے موقع پر می مردو ںکوتبروں سے اٹھانے کے لیے صور پچھو کک کی
ضرور یں گی ۔کیوکلہ وۓ وصال بن ہی سے مردوحلوقی اتی انی قبردںڑے اہرآ جاۓ
یوعد
حوالہ من مصوراوزمردولں کے گا نے کے پار ے میں ق ران یز ٹیس ان رح سے
ارشاد ای موجود ےک نچ رابک صصور بویا جاۓ گا اور وہ (لوک) کا نیک د۳ مگہاں اچچ
قروںرے اپ پردردگار کے تضور حاضرکی کے لہ دوڑ پڑ لی جے' (۵۱:۷) ئن
صورتا لکوانیک عاش یکا ذ بای یوں جیا نکیاگیا ےمم اے ماک روز جزا! اس روز مع رک یجٹر
یں لوکوں 23 لیے صوراسراٹل پچھو یک کی ضروریکیں وگ یکہغرهے زرہ ہو جائین:۔ بلہ
صورت حعال فو بی ہوگ کہ الل کی سار لوق تو ا ے رب کی خڑٹی بیس جے ہوئۓ دصال ال
جھ کہا یا ےا مو نکر کے بی قیروں سے اٹھ بی کی ۔ ا من می سک :لک لتاۓ ری
کے نظ ہوں گے وں ارشاد پارکی ےک یدائل ابمان اپ رب سے نٹنے دالے ہیں' ان
کے نف لم ١عفران سے رشن ہیں ۔''(۹:۱٥)
۵
ر"
عانہ انی لت و آں چتاں پش ز دوس
کاں چہ نر دوست ہست اہیں چا گا یابد مال
(عاش اگ رذ ا کا انال ہوتا ہے۔ ا کی سارک کاکیات دل بی ہوتا ہے۔ اور ہے
گھ راس کے دوست سے اس طرج نے ملمور ےکزاب ا می لی اور کے لیےکناکش ہی
ایل ے)۔
عاشی صاد کاساراداردمدار اس کے دل پر ہوتا ہے۔ کی الس ککاجنما اذد می ا یکا
رہب ہوتا ہے۔ دل عاشتی ہی اس کے لیے جاۓ سکون دالن ہوا ہے اور وی ا کا اول وآ خر
گھ رہوتا ہے۔ عاشی ہرصورت بکوالمہ اپنے ”شی کے اپ نے محبو بک محب تک میز با نچھی ہوتا
ہے۔ وہ الفت عبی بکا مہمائن دار ہوتا ہے۔ بقایا جار ہا ےکہ خاش کا ماش ددل دوس تک ہت
ےگل رپوراورسممور ہو کا ہے۔ ال لیے اب اس ناضددل عاشن گیل دوست کے علاد ہی خر
کے لیے ذو کہ سے اورضرورت ہی ہے یش ال کے ناتے سے اب یدگ محبت رای سے
مور ہو چچاے۔
۵و
اش موۓ شور ڈرروں اش رم او
ا رات رو شش کہ
(اگر عاشی کے دل بیس فردویں کے پارے میں بای کے براب ھی رشیگ پیدا ہوا بے
گو یا ایک امرمحال ے)۔
فردوں ال ہش تکا ایک بت بلنلد اورمر ہے والا طبقہ اور درجہ ہے۔ ىہ باطات اور
تافو ں کا متام ہے۔ اس مس ان وسکون اوراساطا وراح تکی لاکھو مت موجود ہیں
مق سیر کے جوانے جنت الردوں ہی کہشت کا متقام اوٹی و اع ہے۔ فردوں میں ایل
جنت کے افعامات واگرامات ا یگنت او لا تعداد ہیں ۔د میا کے عام لوگوں کے لیے اس سے
بی فقت اورانعام لی اورکیا وکنا سے ۔لمن عشاق ہہ اورحیو ب تی کے طالبان صادق
ار
کے لیے ١س فردویں ای کی پرکاہ نٹ یبھی اہی ننس ہے دہ پاکی کے ص کے باب ھی ا سک
برواہ اورطل بیس رکھت ۔ا نکی طلب وآرز وت صرف لقاے البی اور دصال تن ہی ے۔
و کول اتا ےک ہایس فردویں اظلٰ خی اح وڈ چان ای نل ہدام
ال ٤ے۔
ن
کنشان نر زار پچ والی کیٹ آں؟
پرکشندہ پا کیہ رکشت را پاشد بال
(تیر ےکشتگان نحرہ ز یکر ہیں اور ان کان ہےکنہرے لگاممیں۔ معلوم
ہے ا ن کان 1کیا ے؟ ا نکانترہ یہ ےک ہقائل پہکوگی انرام فیس ہے سارا لزا مت اسی مقتول
یکاے)۔
عق ال یکی وا گی اورع روج عش نکی حالت یس اجار ا ےکا ےو بت٣ی
ترنے مارے 6ے تیر ےکی سی ہوئۓ اود یی محبت میس ذض ہونے دانے عاشقان
منتون مسلسل نرہ ز یکرتے جار ہے ہیں۔ ا نکی بینترہ زی گوبازا دج کی طرح ہے
اوردہ اس حاات ٹیل جونترے لگا ر سے ہیں د وکیا ہیں؟ دو بر ہو اور مقتول حاات می بجی
یھی اقراکرر سے ہی ںک ہہ یکنتلان جن بی دراصصل تصوروار ہیں ۔ اس یش جمارے قان لکا
کوئ یل وف ل یں ہے ہم ہی اس جرم کے ہجرم ہیں ۔ قاع یوب نے سراصر بے دوش ہے۔
اس پرکوئی انزاممنٹس ہے بلمہ ہرمز اورخقوبت اورنل و خار تگرکی کے ہم بی موجب تھے
اور؟ می کنل تے۔
2
شی
و و ا ےہ گی وا
سی سک و کی ال یا ا
(مم نے دوس تکی ماطرد:اکیھوڑ دیا'ا پرق روفرورییوں؟ ردنا ایک پچھن
بوڑ ھھےکی ماد ہے۔ اس وڈ اکوگی مع رکےکا کا سکیس ہے )۔
ػ[ژۃعؾ۲
اے ووست! 1 شابھ اپن موب صاد قکی اراس دنیادو ںکو چو ڑکر بہت نناظھ
یس ہو۔ دوست کے لے دنا سچھوڑن ای کا رکہل اور عاشقو ںکی ابتقرائی حعالیتوں یس سے ایک
ادث ی مال ہے۔ اس پک سی تر دمیابا تکا ار ہو ےکی ضردر تن ے۔دوصت
کی خاطرقو بڑی سے بی قرپائی دینا بھی ایک مصعمولی اور عام ساکمل ہوتا ہے۔ اور اے
دوست! تم نے دوست کے لی کیا بچھوڑ ا ہے؟ صرف اس دن اکوگھوڑ دیا سے ج سکی اصلیت
اورخیقت کے پارے میں قرآن یرش یں گی آا ہ ےکم گی دیا (اور دیاری نف ل)
متا فریب ے'' (۱۸۵:۳)۔ ارا اس فریب سے نگل جاناکوگی نفاخر اورفرورکی بات
ار
زگ
ساب طولیٰ و جنش کوڑو پان و ہت
یں ای اض ا گا ال ذوافال
(م طول ین کوٹ باغ دہشت دنیا جہاں دالوں کے لیے سب اکچ اور رکشل
یا ہیں لن یسام ادخ کن یی راس رب ڈدال پل عی کے جمال
کےساتدز یادہچملی اود اھ یی نکی )۔
ول کے بارے مس بتایا جانا ےکہ ہہ جن ت کا ایک یم الشان درخت ہے جم سک
بک اور کون ساپ جنت کے تھا مگھرد ںکو ما سے۔ جو لکوشراور اد ہشت پروردگار
نے خوب بناتے ہیں۔ ال کی نظمت اورفضیلت اورتعمول بببت بل ئینقت اور انمالی خث لک
کاع وع ہوگا مان رسب انعامات داکرامات ا پروردگار کے تما ذوال چلال کے ساتھ اور
جھری بی بہت بی کہ خوب تر اور ھلائی وانے ہوں گے ۔ ان ین او لی نو ںکو الہ
ذوا چلال والاکرا مکا تمال' ال کی جذ رگا جاہ وجلال' شان وشوکت او رمشمت وجلالت اورگی
ینب جھالی پآ سان باوقاراورکون واستراحت روعالی وجسمالی سے لے مول وممزز بنا
دےگا۔ اس لیے اللدوالوں کے لے الد کے سا بی ہرنحمت اکچھی ہدگی۔
٠
۸
زلژ|غ
و و ا ا و ےج
ذتہف زرو حا آم ہر چٹرں اقرف با٢
(ای ک زی کے بغدذزہ رو ا نآ کنا نیٹ یکشیشش سے ایک یح رن
ما ل”كلرا٤)ن
ددیاف کیا جاد پا ےکرصدیا ںگزر جانے کے بعد انمال یش تو ذدہ ذدہ ہوکر ناک
کے ساتھ ماک ہو چک ہوگا ا ںکو الد تبارک وتعال یکس حکمت کے ساتحد ایک خمائ ض مکی
ہتنائیس یکشش کے اخ انما نکو دوہار و ئٹع کر ےگا گو با ووکس طرع ک یکشٹل کے ماج
دعصال ہالا تصال شی بہوں گے۔ ا ابا ذرات اور وصال پالاتصا لک الل ارک وتقالیٰ
نے حظرت ابرا ڈیم نا کے ایک وا تج بیس ق رآن مجید یش میوں بیان فر مایا ےک حضرت
ابراڈیم اٹلا ےکہا کہ اے مہرے پروروگار بے داز ےکا ھرد ےک و کی زئد ٥ک رن ےگا۔
ارشاد خداوندکی ہوا۔ اے ابرا یم !تق نے یق نکی سکیا ؟ ابرا ڈیم خڈاث کہا لین نکیا ےئن
چاہتا ہو ں کہ (عین انقین کا حول ہواور) لیا نکیچی مسر ہو (ارشاد ہوا) چار طیورپچڑ
نے۔ پل رانئیں اپنے ساتھ بلا لے۔ بچلران کے مک ایک ای کگکڑا چر پھاڑ پر رکھددے۔ پھر
ا کو بلاق وہ تورے پا سج یکرت ہو ئآ میں گے۔ (حضرت ابرا یم پٹ نے ) ایما: یکیا
(اورا یی ہوا)۔اے ابرا میم پا ان لک اتی ع:ی: اور بھی ہے۔'“(۲۷۰:۴)
م۹۷
یا یو وی دن ا من اع
ان زادد وازو کم د پلا کشادہ نال
(شس وفقت بی ماں نے پیداکیا اور پاپ نے ہناگی فال ثکا ڈو ا دقت انہوں
نے ہمارےنعییب می کش ومستی وجنوں دکچلیا تھا ۔گویا ہنی اور پیدرای خاش ہیں )۔
اس شع ریس بتایا جار پاے جب جماری ماود ہربان نے بیس پیا کیا اور دالد ماجر نے
ہکارے پارے بیس ہماری فال لی فو نیس ای وقت معلوم وکیا تھا ریش ومستی وجنون نز خی
۹
طور پر جہارے مقدر می شکھھا چا چکا ہے ۔گویا رسب پکجھ ہار ے ساتھ پیدر ای ور پر وابستت اور
اور ضمییک تھا۔ جوارے پرودوگار نے ہیں پیٹختیں ازلی طو پر اور داہی بانداز می پٹی ہوئی
ہیں۔
رگ
اول و رت تی ظاہرو اش لن تی
کیست ویر غنر 9خت چھزاشن جن تال
(اول وآ خرقو ہی ے اور ظ"اہرہ ان نکھی وی ہے۔اے پروررگار! تی رے سوا اورکون' :
ہے؟ اس کے بارے میں مباح فکی ضردر تڑیل ہے )-
قرآن می ٹس اس طرع ےآیا ےک 'ھوالاول والآخر والظاھر والباطن'
وہو بکل ششی علیم''دہاول ہے جس سے پیےکو یں اود وو آخر ہے جس کے بعدکرئی
آخرنہیں۔ووسب سے زیادہ ظا ہرے او رسب سے زیادہ پاطلن( لی ) ے۔ اود ا کال تام
اشیاۓکانا تکواعاٹے میں لیے ہوۓ سے (ے۳:۵)۔ ان اوصاف اور اساء اسٹی اور
صفات عا ی کے بج اے الڈر! ترے اقیر اورکون ہوسکتا ہے ۔کون ان صفات اور متو لہا
حعال ہوسا ہے۔ اس سللے می ٹیل دقوال یی پٹ ومبادثجت او رگننگو یکوئی ضرورت
نمی ہے بای یٹ اورگراز گل ےکاراورفقول ےب
2ك
زی "ران پا یم مین ممول
ِب 0
(اس دنا کے زندراں یی و چولکہ ہمارے ہمارے سا تح موجود ہے اس لیے ہیں مل
و نے کی وت یں ے۔زنداں کے اندرقم جو ہمارے سا ھ ہو گے تو بچمرطا لس بات
کاہوگا؟)۔
اے پروردگارا ردنا اود ال لک زندگ یگ ما ایک قید نخان ےک زخدکی ہے ام اس قد
ان ےکا 29 ے آزاد ہوکر تبری ددگاہ میں تیر ےتور جیی ہو نے کے لے :
۲۰
ہیں لیکن ہمیں بھی معلوم ہے و قذ سدا سدا کا ہارے ساتحداور ہار ۓ رگ و ہے میں نوز
بے ہوۓ ہے۔ ای لیے میں می قید خانہبھی برا اور زندا ٹیٹس ہے کیوکلہ یہاں پت بھی
ہار سماتھھ ےا زقاظ یں ۴ی ںی ط رع ےم اود طا لکی ور ت میں ہے بنلدنے
کے ساتھ اللدتاٹی کے قرب کے بارے ٹیس ق رآن مجید یش اس رع سےآیا ےک بے
تک ہم نے بی انسا نکو پیر کیا ہے اور اس کے دل (ددمارغ یش ) جو وسا و ںگمذرتے ہیں۔
م ایس ہو لی جات ہیں ۔ اہم اس سے ا سک ش ہرگ سےبھی ذیاد وقرجب ہیں ۔ '(۱۹:۵۰)
۹ رف
و ا و کر ہے
ریدغ ر ئن کے تے. زارں۔- ال
ہار وجہ سے اور بھ ”ای خوشمبو سے اس ططرح سے مست ہو ہیں ۔ اگ بین
ہوتا تو اور وی اخال ہی تتھا)۔
اس شعم ری بقایا جار ہا ےک اے دوست و بای وجہ سے مست و دہش ہے۔ اور
ری سمارکی مت اور خی و مد وٹی تیرے سن و جعخا لکی جن کک وجہ سے ہے فو نے
یں دہ اص سے پلا دگی ےک جس کا نشہ سب سے جدائگانہ ہے۔ ہادگسقی بی سے اس
ام رکا بن بی اندازہ لگایا جا کنا ہے ۔کہ ہمارےگحہوب نے نمی ںکو نکیا سے سے وازرا ہے وو
شراب معرفت الپی سے اوراب ا لکا نشراتر جاۓ بک ےلکن ہوسکنا ہے اب نو یوں معلوم
ہونا ےکردومستی اورنش ہم سے اور ہم اس سے دا ہو ب نیس سے ۔
لاۓے ایا آد: 4ا آرے با لئے زوضت
درمشام چان کہ دارد اوہ آں پار اضال
(یئیں یارکی خونشب ھآنگئی مہ بہت بی بات ہے۔ اود یا ری بجی خوشمبو ہمارے مشام
جاں یش یسل یارکاحثیت رق ے)۔
اے لوگوا .یں اپنے یا رکی مو ں ور خونمب گنی ہے۔ ہم نے ول وقلب میں
۲۹
ک لیا ےکہ بی خوشبو جو ہوارے ذ ئن اوردماغ میس رچ جس اود گی دی ہما ےجو بک
خشہوۓ پانفزا ہے با رکی مچی خوشبو جو اس طرع سے اب ہمارے مشام جا مل سرامت
کی ہوئی ہے ہمارے لیے بھی با کے مات دصال اتصا لکاحثیت اوردرج یھی ہے۔ اس
ار اد روب جن کی خوشمبو جار رگ و پے میں ہا ری سانسوں شی اورہمارے ون می گی
رچ بس پچی ے گویا ہیں بھی سو ہو را ےک دہ اب ہمارگ جان اور روح ت ک گی
عزام تکر گی ہے اوراسی خونش ہد ۓ بار سے مارگ دو گی ایک وجدای کیفیت طارک و
ری ٛ6ے۔
رت
بعر چندیی ترن گور رمتہ ال علیہ
دزن ڈرض لق کر تی عثاجب گال
(صمدلوں کے بحد جب دنیاوالےگی الدبین کے شع بڑھمیں گے معانی بچھییں کے
اوران پور ولگ رک میں گے .فو دوان سک ےکا شکھرکی پر رت اللعل کیل گے )۔
جناب نخرت تو ث الپ گی الیکا شماعریی اوران کے افیکا رفس نرک او یرد
شا عرکی یٹس کے بلہ اس شاعربیکی حیثیت او مقا شر دبین اور تع کان دن ہے۔
اضق ام و نان ںاوتان کے سمارے اؤیارجلن وو
دن اورمواعظ صن بی ہیں جنا بگی الد بین نے نالعس دی افکا رک اتی شاعری می حموکر
غز لکومضراشن نو سےمعمور اورم کیا ہے۔ یوں انبوں نے صمدیوں بی خزلیہ شا عرک یکو
رود نک یىی نقرلیس وک رم سے مکنا رکرایا۔ انہوں نے اپٹی غرزلیہ شاعری میس ای نوف نہ
الکاروواردا تکڑتھو نے کے لے خن لآ مندقرینو ںکواپنایا۔ ای صصورت عال شس و خودغر ماتے
ہیں صدیوں کے بعد کے بے ھن دالے لو کبھی ہمارے لیے رتمتۃ اد علیہ ]شی دای ای پہ
رت ف ما ۓےکیں گے۔ ایک شاعراورصوٹی کے لیے مر ایک بت بڑااعزاز اورخراج عقیرت
0ت ے۔
۲۲
ررلیگک ۳
فلام علق مشش ہیں و سادائم
زے ات نین عیب 'آیا
(میں رسول اکرم الم اور جملہ سادا ت کا دست بسن غلام ہوں۔ جمارگ جات کے
لیے کت یروب نشانیاں موجود میں )۔
عقیرت رسالت آُب نم اورسادات کے جواننے سے با ا گیا ےک اے دنیاوالو!
میں اس بی حتزم اورحطرت لی ڈاٹفواو تمہ فا الہ ہرا ٹڈٹٹ کی اولاد ( خرف عام یں
عادا تگلانٰ ے)ک لام بے دام ہہول۔۔ این نلا گی سے مراد بی ےکرتفور نی اکم خافلل
کی جوتقلی مات اوراسو) نہ ہے اس پش لکیا جاۓ اور جھآپ فل کائشن ہے ان ںکو جارگا
وسمادیی رککئے یل مددادد ناو نکیا جا ۔ اس کے علادو تضور بی رعمت کے جالے سے
قرآن ید می سبھی ارشاد پاریآیا ےکم انی سید مرمصشفی مال کی ذات اٹل ایمان کے
لیے ا نکی اپٹی ذات پراوٹی(مقرم) ے۔''(۳۳:٦)
کفایت اسنتع >۔ڑ ”رو رول و ادلاش
رف او وو تیانع چھل مھائم
(رسماات باب خفلم اورآپ خفلم کی اولادکی اروا فو" دونول جماں کے امور
کے لے اور بل ہمہمات کے لی ےکفا یتہک نے دای یں )۔
تضوررسمالت اب لم کی ذا تگرائی اورآپ خال کی نلیا ت ہق انمائوں کے
تنام سک اور مشکلات کے لے کافی د شائی ہیں کوک ہآحضرت مم نے اوہ تال ی کی
۰۰۳۲۳
عہری یک تیم دی اسی اعتبار ےق رن می میس اطاعت خداذندکی کے ساتحھ ساتجح اطاعت
رسو لک یبھی کید یکئی ےق رآن میرم اطاعت خدااوراطاعت رسو لکام موجود ہے۔
(۲۰۰۸)۔ رسول اللہ خقلم کی اطاعت بی سے درین ود میا کے امور مبمات چہاں اورمشگلات
السا نکیا اکنا سے ای طرحع جوال راپ ےگردار ول اور دعظ و کے انار ےتور
ھی اکرم خلال کی آ آل اوا دای با عث رہنمائی اورموج ب لیر ے۔
رف2
نت اع ما 1دا 2 لم
روا عماری عاجائم
(گر میں بل می غفطہ کے رسلہ کے بغیر اپ پروردگار سے ماگوں تر ایک
نرارعا ول یل سے ای کب عاجت پور ند )۔
اس شع میں عقیرت نی خفم کے موانے سے با تک گا ہے اور اھرکو ات کیا
گیا ےک الدتا ارک وتعا یبھی تضور نی اکرم ظفل کےکار ہا نما بای قر انیو خدمات اور
9ب چا ہے اور ہا طورخرا تین دق رب بھی پیش کرجا ہے ۔ٹیعض جوالوں سے لو
: علیہ دسموا سم اور یلو نکی انی سے بھی بی اشارے سلت ہی ںکہ جن یں رمعلوم ہوتا
ےکہ اتال کی ذات بابرا بھی تین وت یک نکی می ملائکہاورائل ایھان کے ساتھ
ہے۔ ہانگ بات ہ ےکر این اور اورمعاکی اور ایا کا ین دش یک مم
پروی اس٤ ار ڈو ال ا ا ا کک
کی و کے ن۷ ا ناک
(مرا ول خپ ن یکر ےل ادرآپ ظفل کی برگز ید ہآ لک عبت سےمعمور ہے۔
میراحال اورکیفیت میرے اس نے اورحتقیرت پرگواہ ے )-
۳۴
نایا جادہا ےکہاے لوگوامیبرادل رسول اللہ خلم ک محبت سےبھم پور اورسمور ے۔
سے نول نت
کب نے بے نک ارتا کی لفاع تک اور نے رگردئی کت اے رسول سال ہم
نے میں ان بر حفیظا بناکرنیس کیا ۔' ( ۸۰:۴ )کو اس اطاعت می بھی عحبت اور عبت
اتی کان ان کے دک کم تر اخ زار وشاد کہ ان
آیا ےک اے رسول خافل !کہ دیج کہ اگرتم الل ارک وتوا کی محبت کا د مجھرتے ہوق
میرے اس و حیات کے مطاِقی اپنی زنرگیو ںکوڈھالد ( میرک اتا کرو تم الد کےجیوب ین
جا گے( ۳۱:۳) ۔کئی اعادیٹ مم لآل نیدی خال کی محبت پربھی زوردی گیا ے۔
۵و
ہیں ڈرو رو شود ایں حم جناک پر
و وی ساوج _ از گے برا مم
(جب جیٹس میراتن خاک می ذدہ ذدہ ہو جا ۓگاف اے دنا والوقم مرتحم کے
قام ذرات نکی ےصلو کیآوازی صلو گے )۔
صاوۃ سلام کے جانے سے بای جا ا ہےکہ بی دوشل ہے جواپے اپنے طود پر اللہ
تال بھی اپنی تی شان کے لاگ بھوال ین وتج ری کرت ہے ملامہ اور اٹل اییان بھی
کرتے ہیں ال ایما نکا لو وسلام بوالہمتالعت نیدی طال بھی ہے ۔ اس لیے جنا بگگی
الد بین بات ہی کہ میں و اس صلؤ ۃ وسلام جس اس فد ور بتا ہو ںکہ بعد از مر کگھی میری
خما ککا ذدہ ذدرہ ہمہ وقت ای ذکر یش مصروف اورگور ےگا
لغ
اع غام خام انان ٴ ٣م
.و رج ہے
(یا نی الد لم !م سشآپ لم کے ناندان کے نمادموں کے نماد مکا بھی غلام ہوں۔
جھے جو نیم الشان رض ہلا ودای فلای کے باعھ ملا ہے )۔
۲۵
پارسول ال ظا آپچ ٹم کا خاندان جن سمعحفمت ورفع تکا عال ے۔اورآپ
)مر کے نا ندا نکو ایشا شہ نے جو پر اورفضیل کٹ ہے دہ آپ فف م کے نا نداان بی
کا حصہ اور ورڈ ہے۔ اس سے بی اوراتیازئی شان اورش رافت اور بڑاگی و برتری اورکیاو
کی کے کیو کے سرداراود ام این اس خاندان می ںآ غاب رسالم تکی صصورت مل
سے ۔آپ نل کے نماندا نکی ععشمتوں اور پزرگیو ںکوسلام۔ می تذ آپ ضا کے خاندان
کے نادموں کے ناد مکا بھی ملام جہوں اور اس ہلا ی اور ادٹی کھ. بے جوع زوشرف اور چاو
جلال چا سے وو سب اک یآپ خ ا کی خلائی ب کی بدوات مھ رآاہے۔
ول ین رم ہیں سم و صلوم
(الصلؤ والسلام علیک پارسول' لم علیک با عیب اوند۔ یا نی اللہ ظا اج ہرساأس
کے ساتھ اور بر مآپ درود وسلام پڑھتا ہوں۔ اے از راہ طف وکرم قبول فر
ج)۔
اللھم صلی علی محمں و علی آل محیں کما صلیت علی ابراہیم و علی آل
ابراہیم انك حمیں مجیں۔ اللھم بارك علی محمں وعلی آل محمد کما بارکت
علی ابراہیم و علی آل ابراہیم انك حمیں مجیں۔ یارول الل۔ یا عجیب الد ظ!
سآپ ظفل پہ ہدام اور ہرسانس کے ساتحسلام وصلۃ بڑھتا ہوں۔ اے الا جے ىیتذ لی
عطا سے رک کہ میں سلام وصلو ة ڑھتا رہوں۔ یا نی ینہ خلا می رے اس سلام وصلو کوازراہ
لیف وکرم از راہ رحمعت ورافت تو لیت فر ای اور بے رکتوں اور رکال سے ببرہیاب جت۔
رگ
گناہ گا حر سن یں وو پار٭ل اللر
دیع کیو و کی خلق
(یا ی اش مر ےگ اہ بے عد وصاب ہیں ان پ ناد اور ٹھمان ہوں۔آ پ یی
و۲
میرک شفاعت یئ اورمی رک پ یناو ںکنت یے۔)
انی اللہ اف ! یس نے گ یگ رنی ک کا میں سے اس لیے میہرے پائ کنا ہوں کے
سوا اور یں ہے۔ میر ےگناہ بے عدوضراب ہیں گر با می اللہ ظپ مر نظ رآپ خلا
کی خنظظر ےک ہآپ ضا جی میرکی خفاعت فربانمیں کے نے میرے سار ےگناہ نتم ہو چایں
گے۔ اعاد یی مبارکہ مھ شآیا ےک رو زحش رتحضور نی اکرم الم چیا اپٹی امت سک ےگمناہگاروں
کی شفاع تک ری کے اورلوگو ںکودو زح جن ے دائیں ا گے۔ بای اللد! پارل
الہ ظا ہماری ڈگا ون صر فآپ لم کی شفاعت گی ہوگی ےک ہم سب ے زیاد گناہ
گار ہیں ۔اس لی ےآپ الم ہما رىی ض ور شفاععت ف رما کے
زگ
و بوڑ ازو مت ئن ازو مخ
غام ایلہ ہیں خر لام
(مش اپنے آ پک پر بدز انان ےگھی برا تا ہوں۔ نان ہو لک ہآپ سے
لمات برک رع من دکھاؤ لگا۔ )
یارسول اللہ ظفل ! میس اپنے اعمال دافعال کے ہو انے سے اپ ےآ پکود نیا کے ہرگناہ
گاراور برے و پراانی ۓکھی پر اور سب ےکٹی اور برا مھت ہوں۔ مھ سگناہوں اور
براتوں میں لت پچت دہ ہوں۔ میرانام۔ا ا لگناہول ےساہاورتُوں سے نال ہسے۔اں
عالت اور تاع ندامت کے ساتھھ میس آپ ظالہ کی ذات بابرکات او رآ قب رسالت و
رحمت 0 ا ےآ سکوں گا۔ اپتی براغوں اور پرییوں ھ
باعث میس مراپا نداخت او رج شرم بنا ہواہوں۔ اس لیے می ںآپ ام کواپنا رو سیاہ
دکھا کے کے ہک لاکن ین ہون۔
ر۵
ربخ رد وی دائت مم کن مج کی ام
خلارکے کہ مد گول٢ مم انام
(ہراچھا ادد برا آدئی جا ىا ہے یش میں شی ہوں ۔ رسالت ماب خ کا خلا ہوں۔
ع۲
اتی لے لا نفات پرلوگ میری باقاں پرققج رت یں)۔
اس شع میں خقیرتبوی کی انب ایک با چراشار ہکا کیا ےک اے لا
چان لوک می ممصش یل کا یک ادلی سا ری غلام ہوں ۔ جھےآپ ظفل کی خلا پت ر
ار بازہے۔ میرے لے بھی مر از اوراتاز ہے۔ یں اس خلا یکو ھی سب سے ہوگی
نقی پاتاہولں ۔آپ خفل کی خلائی اور بعداری نے میرے دل و جا نکویگی انا ان
رکھا ے ۔ اکا لیے حتضور نی اکرم مال کے رتو لب رے ساوں میں اورفوراٹی جلو ول م
را ام اورمیر یفاص اث تا ش کی حائل ہوپگی ہے۔ نی باعث ہےکہ جب لوگ بھھ
سے لت ہیں ددضرورمتاشر ہو تے ہیں ان لوگوں پربھ یگوہ می رىی یقرت اورح ب تقورب
اکرم ضاو عیاں ہو بای ے۔ اس ساریعفمت ورفعت می مر ذائی ارگ یکو مال یں
ے بیس بآپ الم کی عنایات اورنوازشات ب یکا اعجاز اورکرشمہ ہےے۔
كِ
و سد بک یرہ
درور سرور گنی در مناجائم ۱
ا ےگی لد بن! انی منااقوں میں تم بھی سرورکونین خول پر دروددسلام پڑ لو کیونہ
و راو بھی مفکاات سے نا کی ماعط رکچ ددوددی پڑ ھت ہیں )۔
نایا جار ہا ےک سلام وصلؤ کہ جو ای تعالی اور الڈ کے ملائ ہکا بھی شعائر ہے ای
لیے ائل ابیمان مسلرا نبھی سب رسول الڈد الم پردرود وسلا مکیجے ہیں۔اپنرا ا ےگی الد ین!
تم بھی او اےسلمان بھا ٹم سب بھی تضو رضم الین پےکثزت کے ساتھ درود وسلا م یج
رہو_ غلقت عالم ای درورشرلیف ہی کے سہارے سے ابی مکا ت مھ تر اور وڈوار ول
سےضیات حاص لکرتی ہے۔ اس ل تم ھی مازم اورضردری سےکست ھی ای دعاؤل*
الاؤں اورمتا جاوں میں سرد رکونین' دوفوں جہاں سے دارحضرت ئرمصطئی ال برصلو و
لا مکجیجے رہواور فو و برکات سے اپنے دالک نکوگہمرتے رہو۔
انگ 22 وروۓ رشن وا است ات ےریم
رکال یھی دیرار ۲ اللہ ام
(اے میرے ال دکرم! تیرے دیدار ےکا مض پہ بندا میرے مر اقک اود را
زرد رز وگواوژں )۔
اےہرے پدردگار ! نے نے راکنا لو سب نۓ' ڑا مرگ سب سے ڑا
عمزت والا اور ش اکر ےل بے عد و ات بامردت' گا اور معا گر نے والا' اگرام و
الطافا تک مالک ہے۔ بہتیرے دیدار عالیکامجزہ ےک میری نظ رمیرے دیدار کےکما یش
پ4 ہے۔ تیرے دیدارکی طلب و جو نے ججھے پھیشہ ہمیشہ کے یے سرغ اشگکوں اور زدد چرے
8271 سے واز ر ے۔ باب2 میس یہ یکتا ہو لکہ مر ے مرا آلواورزرر ری
مر ےش یکی یقت طلب وت اورآرزو کے شا ہر ہیں ۔ان سے بڑ کر اورکو نگواہ ہوسکتا
ہے-۔
0
رق
بے لقاۓے پ و ہوا رار ٴُٴ مر
یم ای رر رر
(اے مھرے پوردگار! تیرے یہ عاش' جنت یکم کے مولات دفصور کے در چون میں
ترےلقائۓ رجمانی کے بفیرکس طرع سے خوش دشرم ہوکیں گان
جن ٛیم کے بارے یں تایا جانا ہے بآ ٹھجنتوں یں ے ایک سب ے ڈیادہ
تل اوراتعامات والی ججنت ہے ۔گویا اس سب سے زیادد مرج والی نت بیس بے شار اور
بی بہاٹنتیں ہو ںگی۔ اے پروردگار دہ بعد و بالا یم اور ا سکی بے عد و صا ب تی ںبھی
تیرے عغخاقی کے لی کسی صبروسکون اورآرام و راحتکا با ح ث نیل ہو لگی۔ تیرے جے
اش
ماشتوں کے لے صرف خوٹی اورسکون اس ونت لگا کہ جب دہ اس نت تشم کے لات
کے ددپوں میس سے تھا دیدا رق نک رن ےکانقت لاز دال ےنیل یاب ون گے۔
ز29
ای خی ڑا اے ووست ار نشار
ری ا تچ ای مر ہو
(ہمارۓقلب زی کی انل بہت شد بد ہے۔ اے دوست! ہمارے ول میس اگر اہ
کک بارقیم بڑعکی رذ بھی دہ ہمار ےش نکی آگ کو بچھانییس ےکی )۔
اے موس نم خر دوست! تو دوس تگھی ےلین اس کے باوجودت ہار ےش کی
شر نڈپ اود اس سوزش وی ے ناواتف ے۔ مارےدل ہیں نشی ال یکی ا
ازل ھٹک دہی ہے۔ اس سک شدت اورالمن اک یکوکوگ یٹنیس ان سکتا۔ اگ ہارے ول ٹیل
ابد کی مکی آگ اپنے عروج پربھی نکی ر سے نے ا سک ی ٹیش جک ری سوزش اورشعلہ
ار یوں ےکی جار ول میس سےعشق ال یکی تڈپ او رآ گککوضلذ بچھا س ےکی اور نہ اے
عم یکر گی ۔گو یا ہمارے ول میمش ال یکی آ گنس شدت اور عدت کے ساتھ
رک دی ہے انس کے سا نے ہردوز رخ کیا ہرالمنا کآ گ کرد ہے۔
ر"
گر ببڑرازی و وی دی ہی مر ای
اوہ ا یں و ہیں
(اے پروردگا موب ت! اگ رت دوزرغ پہ اپنے نع و تھا لک ای ک بھی گی ڈال
دے_ لہ خی و پاش رکز از+وگا اور وہ ارگ ای ذوز بٌئ ٹل رمناپنرگر ےگ۴)۔
اے جار ےحیو ب نیقی ! اے جمارے پروردگار اورخالقی و ما تک ال !یل دوز ںیا
جنت اور جنت کےمحلات وقھرا تکی نہ طلب ہے اور نہذ دہ برابرا نکی پرداہ ہے۔تیرے
عاشتقوں کے لیے سب سے پگیانحقت اورسب سے بلڑگی رقعت وحظمت بجی ہوگ ہیی ںا
دیرارولقا تعیب ہو۔ اس لیے اے پر وددگا راگ رت اپنے سن لاز والل اود جھال پکھا لک ایک
٢۳+
ادٹی بھی جی دوزخ میں روک ربھی دہ تما سداشکرگزارر ےگادہ تیر ےصسن کے بے سے
ٹیل یاب ہوا۔
۵
و ہو بل ٠ شر قریی ول
بعدچندیں قرن یں ز دہ خور یم رم
(اے میر ےحبوب عالی !اگ رتیرے وصال کے سا جج توری خوشبوجلیں نکی نوز مانے
گزر جانے کے ببحدکگی زی پان دد بارس طز زندہ ہو گی )۔-
ایر وا ہیں قروں ہیں ناک سے ماک پ و جانے کے بح دگھی صزف اور
تحرف خرسے وظالل عفن ایا کے پان وبا رو لاک سلئ ےکی ابی وقت ہت انار ار
ٹیا ںگھی ریاەریاہ ہوک اک کے ژروں یع بل بی ین گت پروردگار اگ رجمیں
تیرے موصالل کے ساتھ تی اور تیر ے جن و عا لکی خوشہوۓ جانفرانہآکی پ اید ریزہ
ریز 1ذر چودۂ پان دوبار شع ہولن ےکوذت نما نہیں ۔ائ لیے اے ارم خالق و مالک
یىی خوشبوہی وہ وصال تن 1۵02ء۳) جانفرا ہوگی جوم ردو لآودوپارہ زندگی نی
موجب بٹ ےگیا۔
رو
٢ وأ کہرے بم ام اے روست ہر روزاژل
٢ پر غائم پیر ہاں ہر لم
(اے جمارے پروردگارا ہم نے آپ کے ساتھ جوعید روز ازل سے باندھا تھا" وت
ابدای پرائم رہیں گے )۔
اے جمارے ای دمانک! اے جمارے اللدا ہم نے روز ازل می خلق تکاتات
ےھ پیش کیج سک ابتذا کا نین ب ینمی کیا جاسکتا اس دور می سن آپ سے جو مہ کی تھا
کہ بلاش ہی زنارا خال یذ ھی ہہارارب الرجیم ہے۔ ہم تیرے سو ای اود کے لیے ہیں ہی
یں ہم اب دک می ببیشہ یش قیامم ت کک اس اپنے بیشاق لوم الست پرقائم اود بمقرارر ہیں
٦۰۱
گے۔ ہاری ریش ہمارگا جا نیل اور جمارے اجسام دابزان اپنے اس عبد سے م موی اراف
نمی کر ھت ہم اس اپنے عبدکیمکاٹگی ا پرخلاف ودزی کے پارے میں بھی تسور می بھی
نی لا کت کربھی اض مکیکمتاٹی کے مرکب ہوں ے۔
2
یر ےن و و شر ور بہشت
پچ پ و کل ث٭۔پي”>ك
ظرہت ان ' بیان 2 با اے یم
ر0 می سکوئی کی ںکبہشت یس ہجوھئ ےآ ب شہداور ود ہوگا' گر ا ےگیمم
مطل قش سے بباروں کے لیے تیراد ار یش رت شفادححت بای ہوگا)۔
قرآن یرش جن کی نہرو ںکاکئی مقاات بر اظہارموجود ہے۔ بلک جنت کے ذکر
کے مات ہی خہروں کا بھی ذکرموجود ہے۔ ائ معن میں لیو بھی آیا کہ اس جن ت کی مال
جن س کا ا لتق کی سے وعد ہک یا گیا ہے موں ےراس یی امک (شی میں٤ پا یا خہری ہوں
گی۔ جن کا ذائشن نیس ہدگا۔ دود ھکی شہری ہو کش نکا ای ار انت
کی خہری ہو ںگی جھ نے والوں کے لے خوش ذا ئیہو گی اورشھدکی ضبریں ہو ںگی ری
اور مصفاء۔(ے٤:۱۵)ن ان نتوں کے پاوجود جو لوک بارش ا بی ہوں گے ان کے لے
انعنہروں می سکوئی لکش اور رض ت یں ہوگی۔ ا نکی بای کاعلاج اور شفاۓ کائل و دیدار
تن ھی ہوگا۔ ان کے لیے شرہت دبدارولقار لی شفا اد رک تکا وجب ہوگا۔
لگ
ال رک ا ا و ا
َ9 0]/ او ین کویت ا
جن لکوث کا شی میں پای بھی وی کے سسانوں مج پیاس بچھان ےکا موج ب نیس بے
گا۔'' اکر اےحیو بت ! آپ کےکو ےکی ہوائۓ شن کی ںآ ےکی بک
جن ل کوک شی ری اورھٹڈا پالی جن کی شی عمتوں میس سے ہے۔ جن کی ایک ض رکا
نا مپھ یکو ہے۔ ا کا پالی شی رمیا شفاف' خول ذاکقہادر اس بھانے کے مات ساتھ
۳۰٢
للزت سکون اورراحت بنیشے والا بھی ہے۔ روزحشر مہ نماض پالی تیلوکار پیاسو کو پلایا جاۓ
گ۔ جومطن ملمان اس با یکوڈگیں گے دہ بہت بی خوش طعییب اورمقدرر وانے ہول گے
راگ م یکو کے جام جنت کے سب ےلیم درشت طول کے سالوں کے ےی و بی
ال تا کی اوریھی مب بای ہوگی ۔نیان عاشقان حقکی ا کوٹ کےکاسوں سے پیا نیس بج
ےگی۔ آہیں کو چب سے آ نے وا ی شمنٹری ہواوں ہی سے کون وراحت اورصرت
حاصل ہوگا۔
غ٤ل
برصراط بل گر روز اور“ ہوں سے
ا دی و رک
(وہ پل صراط تر روز کے اوپہ ہے بہ تن خرعلہ ہے د۔ ا پہ سے داوئشتی پہ
گان عاشق سرد پا کی ےگز رک ےگا)۔
اے پروددگار تما پکی صراط ننس کے بارے جں ایا جانا ےک دوزغ پڑے
گمز رتا ہے اوددہ پالل سے پاریک اورنگوارکی دھار سےگھی یز ہے انل پہ سے تیرے بے سردپا
ناشن کس طرع س ےگمذدرسی گے۔ تیرے دنوانے متتانے اور وارفت عاشتوں نے ف وش کا
صرا یتلم ایا رک رکھا ہے دہ اس پل صراط پر سےکیوگ رگزرگیل گے۔ اے ہمار ےحجوبپ
تیقی ١اس پلی پہ گمز دنا اوداس سے پا رات نا ہمارے اخقیاراورٹس می ٹنیس ہہوگا۔ اس پک
بے سے ہ ریگ و بدکاگز را ہوگا۔ ایا جا تا ےک کیک لوگ اس کے پا اق جائئیں کے کہ بد
لو کک کر روژخ سک انی گے۔ عاشن لوکویں کے لے صرف ال شی رجمت اور راشت
یکا مآ ۓگ ادردہ اس سے پاداتر یی گے۔
۵
ودوست یھو :کین فانی راز اور روز مل
یت اار خورڈ این کن اسں در مم
(روز ول دوست اپ عاضن کےکان یس ایک ایی بات را ذکی کی ےگا جو درٹی مکی
۳٣۴۴
رع بش قبت ہوگی اود یھی تقیقت ےک تق موتی ہرکان کے لا نیس ہھتا)۔
بتایا چار کئال ودنا ماش ماوق سافن خی راک اک ای
ا اتی خ کن بات ان گا .کور بی دصال وو اصلل شی اریپ کی ہے۔ ودای
ےکس یکومف نی سکیہ من لنقاء رب پر ایماان رکھتے ہیں۔(٭ا:ے)۔ اوراخروٹی گی میں اللہ
ارک وتقا یکا وہ لق اس طرع کاہہوگا۔ اس کے پارے میں جم ات شمحو ری موجودہ 4
ہرز تو ری کر گت ۔ بہ رصورت وو لثقاء کا وعرہ ہے۔ یی ا و ا چرہے
ہشاش بثاشل ہوں گے وو وتازہہوں گے ادراپے پروددگارکی طرف دکیرے ہوں یت
(كؤ۲۳۴۳۲۳)۔
زگ
در رون دہ پاشمز ال ہمہ خ ٠ف ۵ رچا
ور ورون بردہ رو کانحا است امیر و مم
رون ورجا گی ہریفیت نے جک باہر ہی کی بات ے۔ اے مرے بتردے
پردے کے انددآ جاؤ۔ دہاں پر امید و مکیکوئ یکیفیت یکل ا
قایاجاد ا ےکہدہ جو پردے کے باہر ہے۔ااس کے لیے ہرطر کے مسائل مییا۔ پر
طرع کا خوف'خطر"'اندایٹہراوروسماو ںکا اڑدھام اوراس کے علادہ آ1 امیر آرزواورتمنا گی
خی ںآ مد یا تفیں سب غار نج والوں ھی کے لیے ہیں ۔۔ اس باہراود مارح سے مرا وتضورضنٰ
سے دورگی اور دی گی ہت اسں دوریی بی کے پاععث سب خطرات اور مدشات اور
امیر یں آرز وی مم ہوکر اپےگھیرے میں ا ہیں ۔ان جب بندہ اپنے پروردگار
کا ہو جانا ہے ا لک جانب رج ںعکرتا سے او رگو یا پردے کے اند رآ جاتا ہے قو پچعردہ ہر
کے کم درچا ےبھیآزاد ہو چاتا ہے۔ انس جوانے ےق رآن مجید بش لوں ارشاد ہاری ےل
نیت الہ -ے چا ہقی سے بگز گی عطا فربالی ہے اور اتال اصحاب انا ب تکو نصب
ہرایٹ سے سرفرا زکرتا ہے۔“ (ي۱۳:۴)۔ ای تفاظر می کہا گیا ےکہ بپردے کے اند دی
اتا یکی اہ یآ جا تو وہل پرامید وم مکیکوئ یکیفیت موجوڈکیل ہولیٰ-
۲۴۳
0
نے گریاں زور "او 9ا پر رر
جاگا رای 7ر جرد ان شارت کر
(ا ےگ داگرو! اس پروددگارتفتی کے درواڑ ے 27 لی کا نعرہ کا2 ۔ کہ ام سکرمم
کے پا جو بیتھ ہے دہ ہیں عطافرمادرے )۔
اے الد کے بندو۔ اے اپے الد سے نا کے الو اے کر یگمدامگرو! اتارک و
تالی ہی کے درائریں 27 کا نرہ لگا ۔تہارا نتر لگانا ان مشبت ایز دی ہہوگا اور می
ا لک ارادہ اورضشاہوگا۔ انس کا چا ہنا ھی لی ہہوگا تہارگی ا آرزد اورالتیا پر دہ پروررگار وہ
چوعطا فرماد ےگا جو بجھ اس کے نز انے یس ہے ۔ اےلوکوا اپےحبو ب فی سے سب بی
ماگنے رہو۔ ال سے اپئی ضرورت اود طلب پہ جر بڑئی بھوٹی ے طل بکرتے رہو۔آپ
لیکو ںکو چھ دینج نے الد کے نز اون می کی نی ںی گی پلک سی رز رخ تق جیش ٹس
گی آ پ کا دان خوشیوں ےھر ےلان
زئ
ثرت ا وں با ی ور بہشت
ور آں ور طالع ت3 پاشر از لیف یم
(ا گی الد بین !تم جب کہشت مس دیدرت کا شربت پا گے نے اس وقت می یبجھ
ینا کہ اتارک و تال کے الف وکرم اور اط تیم بی سے اس شربت میں اپوار موجود
کان .
ا ےگی الد ب! جب ت مکو اپنے پروردگار ک ےل وکریم سے کش تک وادیوں ٹل
تمہارامحو ب نیقی اپنے سن و جمال سےقلیات سے دیدار سےلواز ےگا تو یہ چان لیا کہ ہے
الطاف واکرام میبریی عبادقؤں اور ر پاضتو کی وجہ ےنیس ہیں بلکہ بہت شروغ دن بی ے
خالتی نھب اللد تھالی ہی نے ہار ے جن جس جنارے لیے رک دسیے تھے اس یی ہار یکوئی
کش اورش نی ہے۔ بیسب ای مالک و خالقی ہیک عہربانیاں اود ری ہیں ۔میرے
۳۵
ارادہ اوراحقیارکی اس می سکوگی بات نیس ہے۔ ےج بی دیدار ال ی حاصل ہور ہے ای ائل
دیرار تی کا مر رگیا ہواے۔
خزل مق
40
7 20
ای می ا پا سان و ا ےش
(اے نادان اور ناش رگ ارانمان ! ا تیرے ساتھھ جب تیرے اللہ نے تما مع نکی کا
سلوک روارکھا ہو برا ےکینے انسا نتم پٹ گا سےکیوں ڈرتے ہو؟)
اے انسان ترے پروددگار نے تھے پیش اپٹی رتتول اود انعامات ای ے وازے
رکھانے نا می کیا شف شب رکال ین ےک دہ سب سے (یادہ ہے خیاز نے سب
سےگزائی فک رعش یکا نا لک اور پردددگار ےی دہ رب الہش لکرمم ے اور وی ش شا تی
بھی ہے۔ائن بے جیاڈی او رحظمت کے سا تج ساتھ د ہک ریم بھی ہے ال وجہ سے دو لوگو ںکو
اپ انمتں اوررتؤوں ےمھرد می ںکرتا۔ بکنہ دو اپنی نہتوں سے ان لوگو ںکویھی بھی حردم
نی ںکرا چا ںکیاتھزوں کے خلاف بناو کر تے ہیں اور ان نمتو ںکوباوت 0 ےٰ
اتا لکرتے ہیں ۔ اے سفلہ انان ا ےکم نطرف انسا نے اس کے ہاو جودیھی اپ گناہول
پہ پر ینان ہوک ایلرک ری مکی رقتول سے نا امیر ہوتاے۔
12
او یں اک ا کس ا کی و
ہلآو مو وو یں ہیں رون مم
(اے انسان! توکی حیثیت 3 یکس مکیاکی ہے اس لے دہ ال تھ پہ ہرگ ق نہیں
کر ےگا ۔ کیو یم پرقرکرنے سے ے اس نے خود فرمارکھا ہے )۔
اے انسان نادان! رکی حثیت ف سراس ایک بے سہارا حم کی سی ہے۔ ایک اییا
۲٦
فردے جھ پالئل تھا ہوگیا ہے مجڑا کوئی گی سای نہیں ہے۔ فے بے آسرا ہے تی اکوئی
ایز دومددگا یں ہے۔ اس مجلری دنیا می سبھی فو تھا اور ےآسرا ہے۔ ای لیے انان ےہا
گیا ےک اے با فو انسان! (زندگی کی بے بضاعت شان دشوکت پ اتر انیس )تم
سب ا ا ےفضل 2 کےعاج بواور وہ خال یکا ات دے اقا
سے۔(۱۵:۳۵) ۔گو ا الد کے سا بن ےکی حیشیت ٹیم کیا اس سےگھ یکر ہے اس
7 لیے اے بندے جان ےےکمدہ پروردگارتھ نکی کر ےگا کیوکہ اس نے خووتیموں
رنے سے فرمارکھا ہے( ۱۰:۹۳)۔اس لیے دو جھ رکا سکرےگا۔
ر29
ہ رکہ می وابی و از وے می رہ بتک ا
ریف بوقالنگیڑ رود ای زدرگاہ نک
(اے انسان !تم اب پروردگار سے جو چا ہو ماگ وو نہیں مرو عطاکر ےگا کیک
اس درگاءکریم سےکوئی سال خالی ایس جائکا)۔
اس جرجۓے! ری وال نام اسان نی نوان 2 ےا
صرف اورصرف اپ ر بکرم بی سےطل بکر۔ دہ بہت پ ڑاگ" اورواتا و
وا ام کو ادرہوجی ہیں ست. بی خواے مق ہاو ری درفیقت الد ے۔ دواللھ
ارک وتعالی ایاغنا ےک دہ دوصرو کون کرد یت سے اور دوات بے خیانزئ یھی عطاکرتا سے
ور زا اکا شان بے تیاڈئی ےک دہ اہے ماس انداز استغزا سے ے چا ےنکر
دے۔ ای اپ بض نو ںکوای سم کردا ےیواز ےکا وت
بینہیں ہول خال کات شم د بے اقیاحع ے اورحیر ومزادارصھ ے۔''(۵:۳۵٥)
اس لے بلنکن ہ یڈیل ےک۔ اس کے درس ےکوئی خی اھ جانگے۔
ر"
بخن تعالی تاور است کو ہم چو موۓ از ٹیر
می خاکی با ضاود ما او جا 3
(ابندتارک ونتعا یکو بر خزرت عاگل ےک جس ططر فی ریس سے ہال با رثکا لیا
٢ُ
جانا ہے ای طرج دہ اپنی مت کے سایوں یش نارشیم مج سےگناہگارو نکی د سال ال
کا اج
اس شغر میں مم درمطل کی فدر تک جانب اشار ہیا گیا ےکہ الد ارک وتما لی
ژبررست ثزرت دالا ہے۔ ال لک تقاددانہ دسیل نےکر ۓُ باہرنیں ے۔ وہ اللر اور
ہے۔ ا نین میں ق رن ید ٹس ایک ارشاداس رح س ےھ ی آیا ہ ےک ہمہ اہ لک مشیت
کے ا کاب نے اور نپان پل د اود وکانکا کا تھے پا در
او قذر تکاممہرگتا ے''(۸۴:۴٥) اس لیے جن رع 1ن مس مس ےس پگ کے ضا
الا کت سے گال لیا جاا ےا طرع الہ اتقادیج یگناہگاروں مال اورروڑُوں
کونارپنم میس سے جع سلامت پکالی لےگا۔ بن ےکوا کی ررمت سے پرگز ناامی نکیل ہوتا
چاے۔
۵
لطقت آوَ یف ماب گیا: یو پا ین
راست ئی نائد بدال سے کہ عازن دو مغ
(اےلوگو! چان لوک اتارک دتا یکا طف وکرم ہ رنیک و بد کے ساتھ بب ہوگا۔
ہیں طر) یپ کے دوککڑےکردتئے جا میں تھی دوٹوں یس شیر بی موجودرتی ۓاہ
اے لوگوا چان ا کہ ابد تبارک و تھا ی کا طف وکرم عبات مہرباغیاں اور رکستیں بے
عدو تاب نی کیوللہ تھہارا پروردگار صاحب خفران وصاحبِ رمت ے۔' (۵۸:۱۸)۔
بللہ ہا لی کگجی تا اگیا ےک اور اے رسول تیرے پردردگا رک رمقت ان قام دیادی
اقیازات و مادگ اگ زازات ےکہیں پا ہے ین پت جا بلک مصروف وں۔“
(۳۴۴۳)۔ یں جگہ الل حارک دتعالی نے" رز ناضانے زی ئفکی لا مدآ فاقی
رت کو اپنے آپ پر لازم قرار دے دکھا ہے“ (۱۴:۹)۔ عریلہ لیو ں بھی آیا ےک اے
نادانو! اے میرے بندو! * ول ےعلم وتعددیی سے اپتی جانول بے در زیادثی کی ہے
اللہ تما ی کیا رعت بے نبایت سے میں نہ ہو جا۔ اللہ تا ٰیٰ صاحب غفرانی ے۔'
(۵۳:۳۹) اس لے اللدتعاتی کی مت ہرتیک دب کے لیے کیساں حاضردہتی ہے۔ انس سے
۳۰۸
سب انان برا نل اب ات ہیںا۔
رن
اللہ رعان ورم ست روست ىي رارر را
یں چہ پاک از وشن در چوں شیطان رتم
(وہ پک ذات سے جورئن درم ہے۔امےانسان دہ کے دوس ت تی ہے۔ ان
صورت میں تم خیطان رجیم سےکیوں خو فکھاتے و )۔
اے لوگوا ال ہل شانہم نوالہ وکز بر ہانہ رشن اور رتھم ہے۔ این و سب سے (یادہ
عہربانی اود مکرنے دالا ثمھایت زیادہ شفققت فرماےۓ والا تا ے۔ بےعفت ال ررقت یل
لے ے۔ الک مناث نی درم دونوں یں رجحمت خداوندی شال ہے۔ رم مکھوںی مال
ا 7 یم چان والا ہے اوررنن کے فی ہدتے ہیں ہنا ھی ضرورت کے
وقت شرت اور نحلہہ کے سا تح سا ما ن نو ونما وا نے دالا۔ایک عد میٹ ش ریف میں لو ںگگی
آی ےک الد دٹیا کا رن اور رکا رم ے۔اے بندہ غدا دی رنکن درتم گے روست
ر بے ہوۓے ہے۔ااس ددتی کے ہوتۓ ہو ۓےکی یکن سےکددہ جھے حیطان کے لقم کم پہ
وڈ دے اور ممگمرای ٹل چاپڑو۔
نے
او سہوۓ جّت می خاہاندت ور گور گ
ئی وز ال مر ڑا از روشہ رشوان کم
(ال تالیٰ از راہ رعت جن تھہیں چک قب مخت پر سلا ےگا اس پر متتزادتیرے
لیے روض رضسوا نکی ہوا چلائی جا گی )۔
نایا جاد ہا ےکرائلدتبارک وتھالی اپنی رقتول اورعنایات کے سائوں یں تھ پر تی
جک تا ریک لی می لبھی انی ندازشات جاریی رک ےگا تیرے ےق کی عشرات سے ری
ہوئی ىف کے ہجاۓ ای کآرام دہ اور با عمزت نت کا اہتمام فرماۓ گا تاک ہیں وا ںبھی
مناسبآرام اورسکون اور رجہ عاصل ہو گے صرف بج یٹنیس بکہ دئی رب الین الرتم
۳۰۹
تی آسووگ یع کی اط رروضہ رضوان شی جن تکی ٹر ادرخوشبد دار ہوا می ایک درچے
میس سے چا دےگا۔ بیس بآ ساکنٹیس الد تھا یکا رت وراقت اود مال کے و یں
اس لیے اے انان تھ پریھی ازم ےک فو بھی اس رختوں دا لے در کے علاو یں اور نہ
جاے ۔ ا یکواپنااول وآ یوب بنائۓ رھے۔
رگ
ہوں نہان تال ور ور عوال جو لال
واردت خا بت 2 1 ال بر مد رم
(مفگ یر کےسوال وجواب کے مرلے پراس دقت جب گور کے اندرسوال وجواب مل
و لے والی زبا نکوگی ہو جا ۓگ فذ اگ بھی کے اد تواٹی بی عہدقلر می پہثابت رگا )۔
بکوالہرروایا ت تب رٹل جب گی ری وہ ووفرشۓ جم دہ سے اس کے عق ند داعمالی کے
پارے میس سوالی و جوا بکر سی گے اور :دہ بے چارہ ان منگکراو گی ر کے سا سے ہب ےی ساب
کر اک طرح ےگوڈگا می ہو جا ےگا اے بند ق انس زازک وقت پربھی تراحھو ب تن
اورتبرامالقی و مالک ہی تی رےکا مآ ےگا دای یے بمت د ےگا کہ اپے اس عبہ دق پ4
تام رہ ےکہ جونے نے ہوم الس تک وکیا تھا۔ دو وعدہ اود اق را کیا تھا یق ران یدانس بارے شٹل
لو ں اتا ےک اے رسول وہ وقت یا رد کے اورآگٹں یاددلاے جب تہادرے پروددگار نے
یم( ام کے صلب سے پراہہواے وا ی اولاددراولاد)ے اتتّا گی شہادت گمگیا یئم
سبکاپروردگا رئیش ہوں؟ سب ردتوں ث غکھالکیو کیو ںی ہم می قلب ربو ہی تکمرا
شا ہیں“ (۴:2ھا)۔ الال اپ بندو ںکوای شا الست پقائم رک ےکی تی عطا
فزنا گان
رق
ورہشتن خغلد رین 01 ودارثع ور چا
0
یں زاران او 8-1 ڑا امو تہ" و مم
( یذ ال تعالی نے بہشت مس بہت بعد درحجات عطا سیے میں لکن خاش الہی اس
٢۳۰
_-) وفت امیدد مکی عاات می رورہے ہول گے
اے عباد تگمز ار دوست ! تھے تو وریۓے پر وددگار نے اپٹی مبربانیوں سے جنت مل
لی مقامات اود حدارع عالی عطاکرد کے ہیں۔ فے اب جن کی نمتول اورالطافات غداوندی
سے نوب ٹن باب ہود اہے۔ لن دوسریی طرف دہ جوالہ کے ہے عاشن ہیں دہ اوری
عای شش ہیں این ران ندب نے امیدراوا موی کا حجالت می کروی رت
مع یکر رکھا ہے۔ دو اپئی ال ںکیفیت می دوز ور وو وگ یرکرتے ہو وق تگز اررے
ہوں ۓے ا نکی بزحالت اورکیقیت ای نیہ ہ ےک یس نت با حورالقو رات اور جن گی
آسائڑل اور ہاو پہارکی ضردر نمی ہے دو تصرف ذات فداوندکی کےجن د جال پہ
نظ لگا ہو ہیں اود وہی ان کا مرعا و شا ہے ووصن و جال ہی ایس سکون ومبرد
تراردرےکتاے۔
م۹4
جوقی پا گر پا از ازل ضس زاں
در مقام دی ای بات مم
(جرےساقعد دوفو ازل سے اس وف ت کک دوقی سے ہوئے ہے۔ وہ ت تیرے ساتھ
دو ٹھپ ہربان سے یا دذقا کے قام دمرج سے داتف یں ے )۔
اے بدہ غرا! الشچا کنقالٰ 2 ارچ نافیڈ را ناب جن خودبت توب
7 دوی نجار ہے۔ ا کا ددقی می ا زمانۂت ککو کیا بے رٹی دا نیس ہوکی ےا سے :
ىَ ممموں میں دوک جھانے کا فریند اور سایقہ ے۔ ال کے معیار اور در ج ےکا اک
دوست ہو نکی سکتا ان انسان بی دہئحلوقی ہ ےکہ جوا بک دوقی کے مقام اوراس کے
آرا ت اور دوقی ے واق تں ے۔_
زللغ
رت پیار واپر واون ویپ گر ںید
پت خی کے می بات ام
(اللہ جل شانہآخرت میں اپنے بنو ںکو لاتعدادمتوں سے نواز ے گا۔ ا ےگ
ا۳
لد نت ا سی کے جنت اعم می سکون یلق تک طلب وآ رزدہوگی!)۔
ال بل جلالیگم نوالہ وعز برہانہآخرت می لین ستپیل میس اپے بندو نک بے
حدوصما نیس عطا فرما ےگا اوراس می بھی شیک یں ےک مین آخرت پہ پت یمان
رکی ہیں (۱۳:۳)۔ بب نیس بل مونشن و آغرت کے بارے شی بڑڈےفقاط ہوتے
ہیں ۔آغرت کے ما سے انف دتتے ہیں اور ان پروددگا ری رحمت عیگرا نکی امیر
لاۓ ٹیشھے ہو ہیں ۔(۳:۳۹) .ا ورمون تر دنا اور ارت دلو کی خوشوا ان ا کن
دالے ہوتے ہیں ا نکی بھی دماہوثی ےم اے ہمارے پروددگارشٹل دیا می بھی بی
اور انعام ف رما اور رت نی بھی گی اور الا خر اوریں تار دوزخ سے ہیا۔' (٢۱٢)۔
اس اون عطظ جس ا ےگ ال ہم جنت انم کےانعبات میں س ےکون یتقو کو پن کرد
ہیی
ے ناشاۓ جماات رشہ را امن تم
چور۔ گ٘یئناارا از لررولع قھر جرون نی
(اگر نت یں یج مر ےگو بکا پر ھ2
جن گویھی صا اور جنگ لکر دو ںگا. اورمویٰ خوب ور ت (گھوں والی حورو ںکوحلات وتصور
ے باہرثال دو لںگا)۔
اہین بروردگار کے معلوم ہس ےکہ ہمارگی ضزل اور جنت صرف اورصرف مت
مال اوزددار دق هی ے۔ اس ہیں جن تک بادوں اوریگییوں سےکولی سروک یں
نے ایل خی کے ما نے ند ھارے لے ےی ہت انا ں می ںآ پکا کن
دا ل نظ آپا ہم جن کویھی وببانہبنادمیں حور صور را ارک رد گب
۳۷
ر2٤
7ر انبا اد رویۓے راغراتیم دارن صر طاقی
یی در ور رویۓ حظرت یں م ۱
(ہم خوب صورت چچرے والی حورو ںکوسوطلاقی دے دبیی کے اگ یں تضو ریت کی
جانب اپناچ رر ن ےکا موںع درا )۔
اشقان صادق بقاتے ہی ںکہ لگ ہیں روز قامت جار ےحیو بنقی کا بج مال اور
بے مال چر ےکا فو رت دکھائی دیا۔ یا ھم اس فورالی سن و ما لکی طرف اپنا رہ شدکر گت
ماک بہت ب گب ما ہوگی ین ہارے لے ایک بہت ہوک نی بات ہوگ کہ اگر ہم اس
قائل لیقی نعبوب کے پچورہانورکود نے سے روم ر ہے ذ ہم اس جن کی خوش کل اورخوب
صورت نورو لکوسوطلا تی رے ریکل سا کے اثوار کے شی میں ووروں سے لو
کوک نکیا ہے اد ضرع کی لپ ہے ہیاری او زطلب کا ع رکز ضرف رض رف ا
تال یکا نورری ہوگا_
ر2
روہ را جعلوہ مہ رشضوان کہ بالہ ھ7
اب کیک یش بیوزقم تا جھوں سم
(اے رشھوان !یں جنت کے بافات شدکھا و چیں ا نکی طلب دآرزونئیں ے تم
دا ہم اپٹی ایگ بی آہ سے اسے جلا ڈالی کے اور کے مجنو ںکررمیں گے )۔
اے دارومہ جفت! و یں او راس کے س رر باطا تک چھلکیاں دکھا دک اکر ہمارکی نوج
کوہماری منزل متصود سے نہ پٹا۔ ماناک ہہ جنت اود ال کی بہارریں عاملوکوں کے لیے بہت
چو ہو گی نہیں اک کو یتر نہیں ہے ۔ اسے نو ہم سے دور کی رکو۔ اسے دسیھ کی
یس ہرگ زضرور نیس ہے۔ بھاا می کے ہی ںکہ مق اسے انی عرف ای کی آ۱ ے
اکر مک سے ہی یہ ہجارکا ای گج سذ آ ہکا تاب نہ لا گی اتی ہہوں سے
ات ترک بے جنت بے حثیت ہے ان لک کاو شی بھی وقع ت نہیں ہے ہم قو انی و سے
یں یف
خی بھی انی بی طر مجنو ںکر مت ہیں۔
ات ا ا یڑ و طول گر
ناہہ یلم کاروپار ہر دور اوں 4
(اے جنت پامی! اے بہشت کے رج وانے! ماک ہکوڈ او ہج طول بت ہلگ
تی ہیں ہہم ان دوفو نکی دش یکش مک کے رود یی گے )۔
اے ہمارے جن میس ر ہے ددستو! "ہیں جن مل رہنا اور جن کی رگینیال اور
نا ئیاں مارک ہوں۔ اس می سکوئی کی کنیں ےک ٹر ے ٹٹھے اور شی میں وذ یذ پان والا
جن لکوڈ اور نت کا ٦نیم اشن درخت طول کی شایس جنت کے ہرگ ریہ ہیں انس ہڈا
تن اور بڑ یکٹش ے۔انا زووں گی بہت لی اوز انت سے ۔گمراے دوست ! یں
ا نکی پرواہئیں ہے۔ا نکیا دلآا وی کی جس جمارے لی ےکوگی قب ت یں ہے ہم ان دوو نکی
کشیش وجاؤبیت س پش مک کے رکھ ستے ہیں ۔ ہمازامدعا وطشاصرف ذات ار ے۔
گر ے ور آرروں پاٹر دید ویزار دوست
زاوبہ در پاہوے ال و ریہ غُں 2
(اگرفردویں میس یں دیدار وت عاصل نہ ہوا اس موٹع پ ہم قو پاوی دوزحغ کے
وزخان می اپنا شک نراورسکن بنالی گے . اوزرو روک انی 4نکھیں خول کی کی بک
17رہ ردق کے گمزاروں اود باحات ما زا و یی اور جیپ
یقن کا دیراراورلقا حاصل نہ ہوا پھر اوہہ دوز کہ جوساقاں عبنم ہے چم اس مس اپنا
7 اور رکانہ الیل نے گے پوررگار! 22 معلوم یی ےک جقت اورٹررؤں 7
ہوارئی طلب اورکنروریننیں ہیں ۔ ہمارے لیذ ہوارا سب نھد دا ای بی ہے۔ اس دیدار
کی اط ردوز غ پا دوزغ کاکوئی بھی حص اورطبق ہیں پچھوگزن نیس پیا سکنا۔ ہم رر کی
از یت اورعرا بک ہخوشی پرداش کر نے کے لیے تیار ہیں -
۳۳۳۴
زلغ
ایہا الدشق! مر محشوق برارد اب
دبڑ٤ ا رر رر اوت آی ہیں مم
(اے عاشق! گر موق بی نے نقاب الٹ دیا اود ہواری ہنیس اس کو کیہ کے
کے لالکی نہ ہیں تپ رکیانمرمیی گے؟)۔
اس شمم ریش عاشق صاد قکوچیک اص اندا زم زی می ق رآلنی رق تواطب کے تحت
”یہ الا شیک ہکم پکاراگیا ہے کہ عاش نی ار ذرا اس صصورت عا یکوز جن اورتقور یل لا
کھ باب یک ہاگ رتہار ےحیو ب تی اود عاشت از نے اپنے چرے سے نقاب اٹ دیا
اور وہتمہارے سام لوہ افروز ہہوگیا تھ' تو ال وفتتمہار کیا کیفیت ہگی۔ ال وق تک
جب دہ اپے رو افوار سے پردہ پٹا د ےگا فذ اس وت اگرتہارکی یھی جی اس افوارا لی
کی تاب نہ لائھیل با دو اس ای ھی ہی کہ دہ جمالققی کا ظار مک ری تپ رکیا صورت
لی بنےگی۔اس وقت گر مک یک رسکو گے!
2
کی ا رح فی راع ےن اق کا
ہیں جند و ہینید و گُی ٴ زوالٹون سم
(ا گی الد بن !تم اپے آ پکو ہمارے یا ساجحد رکہ کہ کے ریاضتو ںکی مشقتوں
میس پڑے غی رحطرت جنیر بفدادی' ححخرت پا یزیر بسطاگ رت اوک رشلی اور تظرتے
ذوالٹون مرک یکی رب اولیاءش ےگردوں )۔
اکر چ منرت وٹ الاشش می الد بین بہت بڑے اور بلندمرتبرولی اورائل تموف کے
نیل تے لین اس کے پاوجھ اپنے سے پیلے اعلاف اود ابل صوفیاۓکرام سے بے عد
عقیرت اور الف ت کا اظمارکر ۓ تے۔اسی لیے دہ خودہی بتاتے ہی ںکجخرت چیر بفرادی'
عخرت پایزید با ئی' حضرت ابوب تی اورخرت زوالنون مھرکی بہت بلندمرحہاولاء الد
تے۔ اس لیے حضرت صاح بکو یھی خ رش اک مھاہدوں اور شقتوں کے با اولیاءاللر جھ
۳۵
کال وت ہیں۔ ا نکیا صحبت رر چا مر اور زیادہمفیر ہول ہے ۔گو ہا اولیاءالل کا قرب
برسوں اورصد بل کے سن روآ سان منادیتاے۔
خرںظ
۵
و سر ا وو و ما
پا رل بھا داد ا روز و شب ترئم
(اے ماش !اگردل دینا چا جج ہو ہیں دوکیوکہ ہم اشن ہیں۔ جس نے یں دی
دیا ہم روزوشب ال کے ساتھ ہیں )۔
اس شع میں اللہ تال کی طرف سے عشاق س کہ جار ہا ہے۔ گرم شی می کس کو
دل دینا ات ہوق اس مقصد کے نے اس کے لیے ہم بی سب سے (یاد وت دار ہیں۔ ال
لیے اے خعفاقی چہاں اپنا دی صرفئیں دی دہج کیونک ہم امانت دار ہیں ۔ ہم ایے امافت
دار ژإں اک ہما کے پردکدی گر کے بھی ںکپ روس اور ینان ر بنا ۔تہادا پروردگا رہب نک
زیادہ اٹل اعقاد ہے۔ جب تم بے سب امورا یکوفولیٹ لکرتے ہہو اپنا د بھی ای کے
سپردکرو۔ ووسب سے بڈ ھکر ال کی تفاظ تک ےگا۔ دو جم س کا دل لیا ہے سسدا اور ہم وقت
ای کے اتد رجا ہے۔اللتھالی سے بڑااورکوئی ممافط اورطی یں ہے۔'' دو سب سے بہت
مافط اورخی لنشین ے۔''(۳:۱۳٥)۔
2
زا وع ا یں کو انم
اواں زک ول و صر رل یا مم
(اے بند ۓ ذرا سو چو سی۔ اگ ہم تہارادل نے لیس او رق ےلیم ورضا ہے
دے دے۔ و اےاذال! اس ایک دل سے ہ۴ ممینڑوں دی پا کروی کے )۔
ا اشن نادان !اگرتم یں اپنا رل پر رضا ورفبت او مت۱لیم دتہزیب کے ساتھ
۳۷٦۷۴
دے دو اس کے سا تو سا تہ بھی ا سے قجو لکم لی ہت ری بہت ہکا خوش کلت موی اوز
یٹم پہ ہمارا بہت بڈااصان ہوگا-
ہار ے اس د لک اس رع سے ف راو رز تک بی گے ہم اس ایک دل میں
ےعصد)ا ول پداکردیں گے۔ اور وہ ول بھی تمہارے می حوالے ےتارک ممائزگی اور
انب تکریکی گے اور ہہ الل کا نقائونع ہ ےک الد تال صنا تکا بدلہ بہت زیادہ دا ے۔ٗ
): ۰٭) پگ یو ںبھ یکی' جوف بھی ایک ٹن کر ےگا الد تال کے نز دک ا کاو گنا اج
کت یا ا امیا
رف
و یں موی ںی کو جا حف وو وو
و اعت نع وا ای آفرم
لا اک دشار ریراقت
مم ماگی دای گے )دن
ولا یتیٹشم الھی مج سب سے پہلامرعلراددمضزلی یہ ہولی ےکہ بندہ اپنی ذا تک گی
کرناے اور کے بعد ان محبو بکوسب یئ تا ہے موت و اصصل میں خودب کی منزلوں
یس سے ایک منرل ہے۔ ای جوانے سے جوموت سے پیل بی مو تکوانا سے دو زندہ جادیھ
ہو جاتے ہیں۔ وادئی مق ای یس جب یندہ اپٹی ذا تکگی بحوالی موقر اٹیل ان توو اکر
اہ گرا کے اپے اقیرا ت اوراراد ےم ہو جاتے ہیں اور را پرالرتھالی نی
رضاکووارۃکرتا ہے۔ اس شعم ریس بای گیا ےکہ بل اللدتعالی ا لک قو تگو اکیپید ار دے
یں یف مرنے کے بعد اما نک ایک اد ری شردم ہولی ہے فا مو اص میں
بقول علامہاقال پام زیمت بن عالیٰ ے۔
ز9
شا نع ہس رات رات او رق کی کرو
سی صر ظر 3 27 و رون و
(شحیطا نت ترئیگرد سےگھی ہرارو لکویں دور بھاگنا سے اے بنرے برا لیے سے
ے۳
کہم مے پررد جن سو بادد یھت ہیں )۔
ایا جاد پا ےکہانسان پا تبارک وتھال کی عدا نظ راورمحافظت رئقی ےکیونلہ الش
بل شژانہ بن ےکی سکس ل مک ہبانی او رتفاظ تکرتا رتا ہے۔ دہ بہت بڑا محافطتگہبان اورگرالی
کرنے والا ے۔ دہ ال ہرز پرگکران اورگہپان ہے“ (۱۱:ے۵)۔ اللجارک وتعاٰ ہت
بڑا حافظ و ناصراور ین ھی ہے۔ دوچ صکی حفاظت اورگرال یکر نا چاہتا ہے پا سال یکر لیتا
ہے۔ وہ ایک بہت اوران پاسبا بھی ہے ۔ ا کا نظام تفاظت بڑا تی فعالل ہے شس سے
دوس بکوفوظ و مامون رکتنا ے۔ اپنے ای نظام تفاظت ہی کےتحت اللرتعاٰٰ اپ بندول
کی خیطان ےکیھی تطاخل تک را ہے۔ دو تضیناجگی ہے اورال رق کی ہے۔ اللدتارک وتھالی
ہریز ہگران ہے (۵۳۰۳۳)۔ اور یو ںبھی ےک دہ ہر کواپے احاط یں سک
ا لکی موا فلت کر نے والا ے'(۲۳:۵۹)
۵و
01 0 زار خیطان اعدر. گن شی
و کور رت کا ما وو اور و
(اگکرصد ہار شیطا بھی تہارے لیےکحدات لگاکر یھ ر ہیں فذ دہکامیا ب نیس ہوں
گے۔ بباس ل ےکیوکہ ہم نے ”ہیں اپنی بنا ٹس لے رکھا ہے )۔
اےانسان! اے میرے بندرے! مر نے تھے اپٹی پناہ اود اپٹی فاظت بی نے رکھا
ہے۔ اللہ تپارک وتھالی موی نکوخطرات سےتطوظا رکتا سے ۔ وہ مومنو کو پرگزند س ےتطوظ
رتا سے )۱۰۳:۱٣( اتی اپے نظامح طفاطت کے تحت جن میں چا ہنا ہے انیس پچالیتا ہے
اورٹن می چا چنا تاود بر بادکر دنا ہے'۔ (ا۹:۲) بن ےکی دعا ادرطلب کے مطاإت اللہ
تزالی جن ہیں اپنی پناہ ں نے لیا سے دحفوظ ہو جاتے ہیں ای لیے موشن اپنے پروددگار
سے شیطان رتیم سے پناہ ماس ےکی دعاکرتے رت ہیںں۔
۳۲۸
رلغ
7 و ا
سوگند خر سو پیرو ار مم
(اے ند ےقذ رکرو کہم ھپ اپئی رکیں نز لک یں گنا ہوں سے رک ےکا تم
کھاؤ اور عم کر وج طط رع ہم نے رحمت :از لک ن کا عہ دک ررکھا ے )۔
اے بندہ خدا! ہر رع ک ےگنا ہہوں پرنے .کر نے کے لے اللہ کے پال معافی کا دروازہ
ھا ہے۔فوبہ بی ہو ےکم بندہ “ہو و خطا کے بعد از آفر یٹ یکر نے اور دوپار گناہ ے
بچارہے۔ اتارک وتھالی نے اپ او پر ہمت لاف مگ ہرگ ہے۔ بندہ جب تو کرک اپ
پروردگارکی طر فآمار نجوس زیادتی کے ارہاب کے بعدق برک نے اوداپتی اصلاب
کر لےقو اد تھا لی بے شک اسے محا فک دبا ہے (۳۹:۵)۔ بکنہ یو بھی جایا جانا ہے
کہا تھالی تا بک طرف لوف سے او رتو کر نے والو ںکو ہن رکرتا سے اور ال تعالیٰ صاحب
غفران ے اورضاحب رمت ہے۔ بگہ ا طدتھاٹی نے اپنے اوپ درمعت واجب قرار ےنگ
ےے۔۰۵۰٥۵)
لے
5 7 یگی... زی ریتاں نا
کش ای چو وہ خی ری
(اےگی اللد ین! فالی دوستو ںکوھوڑ دواورموف ہعارے ساتھ اپنا نات جوڑ لو۔ ہم لو
وفاداراورراہت روہت ٍں )-
پروردگا ری رف سے بندے سے ایا جار ہا ہے اے انسا نت اک دئیا کل فا چڑەلن
اور روستوں ےکنار ہک ہو چا ہر ےکو ایک نہ ایک دن ضرور تا ہو اے۔ ید یاد ما ٹا
سب فان ہیں۔اگ رس یکو بقااوردوام حاصل ہے دوصرف اللدکی ذات ہے۔ بقا تی ا کی ضدر
ہے۔ ای جوانے سے ق رن یی سآیا ےک دو ئۓ ز من پر (کاحات ارشی میس )جو یھ
ھی ہے نما پذس ہے۔ قا ےا صرف تیرے پر وردگا ری ذات لافال یکو ے جوصاحب اگرام
اج
ے(۲۷:۵۵۔ے۲) ای رح ایک اود ارشاد ار یں ہو لگ آیا ےکی ا کی ذات
تی وقدم کے وا ساوگی داش کی ہرنے فا بلاک کے لا خی زطوفاوں یس ) تاد د برباد ہو
جا ۓگ (۸۸:۱۸)ت اے میرے یندوتم اپنے الد یکواپنا دوست بنا ۔'کیوکلہ نیا
وآخرت میں اشدی سب کاو ی (روست ) ے۔'(٢٠۰۱٥)
تع ھی ریہ رر ےکا ہیں کا
کی تجح گروزی طول و کوٹ 5 رم
(ہم جن مم کسی اود ئی اہم کام سے چا نے ہیں نہک طول اوک کی ڈیب و
زیت اورسی تفر کی خماطردہاں جار ہے ہیں )۔
طول جن کا طیپ اور اگیزہ ورشت ہے۔ اس کیم الشان درشت کے ارے مل
تایا جا ٢ے ا کا پل ہابت شر یں اورل یڈ ہوگا۔ اس کے پچوں اورشاخو کا سای مجن
خلصین سےگھروں کےاویرہوگا .امام راخب اصفھالی نے مفردات شی طول کے بارے مل
۱ تا ےکی بی جنت کے ایک ورش تکا نام ہے اور تر بی ا سکودی ےک دہ جن کی ہراکت
نت جس ٹران یو ں ایا ےک الکو کے لے ایی وی ہے اور
(خوشھالی۔ طول ) اچھا کان (نسن ماب ۴ ے۔ “( ۲۹:۱۳) اس طولیٰ کے معن لت دخوڑگی
کےبھی ہیں اوراسی طر حعکوث قذ ووتنصصس خبریا یش سے جن سکی اک ناشن مک ہس کا
ٰ9'"ٰ۴ ےر جواہرات یا تو تگا
مشل جس کے پیا لےآب وجاب اورشار می متارو ںکی مان ہیں ۔ شا عر بنا جا ہ ےک ہم جنت
یس طولی ون سے طف اندوز انداز ہونے کے لی جار ے ۔ ہار مد ایس ےکھی
پہ ینیم اور بواہے۔متذ صرف دبددالہی ک ےشن ادرملاٹی ہیں۔
۳۲
۵2
سے رق تر تا سا وی ہی
مانہ ور محر از ا ا ی یم
(شم رم ری ہمارے جا ےکا میسن اوسف ناڈ د یھنا ےنہک ہب مھ یں می
اوڑلھر نے جار ہے میں )۔
اے لود چان کیم کے با بصرف اپ معرئی اشک رش ری کی وزرشرت
اف بلگہاے لوگو اش رص کے بازارکی رولتی اود وج شہرت اصل می سن ایسف ٹڈا ے۔
وی زانے حفرت لوف وپنا کوامیش مھ ہی می بنا پا تھا اس تارج شاع رتا را
ہ ےکہاے نا ! ہم شم رمعم می قیرمصرکی اورمصر کی و ا
مصداز صن پوسف یا گا ایک جھنک دیکناہے۔ علمتیطود پر پازار مھ رکود نیا اور رشگرکو
یا کی یی اور لا دنیاو کہ اتا ہے اوراس رح جن پوسف میا سے عرارضن
ال پیٹ ے۔
ر29
انرراں لوت کہ در وے رہ پاد جرنل
بے سرویا ابہ یی دست اکر ی رم
(وو لو کم ہکرس میں جرییل اذا بھ یٹس جات میس دہاں اپنے دوست کے
پا اکر بے وسردسامال بی چلا جاتا ہول )-
عرف عام یش جریٗل اشن وو فرشنۃ خائصس ہے ج وآنحفضرت ظا پر ہی لےکر نازل
بوتا تھا۔ بی دو فرشنہ ہے جھ بلندی پہ اڑا ہے۔ ہے اللہ تا یٰ کا ایک متاز اورمضرب فرشتھ ے۔
مل صورؤں لی لاہ کے لے ی یو یپا ولا پا ہے۔ اس شعر میتی سے
عوانتے سے بے ایا کیا ا ےکراے لوگوا دہ متقا مکمہ جہاں پر جبرنکل ولٹڈا کا جانا بھی مشکل اور
اکن ہو ہے می ام ری ما سان اکفات می پڑے ای اکٹ چا
رچے ہیں۔ یں بی مقام دمرتصر فمشقضققی و کی بردات مس رآیا ے۔
۳٣۱
ر"
ی گرینند زارانی خنگ از رای
پا ور وک ا وع ا می کی اک وم
(زاہران خلگ اپی تر دششی کی وجہ س ےگ یزاں پھر رہے میں لہ ہم (عاشتقان
صادق ) اپنے تر دام نکو خی گکر ن ےکی اط سور کے پا جات ہیں )-
ہھم نے بر دیکھا ےک زاہدان شنگ ]یا جوا ہر بانوں کے پابند ہیں اود یا کار یکا
شکار ہیں۔ دہ اپنی تر دای (متنیگنہگاری ) کے باحث اپنے پروردگار کے ساتنے جانے سے
اعرادعرجان بچاتے پھر ہے ہیں۔ دہ اپے ا مال کے ساقحد سان جانے سےکتزا ر ہے
ہیں ان کے منافقا ناودریا لا ری گرے اعمال سیعہ ان کے اود پروردگار کے مان ایک عاتم
پردہ ہپ ہے ہیں ۔ لن ہم جو اس ذات بارکی سمش میں جم جم کے اورازی عاشن
ہیں ہماریی صورت عال اور ہی ہے۔ دہ ہماراحوب نے ہمارے لے ےآ اب جن د جمال ے۔
م اس کے اس شوق فراواں لے ہو اپنے تر دام نکوخل گکرن ےکی خاطر یا اپ ےکنا ول
کی معانی کے لیے بلاجیل د مت جات ہیں۔
۵
پاسعا گید کوۓے ایا شیک :م
ادر آلں کوچہ ' خرا رات کا یرم
(ارسا لگ یں جج ںکہ تک ناک کے لے مار ےکپچ جآ چاو گیا دوائل
کم ٹس ہی ںکردہ تک اور صا ہیں لن خداخوب جاتتا کہم ا ںکوچرٹش بب تک ھا
جاتے ہیں)۔
بیکصی خو لک بات ےک ہنیک پ ہی زگ صا ںیشن پارسا لگ می می کیچ ہی نکمم
دنا می کس طر کی ذندگیگز اد ہے ہو۔ ہار ےکو چہتیک ناىی می ںآ جاؤ۔ اٹ ےت خی
یں کیک نام اورخیش نہادنشپور ہو جا گے ۔گو با ان سادولوں صوفو ںکی بی خوائٹل ہ ےک ہم
رف کیک نان کمانے کے لے ان کےکوۓ صفاس لے جانکیں اود چان او چ ےکر ریا کادگ
۳۲
منافقت او رکذ ب کا شکار ہو چائہیں لان اے دوستو! جمارا خدا جانا ہے ہم ا لکوچصوفاء
می تیک نا یکھانے کے لس ےبھ یمیس ئے۔ بلکمہ ہما 2 اس جا بکم خی جانا تا ہے۔ ایے
بھی برامربی اوروائع عقیقت ہےکہہم برا کیک :ای اورناق میس متبول ہو نے کے وا ش
منرنیس ہیں ۔ میں شہرت اور کیک ناب یک چنال ضرور بجی یں ےت
رلی
.37ہ یا او لا ین بای
سو می اش و مت و حلندر ی رم
(یرد نا ہوشق خدا کا قندرنخانہ کے میں فو اس دنا کٹ یکی طرف ماشنتوں مستوں
اورفْلندرو ںک ماخ چاتاہوں)۔
بتایا جاتا ےک قلندروہ ہا ہے جواس رددعای 7 ہوک اپ وجوداوردیا
کے تام تعاقات رے بے تر اور عطق ہوگرطرف اش ذا کی طرف موجہ ہوگیا ے۔
ا ےنقیربھی کے ہیں۔
دن ایا اہطرخ ےقلندر اتد ے۔قلندروں کے رہ ےکی کہ ہے۔ می دمیا لو
عق خدا کا قلندر ان ہے اور اس می عاشقی لو کپ یکی جااب جاتے ہیں۔ یہاں نی
سے ھراد ما لکا ریااضجا ھی ہے او رن یآخرت او رق مت ۓ کی ے اکا یں جہزت اور
حور فصو رک بھی کور ہے ای تناظ رس شماعر نے بتایا ےکہ عاشنی لوک نے اس دنیاکومکمولی
یھت ہوۓ یہاں سےمستوں اورلندرو ںکی طر ح نکی پرنظر رت ہیں۔
ا ا ا رو
کے فص غرفہ و ہو و ہی ی رم
(مارا رہرائرم جعارائشق ہی ہے۔ او ہم عصا' خر تکقول اورلگر کے لی ہی اس
کے یہی جییے بے جارہے ہیں)۔
چ٭
اے دنا! جمارا رر اور بمارا 2 و ہارائشق یی کے بی ہرمیران یں مار
۳٣۳
رمائی اور بر یکرنا ہے اور ہم نے مو ںکیا ےکہئئیں اس سے بج پیر اور پاد اورکوی
نیل سکتا۔اگر چفقیرو ںکی ماع اورادازمات یں عصاٴ خرتمقول او_تگر دظیروضروری
بے جاتے ہیں کن ہم ق ان لواز بات اورمکلفات سے بے نیز ہوکرعر تشم کے چچ
جار ہے نہیں پیلواز مات پیر یبھی ہیں اورمکلفات عاش بھی' لان ہار ےکشق تی نے میں
ان ماد نہاروں ےچھھی بے نیانہ اور لا روا ہکررکھا ہے۔سہارے تخل کے جیے اور بہانے
ہوۓ ہیں یرعش ا نفلی موشگافنوں سے مرا او پک ہوتا ہے۔ اس انار سےمفل کے
ا بے یش نکی رہبریی میں ناک یکن نہیں ہوکتی۔
2گ
ور ار و کل ماوق :کی
ا کو و ون و گی وش
(مازاگروہ را رہیرے۔ معلومکڑیں وەمم سے نا را ل ے ہام 22 ہے ےم
ھکیس ار ور وا ار ےک لے جار ے ہیں )۔
ناراگردہ جمارگی رجخمائ یکرتاہے۔ دی ہمارارہ رد رما ہے ئئیں ا سک یکوئی خمرکں
ہےکددہ ہم پ خوش یا را ۔ ہا لکاکام اورنصب کے کی مان تک ہارانتضق ے۔
دواتتائیٰ ےک ہم ال لک رہنمائ یکو ماثے مر ہیں اوراں : ہیی ےی را پہداستفاددکریی۔
کیک ہم ے اپ آ کو بئدہ عاز او رگناہگار بی بجھ رکھا ہے مادگا 5دا گا
کت
رق
لن بازاہ تو سے خشاق ہو نے ہیں یا
او راز یں بر مطر ىی رم
(اے مر ےدوست اور پچورر ماخُوو! از ان کون وٹپووں میں ہا دوک ہم اپے
محبوب کے لے معطر ور ہوک جانا چا ہیں )۔
ا رگ خاز ہد ماش زوا جم ان لو جا کی یس کے ایل
۳۲۴
گول 6اا پہان مال ئن ا پل لن ہے کی بہرصصورت دیدا رت ہو
کرد ےگا۔ اں لیے دوستو! یں چوک دد ہار الی یں ہرعالی جیا یل ہونا ہے۔ اس ک2
نیم ائی ابی خوش نیس ل1 یں متعبر اور معط گر وو ۔ شاب مارگ خوش بوہیں مارے
ممناہو ںک یشیش کا موجب مین ای ۔اود مگ یگناہوں ے٤ وائروہ مہےآ ارہ طن۔
رت
وولت درار یىی خا مم در جنات عرن
مع نے نیا اذ براۓ زیر وژر ی رم
(ا لوگر! ہم جن عردن ضرف این بیو یل کے دبدا ری دوالت کے ےٰ
جار ہے ہی" تم دہال پر زاورات اورزرگ مار ہگڑنیں ہارے )۔
جنی عرن وم جڑے ہے جس میں حر تآ دم اٹلا کو دان گند مکھانے سے پچ رکھا ہوا
تھا۔ یہ یش ر کے دای جن تگھ گکبلاتی ہے۔ اس کے باعات اود ہر یالیال اور ہوائیں اور
ففانمی بھی بڑئی بی سکو نآ وراور چانفزا ۃائی جال ہیں ۔ شاعم جات سےکہ اے لوگوا ہم ال
جن رن ٹیش دہا کی رگیوں اورآماکؤں سے بر یاب ہهونے کے یی ہیں چارے بللہ
دہاں پ4 ماراءمعا نظ مار ےگوب ضط کا دیڈا رگرنا ہے۔ نم اس جمنت عدن می اپے
پروردگار کے دیداری بے بہا دوا کسی ےکی خاط رچارے یں نگیں اپ جن یی رگینیوں
زد وجواہرات او ركولقول او رآسائکنوں ےکوی سروک رنٹس ہے۔ جہارا تق مقصید دیدار ای
ن0 یاب ہونا ہے اوراسل سے بڑکی جمارے لیے اورکو نکی وات وی
زگ
گیا مرا عم چوں وہ اضردہ بی بی ولے
ابہ مرچوں اب غوگل بے پا بے سر ما روم
(ا گی الدین !تم ہیں ماغن رکوہ اضردہ اور ماموش دک ر ہے ہا لیکن دراصل چم تو
اد کر خی کے ساتھھ بےےسردہا اپےےحبو بنتق یکا طرف جار ہے میں )۔
پہاڑو ںکی تھائی' خاموٹی اود ومرالی سی دک ان پہ سے اف رد یکا ای کگہرا ما ارتا
۳۲۰۵ :
جۓے ای لے شا عرگی الدین نے اپنے آ پکو پھاڑ بی کی طرح ام جپ جاپ طول
اوراضردوقراردیا ے لیکن ان کے اندر جو ایک نما شوقی دبدارالہی ۓے۔اس کے پا عث وہ
ات باد لگ اکا 0 سک روک اورخنل دلی کے س اح صراور پا کے یہی اپے وپ
کی جا روال دوال ے۔
ای سن سو ار یں
قلمہ راعاؤال میم و وم
(میری مضنزل دور ہے ال لے میں پچ لف رش کرو ںگا او رآ سما نکیا جاب بڑو لگا
پل رروجائوں کےقل یکو کر کے اوراو> چا ہاّں ۲۔
نایا جار ا ےک می پھر ےلشک رکش یکر کےمملہکر دو ںگا اود چڑھائ یکرت ہوا سا نکی
طری بلریوں میں چ اکر دھاوا بمول دو ںگا نار ان گے اور رعاو ےکا متقعیرآسا نکی
جلندنوں پر جانا ہوگا۔ دہاں پر روھائیوں نے لچنی فرشنتوں نے جو مغبوط ماریں اور جع
نار کے میں یس نہیں پرستو خی اور کرتا چلا جا لگا
انس شع میس اس ام رکی جائب اشاد ٥کیا میا ےک انمانع اپنے رج اور وقار و ھتہ
یں وشوں ےکی برتر ے اور چون فرشتو ںکہ دہ مال دافگار لات نیل یں۔اں لیے دہ
گناہوں سے مہرا ہیں لیکن انا نکو مال اود در امور کے از دجام میں پھنساکررکھا گیا
ہے۔ ان کے ساتو مات اے اپنا ارادہ اوراختیارجھی دے دکھا ہے۔اپزا اکر انسا نکوئی منزل
کرجا سے اکوئی بی حاص٥ لکرتا ہے ا کی اود بی شان ادردرجہ ہوتا ہے۔
2
زی ملف مم پر یت و یا موم
بادل و انا خر رخ
زی ایک خوش بت پادشاہ ہوں اورلجھ یک ای مضزل اورم مل یش بوں۔ انس پ مل
ان ایس
اپ پراستفنادلی کے ساتوخو و مآکے ڑھد اہو ںکہمیرے ساتے میرک منزل ہے )۔
اےلوگو! جان لوکہ یں تو اپنےعشق ال یکی بدوات ایک ببت خوشھال اور بڈے مل کا
صاحب اقالٛ بادشاہ ہوں۔ ببت دوات من خوشمال صاحب مرتبرادر بھاگ وان ہول' مر
بجی انا نیس بے یں ت ابھی مری"دمنزلیس اورمرجے عاصل سیے جار ہا وں۔ می بی مقام و
مرجبااس لیے سنجالے ہوئے جو کہ می ذ من تعالی کا فرمان قجو لکر نے والا ہول اور
ا باب لی عمزت دارہوں۔ بی میرک مضزل اور خرفی خوا ہش نہیں ہے۔ ای لیے مم اپے
بے نیاز اورآسودہ حال اورمم من دۓے پإداہ ول کے ساتھ اپٹی منزل مفقصود کے لیے رواں
دواں ہوں۔ بج ینکیس ہس انی اس حالت منصب اور رہجے پر خوش بھی ہوں اور مکھی'
ای لیے عز بد آگے ہیآ گے ذوق فراداں کے ساتھ بڑھا چاراہوں۔
ر2
شور دا و دیں رام و یی
چز :یم ہیں اب اظرے رم
(یل ن ےکشور وین ودنا کواپۓے زمویں اکردکھا ہے۔ اس لیے اب ہا لس نے
بیٹھارہوں۔ یٹ اب اپن شک کی جاب بر پاہوں )۔
اےلوگو! میں نے دین اود دنا کی سب ولائتیں اور کک ففضل توالی ہے کر لیے ہیں۔
اب سب ملاتے اورسب اتقائیم مر مے ز مسلط ہیں۔ یل ان پگ حکران ہوں۔ اس مقام
دم تاور وافر اختیارا 0ء ںا ھیرے ےی ضردر یکجییں ہ ےکہ بی اکا مقام پر جام
ہوکررہ جاؤں۔ انل پرقاع تکر چائؤوں۔ بے جھ سے کین ہوکتا۔ میں و اپ اوراگۓ پڑ کر
اپ لف کر کے پاس مین عالم دوعالی کی طرف پروارکنال ہو ںگا۔
2 :
ہرس فے از انی سم ایں ملا
رازم یں نا مرو وو وم
(ھالم بالا سے ہرلنہ شھے ب ےآداز سای دیق ےکہ می اس دنا کے علاکن دامور سے
۳۲٣
آزادہو جال اور اۓ ول ر کے درواز ےپ چلا ہاؤں)۔
دوسرکی دای لاکن کے جہاں ے گے بپصرا عدام سال دق رمق ہے۔ اس د اکا
چھوڑ رفے۔۔ اس دنا 1 ٹگیٹوں اوررُپیوں ے دوررہو۔ اس دا کےکگمیلوں اورھیڑوں ہے
آڑاداور ماورا × چا ےگیوگہ بی دیا الگ جابسفرکا رااٹن مال ون کی وج ے رکاوٹ
ہے۔ بہبادد اور گے ارادے وا نے لوگ ہی اس راہ ٹس حابت قرم رچچ ہیں۔ اس یل
بھی تک وشینیں ےکر دیادی ماع یقن شش ہولی ہے۔ اس یش روری کہ جب
دنیاوی مفاواور تخل اق اشن آخرت میں تھداوم ہوا اس وقت تخل اقرار یکو بد
انی چا بے . اشن می قرآن می یوں ارشادموجود ےک ''درعقیقت زین ہی جگگی
نٹ وڈ کی صلائییں میں ہم نے یں لن کے لے بڑی اذ نظراوددپرنشش ز نت بنادیا
ہے۔ ا کا مقصد ہہ ا ےک ہ ہم انمافو ںکوآز انی یکا می ا عمالی کے انار سے بہت رکون
ے۔'(۱۸ء)
۵
پر خزرباتں ہاں گر گشدم موکٹاں
شی بای ماک کے اف یی رم
(اگرپچ خرابات جھے بالوں ےکک کیچ اور کے اے بنلرے اوھ رق کہا ں رر ہے
ہو میس ا کی زوت پر کے مل اپ بادشاہکی طرف چلا چا ںگا)۔
0 اوراگی اڑانو نکو درک راگ ر عالم اروا میں جو مفا تن ہے۔ دہال:
کا لین میرا ای اوررہنما میرامحبو بی بے ا سآدارہخرئی شی میرے مراود ماتے کے
الوں س ےکک وک رین اود پ وھ کے اے بندرے ام اس وادکی اروا می کس متصید اور
کام کی بی پچھرر ہے ہو۔ادھرمیرے پا ںآ جا اںظر تن 7 میس کشا ںکشاں خوٹی
یس نا چاکودتا ہواس کے مل ۲ لک اپنے شاہشاہ کے پاس چلا نا ںگا۔ میرے لیے ای سے
وی اورکیا غو تی ہوگ یکہشاہ عالی خودمیری طرف الات فرمارپاہوگا۔
س,
ه
لہ عاجات دل کەئۓ: بات ا
فک نا انت :لی ٗی رن راں یم
(ہمارکی تام حاجات کاکعبہ وقبلہ ہمارے سے خانکا کوچ قیا ہے۔ یہای ال کا در
ہے۔ ا ےگ الدین! میں ق اپے دل ٹس مناجا نی کے لے ای درگ جانب پارہا
"یں)۔ :
اے لوگوا کو ے خرابات یچ شاب خانے کا کوچہ ہادرے دل کی تحام عاجات'
خواہٹوں او رآرزووں کا تل ے۔ ماردے د ل کی ہرعاجت اورطلپ ای دہ ے پر
ہوگی۔ بی نے اصسل میں ہمارے پروردگاتتقی کا ددافدیس ہے ۔ اىیکواختیار حاصل ہے اورای
کو لا ےکر دوس بک حاجات پورک ف را٢ ہے۔ دولا ماع ہے۔ دہ حاجات ے ہرااور
رہ ے۔ ا الین ٹل ارشاد پاد ہ ےکم اور کروی (بےنواؤ ںنکو )ٹن اور اپ دارول
نفک سرچ _)٥۸:۵۳( اور اڈ ہی ے بڑائی ہے اور مال یکائکیات تو
ند ے احتاع ہے اورمید وسزا دارمہ ہے (۱۵:۳۵) اے لوگوا یس تو ای فی می کی
جاب جار پا ہوں۔ ودی غزاۓےمطلقن ہے۔ دہ خود عاجات سے بے نیاز ہے۔ وہ سب سے
تشم ہاور بے پرواد اود بے خازکھی ے۔
زاں بیوفاۓ سنلک ول چر و جچیای الام
ازس می خواہم دا ' آں ہے وفا یہام
( اس بے ذفا اونگ د لوب سے جورو جفا ہی چاہتا ہوں' شل دا چاہتا
بے دجی مرا بے وفاٛحیوب کی چاہبے )-
موق اورمیو بک برخو مض ہولی ےک دہ اپنے عاش پر جورد جا روا رے۔
۳۲۲۹
اگرمحنوق بیونا ضہ ہوت معشوقی ب ینمی ںکہاا سکتا یحو بکو جورو جا اوعلم دم ہی زیب دیتا
ہے۔ اگ دنم دالم اور جورم سے انگ ہو جا نے عشاقی کے لیے ا س۳اکوئی حسن د جال
اتی ندرہے۔ شاع اس شعریس یہ بتا دا ےک مرا یوب و مایا بے وفا اورسنک دل ہے۔
اس سےکسی لف وکر مکا مطال نی سکزتا اور نہ بے اس ےکی الطف وکر مکی خوا اش
اورطلب ہے۔ بج فو اس بے وفا کی فا میں ہی اھ کک ہیں اسی لے یھ اپے ا جا
ہو حم شمارگجوب :یک طلب وچاہت ے۔
و
0ڈ توارہ ام پادائہ و داعم چے کار ؟
0 0ط
(یں و فان یکائے والا نرہ 6 ےکا خوف اور مرۓے! دا ورام
سے بی کیا سردکار تہ سآ ٹکار یج دانوں کے ہجاۓ جا منشقی ہیک ضردرت ہوگی )۔
ایا جار ا ےک یش ن عاشنی ہوں اور عاش فو آ کفکھانے وانے پر ند وک ماخند ہوتا
ہے۔ ا کی ا آنشی مض بی ہہوثی ہے۔ اس صورت می دانہاوردام سے مرا سردکا رئل
ہے ۔کیوککہ جو دانہکی طلب و ہو کرتا ہے ود اس کے ا می دام ٹس پچخستا ہے۔ ہم مد
دانرکھیاتے ہیں نہ ال سک طلب رکے ہیں ۔آ نٹ کش ہی ہمارکی ا اورخورا ہے۔اس لی
میں دا ےکی یں می دام یں ہن ےکا خطر یں ہے می قب ر کے مائل می بھی پا لہ
نیس جامنشی پیا ہوں کے اوراسی کے ہم طل بگاراورحاججت مند ہیں ۔
رف
داہاۓ مردم یار خی از شادی کو و رت
می خوب نت گردہ ام درد و بلا گی پأیەم
۱ (اورلووں کے وع خی اوریٹٹل وطرپ سے شادان اورفرحاں ہیں جن ش 2
پیٹ کی ہیں اس لے مھ دردہ بلاج یکی طلب وآ رڑہ ے )-
دا کے اور لوگ اور دا دار دنا کی خوشیو ںکو جا ہے ہیں۔ ان رلوں ش غوٹیوں ے
۳٢۳
سرتوں' خیش بطرب اورسرت و شا بانیوں کی تی لہا دی ہیں ۔ ان لوگو کی شادق
اورخنی اش ےک انیس جنشن خڑٹی کے موائحخ ممسررہیں_ وو خوٹیوں میس نبال ہوۓے
رہیں۔سدائٹل وطر بکا حول نہیں مررے .گیل ونشاط اورکشرت دعیا شی ا ںا
باب نہیں ۔ ا کو زنگی کے عرے اور زیگینیاں اور خوشیاں عاصل رہیں۔ ان لوگون کے
متقا بے میس ہم اورہی طرح کے لوک ہیں ہم ن محانوں اورمشقتوں میں وق تگڑ ارہ ے۔
زتیں برداش کی ہیں۔ ہم فو مفیبوں اود قر مانیوں بش سے کہ ہد ہیں۔ دکھ درد اور
پیذاؤں نے بیس پتدکر رکھاہے۔ درد وم اود بلا ول کے ہم اتی ہیں۔ اس لے اب می .
سب دی چا ےس ہم پل رہے جیں۔
2 ۱
بیراان یسف گر روۓ نہ ود نام
مرو کے وع ازع جک فا یا باون
(اگر رن لوسف سے بے ہوۓ بسن کوئی پرداہنیں میرے دل ة ا
لیے نو یس بند تا کی ہیی ای ہے )۔
ا شع رٹ چی رن لوس فکوای کن کےطورپسمو گیا ےک ہاگ اوسف نے یتیل
کی خوش وی ںآ لی فو ا کی بی ذرا مر پرداونڑیں ہے۔ خوشمبو ینف بہت بلک بات ہے۔
ہیں فو اگر اس کے رہن کے بندنی بد تھا کی نو یئل جائے فو ىہ تی سب چچھ ہھگی۔
یہاں پر جن لوسف سے مراد چی رگن بیز دا بھی مرا ہے۔ جس ط رع انما نکا جم اس کے
لاس می چچھا ہوا ہے۔ ای رع انسان اور دا دوفو ں کا لا بھی ہے ۔کیوکہ ہماری نظر
مجازیی اختبار سے ازل جا ابرجھی وقت اور ز ما نکی عد سے باہرنیس اس لیے عاشی کے لیے
بجی اک یگ کی خوش خر بھی بی 2 دشا ہگی۔
سی بے تک است و ول از غیر کی دارم تی
مان ٹم تد مر مد چان مرا گا ىیم
(رے نے میں زیاد ہن نی چے اس لے اس می حبوب کے علاد دی
۰۴
دوسرے کے لیے نہیں ہے۔میرے ال تے مھا نٹ م آیا وا ہے۔اوراا ںکو مل ای جا نکی
رائے ۓے میں رانا چاتائیں)۔
اےلوگوا یں بھوکہمیراسیدن ٹک ہے۔ اس می ںگنائنشی ہکم ہے۔ اس می سائی
کے لیے زیادہ نکی ہے۔ دوک اورتھوڑ کی کہ والا سن جیما بھی ےدوت مہر ےروب بی
کان ہے۔ اس می ںجبوب کے علاد ہک کے لیے ا کہ ہے اور ہناش اوراب صورت '
عالی ہہ ہ ےک میرے ہاں میرمے پا لک کامہمانآ ہوا ہے۔ یل نے ا کو اتی جا نا
مر ا کچکہد ےگ ہے۔ اس لے اب پک اور مہا نکیا شبضرذرت اور شہ ہی ہے ای
شع یس اس چان ببھی اشار ہکیا گیا ہک میرا “ہمان ذو می راحوب جیا ہے۔ جو عیب تق
کے اس کے سوا میرےدل و چان کسی اور کے لیے ذرابھ یکنائش اورضردر تین ے۔
زلی
بیانہ ام بامرد ماں و زر وشن پاجہ ر
٢ چند ہیں بیاگی دل تھا کی )الیم
( شش ریاوالوں رے بیکا نہ ہول اور اي آپ ۓ انت ہوں۔معلوم یں سے اگ :
ک ب کک ر ہے۔اب فقو دل چب آشناؤ لک ضردرتگو لںکناے )- 2
بتایا جار ےک ہراس لوکوا میں دا کے لوکوں یادئیاداردول سے پیگاتہ ہوں۔ بے دنا
ےو وی ا ۔ بی دنا کے لی اوردنیامیرے لیے ٹیراورناواتف ہےاورائسں کے
علادہ ٹل اي آپ ےبھی ناوات بکلہ با نت ہوں _ ےن اپ یبھی سدت بر اورٹمریں
ہے۔ می سکیا ہوںی می سکون ہوں او رکہاں ہوں جے پر معلوس یں ہے۔ مرک ہنا گی اور پپٴلا
7 ا ا ا نیقلت کی انچاککب اورکہاں ہوگی میس اس ےکھی ناوائلف
اوراعم ہوں ۔ برصورت ال قد گی فی اب جن کم کسی دی شاک شز و شور
اوکی سو ہولی ے۔
۴۴۳
۱ [2
7 سے لت بد و ا نون ونے
جھراں مرا مشکل بوڈ یر و رضا ئا بایەم
(ا ۓگی اللد بین اعش میس بڑی لزت ول ہے یحو بک جدائی بڑی شا قگزرل
ہے۔ اس پچ روفرات میں جے اب ہرورضا کی ضرورت ام
ا ےگی الد بین اش ایک یم الشان جذ بہ سے یق انکر مدان تق کا کام ہوتا
ہے۔ دادئشقی تک ہرمرعلہ پر جداگاغرانماط وراحت اور لذت ہو ہے۔راوش' میں ہر
وفراقی اور تا کی صورقل مج بھی بے پنا لن ہوثی ہیں۔ ایا جا ہا ہ ےکی لد بن نے
پیٹنشق انقیا رک ررکھااورااس میں دہ خائ مم کے لڈائز روغائی کے شی یاب ۷ت تاے۔
محبو بک جدائی اس پہ نے عدخت اور شا قگزرتی ہے من اس میں لت بی لت ے۔
من اس جدائی اوراجر وفرالی یس لا زئی ور پرعب رد رضا ب یکو اقیارکرو ںا کیوکہ اس یش
بھی مہرے لیلذت می١ ے۔
فزل ظط
كِ
وین ول وا کی خود راہ پہلوۓ تو 220
سو فلق می دیدی ومن سو می دییم
(وہ ہنگامہ اود نظار هکتنا اچم تھا ہیس اپنے آ پکوتیرے پچہلو میس پڑا ہوا دبا ھ
اس وت ایخ قکو درا تھا اور مم صرف کے دکچد رپا ھا)۔
.اے میر ےو ب نیقی ! میرے خالقی و ما لک! دہ نظاروگجھ کیا تی پرمرت اور خل
کن تھاککہ جب می ںآپ کے پہلو مس پڑا ہوا تھا ان سے پدئی ری ا وکیا خر شی یکن
2 ا جا و را و ا ا او و
نا اکن لو ارت آ0" یڑا سام رٹ قی ہے۔ اے مورے پروردگار کے تر رٹ
٣٣۳ص٣
میرے ل کون نک ہ رٹی اود ہراسچھائی اور چلاٹی ےبھی ال اوریبر ہے تو لق
خلوقات ہے اس لیے فو ائیں د سار ا ہے جہ یس صرف اورصرف اپنے پروددگار کے انوارکو
در تھا۔ اس شعرکو ہوا قب ربھی دریکھا جاسکتا سے جب بندہ اس ٹیل پڑا ہوتا ہے۔ اس وقت
ا سک نظ رال٣ل کی رمت پری ہل ے۔
و
ھی دنم عراىسىی آزائی پا شدی بد خر
کین 7 وسر دیع
( نیس جا اک ہآپ یھ ھےآزمار ہے ہیں با کچ آپ نارائش ہوم ہیں۔آ پکا
جاب سے ھ پیل الطافات ےد ہکیا ہو اب آپ ہم پہ پ کی طرع انل برک ہیں
ہوۓے)۔
اے مر ےحبوپ !تیر ادائمی بھی جیب اود پراسراد یی ہیں۔ اس لیے یھن
اپٹی انسانی ما برا ںکااندازہ یں ہوت اک ہآپ بھ سے نفا ا را ہیں با یں ہی جھے
آنارے یں ۔اے میرے پروددگارائیس جیرکیآز ماش کے لاک نیس ہوں۔ یس انی ہمت
ور حوصلنٹیں رکتا کہ تو یکی طرح کی برصگی یاخگ یکو بدا ش تکرمک
Books By Shaykh Abdul Qadir Jilani RA
Sheikh Abdul Qadri Jilani RA